Tag Archives: #MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollection

قدیم زمانے میں سیب کا ایک بڑا درخت تھا۔ اس درخت کے قریب ہی ایک چھوٹا لڑکا رہتا تھا۔ اس لڑکے کو روزانہ اس درخت کے پاس آنا اور کھیلنا اچھا لگتا تھا۔ وہ اس درخت کے اوپر چڑھ جاتا اور اس کے پھل توڑ توڑ کر کھاتا اور پھر اس کے سائے میں سوجاتا۔ وہ لڑکا اس درخت کو بہت چاہتا تھا اور اسی طرح اس درخت کو بھی اس لڑکے کے ساتھ کھیلنا اچھا لگتا تھا۔ وقت گزرتا رہا اور لڑکا بڑا ہو گیا۔ اب وہ پہلے کی طرح روزانہ اس درخت کے پاس کھیلنے نہیں آتا تھا۔ ایک روز وہ نو جوان درخت کے پاس آیا۔وہ مایوس لگ رہا تھا۔ درخت نے اس سے کہا: “آؤ میرے ساتھ کھیلو۔” نو جوان نے اس سے کہا” اب میں بچہ نہیں رہا اب میں درختوں کے ارد گرد نہیں کھیلتا۔مجھے کچھ کھلونے چاہئے اور انہیں خریدنے کے لئے پیسوں…

Read more

838ء کا وہ بھولا ہوا موسمِ گرما…ہوا میں تلخی تھی۔ زبطرة کے ملبے کی خاک ابھی تک اڑ رہی تھی، اور خلافت عباسیہ کے سینے پر بازنطینی شہنشاہ تھیوفیلوس کا وہ طعنہ تازہ تھا جس نے بغداد کے تخت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ خلیفہ المعتصم باللہ کے چہرے پر وہ غصہ تھا جو صرف عزت کے ٹوٹنے سے پیدا ہوتا ہے۔ جب خبر پہنچی کہ بازنطینیوں نے سرحدی قلعہ زبطرة کو زمین بوس کر دیا، مسلمان قیدیوں کو ذبح کیا، اور عورتوں کی بے حرمتی کی، تو المعتصم نے اپنی تلوار نیام سے نکال لی۔ “عموریہ! میں عموریہ کو فتح کروں گا!” یہ نعرہ محض اعلانِ جنگ نہیں تھا، بلکہ ایک قوم کی بے عزتی کا حساب چکانے کا عہد تھا۔ المعتصم، ہارون الرشید کا بیٹا، اپنے بھائی المأمون کی طرح عالم تو نہ تھا، لیکن اس کی رگوں میں جنگجوئوں کا خون دوڑ رہا تھا۔ اس نے…

Read more

ایک بہت بڑے جہاز کا انجن خراب ہو گیا اور اسے کوئی بھی ٹھیک نہیں کر پا رہا تھا۔ آخر کار ایک بوڑھے مکینک کو بلایا گیا جو چالیس سال سے انجن ٹھیک کرنے کا تجربہ رکھتا تھا۔ اس نے خاموشی سے پورے انجن کا معائنہ کیا اور پھر اپنے تھیلے سے ایک چھوٹا سا ہتھوڑا نکالا۔ اس نے انجن کے ایک مخصوص حصے پر ہلکی سی چوٹ ماری اور انجن فوراً سٹارٹ ہو گیا۔جب معاوضے کی باری آئی تو اس نے دس ہزار روپے مانگے۔ جہاز کا مالک حیران ہوا اور کہنے لگا کہ تم نے تو صرف ایک ہتھوڑا مارا ہے، اس کی اتنی قیمت؟ بوڑھے مکینک نے جواب دیا کہ ہتھوڑا مارنے کا تو صرف ایک روپیہ ہے، لیکن ہتھوڑا کہاں مارنا ہے، اس بات کے نو ہزار نو سو ننانوے روپے ہیں۔سبق: صرف محنت کافی نہیں ہوتی، صحیح جگہ پر صحیح طریقے سے کی گئی محنت…

