Category Archives: NZ’s Blogs

احمقوں کی ریاست کا عظیم بادشاہ اپنے چند سپاہیوں کے ساتھ جنگل میں شکار کرنے کیلئے نکلا ہوا تھا کہ بادشاہ کی نظر ایک خوبصورت  لڑکی پر پڑتی ہے جو اسی جنگل میں ہی لکڑیاں جمع کر کے اپنی گدھی پر ڈالنے میں لگی ہوتی ہے، بادشاہ اسے دیکھتے ہی فوراً اپنا دل ہاڑ بیٹھتا ہے اور کچھ سپاہیوں کو اس لڑکی کے بارے میں معلومات لینے کیلئے وہی چھوڑ کر باقی سپاہیوں کے ساتھ آگے کو چل دیتا ہے۔ دوسرے دن معلومات کے ملنے پر بادشاہ کو پتا چلتا ہے کہ وہ ایک فقیر کی بیٹی ہے تو بادشاہ اس لڑکی کے ماں باپ کو کچھ پیسے اور سازو سامان دے کر اس سے شادی کر لیتا ہے اور خود کو بدنامی سے بچانے کیلئے سسرال والوں کو محل کی طرف رخ کرنے سے سختی سے منع کرتے ہوے کہتا ہے کہ اگر کچھ بھی آپ لوگوں کو چاہیے…

Read more

ایک بھینس 🐃 جنگل میں گھبرائی ہوئ بھاگ رہی تھی ۔جب چوہے 🐀 نے دیکھا تو بولا،“تو کیوں بھاگ رہی ہے؟” بھینس 🐃 بولی:“پولیس 👮‍♂️ جنگل میں ہاتھی 🐘 کا پیچھا کر رہی ہے۔” چوہا 🐀 بولا،“لیکن تُو تو بھینس 🐃 ہے۔” بھینس بولی:“ہاں لیکن یہ پاکستان ہے، یہاں کورٹ میں یہ ثابت کرنے میں برسوں لگ جائیں گے کہ میں ہاتھی نہیں بھینس ہوں۔” یہ سن کر چوہا بھی جنگل کی طرف بھاگ نکلا۔#منقول 😅😅😅 سن 2018ء میں ایک زرعی رقبہ کا فیصلہ سنایا گیا اور زمین ورثاء میں تقسیم کی گئی تھی۔ اندازہ کریں کہ یہ کیس پچھلے 100 سال سے چل رہا تھا، تقسیمِ ہند سے بھی 29 سال پہلے سے۔ہمارے بھی عدالت میں زمین کے چار کیس چل رہے ہیں۔ امید ہے کہ ہمارے پوتے اپنے بچوں کو وہ زمین دینے میں کامیاب رہیں گے۔ 😅 پاکستان میں اوّل تو انصاف نہیں ملتا،اگر بنا رشوت کے…

Read more

ایک بار جنگل میں خوفناک آگ لگ گئی۔ آگ کے خوف سے تمام جانور اپنی جان بچا کر بھاگ گئے۔ جنگل میں ایک چڑیا کا گھونسلہ بھی تھا۔ جب اس نے آگ دیکھی تو فوراً اُڑی اور جنگل کے قریب بہنے والی ندی کے کنارے جا پہنچی۔ وہ اپنی چونچ میں پانی کی چند بوندیں بھر لاتی اور واپس آ کر جنگل کی آگ پر ڈالتی۔ وہ یہ عمل بار بار کرتی رہی۔ اسی دوران شیر کی نظر اس پر پڑی۔ شیر نے طنزیہ انداز میں کہا،“اے نادان چڑیا! تیری یہ چند بوندیں کہاں اس خوفناک آگ کو بجھا سکتی ہیں؟” چڑیا نے پُرعزم لہجے میں جواب دیا:“بات آگ بجھانے کی نہیں۔ بات اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی ہے۔مجھے معلوم ہے کہ میری چند بوندیں جنگل کی آگ نہیں بجھا سکتیں، لیکن جب آخرت میں اللہ تعالیٰ مجھ سے سوال کرے گے کہ آگ لگی تھی تو تم نے…

