Tag Archives: bloganuary dailyprompt bloganuary dailyprompt

سکھوں کے ایسٹ انڈیا کمپنی سے دو معاہدے اہم ترین ہیں ۔ایک اٹھارہ سو چھ کا معاہدہ جسے ٹریٹی آف لاہور کا نام دیا گیا ۔ مرہٹہ سردار جسونت راؤ ہلکر انگریز سے شکست کھا کر رنجیت سنگھ کے پاس پناہ گزیں ہوا تو رنجیت نے کمپنی کے خلاف بڑا اور مشترکہ محاذ بنانے کی بجائے ایسٹ انڈیا کمپنی سے معاہدہ کر لیا اور ہلکر کو ملک سے نکال دیا ۔ اس معاہدے میں لکھا تھا کہ یہ معاہدہ رنجیت اور کمپنی کے مابین امن اور دوستی کا معاہدہ ہےاور رنجیت کی سلطنت ہلکر سے اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے کسی بھی دشمن سے کوئی دوستانہ روابط نہیں رکھے گی۔ اسی طرح بعد کے اٹھارہ سو نو میں معاہدہ امرتسر کے مسودے کے آغاز میں ہی ” perpetual friendship” کا لفظ استعمال ہوا جو واضح طور پہ کمپنی اور رنجیت سنگھ کے مابین اُن گہرے اور پرانے دوستانہ تعلقات کو…

Read more

ایک زمانے میں سلطنتِ نوران پر بادشاہ سکندر شاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ اپنی رعایا سے بے حد محبت کرتا تھا، اسی لیے پورے ملک میں امن اور خوشحالی تھی۔ مگر ایک رات سب کچھ بدل گیا۔ دارالحکومت کے امیر تاجروں کے گھروں میں پراسرار چوریاں شروع ہو گئیں۔ نہ کوئی آواز… نہ کوئی نشان… نہ کوئی گواہ… لوگ خوفزدہ ہو گئے۔ ہر گلی میں صرف ایک ہی نام گونجتا تھا: “سایہ چور!” یہ چور دراصل ایک نہایت چالاک شخص تھا جس کا نام زریاب تھا۔ وہ ہر بار نیا بھیس بدلتا اور ایسے غائب ہو جاتا جیسے کبھی آیا ہی نہ ہو۔ جب شاہی خزانے کے قریب بھی مشکوک حرکت دیکھی گئی تو بادشاہ غصے سے تخت سے اٹھ کھڑا ہوا۔ “اگر یہ چور جلد نہ پکڑا گیا، تو عوام کا قانون پر سے یقین اٹھ جائے گا!” بادشاہ کے دربار میں خاموشی چھا گئی۔ تب وزیرِ اعظم حمزہ…

Read more

ایک بار دو بلیوں کو روٹی کا ایک ٹکڑا ملا۔ دونوں میں جھگڑا ہونے لگا کہ روٹی کس کی ہے۔ “میں نے پہلے دیکھی تھی” ایک بولی۔ “نہیں، میں نے اٹھائی تھی” دوسری چیخی۔ اتنے میں وہاں سے ایک بندر گزرا۔ بلیوں نے بندر سے کہا: “چچا بندر، آپ ہی انصاف کر دیں۔ روٹی کے دو برابر حصے کر دیں۔” بندر مان گیا۔ اس نے روٹی کے دو ٹکڑے کیے، مگر جان بوجھ کر ایک ٹکڑا بڑا رکھا۔ ترازو لے کر بولا: “ارے یہ والا تو بڑا ہے، اسے برابر کرنا پڑے گا۔” یہ کہہ کر بڑے ٹکڑے سے تھوڑا سا کاٹ کر کھا گیا۔ اب دوسرا ٹکڑا بڑا ہو گیا۔ بندر پھر بولا: “اب یہ بڑا ہے، اسے بھی برابر کرنا ہوگا۔” اور اس میں سے بھی نوالہ توڑ کر کھا گیا۔ ایسے کرتے کرتے بندر ساری روٹی کھا گیا اور آخر میں بولا: “چونکہ اب کچھ بچا ہی…

