Tag Archives: urdustory

ہندوستان کے ایک گاؤں میں چار بوڑھے رہتے تھے۔ وہ بچپن کے دوست تھے۔ ساری زندگی انہوں نے ایک ساتھ کام کیا، ایک ساتھ کھایا، ایک ساتھ باتیں کیں۔ اب وہ بوڑھے ہو چکے تھے، بال سفید ہو گئے تھے، ہاتھ کانپنے لگے تھے۔ ایک دن وہ درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ ان کی باتیں چل رہی تھیں۔ پہلا بوڑھا بولا: “ہم نے ساری زندگی کام کیا، لیکن کبھی آرام نہیں کیا۔ اب مرنے سے پہلے کچھ ایسا کریں جو یاد رہے۔” دوسرے نے کہا: “کیا کریں؟ ہم بوڑھے ہیں، ہاتھ نہیں چلتے، ٹانگیں نہیں چلتیں۔” تیسرے نے کہا: “ہماری عقل تو چلتی ہے۔ عقل سے کچھ کریں۔” چوتھے نے کہا: “چلو، اس درخت کو دیکھو۔ یہ بہت پرانا ہے، بہت بڑا ہے۔ لوگ اسے کاٹنا چاہتے ہیں۔ ہم اسے بچائیں۔” انہوں نے سوچا: “لوگوں کو کیسے بتائیں کہ یہ درخت خاص ہے؟” پہلے بوڑھے نے کہا: “میں جاؤں گا…

Read more

ایک غریب کسان تھا۔ اس کے پاس ایک چھوٹا سا کھیت تھا، ایک بوڑھی گائے تھی، اور ایک جھونپڑی تھی۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔ دونوں بہت غریب تھے، لیکن ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے تھے۔ ایک دن کسان کھیت میں کام کر رہا تھا۔ شام ہو رہی تھی، وہ تھک کر واپس جا رہا تھا کہ اس نے راستے میں ایک عجیب سا درخت دیکھا۔ درخت چمک رہا تھا، اس کی شاخوں پر روشنی تھی۔ وہ قریب گیا تو درخت سے ایک آواز آئی: “کسان! میں جادوئی درخت ہوں۔ آج تم نے مجھے دیکھ لیا ہے، اس لیے تمہیں تین خواہشیں پوری کرنے کا حق ملے گا۔” کسان حیران رہ گیا۔ اس نے سوچا: “تین خواہشیں! کتنی بڑی بات ہے!” وہ دوڑتا ہوا گھر گیا اور بیوی کو ساری بات بتائی۔ بیوی بھی بہت خوش ہوئی۔ کسان نے کہا: “سوچو، ہم کیا مانگیں؟ دولت؟ محل؟ زمینیں؟”…

Read more

ایک پتھر کا تراشہ تھا۔ وہ پہاڑ سے پتھر کاٹتا تھا، بڑے بڑے بلاک بناتا تھا، اور ان سے لوگوں کے گھر بناتا تھا۔ وہ اپنے کام سے مطمئن تھا۔ صبح اٹھتا، پہاڑ پر جاتا، پتھر کاٹتا، شام کو گھر آتا۔ اسے اپنے ہاتھوں کی طاقت پر بھروسہ تھا، اپنی محنت پر فخر تھا۔ ایک دن وہ کسی امیر آدمی کے گھر پتھر لگا رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ امیر آدمی بڑے آرام سے بیٹھا ہے، اس کے پاس نوکر ہیں، کھانا ہے، پینا ہے، اسے کسی محنت کی ضرورت نہیں ہے۔ پتھر کے تراشے نے سوچا: “کتنا اچھا ہوتا اگر میں بھی امیر ہوتا۔ مجھے بھی کوئی کام نہ کرنا پڑتا۔” اسی وقت ایک فرشتہ آسمان سے اترا۔ اس نے کہا: “تمہاری خواہش سن لی گئی۔ اب تم امیر ہو۔” اور پتھر کا تراشہ امیر بن گیا۔ اس کے پاس دولت تھی، محل تھا، نوکر تھے، باغ تھے۔…