Read more

ایک مولوی صاحب خوف خدا پر تقریر فرما رہے تھے۔ خوف خدا پر لمبی تقریر سننے کے بعد مجمع میں سے کسی سامع نے سوال پوچھا:مولانا صاحب جانوروں میں سب سے کم چربی کون سے جانور کی ہے؟مولوی صاحب دم بخود رہ گئے۔جواب ان کے پاس تھا نہیں۔ تو تکا لگا کر کسی جانور کا نام لیا جو کہ غلط تھا۔اس پر سامع سے مولانا صاحب نے پوچھا کہ چلو تم ہی بتاؤ اگر تمہارے پاس اس کے بارے میں علم ہے تو؟اس شخص نے کہا کہ جانوروں میں سب سے کم چربی ہرن میں پائی جاتی ہے۔وجہ اس کی یہ ہے کہ اسے ہر وقت چیر پھاڑ کرنے والے جانوروں کا خوف رہتا ہے۔ حتیٰ کہ جب وہ پانی پیتا ہے تو کئی مرتبہ ارد گرد نظر دوڑاتا ہے،کہ کہیں کسی کا شکار نہ بن جاؤں۔اسی خوف کی وجہ سے اس میں چربی نہیں بن پاتی۔ اگر دوسری طرف…

Read more

شفیق صاحب نے کنڈیکٹر کو کرایہ دینے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈال ہی رہے تھے کہ برابر بیٹھے اجنبی نے اچانک ان کی کلائی مضبوطی سے تھام لی۔ “نہیں محترم! کرایہ میں دے دیتا ہوں۔” شفیق صاحب نے حیرت سے دیکھا، انکار کیا، اصرار کیا، مگر اجنبی کی شرافت حد سے بڑھی ہوئی تھی۔ مسکراتے ہوئے اس نے کرایہ ادا کر دیا۔ بابو صاحب نے دل ہی دل میں سوچا،“ابھی بھی دنیا میں اچھے لوگ باقی ہیں۔” اگلے اسٹاپ پر وہ نیک دل اجنبی اتر گیا۔ بس آگے بڑھی تو شفیق صاحب نے دوبارہ جیب میں ہاتھ ڈالا… اور وہیں سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔جیب ہلکی تھی… حد سے زیادہ ہلکی۔نیکی کے ساتھ ساتھ اجنبی جیب بھی صاف کر گیا تھا۔ اگلے دن بازار میں قسمت نے دوبارہ آمنا سامنا کرا دیا۔ بابو صاحب نے چور کو پہچان لیا۔ پکڑا تو وہ روتا ہوا ان کے گلے لگ گیا۔…

Read more

کبوتر کی آنکھیں اور خود فریبی کا میٹھا زہر: کیوں ہم ‘کھٹے انگور’ کھا کر اپنی ناکامی چھپاتے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی کبوتر کو خطرے کی حالت میں دیکھا ہے؟ جب ایک بھوکی بلی کبوتر کی تاک میں ہوتی ہے اور فاصلہ مٹ رہا ہوتا ہے، تو کبوتر اڑتا نہیں، نہ پنجے لڑاتا ہے۔ وہ اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ اس کے ننھے سے دماغ میں ایک عجیب کیمیائی عمل ہوتا ہے جو اسے یہ یقین دلاتا ہے کہ “اگر میں خطرے کو نہیں دیکھ رہا، تو خطرہ بھی موجود نہیں ہے۔”ہم اس معصوم پرندے کی سادہ لوحی پر مسکراتے ہیں۔ لیکن ذرا رکیے اور اپنے گریبان میں جھانکیے۔ کیا ہم انسان جو شعور، ادراک اور ‘اشرف المخلوقات’ ہونے کے دعویدار ہیں—اپنی نفسیاتی زندگی میں بالکل اسی کبوتر کی تقلید نہیں کر رہے؟ جب زندگی کے تلخ حقائق، معاشی بحران، رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ یا اپنی نااہلی کا…

