Tag Archives: weekendwarrior

برصغیر کی تاریخ میں برطانوی راج کا سب سے پیچیدہ اور گہرا پہلو صرف فوجی قبضہ یا سیاسی تسلط نہیں تھا بلکہ وہ سماجی انجینئرنگ تھی جس کے ذریعے انگریزوں نے ایک ایسا مقامی طاقتور طبقہ پیدا کیا جو ان کی حکومت کا محافظ، منتظم اور وارث بن گیا۔ پنجاب اس منصوبے کا سب سے اہم مرکز تھا۔ یہاں انگریزوں نے زمین، نہریں، فوج، مقامی سرداری، برادری، مذہب اور انتظامیہ کو آپس میں جوڑ کر ایک ایسا نظام قائم کیا جس کے اثرات آج بھی پاکستان کی سیاست، معیشت اور سماجی ڈھانچے میں موجود ہیں۔ اگر پنجاب کی جدید تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ برطانوی حکومت نے صرف قبضہ نہیں کیا بلکہ اس نے ایک نیا اشرافیہ طبقہ تخلیق کیا جس کی بنیاد وفاداری، زمین اور طاقت پر رکھی گئی۔ 1849ء میں جب سکھ سلطنت ختم ہوئی اور پنجاب برطانوی حکومت کے قبضے میں…

Read more

10 جنوری 1616۔ بظاہر یہ صرف ایک درباری ملاقات تھی۔ ایک انگریز سفیر، چند تحائف، ایک درخواست، اور مغل دربار کی شان و شوکت۔ مگر تاریخ کے لمبے سفر میں یہی لمحہ برصغیر کی تقدیر بدلنے والے سب سے سنگین موڑوں میں شمار ہوا۔اس پینٹنگ میں تخت پر بیٹھا شخص نورالدین محمد جہانگیر ہے، اکبر اعظم کا بیٹا اور مغل سلطنت کا چوتھا بادشاہ۔ سامنے کھڑا انگریز سفیر سر تھامس رو ہے، جو برطانیہ کے بادشاہ جیمز اول کا نمائندہ بن کر آیا تھا۔ اس کے ہاتھ میں درخواست ہے، لیکن حقیقت میں وہ درخواست نہیں، آنے والے دو سو برسوں کی غلامی کا ابتدائی پروانہ تھا۔یہ پینٹنگ مغل دور کی منی ایچر روایت سے متاثر بعد کے زمانے کی تاریخی مصوری مانی جاتی ہے۔ اصل ملاقات کی کئی تصویری تشریحات بعد میں یورپی اور ہندوستانی مصوروں نے بنائیں، اس لیے اس مخصوص تصویر کا حتمی مصور متعین کرنا مشکل…

Read more

ایک گاؤں میں ایک نہایت عقل مند بوڑھا رہتا تھا۔ لوگ دور دور سے اس کے پاس مشورہ لینے آتے تھے۔ اسی گاؤں میں ایک چالاک چور بھی رہتا تھا جو رات کے اندھیرے میں لوگوں کا سامان چرا لیتا اور کبھی پکڑا نہ جاتا۔ ایک رات چور نے سوچا: “اس بوڑھے کے گھر میں ضرور خزانہ ہوگا۔ آج اسی کے گھر ہاتھ صاف کرتا ہوں۔” رات گہری ہوئی تو چور آہستہ سے بوڑھے کے گھر میں داخل ہوا۔ گھر میں اندھیرا تھا۔ بوڑھا چارپائی پر لیٹا تھا مگر جاگ رہا تھا۔ اسے فوراً اندازہ ہوگیا کہ کوئی گھر میں داخل ہوا ہے۔ بوڑھے نے زور سے اپنی بیوی سے کہا: “سنو! وہ سونے کے سکے والی تھیلی کہاں رکھی ہے؟” بیوی حیران ہوئی کیونکہ ان کے پاس تو کوئی سونے کے سکے تھے ہی نہیں۔ مگر وہ سمجھ گئی کہ بوڑھا کچھ تدبیر کر رہا ہے۔ اس نے جواب…