Read more

‏یہ واقعہ آج سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے پیش آیا تھا، فرعون کے ڈوب کر مرنے کے بعد سمندر نے اس کی لاش کو اللہ کے حکم سے باہر پھینک دیا جبکہ باقی لشکر کا کوئی نام و نشان نہ ملا۔ مصریوں میں سے کسی شخص نے ساحل پر پڑی اس کی لاش پہچان کر اہل دربار کو بتایا۔ فرعون کی لاش کو ‏محل پہنچایا گیا، درباریوں نے مسالے لگا کر اسے پوری شان اور احترام سے تابوت میں رکھ کر محفوظ کر دیا۔ حنوط کرنے کے عمل کے دوران ان سے ایک غلطی ہو گئی تھی، فرعون کیوں کہ سمندر میں ڈوب کر مرا تھا اور مرنے کے بعد کچھ عرصہ تک پانی میں رہنے کی وجہ سے اس کے ‏جسم پر سمندری نمکیات کی ایک تہہ جمی رہ گئی تھی، مصریوں نے اس کی لاش پر نمکیات کی وہ تہہ اسی طرح رہنے دی اور اسے اسی…

Read more

ناقابلِ تسخیر گرہ: کیوں آپ کی منطق آپ کے راستے کی رکاوٹ ہو سکتی ہے؟ایک قدیم شہر میں، ایک افسانوی گرہ نے ایک رتھ کو مندر کے ستون سے جکڑ رکھا تھا۔ یہ درخت کی چھال سے اس قدر الجھا کر بنائی گئی تھی کہ کوئی بھی—یہاں تک کہ بڑے بڑے ذہین دماغ بھی—اس کا سرا تلاش نہ کر سکے۔ مشہور روایت تھی: “جو اس گرہ کو کھولے گا، وہی پورے ایشیا پر راج کرے گا۔”صدیوں تک دنیا کے قابل ترین علماء اور ماہرینِ منطق نے اپنی قسمت آزمائی۔ وہ تپتی دھوپ میں پسینہ بہاتے رہے، گرہ کے ہر پیچ و خم اور ہر پوشیدہ خلا کا تجزیہ کرتے رہے۔نتیجہ؟ مکمل ناکامی۔ وہ گرہ انسانی عقل کے لیے ایک چیلنج بنی رہی، اور ہر کوئی تھک ہار کر شکست تسلیم کر گیا۔ 🗡️پھر اپنی فوج کے ساتھ ایک نوجوان فاتح وہاں پہنچا۔ اس “ناقابلِ حل” پہیلی کا سامنا کرتے ہوئے،…

Read more

صحیح وقت سے پہلے بڑا بننے کی قیمتکچھ چیزیں اس لیے نہیں بکھرتیں کہ وہ کمزور ہوتی ہیں، بلکہ وہ اس لیے ٹوٹ جاتی ہیں کیونکہ وہ اپنی برداشت سے زیادہ تیزی سے بڑھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ایک پرسکون دلدل میں، ایک چھوٹے سے مینڈک نے کنارے پر چرتی ہوئی ایک گائے کو دیکھا۔  گائے اتنی بڑی، مضبوط اور پر اثر نظر آ رہی تھی کہ مینڈک کے دل میں بھی اس جیسا بڑا بننے کی خواہش جاگ اٹھی۔چنانچہ مینڈک نے پانی کا ایک لمبا گھونٹ بھرا، اپنا پیٹ پھلایا اور دوسرے مینڈکوں سے پوچھا:“کیا میں ابھی تک اس گائے جتنا بڑا ہوا ہوں؟”دوسروں نے دیکھا اور جواب دیا: “قریب قریب بھی نہیں!”لیکن مینڈک نے رکنے سے انکار کر دیا۔ اس نے مزید پانی پیا، خود کو مزید کھینچا اور بار بار اپنے جسم کو پھلاتا گیا، کیونکہ وہ جلد از جلد بڑا بننے کی ٹھان چکا تھا۔ ہر بار…