Read more

ایک سرسبز درخت پر، دریا کے کنارے، ایک ذہین بندر رہتا تھا۔ اسی دریا میں ایک مگرمچھ بھی رہتا تھا۔ بندر روزانہ درخت کے میٹھے پھل توڑ کر اپنے دوست مگرمچھ کو کھلاتا، اور یوں دونوں کے درمیان گہری دوستی قائم ہو گئی۔ ایک دن مگرمچھ اپنی بیوی کے لیے بھی پھل لے گیا۔ پھل کھا کر اس نے کہا: “جو بندر اتنے میٹھے پھل کھاتا ہے، اس کا دل بھی یقیناً بہت میٹھا ہوگا۔ میں اس کا دل کھانا چاہتی ہوں۔” مگرمچھ اپنی بیوی کی ضد کے آگے بے بس ہوگیا۔ اس نے بندر کو دعوت کا بہانہ بنایا اور اپنی پیٹھ پر بٹھا کر دریا کے درمیان لے گیا۔ وہاں اس نے حقیقت بتائی کہ اس کی بیوی بندر کا دل کھانا چاہتی ہے۔ بندر لمحہ بھر کو گھبرایا، مگر فوراً عقل سے کام لیا اور بولا: “دوست! ہم بندر اپنا دل درخت پر رکھتے ہیں۔ اگر پہلے…

Read more

Había un vasto bosque donde reinaban los animales más poderosos. Los grandes animales tomaban sus propias decisiones, mientras que a nadie le importaban las criaturas más pequeñas. Los elefantes construían los caminos, los leones imponían la ley y los búfalos custodiaban los almacenes. Por otro lado, los ratones, las ardillas y, sobre todo, los guepardos vivían tranquilamente. Los guepardos eran las criaturas más laboriosas del bosque. Recolectaban granos, semillas y hojas desde la mañana hasta la noche y construían túneles subterráneos de kilómetros de longitud. Aparentemente, su existencia era muy pequeña, pero su arduo trabajo desempeñaba un papel importante en el mantenimiento de la vida del bosque. Un año, el consejo de animales poderosos anunció que se construiría una gran represa en el río para que ningún animal pasara sed durante los días de sequía. El elefante dijo con orgullo: “Construiremos una represa que será fuente de vida para todo…

Read more

ریاستِ خراسان کے مغربی کنارے پر ایک چھوٹی سی بستی تھی “نور آباد”۔ بظاہر یہ ایک عام سی بستی تھی۔ مٹی کے کچے گھر، تنگ گلیاں، گرد سے اٹے راستے، چھوٹے چھوٹے بازار، اور سادہ دل لوگ، جو کم کھا کر بھی اللہ کا شکر ادا کرتے تھے۔ وہاں کے لوگ دولت مند نہیں تھے، مگر دلوں میں سکون تھا۔ صبح اذان کے ساتھ جاگتے، دن بھر محنت کرتے، اور شام کو اپنے گھروں کے باہر بیٹھ کر ایک دوسرے کے حال پوچھتے۔ بچوں کی ہنسی گلیوں میں گونجتی رہتی، عورتیں کنویں سے پانی بھرتیں، اور بوڑھے مسجد کے باہر بیٹھ کر پرانی باتیں کیا کرتے تھے۔ مگر پھر ایک دن اس بستی پر ایک عجیب آفت اترنے لگی۔ شروع میں کسی نے زیادہ توجہ نہ دی۔ ایک بوڑھے شخص نے شکایت کی کہ اُسے چیزیں دھندلی دکھائی دیتی ہیں۔ پھر ایک عورت نے کہا کہ شام ہوتے ہی اُس…

Read more

ایک چور ایک باغ میں گھس گیا اور آم کے درخت پر چڑھ کر آم کھانے لگااتفاقًا باغبان بھی وہاں آپہنچا اور چور سے کہنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوبے شرم یہ کیا کر رہے ہو؟چور مسکرایا اور بولاارے بے خبر یہ باغ اللہ کا ہے اور میں اللہ کا بندہ ہوں ، وہ مجھے کھلا رہا ہے اور میں کھا رہا ہوں ، میں تو اسکا حکم پورا کر رہا ہوں ، ورنہ تو پتہ بھی اس کے حکم کے بغیر حرکت نہیں کر سکتاباغبان نے چور سے کہاجناب! آپ کا یہ وعظ سن کر دل بہت خوش ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا نیچے تشریف لائیے تاکہ میں آپ جیسے مومن باللہ کی دست بوسی کرلوں ۔۔۔۔ سبحان اللہ اس جہالت کے دور میں آپ جیسے عارف کا دم غنیمت ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے تو مدت کے بعد توحید ومعرفت کا یہ نکتہ ملا ھے جو کرتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا ہی کرتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…