Read more

ترکستان کے ایک سوداگر کی درھم کی ایک تھیلی راستہ میں کہیں گرپڑی۔ اس نے گاؤں میں منادی کردی کہ تھیلی جس کوملی ہو واپس کردے۔ تھیلی میں جس قدر درھم ہوں اس کے نصف انعام کا وہ حقدار ہوگا۔ اس تھیلی میں دوسودرہم تھے۔ یہ تھیلی کسی جہاز کے ملاّح کو ملی تھی منادی سن کر وہ اس آدمی کے پاس گیا اورتمام واقعہ بیان کر کے کہا۔ ’’اگراس تھیلی کا مالک نصف یعنی سودرھم حسب وعدہ دے تو اس کے بدلہ میں تھیلی واپس کرنے پر تیار ہوں۔ شرط یہ ہے کہ مجھے انعام پہلے مل جائے‘‘۔جب تھیلی کی خبرسوداگر کو ملی۔ جو بڑا لالچی تھا۔ تو اس نے خیال کیا کہ کسی طرح سے میں انعام کی رقم سے بھی بچوں اور میری پوری رقم مجھے مل جائے۔ اس لئے اس نے ایک ترکیب کی اورملاّح سے کہا کہ اس تھیلی میں ایک ہیرا تھا اگر وہ…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک بہت بڑا اور بے حد امیر تاجر ایک عظیم شہر میں رہتا تھا۔ اس کے محل سونے چاندی سے جگمگاتے تھے، نوکر چاکر ہر وقت اس کے حکم کے منتظر رہتے تھے، اور دنیا کی ہر آسائش اس کے قدموں میں پڑی تھی۔لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ اتنی دولت کے باوجود اس کے دل میں عجیب سی بے چینی رہتی تھی۔ راتوں کو وہ نرم بستر پر کروٹیں بدلتا رہتا، مگر سکون کی ایک لمحے کی نیند بھی اسے نصیب نہ ہوتی۔ اس کے چہرے سے خوشی غائب ہو چکی تھی۔ اس نے بڑے بڑے حکیموں، ڈاکٹروں اور عاملوں سے علاج کروایا، مگر دل کا بوجھ کم نہ ہوا۔ایک دن ایک مسافر نے اسے بتایا: “جنگل کے کنارے ایک درویش رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہ ٹوٹے دلوں کو سکون دے دیتے ہیں۔” یہ سن کر تاجر فوراً اپنے خزانچی سے سونے…

Read more

ایک حسین وادی میں بہتی ندی کے کنارے ایک بہت ہی بڑا، گھنا اور شاندار چنار کا درخت کھڑا تھا۔ اس کی اونچی اونچی شاخیں آسمان سے باتیں کرتی تھیں، اور دور دور تک اس کا سایہ پھیلا ہوا تھا۔ جنگل کے پرندے اس پر گھونسلے بناتے، مسافر اس کے نیچے بیٹھ کر آرام کرتے، اور ہر آنے والا اس کی خوبصورتی کی تعریف کیے بغیر نہ رہتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ چنار کے دل میں غرور آ گیا۔ وہ خود کو پورے جنگل کا بادشاہ سمجھنے لگا۔ اسی چنار کے نیچے ایک باریک سا بانس کا پودا اگا ہوا تھا۔ وہ نہ زیادہ اونچا تھا اور نہ ہی طاقتور، مگر ہمیشہ خاموش اور نرم مزاج رہتا تھا۔ جب بھی تیز ہوا چلتی، بانس جھک جاتا۔ کبھی دائیں، کبھی بائیں… جیسے ہوا کے ساتھ دوستی کر رہا ہو۔ چنار یہ منظر دیکھ کر زور زور سے ہنستا اور طنز سے…