Read more

مغل شہزادوں کی نیند، گورے کے دفاتر اور ہمارے بند بازار: زوال کی نفسیاتتاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایک عبرت ناک منظر ابھرتا ہے جو آج بھی ہمارے حال کا آئینہ ہے۔ مغل دور کے آخری ایام میں، جب زوال کی پرچھائیاں دہلی کی فصیلوں کو چھو رہی تھیں، شہزادے رات بھر کی محفلوں کی تھکن اتارنے کے لیے پو پھٹے “خمار” کی وادیوں میں پناہ لیتے تھے۔ عین اسی وقت، سات سمندر پار لندن کی دھند میں ایک برطانوی افسر سورج کی پہلی کرن کے ساتھ اپنے دفتر کا چراغ روشن کر چکا ہوتا تھا۔یہ محض دو انسانوں کا فرق نہیں تھا بلکہ یہ دو متصادم رویوں کا ٹکراؤ تھا۔ ایک طرف وہ ذہن تھا جو کائنات کے فطری توازن یعنی “روشنی” کے ساتھ قدم ملا کر چلنا جانتا تھا، اور دوسری طرف وہ طبقہ جو رات کی تاریکی میں کھو کر دن سے آنکھیں چرا رہا تھا۔ یہی…

Read more

ایک بھنگی شخص کسی پیر کا مرید بن گیا۔ وہ پہلے روزے نہیں رکھتا تھا اور روزہ رکھنے کا تصور بھی اسے مشکل لگتا تھا۔ پیر نے ایک دن اس سے کہا،“تم روزہ رکھو، میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمھاری ایک دعا ضرور قبول ہوگی۔” بھنگی نے پیر کی بات پر بھروسہ کیا اور اگلے دن روزہ رکھنا شروع کر دیا۔ دن بھر وہ بھوک اور پیاس سے تڑپتا رہا، ہر لمحہ مشکل محسوس ہو رہی تھی۔ آخر شام کو، روزہ افطار کیا اور سیدھا پیر کے پاس پہنچ گیا۔ پیر نے مسکرا کر پوچھا،“تو، مانگو، کیا مانگتے ہو؟” بھنگی نے ہاتھ باندھے اور بڑی عاجزی سے بولا،“پیر صاحب، خدا دا واسطہ، سویرے عید کروا دیو!” #منقول

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص دنیا، زندگی اور غربت سے تنگ آ کر خودکشی کرنے کے ارادے سے جنگل کی طرف نکل پڑا۔ راستے میں اچانک اس کی ملاقات ایک جِن سے ہو گئی۔ جِن نے اس شخص سے کہا:“اگر تم خودکشی کا ارادہ ترک کر دو تو میں تمہیں امیر بنا دوں گا۔” پھر جِن نے اسے ایک ترکیب بتائی اور کہا:“تم واپس جاؤ اور حکیم بن جاؤ۔ جب کسی مریض کے پیروں کی طرف مجھے کھڑا دیکھو تو اُسے دوا مت دینا اور اس کے لواحقین کو بتا دینا کہ یہ مریض نہیں بچے گا۔ اور جس مریض کے سرہانے مجھے کھڑا دیکھو، اُسے دوا دے دینا اور کہہ دینا کہ اسے کچھ نہیں ہوگا۔” اس شخص نے جِن کی ہدایت پر عمل شروع کر دیا۔ جسے وہ دوا دیتا، وہ بچ جاتا، اور جسے دوا نہ دیتا، وہ مر جاتا۔ رفتہ رفتہ وہ شخص…

Read more

ایک شخص ہارس رائیڈنگ کا لباس پہن کر‘ گھوڑے پر بیٹھ کر پہاڑی علاقے کی ایک سڑک پرجا رہا تھا‘ راستے میں سڑک پر ایک درخت گرا ہو اتھا۔اس درخت نے راستہ روک رکھا تھا۔ ‘گھوڑے پر سوار 3 شخص گرے ہوئے درخت کے قریب پہنچا تو اس نے دیکھا‘ فوج کے تین چار جوان درخت کو ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ درخت کو زور سے سڑک کے کنارے کی طرف دھکیل رہے ہیں لیکن درخت بھاری ہے اور اسے دھکیلنے والے لوگ کم ہیں۔اس نے دیکھا‘ جوانوں کا سینئر ذرا سا فاصلے پر کھڑا ہے اور یہ وہاں چھڑی لہرا لہرا کر انہیں مزید زور لگانے کی ہدایات دے رہا ہے۔ اس شخص نے اندازا لگایا کہ اگر یہ سینئر بھی ان جوانوں کے ساتھ لگ جائے‘ یہ بھی درخت کو ہٹانے کیلئے زور لگانا شروع کر دے تو درخت چند لمحوں میں سڑک سے کھسک جائے…

