Tag Archives: ” “confidence

وردی میں ملبوس، اکٹھے حرکت کرتے ہوئے عملے کو ہر جگہ لوگ بڑے غور سے دیکھتے ہیں۔لڑکے لڑکیوں کو ساتھ دیکھ کر اس گرویدگی کے عالم میں ان کی سوچ وہاں پہنچ جاتی ہے جہاں سے واپسی اخلاقی طور سے ممکن نہیں رہتی🤤۔ اکثریت کے لیئے اس نوکری کا نام بھی پائلٹ ہونا ہے۔ ظاہر ہے بھئی اتنا بڑا جہاز ہوتا ہے، اسے اڑانے کے لیئے بارہ چودہ بندے تو لازمی چاہیئے ہوتے ہیں۔ یہ تو بہت سے لوگ پوچھتے ہیں کہ بھائی کیا آپ پائلٹ ہیں۔ اتنے عوام کو بتا بتا کر آخر اکثر جان چھڑانے کے لیئے یہ کہنا ہی پڑتا ہے کہ ہاں جی ہم پائلٹ ہوتے ہیں لیکن ایک بار تو حد ہو گئی۔ میں اور میرا ساتھی ریحان ایک روح فرسا پرواز کرنے کے بعد تھکے ہارے اپنا سامان کھینچتے گاڑیوں کی طرف جا رہے تھے کہ دو نوجوانوں نے تقریباً پورا راستہ روک کر…

Read more

یہ واقعہ جب تاریخ کے اوراق میں بکھرا ہوا ملتا ہے تو سولہویں صدی کے اوائل میں یورپ اور عثمانی سلطنت کے درمیان تعلقات کسی ایک سرحد یا ایک مسئلے تک محدود نہ تھے۔ بحیرہ روم سے لے کر بلقان، اناطولیہ سے لے کر ہنگری کے میدانوں تک، طاقت کا ایک خاموش مگر شدید مقابلہ جاری تھا۔ عثمانی سلطنت اس وقت محض ایک فوجی طاقت نہیں تھی بلکہ ایک منظم ریاست، مضبوط معیشت، قانون، انتظامیہ اور مذہبی مرکزیت کی حامل تھی۔ سلطان سلیمان بن سلیم، جسے تاریخ نے القانونی کا لقب دیا، تخت نشین ہو چکا تھا۔ وہ ایک ایسا حکمران تھا جس کے قلم اور تلوار دونوں کو یکساں احترام حاصل تھا، جو جنگ سے پہلے قانون دیکھتا اور فتح کے بعد نظم قائم کرتا تھا۔دوسری جانب ہنگری کی سلطنت تھی جو جغرافیائی لحاظ سے یورپ اور عثمانی دنیا کے درمیان ایک دروازہ سمجھی جاتی تھی۔ ہنگری صرف ایک…

Read more

ریگستان کا وعدہ پرانے عرب کے ریگستان میں، جہاں دن آگ برساتا اور راتیں خاموشی اوڑھ لیتی تھیں، ایک قبیلہ آباد تھا جسے بنو سالم کہا جاتا تھا۔ اس قبیلے میں ایک نوجوان رہتا تھا، نام تھا نعمان۔ وہ بہادر تھا، تلوار چلانا جانتا تھا، مگر اس کی اصل پہچان اس کی امانت داری تھی۔ایک دن قبیلے کے سردار نے نعمان کو بلا کر کہا۔“اے نعمان، یہ سونے کے سکے ہیں۔ انہیں دوسرے قبیلے کے سردار تک پہنچانا ہے۔ راستہ طویل ہے، اور خطرات سے بھرا۔” نعمان نے سکوں کی تھیلی تھامی، آنکھیں جھکائیں اور کہا۔“اے سردار، جان چلی جائے تو جائے، مگر امانت میں خیانت نہیں ہوگی۔” نعمان اپنے اونٹ پر روانہ ہوا۔ دن ڈھلنے لگا تو ریت کے ٹیلوں کے پیچھے سے ایک زخمی مسافر ملا۔ وہ پیاس سے نڈھال تھا۔ اس نے کانپتی آواز میں کہا۔ “اے مسافر، اگر پانی نہ ملا تو جان چلی جائے گی۔”نعمان…

