بلاعنوان۔۔۔😄!
ایک صاحب نے مزاحیہ قصہ سنایا کہ😅😅😅آج سے تیس چالیس سال پہلے دیہات میں شلوار، جسے عرف عام میں ستھنڑ کہا جاتا تھا، کا رواج کم ہی ہوتا تھا۔ دھوتی چادر پہننا عام تھا، اور کسی کو ملازمت کی مجبوری سے یہ پہننا بھی پڑتی تھی تو گھر آتے ہی سب سے پہلے شلوار سے جان چھڑائی جاتی۔ بس یوں سمجھیے کہ شلوار کی وہی حیثیت تھی جو یوسفی کے بقول نکٹائی کی ہے۔ مرشد کے بقول ٹائی کا ایک ہی فائدہ سمجھ میں آتا ہے کہ جب اتارو تو بہت سکون ملتا ہے۔ سب سے زیادہ اس موئی شلوار سے تنگ پرائمری سکول ماسٹر ہوا کرتے تھے کہ سرکار کی طرف سے سخت ہدایات تھیں کہ دوران ڈیوٹی شلوار پہنی جائے۔ اب سرکاری احکامات کی مجبوریاں وہی سمجھ سکتے ہیں جنہیں سرکار سے پالا پڑا ہے۔ لیکن جہاں ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے وہاں راستہ نکالنا بھی آنا…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک بہت ہی کنجوس سیٹھ اپنے ملازم پر چلا رہا تھا:“اوئے! تم لوگ بہت بجلی ضائع کرتے ہو۔ آج کے بعد اگر کوئی پنکھا یا لائٹ فضول چلتی نظر آئی تو میں تنخواہ کاٹ لوں گا!” ملازم ڈر گیا۔اگلے دن سیٹھ صاحب گھر آئے تو دیکھا کہ ملازم اندھیرے میں الٹا لٹکا ہوا ہے۔ سیٹھ نے حیران ہو کر پوچھا: “اوئے! یہ کیا کر رہے ہو؟ اور لائٹ کیوں بند ہے؟” ملازم نے الٹے لٹکے لٹکے جواب دیا: “سیٹھ صاحب! آپ ہی نے تو کہا تھا بجلی بچاؤ۔ میری پینٹ کی جیب سے 10 کا سکہ گر گیا تھا، اسے ڈھونڈنے کے لیے لائٹ جلانی پڑتی۔۔۔ اس لیے میں نے سوچا کہ الٹا لٹک جاؤں تاکہ وہ سکہ خود ہی جیب سے نیچے گر جائے، اور بجلی بھی نہ جلے!” سیٹھ صاحب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے (خوشی کے نہیں، صدمے کے) اور بولے: “شاباش بیٹا!۔۔۔ لیکن یہ جو…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔!
بنی اسرائیل کی روایات کے متعلق مشہور ہے کہ نہ تو انہیں سچ مانیں (کیونکہ ہوسکتا ہے وہ جھوٹی ہوں) اور نہ ہی انہیں جھٹلائیں (کیونکہ ہوسکتا ہے وہ سچی ہوں)تاہم ایک بات ضرور ہے کہ بعض باتیں واقعی اس لائق ہوتی ہیں کہ انہیں پڑھا جائے۔ ایسی ہی ایک دلچسپ روایت پیشِ خدمت ہے:کہا جاتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے ایک چرواہے کی نگرانی میں کچھ بھیڑیں تھیں۔ ایک دن اس کے پاس ایک بھیڑیا آیا اور بولا: “مجھے ایک بھیڑ دے دو!” چرواہے نے حیران ہو کر جواب دیا:“یہ بھیڑیں حضرت سلیمان علیہ السلام کی ملکیت ہیں، میں تو بس ان کا رکھوالا ہوں!”بھیڑیا بولا:“تو جا کر حضرت سلیمان سے پوچھ لو کہ کیا وہ مجھے ایک بھیڑ دینے کی اجازت دیتے ہیں؟”چرواہے نے کہا:“مجھے ڈر ہے کہ اگر میں چلا گیا تو تم بھیڑوں پر حملہ کر دو گے۔”بھیڑیا ہنسا اور بولا:“جب تک تم واپس…
urdu blog urdupoetry urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