Read more

ایک صاحب کے حالات بہت خراب تھے۔ نہ روزگار تھا، نہ جمع پونجی۔ زندگی جیسے مشکلوں میں الجھ گئی تھی۔ایسے میں ان کے ذہن میں شیطانی خیال آیا،“کیوں نہ کوئی جن قابو کیا جائے، اور اس کی مدد سے دولت کمائی جائے؟” انہیں کسی بابا جی کا پتا ملا جو عملیات میں کمال رکھتے تھے۔ بابا جی نے چالیس دن کا ایک مجرّب عمل بتایا۔رات کے وقت اُن صاحب نے اپنے گھر کے ایک کمرے کا انتخاب کیا اور عمل شروع کر دیا۔ وہ بتاتے ہیں:“تین دن تک عمل جاری رہا۔ اس دوران کئی ڈراؤنی شکلیں نظر آئیں، مگر میں ڈٹا رہا۔ چوتھی رات عمل کے دوران، جب میں حصار کے اندر بیٹھا تھا، اچانک ایک خوفناک نسوانی آواز گونجی… “منّے کے ابّا… منّے کا فیڈر فریج سے نکال لائیں!” میں چونک گیا۔ فوراً سمجھ گیا کہ کوئی ہوائی مخلوق میرے عمل کو بگاڑنے آئی ہے۔بابا جی نے سختی سے…

Read more

بہت پہلے ایک بزرگ حضرتِ شَمْعُون رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ تھے ، جنہوں نے ہزار مہینے یا ہزار سال اس طرح عِبادت کی کہ رات کو عبادت کرتے، دن میں روزہ بھی رکھتے اور اللہ پاک کے دین کو عام کرنے کے لیے ،غیر مسلموں سے جہاد (بھی)کرتے(یعنی لڑتے)، طاقتور اتنے تھے کہ لوہے(iron) کو اپنے ہاتھوں سے توڑ ڈالتے تھے۔ غیر مسلموں نے آپ کو شہید (یعنی قتل)کرنے کی بہت کوشش کی مگروہ قتل نہ کر سکے تو انہوں نے بہت سے مال (wealth)کا لالچ دے کر آپ کی بیوی کو کہا کہ جب یہ سو جائیں تو اُن کو باندھ کرہمیں بتا دینا۔جب آپ سو گئے تو بیوی نے رسیوں سے آپ کو باندھ دیا، آپ کی آنکھ کھلی، آپ نے اپنے جسم کو ہلایا تو ساری رسیّاں ٹوٹ گئیں۔ پھر اپنی بیوی سےپوچھا: مجھے کِس نے باندھ دیا تھا؟ کہنے لگی کہ میں تو آپ کی طاقت دیکھ…

Read more

قدیم زمانے میں ایک رئیس کی بیٹی گھوڑا سواری کے دوران گھوڑے سے نیچے گر گئی اور اُس کے کولہے کی ہڈی اپنے بند سے جدا ہو گئی۔ لڑکی کے باپ نے بہت سے حکیموں سے علاج کروانے کی کوشش کی کہ ھڈی کو واپس اپنی جگہ پر بٹھائیں مگر مصیبت یہ تھی کہ لڑکی کسی حکیم کو اپنا جسم چھونے کی اجازت نہیں دیتی تھی ۔ باپ نے بہت اصرار کیا کہ بیٹی حکیم کو شریعت نے بھی محرم قرار دیا ھے لیکن بیٹی کسی طرح راضی نہیں ھو رھی تھی اور دن بہ دن کمزور ھوتی جا رھی تھی ۔ آخر لوگوں نے مشورہ دیا کہ شہر سے باھر ایک بہت حاذق حکیم رھتے ھیں اُن سے مشورہ کر لیں…….. وہ شخص حکیم صاحب کے پاس گئے اور اپنا مسئلہ بیان کیا تو حکیم صاحب نے کہا کہ ایک شرط پر میں آپ کی بیٹی کا کولہا ھاتھ…