Read more

ایک دن ایک کتا جنگل میں بھٹک گیاتبھی اس نے دیکھا کہ ایک شیر اس کی طرف آ رہا ہےکتے کی سانس رک گئیآج_تو_کام_تمام_میراپھر اس نے اپنے سامنے کچھ ہڈیاں پڑی دیکھیں، وہ آتے ہوئے شیر کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ گیا اور ایک سوکھی ہڈی کو چوسنے لگا، اور زور زور سے بولنے لگاواہ_شیر_کو_کھانے_کا_مزہ_ہی_کچھ_اور_ہے….ایک اور مل جائے تو پوری دعوت ہو جائے، اور اس نے زور سے ڈکار ماری، اس بار شیر سوچ میں پڑ گیا،اس نے سوچایہ کتا تو شیر کا شکار کرتا ہے جان بچا کر بھاگنے میں ہی بھلائی ہے، اور شیر وہاں سے جان بچا کر بھاگ گیا، درخت پر بیٹھا ایک بندر یہ سب تماشہ دیکھ رہا تھا، اس نے سوچا یہ اچھا موقع ہے، شیر کو پوری کہانی بتا دیتا ہوں، شیر سے دوستی بھی ہو جائے گی اور اس سے زندگی بھر کے لیے جان کا خطرہ بھی دور ہو جائے…

Read more

اگر مچھلی پانی سے نکل کر تمہیں یہ بتائے کہ مگرمچھ بیمار ہے، تو اس کی بات پر یقین کرو۔یہ مثال صرف سمجھدار لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ جملہ بظاہر ایک عام سی مثال لگتا ہے، لیکن اس کے اندر بہت گہری حکمت چھپی ہوئی ہے۔آئیے اس کے مختلف پہلوؤں کو کھول کر سمجھتے ہیں: 1. مچھلی کی بات پر کیوں یقین؟ مچھلی اپنی پوری زندگی پانی میں گزارتی ہے۔ وہ پانی کے ہر بدلتے موسم، ہر خطرے، ہر حرکت اور ہر جاندار کو دوسروں سے زیادہ جانتی ہے۔اگر وہ پانی چھوڑ کر باہر آ جائے، تو اس کا باہر آنا ہی ایک غیر معمولی واقعہ ہوتا ہے۔اور جب وہ باہر آ کر یہ کہے کہ مگرمچھ بیمار ہے، تو یہ معمولی بات نہیں — یہ اس ماحول کی اندرونی حقیقت ہے جس تک دوسروں کی رسائی نہیں۔ پیغام:جو شخص کسی معاملے کے اندر سے ہو، اس کی معلومات…

Read more

نر بھیڑے نے اپنی مادہ کو ساتھ لیا اور Onon دریا کے کنارے آ کر آباد ہو گیا یہی وہ جگہ تھی جہاں منگول پیدا ہوئے یہ لوگ اس بے آب و گیاں علاقے میں موجود تھوڑے بہت وسائل کیلئے آپس میں لڑتے رہتے سرسبز ہریالی پانی اور مویشی کیلئے لڑائیاں جاری رہتیں لیکن پھر ان میں ایک ذہین لیکن خطرناک آدمی تموجن نمودار ہوا جس نے منگول قبائل کے سرداروں کو اکٹھا کر کے کہا “ہم جنگجو لوگ ہیں اگر ہم اپنی توانائیاں ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے کی بجائے متحد ہو جائیں تو دنیا کے خزانے ہمارے قدموں میں آ سکتے ہیں” کسی نے سوال کیا کہ ہم خیموں میں رہنے والے لوگ کیسے بڑی بڑی سلطنتوں کا سامنا کر سکیں گے تموجن نے جواب دیا “ہماری کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ ہم سب منگول قبائل کا کامن دشمن ہو جس کے خلاف ہم سب متحد ہو کر…