خلیفۂ بغداد ہارون الرشید کے درباری حکیموں میں ایک نصرانی طبیب بھی تھا، جو بادشاہ کا بہت ہی معتمد اور منہ چڑھا ہوا تھا۔ ایک دن اس نے برسرِ دربار ایک جید عالم علی بن حسین بن واقد سے کہا کہ تمہاری کتاب قرآنِ شریف میں علمِ طب کا کہیں کوئی ذکر نہیں، حالانکہ تمام علوم میں سب سے زیادہ ممتاز اور بلند مرتبہ دو ہی علم ہیں: ایک علمُ الادیان اور دوسرا علمُ الابدان۔ علی بن حسین نے اس کے جواب میں برجستہ فرمایا: کیا تمہیں خبر ہے کہ پورا علمِ طب خداوندِ قدوس نے قرآنِ مجید کی صرف آدھی آیت میں جمع فرما دیا ہے؟نصرانی طبیب نے حیران ہو کر پوچھا: وہ کون سی آیت ہے؟علی بن حسین نے فرمایا: ﴿كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا﴾یعنی کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو۔ یہ سن کر نصرانی طبیب ہکا بکا رہ گیا۔ پھر کہنے لگا: اچھا یہ بتاؤ کہ…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک گاؤں میں غریب فِیقاء موچی رہتا تھا ۔جو ایک درخت کے نِیچے اپنی لکڑی کی پیٹی رکھ کر لوگوں کی جُوتئیاں مرمّت کرتا تھا ۔ بیچارے کا گُزر بٙسّر مُشکل سے ھوتا تھا ۔فِیقے کے پاس رہنے کو نا گھر تھا ،نا بیوی تھی ، نا بچے تھے ۔ صرف ایک چادر ، ایک تکیّہ اور ایک لکڑی کی پیٹی اُس کی کُل مٙلکِیّت تھی ۔ جب رات ہوتی تو فِیقا ایک بند سکُول کے باہر چادر بِچھاتا تکیّہ رکھتا اور سو جاتا ۔ ایک دِن صُبح کے وقت گاوں میں سیلاب آ گیا ۔فیقے کی آنکھ کُھلّی تو ہر طرف شور و غُل تھا ۔لوگ اپنا اپنا سامان گھر کی قیمتی اشیا لے کر بھاگ رہے تھے ۔فیقا یہ مٙنظر دیکھ رہا تھا ۔وہ اُٹھا اور سکُول کے ساتھ بنی ٹینکی پر چڑھ گیا ۔ چادر بچھائی دِیوار کے ساتھ تکیّہ لگایا اور لیٹ کر لوگوں کو دیکھنے…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک گاؤں میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک خوبصورت گھوڑا تھا جس سے وہ کھیتوں میں کام لیتا تھا۔ ایک دن اس کا گھوڑا بھاگ گیا۔ گاؤں والے آئے اور کہنے لگے:“کتنی بدقسمتی ہے تمھاری!”بوڑھے کسان نے مسکرا کر کہا:“کیا معلوم یہ بدقسمتی ہے یا خوش قسمتی؟”چند دن بعد، وہی گھوڑا واپس آیا، اور ساتھ میں تین جنگلی گھوڑے بھی لے آیا۔گاؤں والے حیران ہو کر کہنے لگے:“کتنی خوش نصیبی ہے تمھاری!”بوڑھا کسان پھر مسکرایا:“کیا معلوم یہ خوش نصیبی ہے یا بدقسمتی؟”🤔🤔اگلے دن کسان کا بیٹا ان میں سے ایک جنگلی گھوڑے کو سدھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ گر کر اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔گاؤں والے پھر آئے:“کتنی بدقسمتی ہے!”کسان نے پھر وہی جواب دیا:“کیا معلوم؟”🤔🤔کچھ ہفتے بعد بادشاہ نے جنگ چھیڑ دی اور گاؤں کے تمام نوجوانوں کو فوج میں لے جایا گیا۔ مگر کسان کا بیٹا چونکہ زخمی تھا، اس لیے بچ…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک صاحب کو لمبی لمبی گپیں ہانکنے کی ایسی عادت تھی کہ وہ جب بھی کوئی قصہ سناتے تو مبالغہ آرائی کی ایسی انتہا کرتے کہ ذی شعور تو کیا، نادان بھی یقین کرنے سے کتراتے۔ ایک دن ان کے ایک مخلص دوست نے سمجھایا کہ “یار! ہاتھ ذرا ہولا رکھا کرو۔ اتنی بڑی گپ مارتے ہو کہ لوگ مذاق بناتے ہیں۔” وہ صاحب قائل تو ہو گئے اور طے یہ پایا کہ اگلی بار جب وہ کوئی کہانی سنائیں اور دوست کو لگے کہ اب بات حد سے بڑھ رہی ہے، تو وہ ہلکا سا کھانس دے گا تاکہ صاحب سنبھل جائیں۔