Read more

ایک بادشاہ نے اپنے پورے ملک میں اعلان کروا دیا کہ: “جو بھی شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا، اُس پر پانچ دینار جرمانہ عائد کیا جائے گا!” یہ اعلان ہوتے ہی پورے شہر میں ایک عجیب سی خاموشی پھیل گئی۔ لوگ اب ہر لفظ سوچ سمجھ کر بولتے تھے۔ بازاروں میں گفتگو دھیمی ہو گئی، محفلوں میں احتیاط بڑھ گئی، کیونکہ ہر شخص کو خوف تھا کہ کہیں زبان سے نکلا ہوا ایک جھوٹ اُسے سزا نہ دلوا دے۔ کچھ دن بعد بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا: “چلو، آج بھیس بدل کر شہر کا حال دیکھتے ہیں” دونوں عام لباس پہن کر شہر کی گلیوں میں نکل پڑے۔ چلتے چلتے شام ہو گئی۔ تھکن محسوس ہوئی تو وہ ایک تاجر کی دکان پر جا بیٹھے۔ تاجر نے نہایت ادب سے دونوں کی خدمت کی، چائے پیش کی اور آرام کا بندوبست کیا۔ گفتگو کے دوران بادشاہ نے تاجر…

Read more

اطالیہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بوڑھی عورت رہتی تھی جس کا نام چیچریلا تھا۔ وہ بہت غریب تھی اور اس کا ایک بیٹا تھا جس کا نام پیروانٹو تھا۔ پیروانٹو شاید ہی کوئی ایسا احمق لڑکا ہو جو اس سے زیادہ نکما پیدا ہوا ہو۔ اس کی ماں دن رات اس کی وجہ سے پریشان رہتی تھی۔ وہ اسے سمجھاتی، ڈانٹتی، روتی، لیکن پیروانٹو اپنی کمینیوں سے باز نہ آتا تھا۔ گھر کا کوئی کام کاج وہ کرنے کو تیار نہیں تھا۔ آخرکار ایک دن چیچریلا نے اسے بہت سمجھا بجھا کر کہا، “بیٹا! اب وقت آ گیا ہے کہ ہم کچھ کھانے کو حاصل کریں۔ جا، جنگل سے لکڑیاں لا۔ میں کچھ پتے پڑوس سے مانگ لاتی ہوں، تھوڑی سی سبزی پکا کر کھا لیں گے۔” پیروانٹو اپنا سر جھکائے جنگل کی طرف چل دیا۔ وہ ایسے چل رہا تھا جیسے کسی کو قید خانے لے…

Read more

ایک دن ایک بادشاہ اپنے محل کی بلند و بالا چھت پر ٹہل رہا تھا۔ شام کا وقت تھا، دجلہ کے کنارے ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی اور سورج اپنی آخری کرنیں پانی پر بکھیر رہا تھا۔ اچانک بادشاہ کی نظر نیچے راستے سے گزرتے ہوئے بہلول دانا پر پڑی۔ بادشاہ کے دل میں خیال آیا:“آج بہلول سے کچھ گفتگو کی جائے” اس نے فوراً خادموں کو حکم دیا: “بہلول کو ہمارے پاس حاضر کیا جائے!” چنانچہ محل کی چھت سے ایک ڈولی نیچے لٹکائی گئی۔ سپاہیوں نے بہلول کو اس میں بٹھایا اور چند لمحوں میں رسی کھینچ کر اوپر لے آئے۔ تھوڑی ہی دیر میں بہلول بادشاہ کے سامنے کھڑا تھا۔ بادشاہ نے مسکراتے ہوئے کہا: “بہلول! ایک سوال ہے… تم خدا تک کیسے پہنچے؟” بہلول نے خاموشی سے بادشاہ کی طرف دیکھا، پھر مسکرا کر بولا: “بادشاہ سلامت! جیسے میں آپ تک پہنچا ہوں…” بادشاہ حیران…

