Category Archives: NZ’s Blogs

ایک شہری لڑکی جو پہلی بار گاؤں میں آئی تھی۔ اس نے ایک دیہاتی شخص سے پوچھا،“یہ جو تمہاری گائے ہے، اس کے سینگ کیوں نہیں ہیں۔ دیہاتی نے جواب دیا،“بعض کے لڑائی میں ٹوٹ جاتے ہیں، بعض کے ہم نکال دیتے ہیں، کچھ کے قدرتی طور پہ ہی نہیں ہوتے لیکن جس کی طرف تم اشارہ کر رہی ہو، وہ بہرحال گدھا ہے۔”😅😅😅 یہ سچ ہے کہ کئی شہری لوگ جب پہلی بار دیہاتی ماحول کو دیکھیں تو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے ہیں۔ میں ایک دیہاتی دیسی بندہ ہوں۔ لگ بھگ بارہ سال پہلے کی بات ہے کہ میں اسلام آباد ایئرپورٹ اہنے کسی عزیز کو چھوڑنے ساتھ چلا گیا۔ واش روم جانے کی حاجت محسوس ہوئی تو وہاں مجھے سمجھ ہی نہ آئے کہ دروازے کو کُنڈی کیسے لگانی ہے۔ایک بندہ مجھے دیکھ کر ہنس پڑا اور بڑبڑایا،ہاہاہاہا… دیسی فُولز میں نے کہا،“پائین! تسیں وی کدی اساں…

Read more

بچہ شروع سے ہی بہادر تھا، جنگجوانہ مشاغل کھیلنے سے  شوق رکھتا۔ بہت کم عرصے میں تعلیم کے ساتھ ساتھ گھڑ سواری، تلوار، نیزہ بازی اور تیراندازی میں مہارت حاصل کر لی۔ قاضی غلام کی صلاحیتیں دیکھ کر حیران رہ جاتاسلطان شہاب الدین غوری، غزنی کا شہنشاہ، ایک روز شاہی گھڑ دوڑوں کا مقابلہ دیکھ رہا تھا۔ قاضی غلام کو لے کر سلطان کے پاس پہنچ گیا: ” سرکار، ساری سلطنت میں اس غلام کا گھڑ سواری میں کوئی مقابل نہ ثانی ملے گا” سلطان خوبصورت، صحت مند، سانولہ، پرکشش رنگت والے نوجوان غلام کو دیکھ کر مسکرایا۔ جنگلی گھوڑا وحشی تصور کیا جاتا یے، جسے تربیت دینا مشکل ترین کام یے۔ غلام سے پوچھا: ” گھوڑے کو کتنا تیز دوڑا سکتے ہو؟”غلام نے نہایت ادب کے ساتھ جواب دیا: ” حضور, گھوڑے کو تیز دوڑانے میں کوئی مہارت نہیں، اصل مہارت اسے اپنا تابع بنانا ہے” سلطان نے ستائشگی…

Read more

عربی حکایت ہے کہ ایک دیہاتی شخص (بدو) نے اپنی چچازاد سے شادی کی اور اللہ نے اسے یکے بعد دیگرے نو بیٹے عطا کیے۔ قبیلے میں اس کی شان بلند ہو گئی، کیونکہ اس زمانے میں بیٹے طاقت، عزت اور فخر کی علامت سمجھے جاتے تھے۔مگر جب دسویں بار اس کی بیوی نے ایک بیٹی کو جنم دیا، تو گویا اس پر بجلی گر گئی۔ بجائے شکر کے، اس کے چہرے پر غصے اور ناگواری کے آثار پھیل گئے۔ وہ آسمان کی طرف دیکھ کر چیخ اٹھا:“یا لیلی الأسود! یا لیلی الأسود!”(ہائے میری سیاہ رات، اے میرے بدنصیب دن!)اس نے اپنی بے چاری بیوی سے منہ موڑ لیا اور اس ننھی کلی کو اپنی لیے منحوس سمجھ بیٹھا۔ اس کی نگاہ میں بیٹی جرم بن گئی اور اس کی ماں مجرم۔ بیٹی کے وجود کو گویا اپنے لیے عار سمجھا۔وقت گزرتا گیا۔ مہ و سال کی گردش جاری رہی۔…