کچھ دن بعد ایک محفل میں ذکر چھڑا تو موصوف نے اپنا ایک واقعہ سنانا شروع کیا: “بھئی! ایک بار میں جنگل سے گزر رہا تھا کہ اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے ایک دیو ہیکل سانپ ہے! میرا اندازہ ہے کہ وہ کم از کم 140 فٹ…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک بہت بڑا عالم (بہت پڑھا لکھا شخص) دریا پار کرنے کے لیے ایک کشتی میں سوار ہوا۔کشتی چلانے والا ایک سادہ سا دیہاتی “ملاح” تھا۔جب کشتی بیچ دریا میں پہنچی تو عالم نے اپنی علمیت جھاڑنے کے لیے ملاح سے پوچھا:“بڑے میاں!… کیا تم نے کبھی ‘تاریخ’ (پرانے زمانے کے قصے) پڑھی ہے؟” ملاح نے عاجزی سے کہا:“نہیں جناب!… میں تو ان پڑھ ہوں، مجھے لکھنا پڑھنا نہیں آتا۔” عالم نے افسوس سے سر ہلایا اور کہا:“بڑے افسوس کی بات ہے!… تم نے اپنی ‘آدھی زندگی’ برباد کر دی۔ انسان کو تاریخ کا علم تو ہونا چاہیے۔” تھوڑی دیر بعد عالم نے پھر پوچھا:“اچھا یہ بتاؤ… کیا تم نے کبھی ‘جغرافیہ’ (زمین اور نقشوں کا علم) پڑھا ہے؟” ملاح نے شرمندہ ہو کر کہا:“نہیں سرکار!… میں نے تو اسکول کی شکل بھی نہیں دیکھی۔” عالم نے طنزیہ انداز میں کہا:“تمہاری تو ‘تین چوتھائی’ (75 فیصد) زندگی برباد ہو گئی…
urdu blog urdustory urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
بلاعنوان۔۔۔🙂!
سسرال کی دعوت اور “شرمیلا” داماد 🍗 یہ قصہ ہے نصیر صاحب کا، جن کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ نصیر صاحب ویسے تو ماشاءاللہ سے “کھاؤ پیو” قسم کے انسان تھے، لیکن سسرال میں اپنی شرافت اور نفاست کا رعب جمانے کے لیے انہوں نے “کم گو اور کم خور” بننے کی اداکاری شروع کر رکھی تھی۔ ایک بار انہیں سسرال سے خصوصی دعوت آئی۔ ساس صاحبہ نے داماد کے لیے دیسی گھی کے پراٹھے، کڑاہی گوشت، مچھلی اور کھیر کا اہتمام کیا۔ دسترخوان پر بیٹھ کر نصیر صاحب کے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے، لیکن شرم کے مارے انہوں نے ایسے منہ بنایا جیسے انہیں بھوک ہی نہ ہو۔ساس نے پیار سے کہا: “نصیر میاں! ایک پراٹھا اور لیں نا۔”نصیر صاحب نے ایک چھوٹی سی نوالہ لیتے ہوئے کہا: “جی نہیں امی جی! بس آدھا پراٹھا ہی کافی ہے، میرا معدہ بہت نازک ہے، زیادہ نہیں کھا…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک شخص کی بیوی کو ایک دن اس کے پالتو گدھے نے اچانک لات مار کر اگلے جہاں پہنچا دیا۔کچھ ماہ بعد اس نے دوسری شادی کی اور نئی دلہن لے آیا۔چند دن گزرے ہونگے کہ نئی دلہن بھی گدھے کی زد میں آ گئی۔ گدھے نے موقع غنیمت دیکھتے ہوئے دولَتّی رسید کی اور اس بیچاری کا کام بھی تمام ہوا۔ لوگ اس ڈبل رنڈوے کے ہاں تعزیت کے لئے آنے لگے۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے نوٹ کیا کہ جب عورتیں دوران تعزیت اس شخص سے کوئی سوال کرتی ہیں تو وہ شخص سر کے اشارے کے ساتھ “ہاں” کہتا ہے۔ اور جب مرد سوال کرتے ہیں تو وہ سر کو جنبش دیتے ہوئے “نہیں” کہتا ہے۔ اس خاص حرکت پر نظر رکھنے والے شخص نے رنڈوے صاحب سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا، عورتیں سوال کرتے ہوئے پوچھتی ہیں: “پھر شادی کرو گے؟”…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdupoetry
بلاعنوان۔۔۔😊!