Read more

ایک زمانے میں ایک تاجر تھا جو بہت مالدار تھا۔ اس کے پاس اونٹ اور گائیں تھیں۔ وہ دیہات میں اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔ اللہ نے اسے جانوروں کی بولی سمجھنے کی خاص طاقت عطا کی تھی، لیکن اس کی یہ طاقت ایک شرط کے ساتھ تھی کہ وہ کسی انسان کو جانوروں کی باتیں بتائے گا تو اسے موت آ جائے گی۔ ایک شام وہ اپنے اصطبل کے قریب بیٹھا اپنے بچوں کو کھیلتا دیکھ رہا تھا کہ اس نے بیل کو گدھے سے باتیں کرتے سنا۔ بیل گدھے سے کہہ رہا تھا، “اے گدھے! تم کیسے آسودہ حال ہو۔ تمہیں بہترین چارہ ملتا ہے، صاف پانی ملتا ہے، لوگ تمہاری خدمت کرتے ہیں اور تمہیں آرام ہے۔ لیکن دیکھو میری حالت کیا ہے۔ صبح سویرے وہ مجھے کھیتوں میں لے جاتے ہیں، میری گردن پر بھاری جوئل ڈال دیتے ہیں، میری پیٹھ پر کوڑے…

Read more

دھوبی کی بیوی بادشاہ کے گھر میں کام کرتی تھی اور بڑی خوش نظر آرہی تھی ، تب ملکہ سلطنت نے پوچھا کہ آج تم اتنی خوش کیوں ہو۔ دھوبن نے کہا کہ آج دَھنُوں پیدا ہوا ہے۔ ملکہ نے اسکو مٹھائی پیش کرتے ہو کہا،دَھنُوں کی پیدائش کی خوشی میں کھاؤ۔ اتنے میں بادشاہ بھی کمرے میں داخل ہوا۔ ملکہ کو خوش دیکھ کر پوچھا آج آپ اتنی خوش کیوں ہیں کوئی خاص وجہ ہے؟ ملکہ نے کہا! سلطان یہ لیں مٹھائی کھائیں آج دَھنُوں پیدا ہوا ہے۔ اس لیئے خوشی کے موقع پہ خوش ہونا چاہیے…. !! بادشاہ کو بیوی سے بڑی # محبت تھی۔ بادشاہ نے دربان کو کہا کہ مٹھائی ہمارے پیچھے پیچھے لے آو۔ بادشاہ باہر دربار میں آیا توبادشاہ بہت خوش تھا۔ وزیروں نے جب بادشاہ کو  خوش دیکھا تو۔۔۔ واہ واہ کی آوازیں گونجنے لگیں۔ بادشاہ مزید خوش ہونے۔ بادشاہ نے کہا سبکو…

Read more

پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک ملک پر ایک بہت رحم دل اور عقلمند بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ بادشاہ اپنی رعایا کا بہت خیال رکھتا تھا، لیکن اس کی ایک عجیب عادت تھی؛وہ ہر سال اپنے وزیروں اور مشیروں کا امتحان لیتا تھا تاکہ یہ جان سکے کہ کون سب سے زیادہ دانا ہے۔ایک دن بادشاہ نے اپنے دربار میں ایک بڑا اور خوبصورت پیاسہ کوا (کرافٹڈ) لٹکایا اور اپنے تین سب سے خاص وزیروں کو بلایا۔ بادشاہ نے ان کے سامنے ایک عجیب سوال رکھا:”مجھے یہ بتاؤ کہ دنیا میں سب سے بڑا سچ اور سب سے بڑا جھوٹ کیا ہے؟”بادشاہ نے انہیں سوچنے کے لیے تین دن کی مہلت دی۔پہلے وزیر کا جواب: تین دن بعد پہلا وزیر آیا اور بولا، “عالی جاہ! دنیا کا سب سے بڑا سچ ‘موت’ ہے جس سے کوئی نہیں بھاگ سکتا، اور سب سے بڑا جھوٹ ‘دنیا کی زندگی’ ہے جو ایک…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بکری کہیں سے ایک بھیڑیے کے یتیم بچے کو اٹھا کر اپنے پاس لے آئی۔ ممتا کے جذبے سے مجبور ہو کر وہ اسے اپنا ہی بچہ سمجھنے لگی اور باقاعدگی سے اسے اپنا دودھ پلانے لگی۔جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اور دودھ اس بھیڑیے کے بچے کی رگوں میں اترتا گیا، ویسے ویسے بکری دن بدن سکھڑتی اور کمزور ہوتی چلی گئی۔ وہ اپنے حصے کی پوری طاقت اور توانائی اس بچے کو پالنے میں نچوڑ رہی تھی۔ دوسری طرف وہ بچہ اس کا دودھ پی پی کر طاقتور اور جوان ہو رہا تھا۔جب وہ بھیڑیا پوری طرح جوان ہو گیا، تب تک بیچاری بکری اس کو اپنا سب کچھ پلا کر محض ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکی تھی، اس میں اب چلنے پھرنے کی سکت بھی نہیں رہی تھی۔ ایک دن جیسے ہی بھیڑیے کو موقع ملا، اس نے ایک ہی…