Read more

قدیم نوادرات جمع کرنے کی شوقین ایک خاتون ایک دن ایک چھوٹی سی دکان میں داخل ہوئی۔ اس کی نظر فوراً دکان کے کاؤنٹر پر پڑی، جہاں ایک شخص بلی کو دودھ پلا رہا تھا۔ مگر دودھ سے زیادہ اس کی توجہ اُس پیالے نے کھینچ لی جس میں دودھ رکھا تھا۔ وہ فوراً پہچان گئی کہ یہ عام برتن نہیں بلکہ نہایت نایاب چینی کا قدیم پیالہ ہے، جس کی قیمت کم از کم تیس ہزار ڈالر ہو سکتی ہے۔خاتون نے دل ہی دل میں سوچا کہ شاید دکاندار اس پیالے کی اصل قدر و قیمت سے بالکل ناواقف ہے۔ اس نے اپنی حیرت چھپاتے ہوئے بڑی چالاکی سے پوچھا:“جناب، کیا آپ یہ بلی فروخت کرنا پسند کریں گے؟” دکاندار نے مسکرا کر جواب دیا:“یہ تو میری پالتو بلی ہے، لیکن اگر آپ کو بہت پسند آ گئی ہے تو پچاس ڈالر میں لے جا سکتی ہیں۔” خاتون نے…

Read more

پچھلی صدیوں کی داستانیں ہمیشہ انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہیں، ان میں چھپی عبرتیں اور سبق ہمارے لیے آج بھی مشعل راہ ہیں۔ ایسی ہی ایک داستان، جو کسی ایک شخص کی نہیں بلکہ بہت سے بھٹکے ہوئے انسانوں کی کہانی ہے، آج میں تمہیں سناتا ہوں۔ یہ کہانی ہے “کھوئے ہوئے باغ” کی، جس کے ارد گرد دنیا کی چکاچوند بکھری ہوئی تھی، مگر اس کا باسی اپنے خالق سے غافل تھا۔ **کھوئے ہوئے باغ کا راجہ** ایک زمانہ تھا جب دنیا کی ایک حسین وادی میں ایک ایسا شخص رہتا تھا جسے لوگ “راجہ” پکارتے تھے، اگرچہ وہ کسی سلطنت کا بادشاہ نہیں تھا، مگر اس کی دولت اور اسبابِ دنیا ایسے تھے کہ کوئی بادشاہ بھی اس پر رشک کرتا۔ اس کے پاس ہر وہ چیز تھی جو انسان کو دنیا میں کامیاب اور خوشحال نظر آنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ سونے کے ڈھیر، چاندی…

Read more

ایک شہری خاتون گاؤں میں عورتوں کو حساب سکھا رہی تھیں۔ اس نے ایک عورت سے پوچھا،“اگر تمہارے پاس پچاس روپے ہوں اس میں سے تم بیس روپے اپنے شوہر کو دے دو تو بتاؤ تمہارے پاس کتنے روپے بچیں گے؟” عورت نے جواب دیا،“کچھ بھی نہیں۔” خاتون نے دیہاتی عورت کو ڈانٹتے ہوئے کہا،“احمق عورت! تم حساب بالکل نہیں جانتی ہو۔” دیہاتی عورت نے جواب دیا،“آپ بھی میرے شوہر ’شیرو‘ کو نہیں جانتی ہو۔ وہ سارے روپے مجھ سے چھین لے گا۔” منقول بھلے ہی اس عورت نے جواب غلط بتایا۔ لیکن زمینی حقائق کے مطابق اس کا جواب درست تھا۔ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس کا شوہر کس قدر ناہنجار ہے۔ایسے ہی ہماری زندگی میں کچھ لوگ ہم سے سوال کرتے ہیں اور جواب بھی قپنی منشاء کے مطابق چاہتے ہیں۔ اپنی جگہ وہ بھی ٹھیک ہوتے ہیں لیکن ہمارے حالات ان سے مختلف ہوتے ہیں۔ وہ…