Read more

ایک بادشاہ تھا۔ اس کے پاس ساری دولت تھی، سارا لشکر تھا، ساری زمین تھی۔ لوگ اس کے سامنے جھکتے تھے، اس کے حکم پر چلتے تھے، اس کی تعریف کرتے تھے۔ لیکن وہ خوش نہیں تھا۔ وہ راتوں کو جاگتا، دن کو بے چین رہتا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں اس کی دولت نہ چلی جائے، کہیں اس کا تخت نہ ٹوٹ جائے، کہیں اس کا لشکر نہ بھاگ جائے۔ ایک دن اس نے سنا کہ شہر کے باہر ایک درویش رہتا ہے۔ وہ درویش بہت غریب ہے، لیکن بہت خوش ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس کی آنکھوں میں سکون ہے، اس کے چہرے پر نور ہے، اس کے دل میں اطمینان ہے۔ بادشاہ نے سوچا: “یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں بادشاہ ہوں، میرے پاس سب کچھ ہے، پھر میں خوش نہیں ہوں۔ یہ درویش کچھ نہیں رکھتا، پھر خوش کیسے ہے؟” اس نے اپنے وزیر سے…

Read more

ایک پرانے زمانے کی بات ہے۔ چین کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک گھوڑا تھا جو اس کی ساری دولت تھی۔ وہ اس گھوڑے سے کھیت جوتتا، فصل اُگاتا، اور اپنی گزر بسر کرتا۔ ایک دن گھوڑا بھاگ گیا۔ پڑوسی دوڑے دوڑے آئے۔ “کتنی بڑی بدقسمتی ہے! تمہارا گھوڑا چلا گیا۔ اب تم کھیت کیسے جوتو گے؟ تم کیا کھاؤ گے؟ یہ تو بہت برا ہوا۔” بوڑھے کسان نے کہا: “برا؟ اچھا؟ کون جانتا ہے؟” پڑوسی حیران رہ گئے۔ انہوں نے سوچا کہ بوڑھا پاگل ہو گیا ہے۔ کچھ دن بعد گھوڑا واپس آیا۔ اور وہ اکیلے نہیں آیا۔ اس کے ساتھ دو جنگلی گھوڑے بھی تھے۔ پڑوسی پھر دوڑے آئے۔ “کتنی بڑی خوش قسمتی ہے! تمہارا گھوڑا واپس آیا اور دو اور گھوڑے بھی ساتھ لایا۔ اب تم بہت امیر ہو گئے۔” بوڑھے کسان نے کہا: “اچھا؟ برا؟ کون جانتا…

Read more

افریقہ کے گھنے جنگل میں ایک بندر رہتا تھا۔ وہ بہت ہی ذہین تھا، کم از کم وہ خود کو ذہین سمجھتا تھا۔ وہ درختوں پر چڑھنے میں ماہر تھا، پھل توڑنے میں ماہر تھا، شاخ سے شاخ چھلانگ لگانے میں ماہر تھا۔ اسے لگتا تھا کہ دنیا کی ہر مشکل کا حل اسے معلوم ہے۔ وہ ہر کام میں دوسروں کی مدد کرتا تھا۔ جب کوئی جانور کسی مشکل میں پھنستا، بندر فوراً دوڑ کر آتا اور اپنی رائے دیتا۔ کبھی وہ چیونٹی کو بتاتا کہ دانہ کیسے اٹھانا ہے، کبھی پرندے کو بتاتا کہ گھونسلا کیسے بنانا ہے۔ سب اس کی مدد کی تعریف کرتے تھے۔ ایک دن بندر دریا کے کنارے گیا۔ وہ ایک درخت پر بیٹھا پھل کھا رہا تھا کہ اس کی نظر دریا میں گئی۔ اس نے دیکھا کہ ایک مچھلی پانی میں تیر رہی ہے۔ مچھلی خوش تھی، چھلانگیں لگا رہی تھی، پانی…

Read more

مدینہ کی گلیاں ابھی صبح کی پہلی کرنوں سے لپٹی ہوئی تھیں۔ سورج نے ابھی اپنا پورا چہرہ بھی نہیں دکھایا تھا کہ ایک شخص اپنے اونٹ پر سامان لاد کر شاہراہ پر نکل کھڑا ہوا۔ اس کے جسم پر ایک سادہ سی چادر تھی، سر پر عمامہ تھا اور ہاتھ میں ایک معمولی کوڑا۔ اس کے چہرے پر وہ نور تھا جو صرف سچے ایمان والوں کے چہروں پر ہوتا ہے۔ یہ کوئی عام مسافر نہیں تھا۔ یہ امیر المومنین، خلیفۂ دوم، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے۔ وہ تنہا شام جا رہے تھے۔ جی ہاں، پوری ریاست کا سربراہ بغیر کسی محافظ کے، بغیر کسی شاہی قافلے کے، صرف ایک اونٹ پر سوار۔ ان کے ساتھ صرف ان کا خادم اسلم تھا۔ اسلم نے ادب سے عرض کیا:“یا امیر المومنین، آپ اونٹ پر سوار ہوں، میں پیدل چل لوں گا۔” حضرت عمر نے محبت سے اس کی…