ایک بار تعلیم کے محکمے کا ایک “بڑا افسر” معائنے (چیکنگ) کے لیے ایک گاؤں کے مدرسے میں پہنچا۔افسر نے ایک کلاس (جماعت) میں جا کر بچوں کا امتحان لینا چاہا۔اس نے ایک بچے کو کھڑا کیا اور تاریخ کا ایک سوال پوچھا:“بیٹا! کھڑے ہو جاؤ اور یہ بتاؤ کہ ‘سومنات کا دروازہ’ کس نے توڑا تھا؟” بچہ سوال سنتے ہی گھبرا گیا، اس کا رنگ پیلا پڑ گیا اور وہ روتے ہوئے بولا:“صاحب جی!… اللہ کی قسم، میں نے نہیں توڑا!… میں تو آج مدرسے آیا ہی دیر سے تھا، مجھے نہیں پتہ کس نے توڑا ہے۔” افسر یہ جواب سن کر ہکا بکا رہ گیا۔ اس نے غصے سے “استاد” کی طرف دیکھا اور کہا:“ماسٹر صاحب! یہ بچہ کیا کہہ رہا ہے؟ میں تاریخ کا سوال پوچھ رہا ہوں اور یہ اپنی صفائیاں دے رہا ہے؟” استاد نے اپنی عینک ٹھیک کی، چھڑی میز پر رکھی اور بڑے…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
شیخ ؒ کو بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ یہ عجیب بات ہے کہ اللہ ہر وقت اپنا احسان جتاتا رہتا ہے۔ کبھی کہتا ہے میں کھلاتا ہوں، میں پلاتا ہوں، اور کبھی کہتا ہے میں ہی رزق فراہم کرتا ہوں۔ اگر ہم کھانا نہ کھائیں تو کوئی طاقت ہمیں کھانے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ یہ سوچ کر کھانا کھانا چھوڑ دیا۔ جب بیوی بچوں نے زیادہ پریشان کیا تو گھر چھوڑ کر ایک پرانے قبرستان میں وہ جا پہنچے۔ شام ہوئی تو ایک صاحب اپنی منت پوری کرنے کیلئے قبرستان میں مَوجود ایک مزار پر حاضر ہوئے۔ فاتحہ کے بعد انہوں نے شیخ کو بھی تبرّک دیا۔ شیخ کے انکار اور اس شخص کے اصرار نے عجیب صورتِ حال پیدا کر دی۔ وہ شخص یہ سمجھ کر کہ شیخ کوئی دیوانے ہیں، ایک پُڑیا میں کچھ لڈو لپٹیے اور ایک جھاڑی کے نیچے رکھ دئیے کہ جب اس شخص…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
دانشمند بادشاہ کی کہانی
ایک ملک کا حکمران بنانے کا طریقہ نہایت انوکھا تھا۔ وہ ہر سال کے پہلے دن اپنا بادشاہ بدل دیتے تھے۔ سال کے آخری دن جو بھی سب سے پہلے ملک کی حدود میں داخل ہوتا، اسے نیا بادشاہ منتخب کر لیا جاتا اور موجودہ بادشاہ کو “علاقۂ غیر” یعنی ایسی جگہ چھوڑ آتے جہاں صرف سانپ بچھو ہوتے اور کھانے پینے کے لیے کچھ بھی نہ ہوتا۔ اگر وہ سانپ بچھوؤں سے کسی طرح بچ بھی جاتا تو بھوک پیاس سے مر جاتا۔ کتنے ہی بادشاہ ایسے ہی ایک سال کی بادشاہی کے بعد اس “علاقۂ غیر” میں جا کر مر کھپ گئے۔ اس مرتبہ شہر میں داخل ہونے والا نوجوان کسی دور دراز علاقے کا لگ رہا تھا۔ سب لوگوں نے آگے بڑھ کر اسے مبارکباد دی اور بتایا کہ آپ کو اس ملک کا بادشاہ چن لیا گیا ہے۔ اسے بڑے اعزاز کے ساتھ محل میں لے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