Read more

ایک شخص نے ایک کتے کو قبرستان میں دفن کردیا لوگوں نے قاضی کے پاس جا کر اس شخص کی شکایت کی اس شخص کو قاضی کے پاس طلب کیا گیا قاضی نے غضبناک ہو کر اس سے پوچھا کہ اےبدبخت کیا تو نے ہی قبرستان میں کتے کو دفن کیا تھا ؟اس شخص نے کہا ہاں کتے کی وصیت تھی سو میں نے پوری کردی قاضی نے کہا تیرا ستیاناس ہو کتے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر کے اوپر سے میرا مذاق اڑارہے ہو ؟اس شخص نے کہا قاضی صاحب جلدی نہ کریں میری پوری بات سن لیں مرحوم کتے نے قاضی کے لئے بھی ایک ہزار دینار ھدیہ کرنے کی وصیت کی ہےقاضی نے کہا اللہ اس فقید المثال کتے پر رحم فرمائے قاضی کی بات سن کر لوگ حیران رہ گئے قاضی نے کہا تم حیران کیوں ہو رہے ہو میں نے اس کتے پر…

Read more

ایسا بادشاہ جس نے بادشاہت شان و شوکت سب کچھ چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہمؒ ابتدا میں ایک عظیم بادشاہ تھے۔ وہ عیش و آرام کی زندگی گزارتے تھے، شکار کے شوقین تھے اور دنیاوی شان و شوکت میں مشغول رہتے تھے۔ ایک دن وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر شکار کے لیے نکلے۔ ان کے ساتھ شکاری کتے بھی تھے۔ جب وہ ایک ہرن کے قریب پہنچے تو اچانک ہرن نے آواز دی۔ اس آواز میں اللہ رب العزت کی طرف سے تنبیہ تھی کہ“اے ابراہیم! کیا تم اسی مقصد کے لیے پیدا کیے گئے ہو؟ کیا تمہیں اسی کام کا حکم دیا گیا تھا؟” حضرت ابراہیمؒ نے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا۔ وہ آگے بڑھے تو دوبارہ آواز آئی، پھر تیسری مرتبہ واضح الفاظ میں کہا گیا کہ:“یہ شکار اور دنیا کی یہ مشغولیت تمہارے لیے نہیں ہے، اپنے آخرت کے سفر…

Read more

بے وقوفوں کی یہ بستی آج سے سیکڑوں برس پہلے کوہِ قاف کے پاس تھی۔ لیکن اب وہاں اس کا نام و نشان تک موجود نہیں ۔ بستی کے رہنے والے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی وجہ سے ساری دنیا میں مشہور تھے ۔ اچنبھے کی بات یہ تھی کہ انھوں نے اپنی زندگی میں بلی کبھی نہیں دیکھی تھی اور وہ بلی کے نام ، اُس کی شکل سے بھی بالکل نا واقف تھے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بستی چوہوں سے کھچا کھچ بھر گئی۔ جدھر دیکھو چوہے ہی چوہے ۔ ادھر چو ہے، ادھر چو ہے۔ کوئی گھر ایسا نہ تھا جو ان سے آباد نہ ہو۔ لوگ اس قدر پریشان تھے کہ وہ ہر قیمت پر ان سے جان چھڑانا چاہتے تھے ۔ اُنھوں نے کئی مرتبہ اکٹھے ہو کر اس بارے میں مشورے بھی کئے، لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔…