Read more

ہر چمکتی چیز اٹھانا محفوظ نہیں ہوتاایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دو خچر ایک ہی تنگ راستے پر سفر کر رہے تھے۔پہلے خچر پر سونے کے سکوں کے بھاری تھیلے لدے ہوئے تھے۔ اسے اپنے اس بوجھ پر بڑا فخر تھا۔ وہ اپنا سر اونچا کر کے چل رہا تھا اور جان بوجھ کر سکوں کو آپس میں ٹکراتا تاکہ ان کی جھنکار سنائی دے۔ اس کا ہر قدم گویا یہ کہہ رہا تھا، “مجھے دیکھو، دیکھو میں کتنا اہم ہوں۔”دوسرے خچر کے پاس اناج کے عام سے تھیلے تھے۔ وہ خاموشی سے پیچھے پیچھے چل رہا تھا، پُرسکون اور ہر نظر سے اوجھل۔ نہ کوئی شور، نہ کوئی دکھاوا، اور نہ ہی کسی کو متاثر کرنے کی ضرورت۔اچانک جھاڑیوں سے ڈاکوؤں کا ایک گروہ نکل آیا۔انہیں اناج میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کی نظریں سیدھی سونے والے خچر پر گئیں۔ انہوں نے اسے گھیر لیا، اسے بے…

Read more

کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ کسی بادشاہ کا گزر اپنی سلطنت کے ایک ایسے علاقے سے ہوا جہاں کے لوگ براہِ راست نہر سے پانی پینے پر مجبور تھے۔بادشاہ نے حکم دیا کہ عوام کی سہولت کے لیے یہاں ایک بھرا ہوا گھڑا رکھ دیا جائے، تاکہ ہر خاص و عام باآسانی پانی پی سکے۔ یہ فرمان صادر کرنے کے بعد بادشاہ اپنے طویل سفر پر آگے بڑھ گیا۔جب شاہی حکم کی تعمیل میں نہر کے کنارے ایک گھڑا لا کر رکھا جانے لگا، تو ایک اہلکار نے مشورہ دیا، “چونکہ یہ گھڑا سرکاری خزانے سے خریدا گیا ہے اور شاہی فرمان پر نصب ہو رہا ہے، اس لیے اس کی حفاظت کے لیے ایک سنتری کی تعیناتی ازحد ضروری ہے۔”سنتری کی تعیناتی کے بعد یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ گھڑا بھرنے کے لیے ایک ماشکی کا ہونا بھی لازم ہے۔ پھر یہ دلیل دی گئی کہ ہفتے کے…

Read more

کبوتروں کا ایک جوڑا فضا میں اڑ رہا تھا- نر نے اپنی مادہ سے کہا: “مجھ میں اتنی طاقت ہے کہ اگر میں چاہوں تو اپنے پروں کے ایک ہی وار سے سمنےکھڑی عمارت کو گرا دوں-“ عمارت کی چھت پر ایک آدمی کھڑا تھا- اس نے کبوتر کو پاس بلایا اور کہا: “کیوں میاں! یہ شیخی کیوں بگھار رہے ہو؟” کبوتر نے فوراً کہا: “معاف کیجئے گا جناب! میں تو صرف کبوتری پر رعب جما رہا تھا- ورنہ میں کیا اور میری طاقت کیا؟” آدمی نے کہا: “خبردار! ایسا رعب آئندہ نہ جمانا- یہ اچھی بات نہیں ہے-“ کبوتر واپس آیا تو کبوتری نے پوچھا: “وہ آدمی کیا کہہ رہا تھا؟” کبوتر: “وہ آدمی میری منتیں کر رہا تھا کہ خدا کے واسطے میری عمارت نہ گرانا-“کیا انسانوں میں ایسے لوگ آپ نے دیکھے ہیں؟منقول

