Tag Archives: #MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollection

اکرم صاحب کے چار بیٹے تھے۔انھوں نے سبزی منڈی میں ساری زندگی کام کیا اور اپنے بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کی۔پھر وہ بیمار ہو گئے اور ان کے علاج معالجے پر کثیر رقم خرچ ہو گئی،مگر جان نہ بچ سکی۔وہ اہلیہ کو بیٹوں کے آسرے پر چھوڑ گئے۔شروع شروع میں بیٹوں نے ماں کا بہت خیال رکھا،مگر جلد ہی وہ اپنے فرض سے غافل ہو گئے۔چاروں بال بچے دار تھے اور خوشحال تھے،مگر سب مل کر بھی ایک ماں کو خوش نہ رکھ سکے۔اس دن تو فہمیدہ بیگم دل مسوس کر رہ گئیں،جب بڑی بہو نے ان کے سامنے شوہر سے کہا:”امی کو ہر بیٹے کے پاس ایک ایک مہینہ رہنا چاہیے،تاکہ کسی ایک بیٹے پر بوجھ نہ بنیں۔“چھوٹے بیٹے اصغر کو یہ بات پتا چلی تو اسے افسوس ہوا کہ ماں جس کی دعا جنت کی ضمانت ہے،بھائیوں کے لئے بوجھ بن گئی تھیں۔وہ بھائیوں میں سب…

Read more

ایک دھوکے باز گدھے کو جنگل کے قریب ایک مری ہوئی شیر کی کھال ملی۔ گدھے کے دماغ میں ایک شرارت سوجھی؛ اس نے وہ کھال اپنے اوپر اوڑھ لی اور ندی کے پانی میں اپنا عکس دیکھا۔ وہ بالکل ایک خوفناک شیر کی طرح لگ رہا تھا۔گدھا جنگل کی طرف نکلا۔ اسے دیکھ کر تمام جانور، گائے، بھینسیں اور یہاں تک کہ لومڑیاں بھی اپنی جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگیں۔ گدھا یہ دیکھ کر دل ہی دل میں بہت خوش ہوا اور خود کو جنگل کا بادشاہ سمجھنے لگا۔ اب وہ جہاں بھی جاتا، سب جانور ڈر کے مارے اسے راستہ دے دیتے۔ گدھے کی تو جیسے لاٹری نکل آئی تھی، اسے بنا محنت کے ہر جگہ عزت مل رہی تھی۔ایک دن، وہ اسی طرح شیر کی کھال پہن کر ایک کھیت کے پاس سے گزر رہا تھا۔ وہاں دور کچھ اور گدھے کھڑے تھے، جنہوں…

Read more

کہتے ہیں کہ ایک دور افتادہ گاؤں میں ایک نہایت غریب کسان رہتا تھا۔ اس کی کل متاع ایک جھونپڑی، چند بوسیدہ اوزار اور ایک بوڑھا گدھا تھا، جس نے عمر بھر اس کے ساتھ دھوپ، بارش اور فاقوں کے دن گزارے تھے۔وقت کا پہیہ گھوما اور ایک دن کسان اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔اس کے تین بیٹے تھے۔ وراثت تقسیم ہوئی تو بڑے بھائیوں نے زمین، گھر اور مویشی لے لیے، جبکہ سب سے چھوٹے بیٹے کے حصے میں صرف وہی کمزور اور بوڑھا گدھا آیا۔بڑے بھائی اس پر ہنسنے لگے۔“تمہاری قسمت میں تو صرف یہ گدھا لکھا تھا!”مگر لڑکا مایوس نہ ہوا۔ اس نے محبت سے گدھے کی گردن تھپتھپائی اور بولا:“دوست! دنیا ہمیں کچھ نہیں سمجھتی، مگر شاید ہماری قسمت ابھی جاگی نہیں۔ آؤ، شہر چلتے ہیں اور اپنی تقدیر آزماتے ہیں۔”اگلی صبح وہ گدھے کو ساتھ لے کر روانہ ہو گیا۔شہر پہنچ کر اس نے…