دادرسی — ایک مثالی عدل کا واقعہ
ایک رات سلطان محمود غزنویؒ (متوفی 421ھ / 1030ء) آرام فرما رہے تھے کہ اچانک آنکھ کھل گئی۔ بہت کوشش کی کہ دوبارہ نیند آ جائے، مگر نیند جیسے روٹھ گئی ہو۔ کروٹیں بدلتے رہے، دل بے چین رہا۔آخر خدا ترس بادشاہ کے دل میں خیال آیا:“شاید کوئی مظلوم فریاد لے کر آیا ہو، یا کوئی بھوکا فقیر دروازے پر کھڑا ہو — اسی لیے نیند چھن گئی ہے۔”غلام کو حکم دیا کہ باہر جا کر دیکھو۔غلام لوٹا اور عرض کیا:“جہاں پناہ! کوئی نہیں ہے۔”سلطان نے پھر سونے کی کوشش کی، مگر بے چینی بڑھتی گئی۔ دوبارہ حکم دیا کہ اچھی طرح تلاش کرو۔ غلاموں نے چھان مارا، مگر کوئی نہ ملا۔اب سلطان کو شبہ ہوا کہ شاید تلاش میں کوتاہی ہو رہی ہے۔ خود تلوار لے کر نکلے۔ تلاش کرتے کرتے ایک مسجد کے دروازے پر پہنچے۔ اندر سے آہستہ آہستہ سسکیوں کی آواز آرہی تھی۔قریب جا کر دیکھا…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
🔥 لالچ کا انجام
چار بھائی تھے۔ سب اپنے اپنے گھروں میں خوشی سے رہتے تھے، مگر ایک دن ان کی بیویوں میں آپس میں لڑائی ہو گئی۔ بات اتنی بڑھی کہ بھائی بھی ایک دوسرے سے ناراض ہو گئے۔ ہر ایک کہنے لگا، “قصور تمہاری بیوی کا ہے!”آخرکار ایک بھائی کو سب نے قصوروار ٹھہرا دیا۔ غصے میں آ کر انہوں نے اس بے چارے بھائی کو بھی مارا، اس کی بیوی کو بھی ڈانٹا، اور یہاں تک کہ اس کا گھر بھی جلا دیا۔ گھر کا سارا سامان اور جانور بھی جل کر راکھ ہو گئے۔وہ مظلوم بھائی بڑی مشکل سے جان بچا کر نکلا۔ اس نے ایک جلے ہوئے جانور کی کھال اتاری اور اسے ساتھ لے کر چل پڑا۔ چلتے چلتے شام ہو گئی۔ اس نے سوچا، “اب رات کہاں گزاروں؟”پھر اس نے ایک درخت دیکھا اور فیصلہ کیا کہ اسی کے نیچے رات گزار لے گا۔ اچانک اس نے…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک آدمی نے حاتم طائی سے پوچھا: “اے حاتم! کیا سخاوت میں کوئی تجھ سے آگے بڑھا ہے؟” حاتم نے جواب دیا: “ہاں!… قبیلہ طے کا ایک یتیم بچہ مجھ سے زیادہ سخی نکلا، جس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ دوران سفر میں شب بسری کے لیے ان کے گھر گیا، اس کے پاس دس بکریاں تھیں، اس نے ایک ذبح کی، اس کا گوشت تیار کیا اور کھانے کیلئے مجھے پیش کر دیا۔ اس نے کھانے کے لیے مجھے جو چیزیں دیں ان میں مغز بھی تھا۔ میں نے اسے کھایا تو مجھے پسند آیا، میں نے کہا: “واہ! کیا خوب ذائقہ ہے” یتیم بچہ فوراً باہر نکل گیا اور ایک ایک کر کے تمام بکریاں میری لا علمی میں اس نے ذبح کر ڈالیں اور سب کے مغز مجھے پیش کیے۔ جب میں کوچ کرنے لگا تو کیا دیکھا کہ گھر کے ارد گرد ہر طرف خون…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔!