Read more

انسانی تاریخ میں کچھ واقعات ایسے ہیں جو صرف ایک قوم یا علاقے کی تباہی کا ذکر نہیں کرتے بلکہ پوری انسانیت کے لیے دائمی سبق چھوڑتے ہیں۔ قومِ لوط کا قصہ اسی نوعیت کا واقعہ ہے۔ یہ باب حضرت لوط علیہ السلام کی دعوت، ان کی قوم کی سرکشی، فرشتوں کی آمد، عذابِ الٰہی کی کیفیت اور اس واقعے سے اخذ ہونے والے اسباق پر مبنی ہے۔ اس واقعے کی تفصیل قرآنِ مجید کی مختلف سورتوں—اعراف، ہود، حجر، شعراء اور نمل—میں بکھری ہوئی ہے، جبکہ مفسرین اور محدثین نے اسے اپنے اپنے انداز میں پیش کیا ہے۔ — نسب اور ابتدائی پس منظر حضرت لوط علیہ السلام، خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ بچپن ہی سے آپ نے سیدنا ابراہیمؑ کی صحبت پائی اور ان کی دعوتِ توحید سے فیض حاصل کیا۔ جب حضرت ابراہیمؑ نے بابل کو چھوڑا تو لوطؑ بھی ان کے ساتھ ہجرت…

Read more

خوشخبری! وزارت مذہبی امور (MORA)، اسلام آباد میں ڈیلی ویجز کی بنیاد پر نوکریوں کے سنہری مواقع دستیاب ہیں۔ کل آسامیاں: 36پوسٹس: ڈیٹا پروسیسنگ اسسٹنٹ اور ڈیٹا انٹری آپریٹر ✅ تعلیمی قابلیت: انٹرمیڈیٹ یا بیچلرز✅ عمر کی حد: 18 سے 28 سال آن لائن درخواست دینے کی آخری تاریخ: 20 دسمبر 2025 For online apply www.mora.gov.pk واک اِن انٹرویوز:آن لائن اپلائی کرنے کے بعد اپنی رول نمبر سلپ ڈاؤنلوڈ کریں اور 22 دسمبر 2025 صبح 9 بجے انٹرویوز کے لیے اپنے تمام اصلی کاغذات، تصدیق شدہ فوٹو کاپیز اور 2 پاسپورٹ سائز تصاویر ساتھ لے کر دیے گئے ایڈریس پر پہنچ جائیں۔

یہ کہا جاتا ہے کہ ارسطو اپنے شاگرد سکندرِ اعظم کو ہمیشہ عورتوں کی صحبت سے دور رہنے کی نصیحت کرتا تھا۔ اسی وجہ سے حرم کی عورتیں اس سے بہت خفا رہتی تھیں۔ایک دن انہوں نے مل کر ایک چال چلی۔ انہوں نے ایک نہایت خوبصورت، شوخ اور دلکش کنیز کو ارسطو کی خدمت میں بھیج دیا۔ اس کنیز نے اپنے انداز و اشاروں کے جال میں ارسطو کو پھانس لیا اور ایک دن اچانک شرط رکھ دی کہ ارسطو گھوڑا بنے اور وہ اس کی پیٹھ پر سوار ہو۔ — جب یہ مشہورِ زمانہ واقعہ ہو رہا تھا، ٹھیک اسی وقت حرم کی تمام عورتیں سکندر کے ساتھ کمرے میں داخل ہو گئیں۔ سکندر نے اپنے استاد کو ایک کنیز کے لیے واقعی “گھوڑا” بنے دیکھا تو حیران ہو کر بولا:“اے استاد! یہ کیا استادی ہے؟ ہمیں عورتوں سے دور رہنے کی نصیحت کرتے ہیں اور خود یہ…؟”…

Read more

جب اللہ کے نبی سلیمان علیہ السلام نے  چمگادڑ سے مشورہ کیا تو اُس وقت اللہ کی چار مخلوقات شکایت اور حاجت لے کر حاضر ہوئیں پہلا: سورج عرض کی: اے نبی اللہ، اللہ سے دعا کیجیے کہ مجھے بھی باقی مخلوق کی طرح ایک ہی جگہ میں سکونت دے دے میں مشرق و مغرب کے درمیان مسلسل حرکت سے تھک چکا ہوں دوسرا: سانپ کہا: اے سلیمان، اللہ سے دعا کیجیے کہ مجھے بھی ہاتھ پاؤں عطا کرے جیسے دیگر جانوروں کو دیے ہیں، میں پیٹ کے بل رینگ رینگ کر تھک چکا ہوں تیسرا: ہوا کہی: اے نبی اللہ، میں مسلسل بے مقصد ادھر اُدھر بھٹکتی رہتی ہوں میرے لیے اللہ سے سکون کی جگہ مانگیں چوتھا: پانی کہا اے سلیمان میں کبھی زمین میں کبھی آسمان کے نیچے ہر جگہ پھر رہا ہوں نہ مجھے ٹھکانہ ہے نہ ٹھہراؤ اللہ سے کہیے کہ مجھے ایسی جگہ عطا…