Read more

گاؤں نورپور میں ایک شخص رہتا تھا جس کا نام اللہ دتہ تھا۔ اس کے پاس نہ بڑی زمین تھی، نہ کوئی دکان، نہ دولت کے انبار۔ اس کی کل کائنات ایک مضبوط گھوڑا، ایک پرانا سا ٹانگا اور لوگوں کا اعتماد تھا۔ وہ روز صبح سورج نکلنے سے پہلے اٹھتا، گھوڑے کو سنوارتا، ٹانگا تیار کرتا اور گاؤں سے شہر کی طرف روانہ ہو جاتا۔ شام ڈھلے واپس آتا تو اس کے ٹانگے پر کبھی کسان بیٹھے ہوتے، کبھی مزدور، کبھی طالب علم اور کبھی شہر کے بابو لوگ۔ عجیب بات یہ تھی کہ گاؤں میں اس سے کہیں زیادہ خوبصورت ٹانگے بھی تھے، زیادہ تیز گھوڑے بھی تھے اور کم کرایہ لینے والے لوگ بھی تھے، مگر پھر بھی مسافر اسی کے ٹانگے کا انتظار کرتے تھے۔ لوگ کہتے تھے:“اللہ دتہ صرف ٹانگا نہیں چلاتا، دل بھی چلاتا ہے۔”وہ زیادہ بولتا نہیں تھا۔اگر کوئی کسان بیٹھتا تو وہ…

Read more

ایک کسان تھا۔ اس کے گھر میں ایک بھینس اور ایک گدھا تھا۔ بھینس کسان کے ساتھ ہر روز عصر کے وقت جنگل کی طرف چرانے جاتی اور شام کو واپس آ جاتی۔ گدھا گھر ہی میں بند رہتا مگر اس کی اور بھینس کی آپس میں گہری دوستی تھی۔ جب بھینس واپس آتی تو وہ گدھے کو جنگل کی سبز گھاس، ٹھنڈی ہواؤں اور دور دریا کے کناروں کی باتیں سناتی۔ وہ اسے بتاتی کہ وہاں زمین اتنی نرم ہے جیسے قالین، اور سبزہ ایسا گھنا کہ آنکھیں خیرہ ہو جائیں۔ بھینس کی باتیں سن سن کر گدھے کے دل میں ایک عجیب سا شوق پیدا ہو گیا تھا۔ وہ بار بار سوچتا کہ کاش وہ بھی اس جنت جیسے منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ کسان گھر سے باہر چلا گیا۔ موقع دیکھ کر بھینس نے گدھے سے کہا:“آج چلو، میں تمہیں…

Read more

ایک سرسبز تالاب کے کنارے ایک مینڈک رہتا تھا۔ وہ عام مینڈکوں جیسا نہ تھا۔ باقی مینڈک کیچڑ میں خوش رہتے، مکھیاں پکڑتے اور شام کو ٹرٹر کی محفل جماتے تھے، مگر اس کے دل میں بڑے بڑے خواب مچلتے رہتے تھے۔اس کی ایک ہی خواہش تھی:“کاش میں بھی پرندوں کی طرح آسمان پر اڑ سکتا!”ہر صبح وہ گردن اٹھا کر نیلے آسمان کو دیکھتا اور حسرت سے سوچتا:“یہ بطخیں بھی کیا قسمت والی ہیں! کبھی جھیل پر، کبھی کھیتوں پر، کبھی بادلوں کے درمیان۔ اور ایک میں ہوں کہ ساری عمر اسی تالاب کے کنارے ٹرٹر کرتا رہوں!”ایک دن اس نے بطخوں کا ایک غول آسمان میں اڑتے دیکھا۔اس کا دل مچل اٹھا۔وہ اچھلتا کودتا ان کے پاس پہنچا اور بولا:“محترم بطخ بہنو! مجھے بھی اڑنا سکھا دیجیے۔”بطخوں نے پہلے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھا، پھر ہنس پڑیں۔ایک بطخ بولی:“بھئی، اڑنے کے لیے پر بھی تو چاہیے ہوتے…

Read more

ایک دن ایک اژدہا ایک ریچھ کو گھسیٹتا ہوا لے جا رہا تھا۔ اتفاق سے ایک بہادر اور طاقتور پہلوان وہاں سے گزرا۔ جب اس نے ریچھ کی بے بسی دیکھی تو اس کی مدد کے لیے آگے بڑھا۔ اپنی قوت اور فنِ کشتی کے کمال سے اس نے اژدہے کا مقابلہ کیا، اسے زیر کر لیا اور آخرکار مار ڈالا۔ یوں ریچھ موت کے منہ سے بچ گیا۔ریچھ اس احسان پر بے حد شکر گزار ہوا۔ وہ پہلوان کے ساتھ ایسے لگ گیا جیسے وفادار ساتھی ہو۔ پہلوان بھی تھکا ہوا تھا، اس لیے ایک درخت کے سائے تلے آرام کرنے کے لیے لیٹ گیا۔ ریچھ محبت اور عقیدت کے جذبے سے اس کے پاس پہرہ دینے لگا۔اسی دوران ایک راہ گیر وہاں سے گزرا۔ اس نے ریچھ کو پہلوان کے پاس بیٹھے دیکھا تو حیران ہو کر پوچھا:“بھائی، یہ ریچھ تمہارے ساتھ کیا کر رہا ہے؟”پہلوان نے سارا…