جنگل میں ایک شیرنی حکمرانی کرتی تھی۔اس کے پاس طاقت تھی، تیز نظریں تھیں، اور وفادار جانور ہر وقت اس کے ساتھ رہتے تھے۔سب جانتے تھے کہ شیرنی کا حکم لازمی ہے، اور کوئی بھی اس کے فیصلے کے خلاف نہیں جا سکتا۔شیرنی کو اپنی طاقت پر فخر تھا، اور وہ سمجھتی تھی کہ طاقت ہی سب کچھ ہے—جنگل میں امن، فیصلے، اور احترام سب اسی سے قائم رہتا ہے۔مگر جنگل کے کچھ جانور اس سے مختلف سوچ رکھتے تھے۔سب سے ذہین اور چالاک جانور ایک چھوٹی لومڑی تھی۔لومڑی نہ صرف تیز دماغ کی مالک تھی، بلکہ اس کے دل میں سب جانوروں کی بھلائی کی فکر بھی تھی۔اس نے کئی بار کہا:“رانی، طاقت ضروری ہے، مگر سمجھ بوجھ اور سننا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اگر ہم سب ایک دوسرے کے خوف، ضرورت اور احساسات کو سمجھیں، تو جنگل میں حقیقی امن قائم ہوگا۔”شیرنی نے لومڑی کی بات کو…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
عشقِ فانی کا ایک عبرت انگیز واقعہ
ایک شہزادہ اپنی رعایا کی ایک غریب مگر نہایت حسین لڑکی کے حسن پر ایسا فریفتہ ہوا کہ کھانا پینا چھوڑ بیٹھا۔ ہر وقت اسی کے ہجر میں آہیں بھرتا اور بے چین رہتا۔ بادشاہ کو جب اس حال کا علم ہوا تو وہ سخت پریشان ہوا۔ اس نے سوچا کہ اگر عالمِ شہزادگی میں یہ کیفیت ہے تو کل تخت نشین ہو کر نجانے کیا کرے گا۔ چنانچہ اس نے وزیرِ دانا سے مشورہ کیا کہ کسی حکمت سے شہزادے کی اصلاح کی جائے۔وزیر نے چند روز کی مہلت طلب کی۔ حالات کا جائزہ لینے کے بعد اس نے تدبیر سے لڑکی اور اس کے اہلِ خانہ کو محل میں ملازم رکھوا لیا اور لڑکی کو اپنی بیگم کی خاص کنیز مقرر کر دیا۔ پھر ایک حکیم کے مشورے سے اس کے کھانے میں سخت اسہال آور دوا ملا دی۔ نتیجتاً وہ لڑکی شدید کمزوری کا شکار ہو گئی…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک پیر صاحب نے بڑی دھوم دھام سے اپنی شادی کی۔ شادی کے بعد جب سب فارغ ہوئے تو ایک حلوائی (جو دیگچیوں میں پکوان بناتا تھا) پیر صاحب کے پاس آیا۔ پیر صاحب نے بڑے وقار سے فرمایا:“بھائی! بتاؤ، پیسے چاہیے یا دعا؟” حلوائی نے ادب سے کہا:“حضور! آپ ہمارے خاندانی پیر ہیں، پیسے نہیں، بس دعا دے دیں۔” پیر صاحب نے فوراً دعا دے دی۔ حلوائی خوش ہو کر اپنا سامان اٹھایا اور چل دیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک میراثی آیا اور بولا:“پیر صاحب! مجھے بھی کچھ عطا کریں۔” پیر صاحب نے پوچھا:“پیسے چاہیے یا دعا؟” میراثی نے ہوشیاری سے کہا:“پچاس کی دعا دے دیں، اور پچاس روپے بھی دے دیں۔” پیر صاحب نے ہاتھ اٹھائے اور دعا شروع کر دی…دعا کرتے گئے… کرتے گئے… کرتے گئے…اتنی لمبی دعا کی کہ گھنٹہ گزر گیا۔ آخرکار دعا ختم ہوئی تو پیر صاحب نے میراثی سے کہا:“بھائی! پتا ہی نہیں…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
داروغہ کا کوٹ
ایک شخص شہر کے باہر گھوم رہا تھا۔ اس نے دیکھا داروغہ شہر ایک درخت کے نیچے سو رہا ہے ۔ شراب کی بوتل اس کی بغل میں دبی ہوئی تھی۔ اور منہ سے شراب کی بو آرہی تھی ۔ داروغہ خراٹے لے رہا تھا۔ اس نے بڑے اطمینان سے داروغہ کی نئی اونی قبا اتاری اور وہاں سے رخصت ہو گیا ۔ شراب کے نشے اور نیند میں اسے پتا ہی نہ چلا۔ جب داروغہ کی آنکھ کھلی اور شراب کا نشہ اترا تو اس نے دیکھا کہ اس کی نئی قبا غائب ہے ۔ وہ گھر واپس آئے اور اپنے ملازموں سے کہا کہ میری قباچوری ہو گئی ہے تم چور کو تلاش کر کے فورا میرے سامنے پیش کرو۔ داروغہ کے ملازم تلاش میں نکلے اور آخر انھیں وہ آدمی جس نے قبا چرائی تھی مل گیا ۔ اسے پکڑ کر وہ داروغہ کے پاس لے آئے…