Read more

🤷🏻‍♀️بیوی کے آگے اونچی آواز میں نہیں بولنا۔۔۔۔🤣🤦🏻‍♀️گاؤں کی سادہ لوح عوام۔۔۔۔چھٹیوں گزارنے گاؤں گئے تو ایک دن انتہائی دلچسپ واقعہ پیش آیا جو کسی کے لیے پریشانی کا باعث تھا اور کسی کے لیے مسکرانے کی وجہ۔۔۔۔۔۔۔ایک دن اچانک گاؤں میں کہیں سے پاگل کتا آگیا۔ اس نے ایک گدھے کو کان سے کاٹ لیا۔ اب سب لوگ کہنے لگے گدھے کو مار دو یہ بھی پاگل ہو جائے گا۔ اس نے کسی کو کاٹ لیا تو؟؟؟؟دوپہر کو مالک نے جانوروں کو چارہ ڈالا اور کھیتوں میں سپرے کرنے چلا گیا۔ محلے کی کچھ آنٹیوں نے آدمی کو گدھے کو چارہ ڈالتے ہوئے دیکھ لیا تھا وہ فوراً اس کی بیوی کے پاس ازراہ ہمدردی بتانے پہنچیں کہ تمھارا شوہر گدھے کو چارہ ڈال رہا ہے۔گدھے کو پاگل کتے نے کاٹا ہوا ہے اگر گدھے نے تمھارے شوہر کو کاٹ لیا تو وہ بھی پاگل ہو جائے گا۔ پھر…

Read more

ایک بادشاہ محل کی چھت پر ٹہلنے چلا گیا۔ ٹہلتے ٹہلتے اسکی نظر محل کے نزدیک گھر کی چھت پر پڑی جس پر ایک بہت خوبصورت عورت کپڑے سوکھا رہی تھی۔ بادشاہ نے اپنی ایک باندی کو بلا کر پوچھا: کس کی بیوی ہے یہ؟باندی نے کہا: بادشاہ سلامت یہ آپ کےغلام فیروز کی بیوی ہے۔بادشاہ نیچے اترا ، بادشاہ پر اس عورت کے حسن وجمال کا سحر سا چھا گیا تھا۔اس نے فیروز کو بلایا۔ فیروز حاضر ہوا تو بادشاہ نے کہا : فیروز ہمارا ایک کام ہے۔ ہمارا یہ خط فلاں ملک کے بادشاہ کو دے آو اور  اسکا جواب بھی ان سے لے آنا۔ فیروز: اس خط کو لے کر گھر واپس آ گیا خط کو اپنے تکیے کے نیچے رکھ دیا، سفر کا سامان تیار کیا، رات گھر میں گزاری اور صبح منزل مقصود پر روانہ ہو گیا اس بات سے لاعلم کہ بادشاہ نے اس…

Read more

کہتے ہیں یہ تخت طاؤس ہے۔یہ کوئی عام تخت نہ تھا۔ یہ دنیا کی تاریخ کا سب سے قیمتی اور شاہانہ تخت تھا — “تختِ طاؤس۔ سن 1628… مغل بادشاہ شاہجہان—جس نے تاج محل جیسا عجوبہ تعمیر کرایا—نے ایک اور ناقابلِ تصور خواب دیکھا: ایک ایسا تخت بنایا جائے جو زمین پر جنت کا منظر پیش کرے۔ شاہجہان نے حکم دیا، اور سلطنت کے بہترین سنار، جواہرات تراشنے والے، اور فنکاروں کو یکجا کر لیا گیا۔ سات سال کی شب و روز محنت کے بعد، وہ شاہکار وجود میں آیا، جسے دنیا “تخت طاؤس” کے نام سے جانتی ہے۔یہ تخت خالص 1150 کلوگرام سونے سے ڈھالا گیا۔ اس پر 230 کلوگرام کے قریب ہیرے، یاقوت، زمرد، نیلم، اور موتی جڑے گئے۔تخت کے پیچھے دو مور (طاؤس) کی شکلیں بنی تھیں، جن کے پروں میں سینکڑوں جواہرات چمکتے تھے۔ ان ہی موروں کے باعث اس کا نام “تختِ طاؤس” پڑا۔یہ تخت…

