Tag Archives: ” “mindset

کیاسکھوں کے روحانی پیشوا ’’بابا گرونانک‘‘ مسلمان ’ولی اللہ‘ تھے؟ 14 نومبر 2016 کو ننکانہ صاحب میں گرو نانک کا 547واں یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے۔ یہ تقریبات اس شخصیت کی یاد میں منعقد کی جاتی ہیں جو بلا امتیازِ مذہب و رنگ و نسل ہر کسی کے لیے پیار کا پیغام لے کر آئی تھی اور ہر مذہب کے لوگ اس سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ وہ انسان جس کا فلسفہء خدا کسی بھی ایک مذہب کی مقرر کردہ حدوں میں سمانے سے انکار کرتا تھا۔ انہوں نےپنجاب کے لوگوں کو “ست شری اکال”کا نعرہ دے کر ہندوستان کے ان حصوں تک بھی توحید کا پیغامتک بھی توحید کا پیغام پہنچایا، جہاں ابھی دوسرے صوفیاء اور بھگتوں کی آواز ابھی تک نہیں پہنچی تھی۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال، نے بانگِ درا کی ایک نظم میں انہیں یوں خراجِ تحسین پیش کیا ہے؛یہ حقیقت ہے کہ گرو نانک…

Read more

ڈایناسور  ایک نہایت دلچسپ اور حیرت انگیز مخلوق تھی جو تقریباً 23 کروڑ (230 ملین) سال پہلے زمین پر نمودار ہوئی اور 6 کروڑ 60 لاکھ (66 ملین) سال پہلے ختم ہو گئی۔یہ مخلوقات میسوزوئک دور (Mesozoic Era) میں زمین پر غالب تھیں — جسے “ڈایناسورز کا دور” بھی کہا جاتا ہے۔ ڈایناسورز کے بارے میں تفصیلی معلومات: دورِ حکومت دور: تقریباً 165 ملین سال زمانہ: میسوزوئک دور، جو تین حصوں میں تقسیم ہے: 1. ٹریاسک (Triassic) – 23 کروڑ سے 20 کروڑ سال پہلے 2. جراسک (Jurassic) – 20 کروڑ سے 14 کروڑ 50 لاکھ سال پہلے 3. کریٹیشیس (Cretaceous) – 14 کروڑ 50 لاکھ سے 6 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے اقسام ڈایناسورز کی ہزاروں اقسام تھیں، مگر عام طور پر انہیں دو بڑے گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: 1. گوشت خور (Carnivores) یہ دوسرے جانداروں کو کھاتے تھے۔مثالیں: Tyrannosaurus rex (ٹی ریکس) Velociraptor (ویلو سی ریپٹر)…

Read more

ایک چوہدری صاحب سے اس گاؤں کے میراثی خاندان نے آ کر شکوہ کیا کے انکے لڑکے عمدہ کھانا پکانے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر چوہدری صاحب آپ ہر شادی پر باہر سے باورچی منگواتے ہیں ، چوہدری صاحب انکی باتوں میں آ گئے اور کھانے کا آڈر انکو دے دیا مگر انہوں نے میراثی خاندان سے سوال کیا کے اگر کھانا درست معیار کا نہ بنا تو ؟ میراثیوں کے سب سے سینیر میراثی نے کہاچوہدری صاحب تسی مینوں فٹے منہ آکھنا جے کھانا چنگا نہ پکے تے غرض جب شادی ہوئ تو کھانا انہیں سے پکوایا گیا چاول سالن سبھی کچھ فضول اور بد مزہ پکا دیا گیا چوہدری صاحب کی حالت غیرہو گئمیراثی خاندان کو بلایا گیا اور پوچھا کے میری جو ناک کٹوائی ہے نقصان کروایا ہے اب اسکی کیا سزا ہے ؟ سینیر میراثی بولا چوہدری صاحب معاہدہ پورا کریں فٹے منہ آکھو  تے سانوں😄