Read more

حضرت مالک بن دینارؒ اور محمد بن ہارون بلخی کا واقعہحضرت مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے 60 حج کیے۔ ایک حج کے موقع پر میں نے بڑا رش دیکھا، لاکھوں کا اجتماع ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ لاکھوں کا مجمع تھا تو میرے دل میں خیال آیا، میں نے کہا: “اللہ! اتنے لوگ آئے ہیں، ان کا حج قبول بھی ہوا ہے کہ نہیں؟” فرماتے ہیں میں سوچ رہا تھا تو رات کو خواب میں میں نے کسی کہنے والے کو کہتے ہوئے سنا کہ سب کا حج قبول ہو گیا ہے، مگر بلخ کا رہنے والا ایک شخص جس کا نام “محمد بن ہارون بلخی” ہے، اس کا حج قبول نہیں ہوا۔فرماتے ہیں کہ وہاں شہروں کے علیحدہ علیحدہ خیمے لگتے تھے۔ اب بھی آپ حج کرنے جائیں تو پاکستانیوں کی رہائش علیحدہ ہوتی ہے، انڈینز کی علیحدہ، بنگلادیش، مصری، یمنی سب لوگوں کی…

Read more

ایک سرسبز جنگل کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا اور خوبصورت تالاب تھا۔ اس کا پانی شیشے کی طرح صاف تھا، کناروں پر نرم گھاس اگتی تھی اور رنگ برنگے پھولوں کی خوشبو ہر وقت فضا میں پھیلی رہتی تھی۔ اسی تالاب میں تین مچھلیاں رہتی تھیں۔ تینوں گہری سہیلیاں تھیں، مگر ان کی سوچ ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھی۔ پہلی مچھلی نہایت عقلمند اور دور اندیش تھی۔ وہ ہمیشہ آنے والے خطرے کو پہلے ہی بھانپ لیتی اور ہر مشکل کا حل سوچ کر رکھتی تھی۔ دوسری مچھلی بہت حاضر دماغ تھی۔ وہ کہتی:“پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ جب مصیبت آئے گی تب اپنی عقل سے راستہ نکال لیں گے۔” تیسری مچھلی انتہائی سست اور لاپرواہ تھی۔ وہ ہر وقت یہی کہتی:“جو قسمت میں لکھا ہے، وہی ہوگا۔ زیادہ سوچنے سے کچھ نہیں بدلتا۔” ایک شام سورج غروب ہو رہا تھا اور تالاب سنہری روشنی میں نہا…

Read more

کٹ تو گئی اپنی حیات قدیر۔۔۔ لیکن بے ثمر کوفیوں میں گزری محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر اگر لکھنے بیٹھوں تو شاید الفاظ کم پڑ جائیں۔ بس اتنا کہوں گا زندہ قومیں ہمیشہ اپنے محسنوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتی ہیں لیکن جو سلوک ہم نے اپنے محسنوں کے ساتھ روا رکھا ہے شاید ہی اب کوئی ڈاکٹر عبدالقدیر بنا چاہئے گا۔ ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔۔۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان۔!  کٹ تو گئی اپنی حیات قدیر۔۔۔لیکن بے ثمر کوفیوں میں گزری۔۔              28 مئی یوم تکبیر۔۔۔!

El rey que olvidó su gracia y el sabio griegoUn rey cabalgaba en su poderoso caballo. El caballo retrocedió de repente y el rey cayó de cabeza al suelo,¡y! Las vértebras de su cuello se sacudieron,Ahora ya no podía mover el cuello. Los médicos reales hicieron todo lo posible,¡Pero! No pudieron curar al rey,Un día, un sabio griego se acercó al reyY lo trató con tanta diligencia que el rey se recuperó…!!Después del tratamiento, el sabio regresó a su tierra natal…!!Al cabo de un tiempo, volvió a la tierra natal del rey y se presentó en la corte real con la intención de saludarlo.Ahora era necesario que el rey, por gratitud, tratara a este sabio con bondad y compasión,¡Pero!