Read more

بےغیرتی کی سو باتوں سے مرغے کی یہ ایک نصیحت بہتر ہے  ایک شخص نے ایک مرغا پالا تھا۔ ایک بار اس نے مرغا ذبح کرنا چاہا۔مالک نے مرغے کو ذبح کرنے کا کوئی بہانا سوچا اور مرغے سے کہا کہ کل سے تم نے اذان نہیں دینی ورنہ ذبح کردوں گا۔ مرغے نے کہا ٹھیک ہے آقا جو آپ کی مرضی! صبح جونہی مرغے کی اذان کا وقت ہوا تو مالک نے دیکھا کہ مرغے نے اذان تو نہیں دی لیکن حسبِ عادت اپنے پروں کو زور زور سے پڑپڑایا۔مالک نے اگلا فرمان جاری کیا کہ کل سے تم نے پر بھی نہیں مارنے ورنہ ذبح کردوں گا۔اگلے دن صبح اذان کے وقت مرغے نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پر تو نہیں ہلائے لیکن عادت سے مجبوری کے تحت گردن کو لمبا کرکے اوپر اٹھایا۔مالک نے اگلا حکم دیا کہ کل سے گردن بھی نہیں ہلنی چاہیے، اگلے…

Read more

‏یہ سن 1996 کی بات ہےجب لاہور کے اک تھیٹر میں کام کرنے والے میاں بیوی والدین بننے والے تھے اک دن روٹین کے چیک اپ کیلئے ہسپتال گئےتو ان کی خوشی کی انتہاء نہ رہی جب انہیں بتایا گیا کہ ان کے ہاں جڑواں بیٹوں کی ولادت ہوگیخیر سے بچے ہوگئےدلچسپ بات یہ کہ بچے ہمشکل بھی تھےوہ دونوں وقت کے ساتھ بڑے ہوئےتو انہیں یہ جان کر بہت صدمہ ہوا کہ ان کا اک بچہ گونگا ہے علاج کیلئے بہت گھومےمگر اتنا جان پائے کہ بچہ قابل علاج تو ہے مگر اس کیلئے امریکہ جانا پڑے گادونوں نے دن رات محنت کیمگراتنے پیسے جمع کر پائے کہ والدین میں سے صرف اک ہی بچے کے ساتھ ہی جایا جا سکتا تھاماں تھی، بیمار بچے کو کیسےخود سے جدا کر کے علاج کروا سکتی تھیآخر ماں اور بچے کا ویزہ لگوایا گیااک دن وہ امریکہ روانہ ہوگئےخاتون ائیرپورٹ سے…

Read more

جنگل میں ایک دن بڑا ہنگامہ برپا تھا۔ اعلان ہوا کہ اب بادشاہ کا انتخاب ہوگا، اور ہر وہ جانور جو اپنے آپ کو اہل سمجھتا ہے، دعویٰ پیش کر سکتا ہے۔پہلا امیدوار اونٹ تھا۔ وہ گردن تان کر، ریتلے فخر کے ساتھ آگے آیا اور بولا:“میں صبر کا پہاڑ ہوں، طاقت کا مینار ہوں! جنگل کی ہر مشکل میں کام آ سکتا ہوں۔ بادشاہی کا حق تو صرف مجھے ہے!”ابھی اس کا جملہ مکمل بھی نہ ہوا تھا کہ ہاتھی صاحب دھمکتے ہوئے تشریف لائے۔ زمین کانپ گئی، پرندے اڑ گئے، اور ہاتھی نے بھاری آواز میں کہا:“ذرا ٹھہرو! تم خود کو کیا سمجھتے ہو؟ اصل طاقت تو میرے پاس ہے! میں چاہوں تو پورا جنگل اٹھا کر رکھ دوں!”بات بڑھتی گئی، آوازیں اونچی ہوئیں، اور معاملہ “میں بڑا ہوں” سے “نہیں، میں بڑا ہوں” تک پہنچ گیا۔اسی شور شرابے میں بندر صاحب درخت سے جھولتے جھولتے نیچے اترے،…