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک رعب دار شیر سنہری دھوپ میں آرام کر رہا تھا۔ اس کی نظر قریب ہی ایک گوبرہیلے (گندگی کے کیڑے) پر پڑی جو مٹی کے ایک گولے پر محنت کر رہا تھا۔شیر نے حقارت سے منہ بنایا: “بھاگ جا یہاں سے، اے حقیر مخلوق! تمہاری ہمت کیسے ہوئی بادشاہ کے قریب ایسی بو لانے کی؟ تم میرے پنجوں کے نیچے ایک معمولی ذرے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہو۔”کیڑا خاموش رہا۔ اس نے بس انتظار کیا۔ جب چاند نکلا اور شیر گہری نیند سو گیا، تو کیڑے کو موقع مل گیا۔ وہ خاموشی سے رینگتا ہوا شیر کے کان میں داخل ہو گیا اور اپنے پر پھڑپھڑانے لگا، اور اپنے تیز پیروں سے کان کی حساس اندرونی دیواروں کو چھیڑنے لگا۔جنگل کا بادشاہ گھبرا کر جاگ اٹھا! وہ تکلیف سے دھاڑا اور بے بسی میں اپنے ہی سر پر پنجے مارنے لگا، لیکن…

Read more

مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر اپنی کتاب تزک بابری میں لکھتے ہیں کہ دریائے سوات کے قریب ہم نے یوسفزئی اور محمد زئی قبائل پر حملہ کیا.اس جگہ تیس چالیس سال پہلے شہباز نامی ملحد نے یہاں کے بہت سے لوگوں کو الحاد کے دام میں پھنسا دیا تھا اس ملحد کی قبر اسی جگہ پہاڑ کی چوٹی پر تھی.میں نے حکم دیا کہ اس ملحد کی قبر کو ڈھا دیا جائے یہاں سے دریائے سندھ کے قریب بھیرہ نامی جگہ پر حملہ کیا گیا.دریائے نیلاب کے دوسری طرف آباد لوگوں نے حاضری دی اور گھوڑے اور تین سو شاہ رخیاں نزر کیں. یہاں سے کچھ کوٹ نامی جگہ پہنچے دریائے کچھ کوٹ کو عبور کیا اور سنکدا پہنچ گئے.یہ راستہ بہت کٹھن تھا اور ہم کوہ جودا نامی پہاڑ پر پہنچے یہاں دو قومیں بستی ہیں جودہ اور جنجوعہ.جنجوعہ قوم یہاں کی حکمران ہے.یہاں کا ہر خاندان ہر…

Read more

ایک مرتبہ ایک شخص کے گھر چوری ہو گئی۔ چور اُسی محلے کے تھے۔ انہوں نے اسے پکڑ کر زبردستی یہ حلف لے لیا کہ اگر اُس نے کسی کو اُن کا نام بتایا تو اُس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی۔ مجبور انسان نے جان بچانے کے لیے یہ قسم کھا لی۔ چور سارا سامان لے گئے اور وہ بے چارہ سخت پریشانی میں مبتلا ہو گیا۔ اب عجیب کشمکش تھی:اگر چوروں کا نام بتاتا ہے تو مال واپس مل سکتا ہے مگر بیوی ہاتھ سے جا سکتی ہے،اور اگر خاموش رہتا ہے تو بیوی تو محفوظ رہے گی مگر گھر لُٹ جائے گا۔ اسی پریشانی میں وہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں حاضر ہوا۔ امام صاحب نے اس کے چہرے پر غم کے آثار دیکھے اور فرمایا: “آج تم بہت اداس ہو، کیا معاملہ ہے؟” وہ بولا: “حضرت! میں کھل کر کچھ کہہ بھی…

Read more

پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک غریب شخص کام کی تلاش میں مختلف شہروں کی خاک چھانتا رہا، مگر اسے کوئی بھی کام نہ مل سکا۔تھک ہار کر وہ چرچ میں چلا گیا اور اونچی آواز میں کہنے لگا:“خداوندا! تو مجھے کب تک غریب رکھے گا؟”پادری نے جب یہ الفاظ سنے تو اسے ڈانٹا کہ ایسے دعا نہیں کرتے۔وہ غریب شخص کہنے لگا: “ٹھیک ہے، پھر آپ مجھے کوئی کام دے دیں، تاکہ میں یہ الفاظ دوبارہ نہ دہراؤں۔”پادری نے کہا: “ٹھیک ہے، مجھے اس چرچ کے لیے ایک کاتب کی ضرورت ہے، جو یہاں آنے جانے والوں کے علاوہ چرچ کے اخراجات کا حساب رکھے۔ تم یہ کام سنبھال لو، ماہانہ پچاس ڈالر کے علاوہ کھانا اور رہائش بھی میری ذمہ ہوگی۔”اس شخص نے فوراً حامی بھر لی۔ پادری نے اسے کھاتہ، رجسٹر اور قلم دے دیا، اور یوں وہ چرچ کا کاتب بن گیا۔وہ روزانہ پادری کو ہر…