Read more

9 صفر 38 ہجری (17 جولائی 658ء) کی ایک سحر، نہروان کے میدان میں ہوا کچھ یوں: ہوا میں تلخی اور خاموشی کے ساتھ ایک عجیب دھند چھائی ہوئی تھی۔ ایک طرف حضرت علی بن ابی طالبؓ کا لشکرِ حق ڈٹا تھا، تو دوسری طرف وہی لوگ جو کل تک اسی لشکر کا حصہ تھے—خوارج—اپنے ہی بھائیوں کے سامنے صف آرا تھے۔ یہ جنگ نہیں، ایک المناک انجام تھا جو اپنے ہی ہاتھوں لکھا جا رہا تھا۔ سب کچھ جنگِ صفین کے بعد شروع ہوا۔ جب معاملہ ثالثی کے لیے گیا تو حضرت علیؓ کے لشکر میں سے ایک گروہ آگ بگولا ہو گیا۔ ان کا نعرہ تھا: “حکم صرف اللہ کا ہے!”۔ ان کے نزدیک دو انسانوں کو فیصلہ کا اختیار دینا کفر تھا۔ وہ چار ہزار کی تعداد میں حروراء نامی جگہ پر جمع ہو گئے اور اعلان کر دیا کہ اب علیؓ کی خلافت بھی ناجائز ہے۔…

Read more

کہتے ہیں کہ قدیم زمانے میں ایک رئیس کی بیٹی گھوڑا سواری کے دوران گھوڑے سے نیچے گر گئی اور اُس کے کولہے کی ہڈی اپنے بند سے جدا ہو گئی۔ لڑکی کے باپ نے بہت سے حکیموں سے علاج کروانے کی کوشش کی کہ ھڈی کو واپس اپنی جگہ پر بٹھائیں مگر مصیبت یہ تھی کہ لڑکی کسی حکیم کو اپنا جسم چھونے کی اجازت نہیں دیتی تھی ۔ باپ نے بہت اصرار کیا کہ بیٹی حکیم کو شریعت نے بھی محرم قرار دیا ھے لیکن بیٹی کسی طرح راضی نہیں ھو رھی تھی اور دن بہ دن کمزور ھوتی جا رھی تھی ۔ آخر لوگوں نے مشورہ دیا کہ شہر سے باھر ایک بہت حاذق حکیم رھتے ھیں اُن سے مشورہ کر لیں…….. وہ شخص حکیم صاحب کے پاس گئے اور اپنا مسئلہ بیان کیا تو حکیم صاحب نے کہا کہ ایک شرط پر میں آپ کی بیٹی…

Read more

وہ زمانہ جب پہاڑ، ریگزار اور عظمت کی گونج تھی… ایک دور تھا، ہزاروں سال پہلے، جب زمین پر ایسے لوگ بستے تھے جن کی کہانیاں آج بھی ہواؤں میں سرگوشیوں کی مانند گردش کرتی ہیں۔ ان میں دو قومیں ایسی تھیں جن کی شان و شوکت، طاقت اور ثقافت نے اپنے وقت کے لاکھوں دلوں کو حیرت میں ڈال دیا — قومِ عاد اور قومِ ثمود۔ قومِ عاد: عظمت کی وہ مثال جب دنیا ابھی نئی نئی تشکیل پا رہی تھی، ایک عظیم قوم نے اپنے قدم مضبوطی سے زمین پر جما لیے تھے۔ یہ تھے قومِ عاد — ایک ایسا قبیلہ جو اپنی قوت، ہمت، اور پیداواری صلاحیتوں کے سبب دور دور تک مشہور تھا۔ ان کے بارے میں لوگ کیا کہتے تھے؟لوگ کہتے تھے کہ عاد کے لوگ پہاڑوں جیسے مضبوط، اونچے قد، چوڑے کندھوں اور شاندار جسموں کے مالک تھے۔ ان کے گھوڑے تیز، اونٹ طاقتور…