Read more

ایک گاؤں میں ایک نہایت عقل مند بوڑھا رہتا تھا۔ لوگ دور دور سے اس کے پاس مشورہ لینے آتے تھے۔ اسی گاؤں میں ایک چالاک چور بھی رہتا تھا جو رات کے اندھیرے میں لوگوں کا سامان چرا لیتا اور کبھی پکڑا نہ جاتا۔ ایک رات چور نے سوچا: “اس بوڑھے کے گھر میں ضرور خزانہ ہوگا۔ آج اسی کے گھر ہاتھ صاف کرتا ہوں۔” رات گہری ہوئی تو چور آہستہ سے بوڑھے کے گھر میں داخل ہوا۔ گھر میں اندھیرا تھا۔ بوڑھا چارپائی پر لیٹا تھا مگر جاگ رہا تھا۔ اسے فوراً اندازہ ہوگیا کہ کوئی گھر میں داخل ہوا ہے۔ بوڑھے نے زور سے اپنی بیوی سے کہا: “سنو! وہ سونے کے سکے والی تھیلی کہاں رکھی ہے؟” بیوی حیران ہوئی کیونکہ ان کے پاس تو کوئی سونے کے سکے تھے ہی نہیں۔ مگر وہ سمجھ گئی کہ بوڑھا کچھ تدبیر کر رہا ہے۔ اس نے جواب…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنے مہمانوں کے لیے ایک بڑی ضیافت دینا چاہتا تھا۔ اس نے ان کے لیے ہر قسم کے کھانے تیار کروائے لیکن باورچیوں کے پاس پکانے کے لیے مچھلی نہیں تھی۔ اس لیے بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو کوئی ضیافت سے پہلے مچھلی لے کر آئے گا اسے انعام دیا جائے گا۔ اعلان سننے کے بعد ایک ماہی گیر مچھلی لے کر محل پہنچا۔ محل کے دروازے پر ایک دربان کھڑا تھا۔ اس نے ماہی گیر کو اندر جانے سے روک دیا اور کہا کہ جب تک ماہی گیر انعام میں سے آدھا حصہ دینے کا وعدہ نہ کرے وہ اسے اندر نہیں جانے دے گا۔ ماہی گیر مان گیا۔ جب بادشاہ نے مچھلی دیکھی تو بہت خوش ہوا کیونکہ اب اس کی ضیافت مکمل ہو سکتی تھی۔ وہ ماہی گیر کو بہت سارا انعام دینا چاہتا تھا، لیکن ماہی گیر…

Read more

میاں بیوی ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کے بھی روادار نہ رہے تھے۔ شروع شروع میں ان کا رابطہ صرف چیخنے چلانے اور لڑائی جھگڑے تک محدود تھا۔ پھر یہ زہریلے اور چبھتے ہوئے طنز میں بدل گیا اور آخر کار… ایک خاموشی چھا گئی۔ ایک سرد، بوجھل اور دم گھونٹنے والی خاموشی، جو دلوں میں بھری نفرت اور حقارت سے پیدا ہوئی تھی۔وہ ہر وقت لڑتے رہتے تھے، اور پھر اچانک انہوں نے لڑنا بھی بند کر دیا۔ انہوں نے ایک دوسرے پر توجہ دینا بالکل چھوڑ دیا۔ان کے درمیان کینہ، کڑواہٹ اور چڑچڑاپن ایک نادیدہ دیوار کی طرح بڑھتا گیا۔ آغاز میں تو وہ ایک دوسرے کے منہ پر بے عزتی کر دیا کرتے تھے، لیکن رفتہ رفتہ انہوں نے مکمل طور پر ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور گھر میں کم سے کم وقت گزارنے لگے۔ دونوں میں سے کسی کو یاد بھی نہیں…