ایک بادشاہ اپنے مُنہ زور گھوڑے پر سوار تھا.گھوڑا کسی وجہ سے بدکا تو بادشاہ سر کے بل زمین پر گر گیا،اور!اس کی گردن کی ھڈی کے مُہرے ہل گئے،اب وہ گردن کو حرکت دینے پر بھی قادر نہ رہا.شاہی طبیبوں نے اپنی طرف سے سر توڑ کوششیں کیں،مگر!وہ بادشاہ کا علاج نہ کر سکے،ایک دن یونان کا ایک حکیم بادشاہ کے پاس آیااور اس قدر جانفشانی سے علاج کیا کہ بادشاہ ٹھیک ھو گیا۔۔!!علاج کے بعد وہ حکیم اپنے وطن لوٹ گیا۔۔!!کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ بادشاہ کے وطن میں آیا تو سلام کے ارادے سے شاھی دربار میں حاضر ھوااب لازم تھا کہ بادشاہ از روئے قدر دانی اس حکیم سے مروت اور مہربانی کا برتاؤ کرتالیکن!بادشاہ ایسے بن گیا جیسے اس حکیم کو جانتا ہی نہ ہوبادشاہ کے اس رویے سے حکیم بہت سخت رنجیدہ ہوا۔۔!!یونانی حکیم بادشاہ کے دربار سے باہر آیا تو اس نے ایک…

Read more

ایک رات کو سلطان محمود بھیس بدل کر نکلا اور چوروں کی جماعت کے ساتھ ہوگیا۔ جب کچھ دیر ان کے ساتھ رہا تو انہوں نے پوچھا کہ اے رفیق تو کون ہے؟ بادشاہ نے جواب دیا کہ میں بھی تمہیں میں سے ایک چور ہوں۔ اس پر ایک چور نے کہا بھائیو! آؤ ذرا اپنا اپنا ہنر تو بتاؤ۔ ہر شخص بیان کرے کہ وہ کیا کیا کمال رکھتا ہے۔ ایک نے جواب دیا کہ میرے دونوں کانوں میں عجب کمال ہے کہ کتّا جو بھونکتا ہے تو میں سمجھ جاتا ہوں کہ لوگ فلاں شخص کی امارت کا کیا چرچا کرتے ہیں۔ دوسرے نے کہا میری آنکھوں میں یہ کمال ہے کہ جس کسی کو رات کے اندھیرے میں دیکھ لوں تو دن کے وقت اس کو پہچان لیتا ہوں۔ تیسرے نے کہا میرے بازو میں یہ قوت ہے کہ صرف ہاتھ کی قوت سے کومل لگاتاہوں۔ چوتھے…

Read more

ایک شخص نے چڑیا پکڑنے کےلئے جال بچھایا.. اتفاق سےایک چڑیا اس میں پھنس گئی اور شکاری نے اسے پکڑ لیا..چڑیا نے اس سے کہا.. ” اے انسان ! تم نے کئی ھرن ‘ بکرے اور مرغ وغیرہ کھاۓ ھیں ان چیزوں کے مقابلے میں میری کیا حقیقت ھے.. ذرا سا گوشت میرے جسم میں ھے اس سے تمہارا کیا بنے گا..؟ تمہارا تو پیٹ بھی نہیں بھرے گا.. لیکن اگر تم مجھے آزاد کر دو تو میں تمہیں بڑی ھی کام میں آنے والی نصیحتیں کرونگی جن پر عمل کرنا تمہارے لئے بہت مفید ھوگا..ان میں سے ایک نصیحت تو میں ابھی ھی کرونگی.. جبکہ دوسری اس وقت کرونگی جب تم مجھے چھوڑ دو گے اور میں دیوار پر جا بیٹھوں گی.. اس کے بعد تیسری اور آخری نصیحت اس وقت کرونگی جب دیوار سے اڑ کر سامنے درخت کی شاخ پر جا بیٹھونگی.. “اس شخص کے دل میں…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے۔ بخارا کے ایک مشہور شہر میں ایک نہایت دانا اور عقل مند قاضی رہتا تھا۔ لوگ اسے “قاضی فہیم” کے نام سے جانتے تھے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بغیر مارپیٹ اور شور شرابے کے بڑے سے بڑا مسئلہ حل کر لیتا تھا۔ دور دور سے لوگ اپنے جھگڑے لے کر اس کے پاس آتے اور انصاف پا کر خوشی خوشی واپس جاتے۔ اسی شہر میں ایک بہت بڑا بازار تھا جہاں دور دراز کے تاجر اپنی قیمتی چیزیں فروخت کرنے آتے تھے۔ بازار میں ہر وقت لوگوں کا ہجوم رہتا، مگر کچھ مہینوں سے ایک عجیب مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ تاجروں کی تھیلیاں، زیورات اور قیمتی سامان غائب ہونے لگا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ کسی نے کبھی چور کو دیکھا ہی نہیں تھا۔ لوگوں میں خوف پھیل گیا۔ ہر شخص دوسرے پر شک کرنے لگا۔ بازار کی…