Read more

یہ ایک بادشاہ کے عہد کی بات ہے۔ایک دن وہ کسی بات پر بے حد خوش ہوا تو اس نے ایک عام سے شخص کو بلا کر کہا: “سورج غروب ہونے تک تم جتنی زمین کا دائرہ مکمل کر لو گے، وہ ساری زمین تمہاری ہو گی۔” مگر ساتھ ہی ایک شرط بھی رکھ دی:“اگر سورج ڈوبنے سے پہلے دائرہ مکمل نہ کر سکے تو تمہیں کچھ بھی نہیں ملے گا۔” یہ سن کر اس شخص کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ دل خوشی سے بھر گیا۔ وہ فوراً چل پڑا، بڑے ارمانوں کے ساتھ، بڑے خوابوں کے ساتھ۔چلتے چلتے ظہر کا وقت آ گیا۔ دل نے آہستہ سے کہا،“اب واپسی کا رخ کر لینا چاہیے، دائرہ کافی بن چکا ہے۔” مگر نفس نے سرگوشی کی:“ابھی نہیں… تھوڑا سا اور۔ جتنی زیادہ زمین ہو گی، اتنا فائدہ ہو گا۔” وہ آگے بڑھتا گیا۔ کچھ دیر بعد ایک دلکش پہاڑ سامنے…

Read more

ایران کے ایک سرسبز گاؤں میں ایک نوجوان رہتا تھا، نام سلمان۔ آگ کی پرستش اُس کے قبیلے کا دین تھی اور وہ برسوں سے معبد کی آگ کی نگہبانی کرتا آیا تھا، مگر اس کے دل میں ایک سوال جلتا رہتا: کیا یہ آگ سن سکتی ہے؟ کیا یہ مجھے جواب دے سکتی ہے؟ایک دن راستے سے گزرتے ہوئے اس نے ایک گرجا سے دعاؤں کی آواز سنی۔ خاموشی، سجدہ اور عاجزی نے اس کے دل کو چھو لیا۔ وہ ایک راہب کے پاس گیا، پھر دوسرے، پھر تیسرے۔ ہر ایک نے اسے سچ کے ایک اور دروازے تک پہنچایا۔ آخرکار ایک بوڑھے راہب نے کہا: اے سلمان! وہ زمانہ قریب ہے جب آخری نبی عرب کی سرزمین میں ظاہر ہوں گے۔ وہ صدقہ نہیں کھائیں گے، تحفہ قبول کریں گے اور ان کے کندھوں کے درمیان نبوت کی مہر ہوگی۔ سلمانؓ نے سب کچھ چھوڑ دیا، گھر، وطن…

Read more

             یہ 3 جنوری 1889ع کی ایک خاموش اور سرد صبح تھی۔ سورج کی مدھم کرنیں اٹلی کے شہر تورین کی پتھریلی گلیوں پر ہولے ہولے پھیل رہی تھیں۔ ہوا میں خنکی تھی، مگر گلیوں میں زندگی کی معمولی سی رمق باقی تھی۔ فریڈرک نطشے، اپنے خیالات کے بوجھ تلے دبے ہوئے، ویا کارلو البرتو کے تنگ راستے پر بے مقصد قدموں سے چل رہا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں بیزاری تھی، گویا دنیا کی حقائق نے اُس کے اندر ایک ایسا کرب پیدا کر دیا تھا جس کا کوئی علاج نہیں تھا۔ وہ برسوں سے اپنی فکری مسافت میں انسانیت کے چہرے سے نقاب نوچنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر وہ جانتا تھا کہ حقیقت کو بے نقاب کرنے والے اکثر خود اسی حقیقت کے بوجھ تلے کچلے جاتے ہیں۔ اچانک، بازار کے قریب گھوڑے کی ایک دل دہلا دینے والی چیخ نے فضا میں ارتعاش پیدا کر…

Read more

شیر نے لومڑی سے کہا “میرے لیے کھانا لاؤ، ورنہ میں تمہیں کھا جاؤں گا۔” لومڑی نے چال چلی اور اس نے گدھے سے کہا “شیر تمہیں بادشاہ بنانا چاہتا ہے، آؤ میرے ساتھ چلو۔” جب گدھا پہنچا تو شیر نے حملہ کر دیا اور گدھے کے کان کاٹ ڈالے تو گدھا بدک کر بھاگ نکلا۔ گدھے نے روتے ہوئے لومڑی سے کہا “تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے “ لومڑی بولی “بیوقوف مت بنو اس نے تو صرف تمہارے کان اس لیے کاٹے ہیں تاکہ وہ تمہارے سر پر تاج رکھ سکے۔” گدھا واپس آ گیا اور شیر نے اس پے دوبارہ حملہ کیا اب کی بار اس کی دُم کاٹ ڈالی تو گدھا پھر کسی طرح سے بھاگ نکلا اور لومڑی کو کہا تم نے پھر مجھ سے دھوکا کیا ہے لومڑی نے کہا “پاگل، شیر نے تمہاری دم اس لیے کاٹی تاکہ تم تخت پر آرام سے…