Read more

جب آدھا ملین رومی فوج مسلمانوں کی فوج کو تباہ کرنے کے قریب تھی اور ہر طرف سے انہیں گھیر لیا گیا تھا،تو اس عظیم اسلامی بہادر نے اپنی تلوار تھام لی اور وہ سب سے مشکل فیصلہ کیا جو کسی بھی انسان کی زندگی میں آ سکتا ہے۔عکرمہ نے موت کو گلے لگانے کا فیصلہ کر لیا اور مسلمانوں کو بادلوں کی گرج کی مانند آواز دے کر پکارا: “اے مسلمانو! کون موت پر بیعت کرتا ہے؟” تو 400 فدائی ان کے پاس آ گئے اور انہوں نے تاریخ میں مشہور ہونے والی “کتيبة الموت الإسلامية” (اسلامی لشکرِ موت) تشکیل دی۔یہ دیکھ کر خالد بن ولید عکرمہ کی طرف بڑھے اور انہیں اپنی جان قربان کرنے سے روکنے کی کوشش کی،مگر عکرمہ نے نور سے چمکتے چہرے کے ساتھ خالد کو دیکھا اور کہا: “اے خالد! مجھ سے دور ہو جاؤ، تمہیں تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پہلے…

Read more

معرکہ عین جالوت 3 ستمبر 1260ء (658ھ) میں مملوک افواج اور منگولوں کے درمیان تاریخ کی مشہور ترین جنگ جس میں مملوک شاہ سیف الدین قطز اور اس کے مشہور جرنیل رکن الدین بیبرس نے منگول افواج کو بدترین شکست دی۔ یہ جنگ فلسطین کے مقام عین جالوت پر لڑی گئی۔ اس فتح کے نتیجے میں مصر، شام اور یورپ منگولوں کی تباہ کاریوں سے بچ گئے۔ جنگ میں ایل خانی حکومت کے منگول بانی ہلاکو خان کا سپہ سالار کتبغا مارا گیا۔ سقوط بغدادساتویں صدی ہجری میں تاتاریوں نے مسلمانوں کی سرزمین پر عظیم جارحیت کا ارتکاب کیا اور نتیجتاً مسلمانوں کا خلیفہ مستعصم باللہ ہلاک ہو گیا اور دار الحکومت بغداد سمیت مسلمانوں کی تین چوتھائی سرزمین تاتاریوں کے قبضہ میں چلی گئی۔ سقوط بغداد کے بعد خلافت عباسیہ کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا جس کے بعد مسلمانوں کو شکست در شکست کا سامنا کرناپڑا۔ منگولوں…

Read more

بغداد کی ہلاکت 🔥 ایسا سانحہ جو تاریخ نہیں انسانیت کا زخم ہے 🔥 😥بغداد… وہ شہر جو کبھی دنیا کی آنکھوں کا تارا تھا، علم کا دریا، حکمت کا گہوارہ، تہذیب کا تاج، جہاں راتیں چراغوں سے روشن تھیں اور دن کتابوں سے۔ جہاں نہریں، باغات، محل، بازار، مدرسے، مکتب، حکومتی عمارتیں سب کچھ ایک ایسے دور کی یاد دلاتے تھے جب عباسی خلافت کا نام ساری دنیا پر تھر تھرا دیتا تھا۔ لیکن 1258 میں بغداد نہ وہ طاقت رہی تھی، نہ وہ شاہی رعب باقی تھا، نہ وہ بین الاقوامی وزن۔ اب شہر اپنی پرانی عظمت کے کھنڈر پر کھڑا ایک کمزور، سست، سیاسی سازشوں میں گھرا ہوا مرکز تھا۔ خلیفہ مستعصم… نرمی، کمزوری، بے خبری اور دربار کے سازشی وزیروں کے بیچ گھرا ہوا بادشاہ، جسے پتا ہی نہیں تھا کہ افق پر کون سا طوفان امڈ کر آرہا ہے۔ منگول سلطنت اس وقت دنیا کی…