Read more

مارکو پولو 1275ء میں قبلائی خان کے دربار تک پہنچتا ہے، یہ توقع لیے ہوئے کہ وہاں نایاب اور عجیب مصالحے ملیں گے۔ مگر جو کچھ وہ قلم بند کرتا ہے، وہ تاریخ کی سب سے وسیع دودھ پر مبنی ثقافت ہے۔وہ سوال جو ہر کوئی پوچھتا ہے: منگول فوجیں بغیر رسد کی لائنوں کے کیسے حرکت کرتی تھیں؟ پولو کا جواب: ہر سپاہی دودھ رکھنے کے لیے چمڑے کے مشکیزے ساتھ رکھتا تھا اور گھوڑوں کے ساتھ سفر کرتا تھا۔ یہ گھوڑے چلتی پھرتی ڈیری فیکٹریاں تھے۔ پولو لکھتا ہے:“جب وہ دور دراز مہم پر جاتے ہیں تو دودھ کے لیے دو چمڑے کی بوتلوں اور گوشت کے لیے ایک چھوٹے مٹی کے برتن کے سوا کوئی سامان نہیں لیتے۔ شدید مجبوری کی حالت میں وہ دس دن تک بغیر آگ جلائے اور بغیر کھانا پکائے سوار رہتے ہیں۔ وہ اپنے گھوڑوں کا خون پیتے ہیں، رگ کھول کر…

Read more

شیر نے چوہے سے پوچھا ،’’ہے کیا کوئی دنیا میں مجھ سے طاقتور ؟‘‘ چوہے نے جواب دیا،’’ ہے۔‘‘شیر غرایا،’’ کون ہے؟‘‘چوہے نے کہا،’’ کوئی اور نہیں سوائے آدم کے بیٹے کے بیٹے۔ ‘‘تب شیر نے کہا،’’اسے مجھے دکھاؤ۔‘‘دونوں چل دیئے، یہاں تک کہ وہ ایک چھوٹے سے گاؤں کے نزدیک پہنچ گئے۔ وہاں ایک کسان اپنا کھیت جوت رہا تھا۔ چوہے نے کہا،’’کیا تم اس ہل چلاتے ہوئے آدمی کو دیکھ رہے ہو؟ وہ تم سے زیادہ طاقتور ہے؟‘‘شیر نے حیرت اور حقارت آمیز لہجے میں پوچھا ’’یہ؟‘‘چوہے نے کہا،’’ جی ہاں۔‘‘شیر آدمی کے پاس گیا، آدمی کے پیر کپکپانے لگے۔ شیر نے اس سے کہا ،’’کیاتم ہی آدمی کے بیٹے ہو ؟‘‘آدمی نے جواب دیا، ’’ہاں‘‘شیر نے پوچھا،’’کیا تم مجھ سے کشتی لڑو گے، یہ دیکھنے کیلئے کہ ہم میں کون زیادہ طاقتور ہے؟‘‘آدمی نے جواب دیا،’’مگر میری طاقت میرے پاس نہیں ہے، میں اسے گھر چھوڑ آیا…