Read more

ایک دن ایک کتا جنگل میں بھٹک گیاتبھی اس نے دیکھا کہ ایک شیر اس کی طرف آ رہا ہےکتے کی سانس رک گئیآج_تو_کام_تمام_میراپھر اس نے اپنے سامنے کچھ ہڈیاں پڑی دیکھیں، وہ آتے ہوئے شیر کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ گیا اور ایک سوکھی ہڈی کو چوسنے لگا، اور زور زور سے بولنے لگاواہ_شیر_کو_کھانے_کا_مزہ_ہی_کچھ_اور_ہے….ایک اور مل جائے تو پوری دعوت ہو جائے، اور اس نے زور سے ڈکار ماری، اس بار شیر سوچ میں پڑ گیا،اس نے سوچایہ کتا تو شیر کا شکار کرتا ہے جان بچا کر بھاگنے میں ہی بھلائی ہے، اور شیر وہاں سے جان بچا کر بھاگ گیا، درخت پر بیٹھا ایک بندر یہ سب تماشہ دیکھ رہا تھا، اس نے سوچا یہ اچھا موقع ہے، شیر کو پوری کہانی بتا دیتا ہوں، شیر سے دوستی بھی ہو جائے گی اور اس سے زندگی بھر کے لیے جان کا خطرہ بھی دور ہو جائے…

Read more

ملک یمن میں آباد قبیلہ طے کے سردار حاتم طائی کے پاس عربی نسل کا ایک بہت عمدہ گھوڑا تھا۔ خوبصورتی اور تیز رفتاری میں یہ گھوڑا اپنا جواب نہیں رکھتا تھا۔ ایک دن روم کے بادشاہ کے دربار میں حاتم طائی کی سخاوت اور اس کے سبک رفتار گھوڑے کے بارے میں گفتگو ہو رہی تھی۔ اپنی اپنی معلومات کے مطابق ہر شخص حاتم طائی کی تعریف کر رہا تھا۔درباریوں کی یہ باتیں سن کر بادشاہ نے کہا، جب تک آزمانہ لیا جائے کسی کے بارے میں رائے قائم کرنا عقلمندی کے خلاف ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کچھ لوگ حاتم طائی کے پاس جائیں اور اس سے اس کا وہی گھوڑا مانگیں۔ اگر وہ دے دے تو بے شک تعریف کا مستحق ہے۔ عذر کیا تو ثابت ہو جائے گا کہ ریا کار ہے۔ سب نے بادشاہ کی اس بات سے اتفاق کیا اور وزیر کچھ لوگوں کو…

Read more

محمد بن عروة یمن کے گورنر بن کر شہر میں داخل ہوئے۔۔ لوگ استقبال کے لئے اجتماع کی شکل میں کھڑے تھے لوگوں کا خیال تھا کہ نئے گورنر  لمبی چوڑی تقریر کریں گے محمد بن عروۃ نے صرف ایک جُملہ کہا اور اپنی تقریر ختم کر دی۔۔۔!!   وہ جُملہ :  ” لوگوں یہ میری سواری  میری ملکیّت ھے ۔ اگر اس سے زیادہ لے کر مَیں واپس پَلٹا، تو مجھے چور سمجھا جائے”   یہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کا سنہرا دَور تھا۔۔۔!!  محمد بن عروۃ نے یمن کو خوشحالی کا مرکز بنایا۔۔۔ جس دن وہ اپنی گورنری کے ماہ و ‏سال پورے کر کے واپس پَلٹ رہے تھے لوگ ان کے فراق پر آنسو بہا رھے تھے ، لوگوں کا جمِ غفیر موجود تھا۔۔ امید تھی کہ لمبی چَوڑی تقریر کریں گے۔  محمد بن عروۃ نے صرف ایک جُملہ کہا اور اپنی تقریر ختم کر دی۔۔۔ …

Read more

کسی گاؤں میں ایک نہایت عبادت گزار شخص رہتا تھا۔ وہ لوگوں کو دین و دنیا کے مسائل سمجھاتا، نیکی کی تلقین کرتا اور برائی سے بچنے کی ہدایت دیا کرتا تھا۔ گاؤں والوں کے لیے وہ اللہ کا ایسا بندہ تھا جو کسی نعمت سے کم نہ تھا، اور ہر مسئلے میں لوگ اسی سے رہنمائی لیا کرتے تھے۔ پھر ایک دن…اس گاؤں کو ایک ایسے طوفان نے آ گھیرا جس کی شدت گاؤں والوں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ موسلا دھار بارش اور سیلابی ریلوں نے پورے گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ گاؤں اس قدر ڈوب چکا تھا کہ وہاں سے نکلنے کی صرف ایک ہی سبیل باقی رہ گئی تھی: کشتیاں۔ لوگ کشتیوں پر سوار ہو کر محفوظ علاقوں کی طرف نکلنے لگے۔ کچھ لوگ اپنی کشتیوں پر سوار ہو کر اس عبادت گزار بزرگ کے گھر کے قریب سے گزرے تو اسے آواز…