اگرچہ یہاں امیر زادوں اور حکمرانوں کے بچوں کو عوام کو اپنی لینڈ کروزرز اور پراڈو تلے روندنے کا لائسنس حاصل ہے مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ محترمہ چیف منسٹر صاحبہ اپنے ایم این اے کے بچے کو بچاتی ہیں یا ایک غریب خاندان کے بچے کو انصاف دلاتی ہیں ۔ کل رات 9 بجے سرگودھا شہر میں  ن لیگ کی موجودہ ایم این اے ارم حمید اور سابق معاون خصوصی وزیراعظم حامد حمید  کے 17 سالہ بیٹے احمد حمید نے اندھا دھند ڈرائیونگ کرتے ہوئے اپنی ,, کیا سپورٹیج ،، تلے ایک پورے خاندان کو روند ڈالا ، چھ سالہ بچہ جاں بحق اور خاندان کے پانچ افراد جو دو موٹر سائیکلوں پر سوار تھے ، ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش  میں ہیں ۔ گاڑی ڈیڑھ کلو میٹر تک خاتون کو گھسیٹتی چلی گئی ۔  سیف سٹی پولیس جو ایک ایک شہری کو 10 ،10 چالان…

Read more

🌟💼 محکمہ لیبر اینڈ ہیومن ریسورسز پنجاب میں شاندار بھرتیاں! 💼🌟.🎯 اکاؤنٹ اسسٹنٹ (BS-15) کے لیے اپلائی کا سنہری موقع!.🏛️ حکومتِ پنجاب کی ریگولر نوکریاں — مستحکم مستقبل آپ کا منتظر!.📍 اہلیت: صرف پنجاب ڈومیسائل رکھنے والے مرد و خواتین🎓 تعلیم: B.Com ڈگری ہولڈر🧾 پوسٹ کا نام: اکاؤنٹ اسسٹنٹ (BS-15).👨‍💼 عمر کی حد (مرد): 18 تا 35 سال👩‍💼 عمر کی حد (خواتین): 18 تا 38 سال.🏦 درخواست دینے کا طریقہ:یہ بھرتیاں پنجاب پبلک سروس کمیشن (PPSC) کے ذریعے ہوں گی۔💰 نوٹ: بنک فیس اور سروس فیس لاگو ہوگی۔ For online apply www.ppsc.gop.pk Follow the Jobs in Pakistan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Va8mccc9RZAWObvvfI1z

کسی گاؤں میں ایک بیروزگار مسٹنڈا ️رہتا تھا۔ مسٹنڈے نے ساتھ والے گاؤں میں ہونے والے ایک کبڈی ٹورنامنٹ کو بھی جیتا ہوا تھا۔ ایک دن مسٹنڈے نے کچھ لفنگے ساتھ لیئے اور شور مچانا شروع ہوا کہ “گاؤں کے بازار  میں جو اکلوتا ہوٹل موجود ہے اس ہوٹل کا مالک چائے میں ملاوٹ والا دودھ ملاتا ہے۔ کھانے میں آئل بھی صحیح نہیں استعمال کرتا اور گوشت بھی صاف نہیں ہوتا۔ مجھے ہوٹل کھولنے دیں۔ میں بہترین تیل میں کھانا پکاؤں گا اور میرے پاس بہترین کک بھی ہیں اور بہت صاف ستھرے ویٹر بھی۔ میں ایسا ہوٹل بناوں گا کہ دور دور سے لوگ کھانا کھانے ادھر آئیں گے”۔لفنگوں نے ناچ ناچ کر گھنگرو توڑ دیئے اور لفنگوں کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ کیونکہ مسٹنڈا کبڈی جیتا ہوا ہے اس لیے اسے ایک موقع ضرور ملنا چاہیے ۔ گاؤں میں کافی شور مچ گیا اور بالآخر گاؤں…

Read more

ہمارے ایک ٹیچر مشتاق نامی لڑکے سے بہت بیزار تھے..مشتاق کا کمال یہ تھا کہ اسے جو بھی مضمون لکھنے کو کہتے وہ اس میں کہیں نہ کہیں سے ” میرا بہترین دوست” ضرور فٹ کردیتا تھا جو اسے فر فر یاد تھا۔مثال کے طور پے اسے کہا جاتا کے ریلوے اسٹیشن پر مضمون لکھ دو تو وہ یوں لکھتا کہ میں اور میرے ماں باپ چیچو کی ملیاں جانے کے لئے ریلوے سٹیشن گئے وہاں گاڑی کھڑی تھی اور گاڑی میں میرا بہترین دوست زاہد بیٹھا تھا- زاہد حسین میرا کلاس فیلو ہے اس کے تین بہن بھائی ہیں اس کا باپ محکمہ پولیس میں آفیسر ہے- زاہد حسین بہت اچھا لڑکا ہے –اگر اسے “میرا استاد” مضمون لکھنے کو کہتے تو وہ لکھتا ماسٹر افتخار میرے پسندیدہ استاد ہیں ایک روز میں ان سے ملنے ان کے گھر گیا تو وہاں ” میرا بہترین دوست زاہد بیٹھا تھا-…