Read more

ایک مشرقی سلطنت میں ایک بادشاہ تھا جسے سچ سننے سے شدید الرجی تھی۔اگر کوئی سچ بول دیتا تو بادشاہ کو فوراً بخار آ جاتا، اور بولنے والے کو جیل۔اس لیے دربار میں سب لوگ صرف ایک ہی جملہ بولتے تھے“جہاں پناہ! آپ جیسا عقل مند بادشاہ تاریخ میں کبھی نہیں آیا۔” ایک دن بادشاہ نے حکم دیا“ایک ایسا آئینہ بنوایا جائے جو مجھے حقیقت دکھائے۔” وزیروں کے چہروں پر وہی مسکراہٹ آ گئی جو امتحان میں فیل طالب علم کے آتے ہی آتی ہے۔آخرکار شہر کے ایک درزی کو بلایا گیا۔سادہ آدمی، سیدھی بات، اور زبان ایسی جیسے قینچی —بغیر مروّت۔درزی نے آئینہ تیار کر دیا۔ بادشاہ نے آئینے میں دیکھااور چیخ اٹھا۔“یہ کیا ہے؟ یہ تو میں نہیں ہوں درزی بولا“جہاں پناہ، یہ وہی ہے جو آپ دوسروں کو دکھاتے ہیںبس آج خود دیکھ لیا ہے۔” دربار میں خاموشی چھا گئی۔بادشاہ نے غصے میں حکم دیا:“اس درزی کو…

Read more

قبیلہ عرب کی ایک لڑکی ایک لڑکے پر عاشق ھو گئ مجاز کا بھوت دونوں کہ سر پر چڑھ کر ناچنے لگا مختصر یہ کہ دونوں نے بھاگ کر شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا لڑکی نے کہا میرے پاس ایک تیز رفتار اونٹنی ھے ھم رات کو ندی پار کر کہ دوسرے شہر روانہ ھو جائیں گے لڑکے نے بھی ھاں کر کہ رضا مندی کا اظہار کیا رات کے پچھلے پہر وقت مقررہ پر دونوں ندی کنارے اکٹھے ھوۓ لڑکی بولی میں اونٹنی پر سوار ھوتی ھوں تم اسے پیچھے سے ھانکتے ھانکتے ندی پار کرو پھر اوپر بیٹھ جانا ندی پار کر کے لڑکے نے کہا مگر ایسا کیوں میں بھی تمھارے ساتھ ھی بیٹھ جاتا ھوں ھانکنے کی کیا ضرورت ھے خود بخود چل تو رھی ھے لڑکی نے کہا اسکا باپ بھی ھمارا پالتو اونٹ تھا اسکی عادت تھی کہ وہ بیچ ندی میں جا…

Read more

پرانے دمشق میں ایک تاجر رہتا تھا جس کی کنجوسی مشہور تھی۔وہ اگر خواب میں بھی سکہ خرچ کر دیتا تو صبح اٹھ کر صدقہ دے دیتا کہ خواب ٹوٹ جائے۔ ایک دن ایک فقیر اس کی دکان کے باہر آ بیٹھا۔نہ مانگ رہا تھا، نہ آہ و زاری بس بیٹھا ہنس رہا تھا۔ تاجر کو غصہ آ گیا۔“لوگ یہاں رو کر مانگتے ہیں، تم ہنس کیوں رہے ہو؟” فقیر بولا“میں تمہیں دیکھ کر ہنس رہا ہوں۔” تاجر بھڑک اٹھا“میں تمہیں مضحکہ خیز لگتا ہوں؟” فقیر نے سر ہلایا“ہاں، تمہارے پاس سب کچھ ہے،اور میرے پاس کچھ نہیںمگر نیند مجھے آتی ہے، تمہیں نہیں۔” تاجر نے طنزیہ ہنسی ہنسی“نیند تو خریدی جا سکتی ہے۔” فقیر بولا:“ہاں، مگر صرف سکون کے بدلے،اور وہ تم فروخت نہیں کرتے۔” رات کو تاجر نے واقعی نیند کی کوشش کی۔سونا، گنا، حساب لگایامگر آنکھ نہ لگی۔ صبح اس نے فقیر کو تلاش کیا۔فقیر وہیں بیٹھا…