Read more

بہت پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک ملک پر ایک بہت بڑا اور طاقتور بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کے پاس دولت، فوج، محلات اور دنیا کی ہر نعمت موجود تھی، لیکن اس کے باوجود وہ ہمیشہ پریشان، اداس اور بے چین رہتا تھا۔ اسے رات کو نیند نہیں آتی تھی اور اس کا دل کسی کام میں نہیں لگتا تھا۔بادشاہ نے ملک بھر کے بڑے بڑے حکیموں، ڈاکٹروں اور جادوگروں کو بلایا کہ وہ اس کی اس بے چینی کا علاج کریں۔ سب نے بہت کوشش کی لیکن کوئی بھی بادشاہ کو دلی سکون اور خوشی نہ دے سکا۔آخر کار، ایک بوڑھا عقل مند درویش بادشاہ کے دربار میں آیا۔ اس نے بادشاہ کی حالت دیکھی اور کہا، “عالی جاہ! آپ کی اس بیماری کا ایک ہی علاج ہے۔ آپ اپنے پورے ملک میں کسی ایسے انسان کو تلاش کریں جو دل سے سچا اور مکمل طور پر خوش…

Read more

پرانے وقتوں کی بات ہے ایک گاؤں میں ایک آسودہ حال شخص رہا کرتا تھا۔ اس کا جانوروں کا باڑہ تھا وہ جانوروں کا دودھ بیچتا، گھی، مکھن بیچتا۔ مال و دولت کی فراوانی تھی۔ پھر ایک دن اس کے جانوروں میں ایک ایسی بیماری آئی کہ ایک ایک کر کے سب جانور مر گئے۔ وہ بہت پریشان ہوا، وہ خوشحال تھا گھر میں کافی مال جمع تھا۔ روزمرہ کے اخراجات کے لیے وہ مال استعمال ہونے لگا رفتہ رفتہ گھر کی تمام قیمتی اشیاء بک گئی اور بات فاقوں تک آگئی۔ وہ بہت پریشان تھا ایک دن اس کی بیوی نے اسے کہا کہ دوسرے گاوں کا سردار تمہارا دوست ہے، تم اس کے پاس جاؤ اور اسے اپنی پریشانی بتاؤ اور مدد کا کہو۔ یہ بات اس کے دل کو لگی اگلے ہی دن وہ صاف ستھرا لباس پہن کے دوسرے گاوں اپنے دوست سے ملنے چلا گیا۔اس…

Read more

چوہدری کے بیٹے کی شادی تھی چوہدری صاحب نے ایک انوکھا فیصلہ کیا کہ پورے گاؤں کو اس خوشی میں شامل کیا جائے اس کے لیے انہوں نے اعلان کروا دیا کہ بیٹے کی شادی کی خوشی میں پنڈ کے ہر گھر کو ایک جانور تحفے میں دیا جائے گا۔ جس گھر میں مرد کا راج ہو گا وہاں ایک گھوڑا دیا جائے گا اور جس گھر میں عورت کا راج ہوگا وہاں ایک مرغی دی جائیگی۔ گامے کو جانوروں کی ترسیل کا کام سونپ دیا گیا۔ پہلے ہی گھر میں گاما دونوں میاں بیوی کو سامنے بٹھا کر پوچھتا ہے کہ گھر کے فیصلے کون کرتا ہے؟ مرد اپنی مونچھ کو تاؤ دیتے ہوئے بولا، “میں اور کون۔” گامے نے جواب دیا کہ جناب سارے گھوڑے کسی نا کسی کے ہو گئے ہیں اب صرف تین باقی ہیں؛ ایک کالا، ایک سرخ اور ایک چینا۔ جو تمھیں پسند ہے…