Read more

حسن بن صباح کی داستان 🔥 نزاریہ فرقہ کا اصل بانی بلاد عجم یعنی ایران کا بہت بڑا داعی بانی شیخ الجبل حسن بن صباح۔ اس نے اپنی تحریک کو ایسی ترقی دی، جس کے باعث دوسری اسلامی قوتوں سے مقابلہ کرنے لگا۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو درست ہوگا کہ اس نے اور اس کے جانشینوں نے ایسی دھاک بیٹھائی کہ اس زمانے کے اسلامی سلاطین ان سے تھراتے تھے۔ نام اور نسبحسن بن صباح کا پورا نام حسن بن علی بن محمد بن جعفر بن حسین بن الصباح الحمیری تھا۔ یہ ایرانی تھا اور اس نے اس زمانے کے رواج کے مطابق اپنے آپ کو ایک عرب الحمیری خاندان سے منسوب کیا تھا۔ لیکن اسے یہ بات پسند نہیں تھی کہ لوگ اس کا نسب بیان کریں۔ وہ اپنے مریدوں سے کہا کرتا تھا مجھے اپنے امام کا مخلص غلام کہلایا جانا زیادہ پسند ہے کہ بہ…

Read more

بہت عرصہ پہلے دل کو چُھو لینے والی یہ تحریر پڑھی تھی پھر لاکھ ڈھونڈنے پر نا ملی۔۔۔ اب جو ملی تو اس “فن پارے” کو آپ کی نذر کر رہا ہوں۔ ہو سکتا ہے آپ پہلے پڑھ چکے ہوں لیکن حقیقت سے بھرپور یہ تحریر بار بار پڑھنے کے لائق ہے۔۔۔ ایک نامعلوم ڈائری سے۔ میری وفات کے بعد۔۔۔ موسم سرما کی ایک انتہائی ٹھٹھرتی شام تھی جب میری وفات ہوئی۔ اس دن صبح سے بارش ہو رہی تھی۔ بیوی صبح ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی۔ ڈاکٹر نے دوائیں تبدیل کیں مگر میں خلافِ معمول خاموش رہا۔ دوپہر تک حالت اور بگڑ گئی۔ جو بیٹا پاکستان میں تھا وہ ایک تربیتی کورس کے سلسلے میں بیرون ملک تھا۔ چھوٹی بیٹی اور اس کا میاں دونوں یونیسف کے سروے کے لیے کراچی ڈیوٹی پر تھے۔ لاہور والی بیٹی کو میں نے فون نہ کرنے دیا کہ اس کا میاں…

Read more

‏برصغیر پر انگریزوں کے قبضے کے دوران۔۔۔۔۔۔۔ہر انگریز افسر کا ہر، تین برس بعد واپس برطانیہ بلا لیا جاتا، مبادہ یہ مقامی رسم و رواج کے عادی نہ ہو جائیں یا اس کی ریٹائرمنٹ تک، کسی دوسرے ملک بھجوا دیا جاتا۔ یا، جو اپنی ملازمت مکمل کرنے کے بعد واپس برطانیہ آتا، اسے کوئی عوامی عہدہ نہ دیا جاتا، دلیل دی جاتی تھی:” آپ غلام قوم پر حکومت کر کے أۓ ہو، جس سے تمہارے اطوار اور رویے میں تبدیلی آ گی ہے۔ یہاں اگر اس طرح کی کوئی ذمہ داری تمہیں سونپی جاے، تو آپ ہم آزاد قوم کے ساتھ بھی اسی طرح کا برتاو کرو گے”برطانیہ کی ایک انگریز خاتون کا شوہر سول سروس آفیسر تھا،اس خاتون نے زندگی کے کئی سال ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گزارے۔ واپسی پر اس نے اپنی یاداشتوں پر مبنی کتاب لکھی:” میرا شوہر، ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا، تب میرا بیٹا…