Read more

تقریباً2500 سال پرانی بات ہے، ملکِ یَمَن پر اَسْعَد تُبّان حِمْیَری نامی بادشاہ کی حکومت تھی، چونکہ یَمَن کی زَبان میں بادشاہ کو تُبَّع کہا جاتا تھا اِس لئے تاریخ میں یہ بادشاہ تُبَّعُ الْاَوَّل (یعنی پہلا بادشاہ) اور تُبَّع حِمْیَری کے نام سے مشہور ہوا۔ ایک مرتبہ تُبَّع اپنے وزیر کے ساتھ سیر پر نکلا، تقریباً ایک لاکھ 13 ہزار پیدل چلنے والے اور ایک لاکھ 30 ہزار گُھڑسوار بھی اس کے ہمراہ تھے۔جس جس شہر میں یہ قافِلہ پہنچتا لوگ ہیبت اور تعجّب کے مارے بہت عزّت و اِحتِرام سے پیش آتے تھے۔اِس سفر کے دوران تُبَّع ہر شہر سے 10عُلَما منتخب کر کے اپنے قافلے میں شامل کررہا تھا، یوں کئی شہروں کی سیر کے بعدتقریباً 4 ہزار عُلَما تُبَّع کے قافِلے میں جمع ہوگئے۔ جب یہ قافلہ شہرِ مکّہ پہنچا تو وہاں کے لوگوں نے اِن کی ذرا بھی آؤ بھگت نہ کی، یہ دیکھ کر…

Read more

عربوں میں یہ عام عادت تھی کہ وہ گھاس اور پانی کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتے رہتے۔انہی لوگوں میں ایک شخص تھا جس کی ایک ماں تھی—بہت بوڑھی—اور وہ اس کا اکلوتا بیٹا تھا۔ وہ بوڑھی عورت کبھی کبھی اپنی یادداشت کھو بیٹھتی تھی۔ بیٹا اسے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا، اس کی ماں کی خیمہ بھی اس کے قریب ہوتا۔ لیکن اس کا بار بار باہر نکلنا بیٹے کے لیے مشقت کا باعث بنتا اور قبیلے کے سفر میں رکاوٹ بنتا۔ ایک دن قبیلے نے دوسری جگہ کوچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس شخص نے اپنی بیوی سے کہا:“کل جب ہم چلیں تو میری ماں کو یہیں چھوڑ دینا۔ اس کے پاس تھوڑا پانی اور کھانا رکھ دینا، تاکہ کوئی آ کر اسے لے جائے۔ہمارے لیے بہتر ہے کہ وہ ہم سے دور مرجائے۔صبح قبیلہ روانہ ہوا اور بیوی نے سمجھ لیا کہ شوہر کیا…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک غریب کسان اور اس کی محنتی بیوی ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے تھے۔ روز وہ عورت مکھن بلوتتی، پھر اسے گول گول پیڑوں میں ڈھالتی تھی۔ ہر پیڑے کا وزن بالکل ایک کلوگرام رکھا جاتا۔ کسان وہ مکھن شہر کے وہاں ایک دکاندار کو بیچ دیتا اور اس کے عوض گھر کی ضرورت کی چیزیں خرید لیتا۔ ایک دن دکاندار کو شک ہوا۔  اس نے خود مکھن کے پیڑ تولنے کا فیصلہ کیا۔ حیرت اور غصے سے اس نے دیکھا کہ ہر “ایک کلوگرام” پیڑے کا وزن صرف نو سو گرام کے لگ بھگ تھا — تقریباً ایک چوتھائی پاؤنڈ کم۔ وہ طیش میں آگیا اور دوسرے دن جب کسان مکھن لے کر آیا تو دکاندار نے اسے روک لیا۔ وہ بولا:  “میں اب تجھ سے سودا نہیں کروں گا! تم مجھ سے دھوکا کر رہے ہو — مکھن کو پورا وزن کہہ…

Read more

180/1081
NZ's Corner