Read more

ایک زمانہ تھا کہ مچھر گراؤنڈ فلور تک محدود رہتے تھے، لیکن جوں جوں انسان ترقی کرکے بلندیوں پر جاتا گیا،مچھروں نے بھی اپنی دور تک مار کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرلیا۔۔آج کا مچھر ، مچھر دانیوں ، کوائل اور لیکوئیڈ جیسے مچھر شکن ہتھیاروں سے ماورا ہوچکا ہے ،یہ آپ کو کپڑوں میں بھی کاٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے گویا ڈیفنس شیلڈ کو بھی مات دے دیتا ہے۔۔اور یہ اب تعاقب کرکے بھی کاٹ سکتا ہے۔یعنی گائڈڈ ہتھیار کی طرح ہدف کا تعاقب کرکے نشانہ بناتا ہے ۔۔کچھ عرصہ پہلے کسی نے بتایا کہ آپریشن تھیٹر فرسٹ فلور پر رکھے جانے کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ کیڑے مکوڑوں خاص طور پر مچھروں کی پرواز محدود رہے۔۔لیکن پچھلے دنوں نویں فلور پر رہنے والے ایک بندے کو مچھروں سے بچاؤ کے خصوصی انتظامات کرتے دیکھ کر اندازہ ہوا کہ اب پروازِ ‘انسیکٹاں’ کہیں آگے جاچکی ہے…

Read more

یہ ایک ہزار گرام لوہے کا ایک بسکٹ ہے اس کی خام قیمت تقریباً 250 روپے ہے۔ اگر آپ اس سے گھوڑے کے نعل بنائیں گے تو یہ بڑھ کر تقریباً 3000 سے 3500 تک ہو جائے گی۔ اگر آپ اس سے سلائی کی سوئیاں بنائیں گے تو اس کی قیمت تقریباً چالیس ہزار روپے ہو جائے گی۔ اگر آپ اس سے گھڑی کے سپرنگ اور گیئر بنائیں گے تو اس کی قیمت تقریباً چالیس لاکھ روپے تک ہو جائے گی اور اگر آپ اس سے لیتھوگرافی میں استعمال ہونے والے پریسیژن لیزر پارٹس بنائیں گے تو اس کی قیمت تقریباً ایک کروڑ تک جا پہنچے گی۔آپ کی اصل ویلیو وہ نہیں جو آپ کو وراثت میں ملی ہے بلکہ اصل ویلیو وہ ہوتی ہے جو آپ خود اپنے آپ کو بہترین انداز میں ڈھال کر بناتے ہیں۔ naturelover890 #bestoftheday #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge

کہتے ہیں کہ مسیحیوں کے زوال کے زمانے میں دو پادری کسی خانقاہ میں بیٹھے شدت سے بحث کر رہے تھے۔ موضوع تھا — گھوڑے کے منہ میں دانتوں کی تعداد! ایک پادری کہتا، “بائبل کے مطابق گھوڑے کے دانت اتنے ہوتے ہیں۔”دوسرا بضد تھا، “نہیں نہیں، بائبل کی روشنی میں گنتی کچھ اور ہے!” دونوں کی بحث زوروں پر تھی کہ قریب سے ایک عام شخص گزرا۔ وہ کچھ دیر ان کی گفتگو سنتا رہا، پھر نرمی سے بولا، “حضور! اس معاملے میں بائبل کو درمیان میں لانے کی کیا ضرورت ہے؟ گھوڑے کا منہ کھول کر گنتی کرلیتے ہیں نا!”یہ بات ہنسی میں لپٹی مگر گہری چبھن رکھتی ہے۔ یہ لطیفہ دراصل ان دانشوروں کے نام ہے جو آج بھی اس بات پر بحث کرتے رہتے ہیں کہ قائداعظم کیسا پاکستان چاہتےتھے — اسلامی یا سیکولر؟ حالانکہ سوال بائبل یا کتابوں سے نہیں، پاکستان کے بائیس کروڑ عوام…

Read more

اگر آپ کو اس محل میں 30 مسلسل دن تک اکیلے رہنا پڑےجس میں ایک آرام دہ بیڈ رومسینکڑوں کتابوں پر مشتمل لائبریری30 دن کے لیے کھانے پینے کے مکمل ذرائع ہیںلیکن کسی سے بھی رابطے کے لیے کسی قسم کا کوئی ذریعہ موجود نہیں۔اور آپ کو اپنے ساتھ “صرف ایک چیز” لے جانے کی اجازت ہے، تو وہ کیا چیز ہو گی؟ If you had to live alone in this palace for 30 consecutive days, with a comfortable bedroom, a library with hundreds of books, full food and drink for 30 days, but no means of communication with anyone, and you were allowed to take “only one thing” with you, what would it be?