Read more

قدیم زمانے میں ایک بادشاہ تھا جسے قصے کہانیاں سننے کا بہت شوق تھا۔ ایک دن اسے شرارت سوجھی اور اس نے پورے ملک میں منادی کروا دی کہ:“جو شخص دربار میں آ کر ایسا جھوٹ بولے گا جس پر میں خود پکار اٹھوں کہ ‘یہ جھوٹ ہے’، اسے انعام میں ایک بڑا تھیلا سونے کے سکوں کا دیا جائے گا۔”انعام کی لالچ میں بڑے بڑے قصہ گو اور درباری آئے۔ ایک نے کہا: “جہاں پناہ! میں نے ایک ایسا مرغ دیکھا ہے جو ہاتھی کو اٹھا کر اڑ گیا تھا۔” بادشاہ مسکرا کر بولا: “ہو سکتا ہے، قدرت کی قدرت ہے، یہ سچ ہو سکتا ہے۔”دوسرا بولا: “بادشاہ سلامت! میں نے ایک بار سمندر میں آگ لگی دیکھی جس میں مچھلیاں پکوڑے بن کر باہر آ رہی تھیں۔” بادشاہ نے اطمینان سے جواب دیا: “موسم گرم ہوگا، پانی کھول گیا ہوگا، میں اسے جھوٹ نہیں کہتا۔”بادشاہ دراصل بہت عیار…

Read more

ایک شخص نے ایک مرغا پالا ہوا تھا۔ایک دن اس نے مرغے کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا، مگر بہانہ سوچا۔کہنے لگا:“کل سے تم نے اذان نہیں دینی، ورنہ ذبح کر دوں گا!”مرغے نے عاجزی سے کہا:“آقا! جو آپ کی مرضی…”صبح اذان کا وقت آیا۔مرغے نے اذان تو نہ دی، مگر عادت کے مطابق اپنے پروں کو زور زور سے پھڑپھڑایا۔مالک نے نیا حکم صادر کیا:“کل سے پر بھی نہیں مارنے!”اگلی صبح مرغے نے پر تو نہ ہلائے، مگر لاشعوری طور پر گردن لمبی کر کے اوپر اٹھا لی۔مالک کو یہ بھی پسند نہ آیا۔فرمان آیا:“کل سے گردن بھی نہیں ہلنی چاہیے!”اب کی بار اذان کے وقت مرغا بالکل خاموش بیٹھا رہا، جیسے مرغا نہیں… مرغی ہو۔مالک نے سوچا:یہ تو بات نہیں بنی…اب اس نے ایسا حکم دیا جو مرغے کے بس سے باہر تھا:“کل سے تم نے صبح انڈا دینا ہے، ورنہ ذبح!”یہ سن کر مرغے کو اپنی موت…

Read more

‎ایک فوجی لڑائی کے میدان سے چھٹی لے کر اپنے گھر واپس جا رہا تھا۔ راستے میں وہ ایک گاؤں کے قریب سے گزرا۔ ‎ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے، جب کہ سپاہی شدید بھوکا تھا۔ وہ گاؤں کے سرے پر ایک مکان کے سامنے رک گیا اور کچھ کھانے کے لیے مانگا۔ گھر والوں نے کہا کہ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے، لہٰذا وہ آگے بڑھ گیا۔‎وہ دوسرے گھر پر رُکا اور وہی سوال دہرایا۔ یہاں بھی گھر والوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہیں ہے، اگر ذرا ٹھہر کر آؤ تو شاید کوئی انتظام ہو جائے۔ ‎تب سپاہی نے سوال کیا ”تمھارے پاس ہنڈیا تو موجود ہے؟“ ‎گھر والوں نے کہا، ”بے شک! ہمارے پاس ہنڈیا موجود ہے۔“ ‎پھر اس نے معلوم کیا ”تمھارے ہاں پانی بھی ہو گا۔“ ”ہاں، پانی جتنا چاہو لے لو۔“ اسے جواب…

Read more

100/236
NZ's Corner