Read more

‏ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے گھبرا کر اٹھے اور اپنی زوجہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایااللہ کے سوا کوئی معبود نہیںعربوں کے لیے ہلاکت ہے اس شر سے جو قریب آ چکا ہےآج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو چکا ہےآپ نے اپنے انگوٹھے اور اس کے برابر والی انگلی کو ملا کر اشارہ کیا۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے عرض کیایا رسول اللہ کیا ہم ہلاک ہوجائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گےآپ نے فرمایا ہاں جب بے حیائی اور گناہ عام ہو جائیں گے۔ یاجوج ماجوج کون ہیں اور کب نکلیں گے۔۔؟؟اور ان کے نکلنے کی کہانی کیا ہے،ان کا فساد ‏اور انجام کیسا ہو گااور اس دیوار کی کہانی کیا ہے۔۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایالوگ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں،کہہ دیجیے میں تمہیں…

Read more

ایک خاموشی بھری موت 😥🔥121 سال پرانا بھوت جہاز — کینٹکی کی ندی میں سویا ہوا ایک زندہ افسانہایک ایسی کہانی جو وقت سے بھرپور ہے… مگر وقت نے اسے خود بھلا دیا۔کینٹکی کی خاموش ندی کے کنارے، جنگل کی نمی اور پرندوں کی دھیمے سُروں میں، ایک بھوری، زنگ آلود لاش سا جہاز پڑا ہے۔ لوگ اسے گھوسٹ شپ کہتے ہیں… لیکن جب اس کی کہانی کھلتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک جہاز نہیں، بلکہ ایک عہد کی پوری تاریخ اپنے سینے میں لیے بیٹھا ہے۔ یہ ہے U.S.S. Sachem—ایک ایسا جہاز جس نے دو جنگیں دیکھی، لاکھوں لوگوں کی ہنسی سنی، روشنی کے جادوگر تھامس ایڈیسن کو اپنے ڈیک پر چلتے دیکھا… اور یہاں تک کہ میڈونا کے میوزک ویڈیو میں بھی جلوہ دکھایا۔ ابتدا — ٹائٹینک سے بھی پہلے کی شان 1902 میں، ٹائٹینک کی روانگی سے پورے دس سال پہلے، یہ جہاز…

Read more

بحری قذاقوں (pirates) کی ایک آنکھ پر کپڑا کیوں ہوتا تھا؟ بحری قذاق اپنی ایک آنکھ کو کپڑے کے ٹکڑے کے ساتھ ڈھانپ کر رکھتے تھے (eye patch) اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ ایک آنکھ کو زیادہ دیر تک اندھیرے میں رکھتے ہیں تو وہ اندھیرے میں دیکھنے کیلئے ایڈجسٹ ہو چکی ہوتی ہے اس لئے جب قزاق جہاز کے نچلے اندھیرے حصے میں جاتے تو پٹی اتار کر روشنی والی آنکھ پر لگا دیتے اس سے وہ ایڈجسٹ شدہ آنکھ سے اندھیرے میں آسانی سے دیکھ سکتے تھے اور جب جہاز کے اوپر والے روشن حصے میں آتے تو پٹی دوبارہ نچلے حصے کیلئے سلیکٹ کی گئی آنکھ پر شفٹ کر دیتے اور دوسری آنکھ جو روشنی میں دیکھنے کی عادی تھی اسے اوپر والے حصے کیلئے استعمال کرتےتھے ۔

آج ائیر پورٹس سیکورٹی فورس (ASF) میں سینکڑوں خالی آسامیوں پر مرد و خواتین کی بھرتی کے لیے اشتہار جاری کردیا گیا ہے* ٹوٹل سیٹس : 664 ( گریڈ  5 سے گریڈ 15 تک ) تعلیمی قابلیت: پرائمری پاس ، میٹرک ،انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن ( بلحاظ آسامی) عمر کی حد : 18 سال سے 33 سال تک ( پوسٹ وائز ) ڈومیسائل: آل پاکستان, تمام صوبے بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان آخری تاریخ:  8 دسمبر یہ پوسٹ سب کے ساتھ شیئر کر دیں- تاکہ سب لوگ اپلائی کر سکیں- For online apply https://joinasf.gov.pk/

60/102
NZ's Corner