Read more

ایک وقت کی بات ہے، ایک بہت معروف اور طاقتور بادشاہ تھا جس کا نام شاہِ سکندر تھا۔ اس کی سلطنت بہت وسیع تھی، خزانے سونے چاندی سے بھرے ہوئے تھے اور لوگ اس کے خوف سے کانپتے تھے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بادشاہ میں غرور اور تکبر آ گیا۔ وہ غریبوں پر ظلم کرتا، کمزوروں کی فریاد نہیں سنتا تھا اور خود کو سب سے بڑا سمجھنے لگا۔ ایک دن ایک بوڑھا فقیر محل کے دروازے پر آیا اور بادشاہ سے کہا:“اے بادشاہ! ظلم کی حکومت زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔”بادشاہ نے غصے میں آ کر فقیر کو قید کر دیا اور ہنس کر بولا:“مجھے کوئی نہیں ہرا سکتا!” کچھ ہی دنوں بعد بادشاہ کی سلطنت میں قحط پڑ گیا۔ لوگ بھوکے مرنے لگے، سپاہیوں نے بغاوت کر دی اور دشمن فوج نے حملہ کر دیا۔ جس بادشاہ کے ایک اشارے پر ہزاروں سپاہی دوڑتے تھے، آج…

Read more

نیو یارک کا ایک مشہور و معروف وکیل شکار کی غرض سے ٹیکساس کے دیہی علاقے میں گیا۔ شکار کے دوران اس نے ایک مرغابی کو نشانہ بنایا، جو گولی لگنے کے بعد بدقسمتی سے باڑ کے اُس پار، ایک کسان کے کھیت میں جا گری۔ وکیل باڑ پھلانگ کر مرغابی لینے ہی والا تھا کہ اچانک ایک بوڑھا کسان ٹریکٹر پر نمودار ہوا۔ اُس نے پوچھا:“یہاں کیا کر رہے ہو؟” وکیل نے اعتماد سے جواب دیا:“میں نے ایک مرغابی کو گولی ماری ہے، جو تمہارے کھیت میں گر گئی ہے۔ اُسے لینے آیا ہوں۔” کسان نے سنجیدگی سے کہا:“یہ زمین میری ہے، اور تمہیں یہاں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔” وکیل تپ کر بولا:“میں امریکہ کے نامور وکلاء میں شمار ہوتا ہوں۔ اگر تم نے مجھے مرغابی نہ لینے دی تو میں تم پر مقدمہ کر دوں گا، اور پھر تمہاری یہ ساری زمین میری ہو جائے گی!” بوڑھا…

Read more

10 جنوری 1616۔ بظاہر یہ صرف ایک درباری ملاقات تھی۔ ایک انگریز سفیر، چند تحائف، ایک درخواست، اور مغل دربار کی شان و شوکت۔ مگر تاریخ کے لمبے سفر میں یہی لمحہ برصغیر کی تقدیر بدلنے والے سب سے سنگین موڑوں میں شمار ہوا۔اس پینٹنگ میں تخت پر بیٹھا شخص نورالدین محمد جہانگیر ہے، اکبر اعظم کا بیٹا اور مغل سلطنت کا چوتھا بادشاہ۔ سامنے کھڑا انگریز سفیر سر تھامس رو ہے، جو برطانیہ کے بادشاہ جیمز اول کا نمائندہ بن کر آیا تھا۔ اس کے ہاتھ میں درخواست ہے، لیکن حقیقت میں وہ درخواست نہیں، آنے والے دو سو برسوں کی غلامی کا ابتدائی پروانہ تھا۔یہ پینٹنگ مغل دور کی منی ایچر روایت سے متاثر بعد کے زمانے کی تاریخی مصوری مانی جاتی ہے۔ اصل ملاقات کی کئی تصویری تشریحات بعد میں یورپی اور ہندوستانی مصوروں نے بنائیں، اس لیے اس مخصوص تصویر کا حتمی مصور متعین کرنا مشکل…

Read more

حضرت مالک بن دینارؒ اور محمد بن ہارون بلخی کا واقعہحضرت مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے 60 حج کیے۔ ایک حج کے موقع پر میں نے بڑا رش دیکھا، لاکھوں کا اجتماع ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ لاکھوں کا مجمع تھا تو میرے دل میں خیال آیا، میں نے کہا: “اللہ! اتنے لوگ آئے ہیں، ان کا حج قبول بھی ہوا ہے کہ نہیں؟” فرماتے ہیں میں سوچ رہا تھا تو رات کو خواب میں میں نے کسی کہنے والے کو کہتے ہوئے سنا کہ سب کا حج قبول ہو گیا ہے، مگر بلخ کا رہنے والا ایک شخص جس کا نام “محمد بن ہارون بلخی” ہے، اس کا حج قبول نہیں ہوا۔فرماتے ہیں کہ وہاں شہروں کے علیحدہ علیحدہ خیمے لگتے تھے۔ اب بھی آپ حج کرنے جائیں تو پاکستانیوں کی رہائش علیحدہ ہوتی ہے، انڈینز کی علیحدہ، بنگلادیش، مصری، یمنی سب لوگوں کی…