Read more

ایک گاؤں میں نئی نئی بجلی لگی تو جیسے پورے گاؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ہر گھر کے باہر بلب لگ گئے، بچوں نے تالیاں بجائیں، بوڑھوں نے شکرانے کے نفل ادا کیے اور عورتوں نے سوچا اب رات کے کام آسان ہو جائیں گے۔ گاؤں کے لوگ سادہ دل تھے، مگر خوشی سے بھرپور۔مہینہ گزرا تو بجلی کا پہلا بل آیا۔ بجلی کمپنی کے دفتر میں جب پورے گاؤں کا ریکارڈ نکالا گیا تو سب حیران رہ گئے۔ پورے گاؤں میں ایک یونٹ بھی بجلی استعمال نہیں ہوئی تھی! افسران کو یقین نہ آیا، انہوں نے سمجھا شاید میٹر خراب ہیں یا کوئی تکنیکی خرابی ہے۔کمپنی نے فوراً ایک نمائندہ گاؤں بھیجنے کا فیصلہ کیا تاکہ حقیقت معلوم کی جا سکے۔اگلے دن ایک پڑھا لکھا نوجوان نمائندہ گاؤں پہنچا۔ اس نے دیکھا کہ واقعی ہر گھر کے باہر بلب لگے ہوئے ہیں، تاریں کھینچی گئی ہیں اور…

Read more

ایک بھائی صاحب اپنے شہ زور ٹرک پر بیٹھ کر شہر کے چوک میں پہنچے اور لگے وہاں بیٹھے مزدوروں کو آوازیں دینے،“کون کون جانا چاہتا ہے میرے ساتھ مزدوری پر، دو دو سو روپے دیہاڑی دوں گا۔” پہلے پہل تو لوگ ان صاحب پر خوب ہنسے، پھر اسے سمجھانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے کہ جناب والا: آج کل مزدور کی دیہاڑی پانچ سو روپے سے کم نہیں ہے۔ کیوں آپ ظلم کرنے پر تُلے ہوئے ہیں، کوئی نہیں جائے گا آپ کے ساتھ۔ نہ بنوائیے اپنا مذاق۔ وہ صاحب اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور سُنی ان سُنی کر کے مزدوروں کو اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دیتے رہتے ۔ شور کم ہوا اور بہت سارے مزدور تھک کر واپس جا بیٹھے تو تین ناتواں قسم کے بوڑھے مزدور، جن کے چہروں سے ہی تنگدستی اور مجبوری عیاں تھی۔ ان صاحب کی گاڑی میں ا کر بیٹھ گئے…

Read more

کسی زمانے کی بات ہے، ایک غریب کسان اپنی محنتی بیوی کے ساتھ ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا۔عورت روزانہ دودھ سے مکھن بلوتی، پھر اسے خوبصورت گول پیڑوں کی شکل دیتی۔ ہر پیڑا پورا ایک کلوگرام بنا کر تیار کیا جاتا۔ کسان وہ مکھن شہر کے ایک دکاندار کو بیچ آتا اور بدلے میں گھر کا راشن لے لیتا۔ یوں سادہ سی زندگی چل رہی تھی۔ ایک دن دکاندار کے دل میں شک پیدا ہوا۔اس نے سوچا کیوں نہ آج خود مکھن تول کر دیکھوں۔ جب اُس نے پیڑے ترازو پر رکھے تو حیران رہ گیا — ہر “ایک کلو” کا پیڑا تقریباً نو سو گرام نکلا، یعنی وزن میں کمی تھی۔ غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔اگلے دن جب کسان حسبِ معمول مکھن لے کر آیا تو دکاندار نے اسے روک لیا اور سخت لہجے میں بولا: آج کے بعد میں تم سے سودا نہیں…

Read more

120/460
NZ's Corner