Read more

1803 میں، جارجیا کے ساحل کے قریب، 75 ایگبو مردوں اور عورتوں کے ایک گروہ نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے سمندر اور انسانی تاریخ، دونوں کو ہلا کر رکھ دیا: زنجیروں میں جینے کے بجائے، آزاد ہو کر مرنا۔ اپنی باغی طبیعت کی وجہ سے، ایگبو غلاموں کے خریداروں کے لیے ایک خوف کی علامت تھے، جو جانتے تھے کہ ان کے قیدی مزاحمت کریں گے، فرار ہونے کی کوشش کریں گے، اور یہاں تک کہ غلامی پر موت کو ترجیح دیں گے۔ اس دن، انہیں ایک بدنام اور ظالم چاول کے کھیت میں منتقل کیا جا رہا تھا۔ جہاز کے نچلے حصے میں، زنجیروں میں جکڑے ہوئے، وہ سب ایک ساتھ گانے لگے—ایک ایسا گیت جو صرف موسیقی نہیں تھا، بلکہ بغاوت کا ایک اجتماعی عہد تھا۔جہاز کے ملاحوں نے انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی، لیکن ان کی آوازیں ایک اجتماعی گرج کی طرح بلند ہوئیں،…

Read more

ایک دن بغداد کے قریب دریائے دجلہ کے کنارے ایک نوجوان بیٹھا رو رہا تھا۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں، ہاتھ کانپ رہے تھے، اور دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ وہ کوفہ سے آیا تھا اور اس نے ایک بہت بڑا گناہ کر لیا تھا۔ اس نے شراب پی تھی اور زنا کیا تھا۔ اب اسے اپنی موت کا ڈر تھا اور وہ سوچ رہا تھا کہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے کیا منہ دکھائے گا۔اچانک اس نے دیکھا کہ دور سے ایک شخص چلا آ رہا ہے۔ سادہ کپڑے، چہرے پر نور، آنکھوں میں رحمت۔ وہ امام ابوحنیفہؒ تھے۔ نوجوان نے انہیں پہچان لیا اور شرم سے زمین میں گھس جانا چاہا، مگر امام صاحب اس کے پاس آ کر بیٹھ گئے اور بڑی نرمی سے پوچھا:”اے نوجوان! کیا بات ہے؟ کیوں رو رہے ہو؟“نوجوان نے سر اٹھایا اور روتے ہوئے کہا:”یا امام! میں نے…

Read more

بنی اسرائیل کی ایک جماعت جو حضرت حزقیل علیہ السلام کے شہر میں رہتی تھی، شہر میں طاعون کی وبا پھیل جانے سے ان لوگوں پر موت کا خوف سوار ہو گیا اور یہ لوگ موت کے ڈر سے سب کے سب شہر چھوڑ کر ایک جنگل میں بھاگ گئے اور وہیں رہنے لگے تو اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کی یہ حرکت بہت زیادہ ناپسند ہوئی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایک عذاب کے فرشتہ کو اس جنگل میں بھیج دیا۔ جس نے ایک پہاڑ کی آڑ میں چھپ کر اور چیخ مار کر بلند آواز سے یہ فرما دیا کہ موتوا یعنی تم سب مر جاؤ اور اس مہیب اور بھیانک چیخ کو سن کر بغیر کسی بیماری کے بالکل اچانک یہ سب کے سب مر گئے جن کی تعداد ستر ہزار تھی۔ان مردوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ لوگ ان کے کفن و دفن کا کوئی…