Read more

سردی کی ایک ٹھنڈی صبح تھی، جنوری 1921ء۔ چار دوست  ارجن، وکاس، سمیر، اور رتن — چندن پور نامی ایک چھوٹے سے گاؤں سے اپنے دلوں میں بڑے خواب لیے جنگل کی طرف نکل پڑے۔ ان کا مقصد تھا ایک آدم خور شیر کا شکار، جو گاؤں والوں کے لیے عذاب بن چکا تھا۔ یہ شیر رات کے اندھیرے میں نہ صرف جانور بلکہ انسانوں کو بھی اپنا شکار بنا رہا تھا۔ گاؤں میں خوف کی لہر دوڑ گئی تھی، اور لوگ رات کو گھروں سے نکلنے سے ڈرتے تھے۔ارجن، گروپ کا لیڈر، لمبا، مضبوط، اور نڈر۔ اس کی آنکھوں میں ایک عزم تھا کہ وہ اس شیر کو مار کر ہی گاؤں واپس لوٹے گا۔ وکاس، ہنس مکھ اور چنچل، ہر مشکل لمحے کو مذاق میں بدل دیتا تھا۔ سمیر، خاموش اور تدبیر سے کام لینے والا، اپنی بندوق کو ہمیشہ تیار رکھتا تھا۔ رتن، سب سے چھوٹا، لیکن…

Read more

ایک بے وقوف حضرت عیسیٰ کا شریکِ سفر تھا ۔اس نے ایک گہرے گڑھے میں ہڈیاں دیکھ کر کہا کہ اے روح اللہ! وہ کیا نامِ پاک ہے جس سے تو مردوں کو زندہ کرتا ہے ۔مجھے بھی تو وہ اسمِ پاک سکھادے تاکہ ان پرُانی ہڈیوں میں جان ڈال دوں۔ حضرت عیسیٰ نے فرمایا۔ چپ رہ یہ کام تیرا نہیں، تیرا دم اور تیری زبان اس کام کے لائق نہیں۔ اس نے کہا خیر اگر میں ان اسرار کو زبان پر نہیں لا سکتا تو توہی ان ہڈیوں پر کچھ پڑھ کر دم کردے۔ حضرت عیسیٰ نے اپنے دل میں کہا کہ الٰہی یہ بھید کیا ہے۔ اس بے وقوف کو اتنا اصرا کیوں ہوگیا ہے۔ اس بیمار کو اپنا غم کیوں نہیں اور اس مُردار کو اپنی جان کی فکر کیوں نہیں۔ اس نے اپنے مردے کو چھوڑ دیا ہے اور بیگانے مردے جِلانے چاہتا ہے۔ خدا نے…

Read more

جنگل میں دو شیر رہتے تھے۔ایک جوان، طاقتور اور تیز تھا… جبکہ دوسرا بوڑھا مگر تجربہ کار۔دونوں کی دوستی پورے جنگل میں مشہور تھی۔ جہاں ایک جاتا، دوسرا اُس کے ساتھ ہوتا۔مگر وقت بدلا…ایک دن کسی غلط فہمی نے دونوں کے دلوں میں نفرت بھر دی۔بات چیت بند ہوگئی… راستے الگ ہوگئے… اور دونوں ایک دوسرے کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔کچھ دن بعد ایک خطرناک واقعہ پیش آیا۔بوڑھا شیر اکیلا جنگل کے کنارے بیٹھا تھا کہ اچانک 25-30 جنگلی کتوں نے اُس پر حملہ کر دیا۔کتے مسلسل اُس پر بھونک رہے تھے، کاٹ رہے تھے، اور اُسے کمزور سمجھ کر نوچنے لگے۔بوڑھا شیر پوری کوشش کے باوجود بے بس ہوتا جا رہا تھا…اچانک پورا جنگل ایک خوفناک دھاڑ سے گونج اٹھا!!!وہ جوان شیر تھا۔اُس کی ایک ہی دھاڑ نے کتوں کے دل دہلا دیے۔سارے کتے دم دبا کر بھاگ گئے۔جوان شیر نے بوڑھے شیر کی طرف دیکھا… مگر…

Read more

380/390
NZ's Corner