Read more

ایک شہر میں ایک بہت بڑا صابن کا تاجر رہتا تھا۔ اس کے صابن پورے علاقے میں مشہور تھے۔ ایک دن وہ ایک عالمِ دین کے ساتھ سڑک پر چہل قدمی کر رہا تھا۔راستے میں تاجر نے طنزیہ انداز میں کہا:“مولوی صاحب! ایک بات سمجھ نہیں آتی…صدیوں سے مذہب، نصیحتیں، اخلاقیات اور اچھی باتیں لوگوں کو سکھائی جا رہی ہیں، لیکن پھر بھی دنیا میں جھوٹ، ظلم، نفرت اور برائیاں ختم نہیں ہوئیں۔آخر اتنی تبلیغ کا فائدہ کیا ہوا؟”عالمِ دین خاموشی سے اس کی بات سنتے رہے۔انہوں نے فوراً کوئی جواب نہ دیا، بس ہلکا سا مسکرا دیے۔دونوں چلتے چلتے ایک تنگ گلی میں پہنچے، جہاں کچھ بچے مٹی اور کیچڑ میں کھیل رہے تھے۔ ان کے کپڑے گندے تھے، چہرے مٹی سے بھرے ہوئے تھے، اور حالت بہت خراب تھی۔عالمِ دین رکے… بچوں کی طرف دیکھا… پھر تاجر سے بولے:“یہ دیکھو!تم تو کہتے تھے تمہارا صابن بہترین ہے، جو…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں چار اندھے دوست رہتے تھے، جنہوں نے زندگی میں کبھی ہاتھی نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی انہیں معلوم تھا کہ ہاتھی کیسا ہوتا ہے۔ ایک دن گاؤں میں ایک سرکس آئی جس کے ساتھ ایک بڑا ہاتھی بھی تھا۔چاروں دوستوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود جا کر ہاتھی کو چھوئیں گے تاکہ معلوم کر سکیں کہ ہاتھی حقیقت میں کیسا دکھتا ہے۔ وہ ہاتھی کے پاس پہنچے اور باری باری اسے چھونے لگے۔پہلے اندھے نے ہاتھی کی سونڈ کو ہاتھ لگایا اور فوراً بولا: “ارے! ہاتھی تو ایک موٹے سانپ کی طرح ہوتا ہے!”دوسرے اندھے نے ہاتھی کے پاؤں کو چُھوا اور پہلے والے کو جھڑکتے ہوئے بولا: “تم بالکل غلط کہہ رہے ہو، ہاتھی سانپ جیسا نہیں بلکہ ایک مضبوط اور گول ستون (پیلر) کی طرح ہوتا ہے!”تیسرے اندھے نے ہاتھی کے بڑے کان کو ہاتھ لگایا اور…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک شخص اپنی بستی میں محبت کرنے والے انسان کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اس کی دنیا بہت چھوٹی تھی، مگر اسی چھوٹی سی دنیا میں اس کے لیے سب کچھ موجود تھا۔ ایک بیوی، دو بچے، ایک چھوٹا سا گھر، اور ان سب کے لیے دھڑکتا ہوا اس کا دل۔ وہ صبح سویرے کام پر نکلتا، شام کو تھکا ہارا واپس آتا، مگر جیسے ہی بچے دوڑ کر اس سے لپٹتے، اس کی ساری تھکن غائب ہو جاتی۔ وہ اکثر لوگوں سے کہا کرتا تھا: “میری جنت یہی ہیں، اگر یہ خوش ہیں تو مجھے اور کچھ نہیں چاہیے۔” وہ اپنے بچوں کے لیے نئے کپڑے لاتا، بیوی کی چھوٹی چھوٹی خواہشیں پوری کرتا، اور ان کے آرام کے لیے اپنی ہر خواہش قربان کر دیتا۔ مگر ایک چیز تھی… جسے وہ ہمیشہ ٹالتا رہتا تھا۔ اپنے رب کو۔ نماز اس کے…