Read more

ایک بادشاہ کے دربار میں🍁 ایک گانا گانے والا آیا اس نے اتنا اچھا گانا گایا کہ بادشاہ نے خوش ہو کر اپنے وزیر سے کہا اتنا اچھا گا رہا ہے اس کو ہیرے دے دو ، گانا گانے والا اور گانے لگا بادشاہ نے خوش ہو کر اعلان کیا اس کو موتی دے دو ، گانے والا اور سُر لگانے لگا بادشاہ نے کہا اس کو اشرفیاں دے دو ، 🍁اشرفیوں کا سُن کر وہ اور اچھا گانے لگا بادشا ہ نے کہا اس کو جاگیر دے دو ، بادشاہ نے خوش ہو کر سونے چاندی سب کا اعلان کر دیا ، وہ خوش ہو کر گاتا گیا گاتا گیا ، گانا ختم ہوا اپنے گھر واپس گیا اور بیوی سے کہنے لگا بادشاہ نے آج میرے گانے کی صلاحیت اور قابلیت کی بنا پر خوش ہو کر سونا چاندی اور جاگیر دینے کا اعلان کیا ہے ، 🍁بیوی…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شدید سردی میں ملانصرالدین کی اپنے دوستوں کے ساتھ ایک انوکھی شرط لگ گئی۔ مُلا کے دوستوں نے کہا:“ملا! اگر تم ایک پوری رات پہاڑی پر بغیر آگ جلائے گزار لو، تو ہم تمہیں ایک سونے کا سکہ دیں گے، اور اگر نہ گزار سکے تو تم ہمیں ایک دن کا کھانا کھلاؤ گے۔” ملا نصرالدین نے یہ شرط قبول کر لی۔انہوں نے ایک کتاب اور موم بتی لی اور پہاڑی پر رات گزارنے چلے گئے۔ موم بتی جلا کر ساری رات کتاب پڑھتے رہے اور کتاب میں یوں کھو گئے کہ رات گزرنے کی خبر ہی نہ ہوئی۔ صبح جب واپس آئے تو دوستوں سے کہا:“میں جیت گیا ہوں، اب مجھے میرا سونے کا سکہ دو۔” دوست بولے:“ملا! کیا تم نے واقعی آگ استعمال نہیں کی؟” ملا نے جواب دیا:“نہیں، میں کتاب اور موم بتی لے گیا تھا۔ اس موم بتی کی روشنی…

Read more

کہا جاتا ہے کہ سندھ کے حکمران راجہ داہر کو جب اُموی سالار محمد بن قاسم کے ہاتھوں شکست ہو گئی تو اُن کی دو بیٹیوں سوریا اور پریمل کو محمد بن قاسم نے راجہ کی ہلاکت کے بعد خلیفہ ولید بن عبدالملک کے پاس دارالخلافہ بغداد روانہ کر دیا۔ خلیفہ ولید بن عبدالملک نے جب بڑی بیٹی سوریا سے خلوت کا ارادہ کیا تو سوریا نے چال چلی اور خلیفہ سے کہا کہ محمد بن قاسم پہلے ہی اُن کے ساتھ خلوت اختیار کر چکا ہے چنانچہ وہ اب خلیفہ کے شایانِ شان نہیں رہیں۔غصے میں خلیفہ کو تحقیق کا ہوش نہیں رہا اور اُنھوں نے اسی وقت محمد بن قاسم کے نام پروانہ جاری کیا کہ وہ جہاں کہیں بھی ہیں خود کو کچی کھال میں سلوا کر دارالخلافہ کو واپس ہوں۔محمد بن قاسم نے ایسا ہی کیا اور دارالخلافہ کے راستے میں ہی دو دن بعد اُن…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شیطان اور ایک عابد کے درمیان تکرار ہو گئی۔ عابد کا مؤقف تھا کہ ہر برائی کے پیچھے شیطان کا ہاتھ ہوتا ہے،جبکہ شیطان کا دعویٰ تھا کہ انسان خود ہی خرابی پیدا کرتا ہے۔وہ بولا:“میں تو صرف گانٹھ کھولتا ہوں، باقی کام انسان خود کر لیتا ہے۔” عابد یہ بات ماننے کو تیار نہ تھا۔شیطان نے کہا:“ٹھہرو، میں تمہیں یہ بات ثابت کر کے دکھاتا ہوں۔” وہ عابد کو ایک درخت کے پاس لے گیا، جہاں ایک گدھا بندھا ہوا تھا۔شیطان نے گدھے کی رسی کھول دی۔ گدھا کھیتوں کی طرف بھاگا اور کھڑی فصل کو تباہ کرنے لگا۔ جب کسان کی بیوی نے یہ منظر دیکھا تو وہ غصّے سے بے قابو ہو گئی اور اس نے گدھے کو ایک ڈنڈا مار دیا۔ ڈنڈا کچھ اس انداز اور شدت سے لگا کہ گدھے وہیں ڈھے کر مر گیا۔ گدھے کی لاش دیکھ…