Read more

ایک سرسبز جنگل کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا اور خوبصورت تالاب تھا۔ اس کا پانی شیشے کی طرح صاف تھا، کناروں پر نرم گھاس اگتی تھی اور رنگ برنگے پھولوں کی خوشبو ہر وقت فضا میں پھیلی رہتی تھی۔ اسی تالاب میں تین مچھلیاں رہتی تھیں۔ تینوں گہری سہیلیاں تھیں، مگر ان کی سوچ ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھی۔ پہلی مچھلی نہایت عقلمند اور دور اندیش تھی۔ وہ ہمیشہ آنے والے خطرے کو پہلے ہی بھانپ لیتی اور ہر مشکل کا حل سوچ کر رکھتی تھی۔ دوسری مچھلی بہت حاضر دماغ تھی۔ وہ کہتی:“پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ جب مصیبت آئے گی تب اپنی عقل سے راستہ نکال لیں گے۔” تیسری مچھلی انتہائی سست اور لاپرواہ تھی۔ وہ ہر وقت یہی کہتی:“جو قسمت میں لکھا ہے، وہی ہوگا۔ زیادہ سوچنے سے کچھ نہیں بدلتا۔” ایک شام سورج غروب ہو رہا تھا اور تالاب سنہری روشنی میں نہا…

Read more

ایک زمانے میں ایک معمولی سے دیہات میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے تین بیٹے تھے: سب سے بڑا سیمیون، درمیانہ تاراس اور سب سے چھوٹا آئیون۔ سیمیون فوج میں بھرتی ہو گیا اور ایک بہادر سپاہی بن گیا۔ تاراس تاجر بن گیا، شہروں میں جاتا، مال خریدتا اور بیچتا، پیسہ کمانے کا ہنر جانتا تھا۔ جبکہ آئیون گھر پر رہ گیا۔ لوگ اسے “بیوقوف” کہتے تھے کیونکہ وہ نہ تو فوج میں جانا چاہتا تھا اور نہ ہی پیسہ کمانے کے چکر میں پڑتا۔ وہ کھیتوں میں محنت کرتا، زمین جوٹتا، بیج بو تا اور فصل کاٹتا۔ جو کچھ مل جاتا، اسی میں خوش رہتا۔بوڑھا مر گیا۔ تینوں بھائیوں نے جائیداد بانٹ لی۔ سیمیون نے گھوڑے، ہتھیار اور فوجی لباس لے لیے۔ تاراس نے مال، گاڑیاں اور نقد روپیہ اٹھا لیا۔ آئیون کے حصے میں صرف ایک بوڑھی گھوڑی، ایک بیل اور ایک پرانا ہل رہ گیا۔…

Read more

ایک شخص نے چڑیا پکڑنے کےلئے جال بچھایا.. اتفاق سےایک چڑیا اس میں پھنس گئی اور شکاری نے اسے پکڑ لیا..چڑیا نے اس سے کہا.. ” اے انسان ! تم نے کئی ھرن ‘ بکرے اور مرغ وغیرہ کھاۓ ھیں ان چیزوں کے مقابلے میں میری کیا حقیقت ھے.. ذرا سا گوشت میرے جسم میں ھے اس سے تمہارا کیا بنے گا..؟ تمہارا تو پیٹ بھی نہیں بھرے گا.. لیکن اگر تم مجھے آزاد کر دو تو میں تمہیں بڑی ھی کام میں آنے والی نصیحتیں کرونگی جن پر عمل کرنا تمہارے لئے بہت مفید ھوگا..ان میں سے ایک نصیحت تو میں ابھی ھی کرونگی.. جبکہ دوسری اس وقت کرونگی جب تم مجھے چھوڑ دو گے اور میں دیوار پر جا بیٹھوں گی.. اس کے بعد تیسری اور آخری نصیحت اس وقت کرونگی جب دیوار سے اڑ کر سامنے درخت کی شاخ پر جا بیٹھونگی.. “اس شخص کے دل میں…

Read more

80/294
NZ's Corner