Read more

ایک گھنے جنگل کے بیچ ایک اونچے پہاڑ کی چوٹی پر ایک طاقتور عقاب نے اپنا گھونسلا بنا رکھا تھا۔ وہاں اس نے اپنے چار انڈے محفوظ رکھے ہوئے تھے۔ایک دن اچانک زوردار زلزلہ آیا… زمین ہلنے لگی… درخت کانپنے لگے… اور انہی جھٹکوں میں ایک انڈا گھونسلے سے نکل کر پہاڑ سے لڑھکتا ہوا نیچے ایک مرغیوں کے فارم میں جا گرا۔مرغیوں نے جب وہ بڑا سا انڈا دیکھا تو حیران رہ گئیں۔ آخر ایک بوڑھی اور رحم دل مرغی بولی:“یہ اب ہمارے پاس امانت ہے، ہم اس کی حفاظت کریں گے۔”وہ مرغی روز اس انڈے کو اپنے پروں میں چھپا کر گرم رکھتی رہی۔ کچھ دنوں بعد انڈا ٹوٹا… اور اس میں سے ایک خوبصورت عقاب کا بچہ باہر نکلا۔مگر افسوس… وہ عقاب مرغیوں کے درمیان پلا بڑھا، اس لیے خود کو بھی مرغی ہی سمجھنے لگا۔وہ زمین کھود کر دانے چگتا…مرغیوں کی طرح کُڑ کُڑ کرتا…اور تھوڑا…

Read more

ایک قدیم شہر میں ایک بادشاہ نے اعلان کروایا کہ محل کے نیچے ایک خفیہ کمرہ موجود ہے، جہاں بے شمار خزانہ رکھا گیا ہے۔ مگر اس کمرے کا دروازہ صرف اسی شخص پر کھلے گا جو بغیر دھوکے اور فریب کے وہاں تک پہنچ سکے۔ یہ سن کر دو آدمی آگے بڑھے۔ایک اندھا تھا اور دوسرا بہرا۔ نگہبان انہیں دیکھ کر ہنسنے لگے اور بولے:“یہ دونوں تو پہلے ہی ناکام ہیں۔” اندھے نے سکون سے کہا:“میں راستہ نہیں دیکھ سکتا، مگر قدموں کی نیت پہچان لیتا ہوں۔”بہرے نے جواب دیا:“میں آوازیں نہیں سن سکتا، مگر آنکھوں کے دھوکے کو سمجھ لیتا ہوں۔” دونوں نے ایک دوسرے کا سہارا بن کر سفر شروع کر دیا۔ راستے میں دیواروں سے آوازیں آنے لگیں:“ادھر آؤ… خزانہ یہیں ہے!”مگر بہرا نہ رکا۔ کچھ آگے زمین پر سنہری روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ اندھا ٹھہر گیا اور بولا:“یہ چمک حقیقت نہیں، یہ جلد بازی کی…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک عظیم سلطنت پر جلال الدین نام کا بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ بہادر تو تھا ہی، مگر اپنی عقل اور حاضر جوابی کی وجہ سے بھی مشہور تھا۔ اسے عجیب و غریب سوالات پوچھنے کا بہت شوق تھا۔ وہ اکثر اپنے وزیروں اور درباریوں کو مشکل معمہ دے دیتا، اور جو جواب نہ دے پاتا اسے شرمندگی اٹھانا پڑتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ بادشاہ کو اپنی عقل پر بہت غرور ہوگیا۔ اب وہ سمجھنے لگا تھا کہ پوری سلطنت میں کوئی شخص اس سے زیادہ عقل مند نہیں۔ ایک دن اس نے پورے شہر میں اعلان کروایا: “جو شخص میرے تین سوالوں کے صحیح جواب دے گا، اسے ہزار سونے کے سکے انعام میں دیے جائیں گے۔ لیکن اگر جواب نہ دے سکا تو اسے ایک ماہ تک شاہی خدمت کرنی ہوگی۔” یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل…

Read more

160/190
NZ's Corner