Read more

*ظہیر الدین بابر* کے بارے میں پڑھا تھا اسے ایک بار جسم پر خارش ہوگئی، خارش اتنی شدید تھی کہ اگر کوئی کپڑا اس کے جسم سے چھو بھی جاتا تھا تو اس کے منہ سے چیخ نکل جاتی تھی، اس کے مخالف *شیبانی خان* کو پتا چلا تو وہ عیادت کے بہانے اس کی تکلیف انجوائے کرنے کے لیے آ گیا، بابر کو اطلاع ہوئی تو اس نے سر سے لے کر پائوں تک شاہی لباس پہنا، سر پر تاج رکھا اور دربار میں آ کر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ شیبانی خان سارا دن اس کے ساتھ بیٹھا رہا، اس نے کھانا بھی اس کے ساتھ کھایا لیکن بابر نے اپنی تکلیف اپنے چہرے اور آواز تک نہیں آنے دی یہاں تک کہ آخر میں شیبانی خان مایوس ہو کر چلا گیا، مہمان جوں ہی محل سے نکلا، بابر نے فوری طور پر اپنا سارا لباس اتار کر…

Read more

ایک شخص نے بازار میں دیکھا کہ ایک شخص اپنا غلام بیچ رہا ہے اور یہ آواز بھی لگا رہا ہے کہ یہ بہت اچھا غلام ہے، اس کے اندر اس کے علاوہ کوئی عیب نہیں ہے کہ یہ کبھی کبھی چغلی کھاتا ہے، کسی شخص نے یہ آواز سنی تو اس نے سوچا کہ اس میں تو کوئی عیب نہیں ہے اور چغلی کھانا تو عام بات ہے، اس میں کیا خرابی ہے، لہذا اس غلام کو خرید لینا چاہئے ، چنانچہ اس نے سودا کر کے وہ غلام خرید لیا اور اپنے گھر لے آیا، کچھ عرصے تک تو وہ غلام ٹھیک ٹھیک کام کرتا رہا، اس کے بعد اس نے اپنا رنگ دکھانا شروع کیا، چونکہ چغل خوری کے اندر وہ ماہر تھا ، اس لئے اس نے چغل خوری کے اندر اپنا کرتب دکھلایا اور سب سے پہلے وہ اپنی مالکہ کے پاس گیا اور اس…

Read more

کہتے ہیں ایک جنگل میں ہزاروں مرغیاں آزاد زندگی گزارتی تھیں۔انہی میں ایک مرغی ایسی تھی جس کی گود خالی تھی۔ نہ انڈا، نہ بچہ۔یہ کمی اسے اندر ہی اندر توڑتی رہتی۔ ایک دن مایوسی میں وہ جھنڈ سے دور نکل گئیاور ایک بڑے درخت کے نیچے سو گئی۔اسی درخت پر ایک باز کا گھونسلہ تھا۔اتفاق سے وہاں سے ایک انڈا گرا اور مرغی کے قریب آ کر رک گیا۔ آنکھ کھلی تو انڈا دیکھ کر مرغی خوشی سے بھر گئی۔اسے لگا یہ اسی کا ہے۔وہ انڈا اٹھا کر اپنے جھنڈ میں واپس آ گئی۔ کچھ دن بعد انڈا ٹوٹا اور اس میں سے جو نکلا، وہ مرغی جیسا نہیں تھا۔ مگر محبت نے فرق ماننے سے انکار کر دیا۔ مرغی نے اسے وہی سکھایا، جو وہ جانتی تھی۔زمین پر چلنا، دانہ چگنا، اور سر جھکا کر جینا۔ وہ بچہ ہر شام پوچھتا،“ماں! آسمان میں اڑنے والے کون ہیں؟” مرغی…

Read more

160/1081
NZ's Corner