Qualification:Intermediate (F.Sc, F.A, I.Com, D.Com, D.A.E)Age Limit:Males: 18 to 35 yearsFemales: 18 to 38 yearsSyllabus Includes:Pak Studies | General Knowledge | Current Affairs | Islamiyat | Geography |Basic Math | English | Urdu | Science | Computer Science*Last Date to Apply:* 10 November 2025 For online apply www.ppsc.gop.pk Follow the Jobs in Pakistan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Va8mccc9RZAWObvvfI1z

پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں آپ کسی کو ایکسرے دیں تو سیدھا روشنی کی جانب اٹھا کر دیکھنے لگ جاتا ہے حالانکہ پتہ اس کو کوئی نہیں ہوتا. اسی طرح نا چھوٹی مکھی پہچانتا ہے اور نا بڑی مکھی، اور نا ایک ہزار میں سے دو بندے شہد میں فرق کر سکتے ہیں کہ کس مکھی کا ہے پر پوچھتے لازمی ہیں کہ یہ بڑی مکھی کا ہے یا چھوٹی مکھی کا؟ اسی طرح پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لوگ پھول اورلوکیشن کی بجائے پوچھتے ہیں کہ یہ شہد کس مکھی کا ہے؟ سردی آتے ہی پاکستان میں انسان کم اور شہد فروش زیادہ ہو جاتے ہیں. ہر دوسرا بندہ خالص شہد بیچتا نظر آرہا ہے. جہاں مکھیاں ختم ہو رہی ہیں، وہاں شہد زیادہ ہونے لگا ہے. بالخصوص جنگلی شہد کے نام پر دھوکہ بیچا جاتا ہے. 5 6 چھتے دکھا دئے جاتے ہیں جن سے…

Read more

کسی زمانے میں ایک بادشاہ تھا جس نے دس جنگلی کتے پالے ہوئے تھے, اس کے وزیروں میں سے جب بھی کوئی وزیر غلطی کرتا بادشاہ اسے ان کتوں کے آگے پھنکوا دیتا کتے اس کی بوٹیاں نوچ نوچ کر مار دیتے-ایک بار بادشاہ کے ایک خاص وزیر نے بادشاہ کو غلط مشورہ دے دیا جو بادشاہ کو بلکل پسند نہیں آیا اس نے فیصلہ سنایا کہ وزیر کو کتوں کے آگے پھینک دیا جائے-وزیر نے بادشاہ سے التجا کی کہ حضور میں نے دس سال آپ کی خدمت میں دن رات ایک کئے ہیں اور آپ ایک غلطی پر مجھے اتنی بڑی سزا دے رہے ہیں, آپ کا حکم سر آنکھوں پر لیکن میری بےلوث خدمت کے عوض مجھے آپ صرف دس دنوں کی مہلت دیں پھر بلاشبہ مجھے کتوں میں پھنکوا دیں-بادشاہ یہ سن کر دس دن کی مہلت دینے پر راضی ہو گیا-وزیر وہاں سے سیدھا رکھوالے…

Read more

کسی جنگل میں ایک بکری بہت بے فکری سے ادھر ادھر گھوم رہی تھی ۔ایک کوے کو بہت حیرت ھوئی اور وہ بکری سے پوچھنے لگا کہ تمہیں کسی سے خوف کیوں نہیں ھے؟ بکری نے کہا ۔ بھائی میری بے فکری کا سبب یہ ھے کہ کچھ عرصہ پہلے ایک شیرنی اپنے دو چھوٹے بچے چھوڑ کر مر گئی تھی ۔ میں نے ان پہ ترس کھا کر اپنے دودھ پہ پال کر انہیں پروان چڑھایا۔اب وہ جوان ھیں اور انہوں نے جنگل میں اعلان کر رکھا ھے کہ ھماری بکری ماں کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہ دیکھے۔سو اب کسی بڑے خوںخوار جانور میں بھی یہ ہمت نہیں کہ مجھ پہ ہاتھ ڈالے کسی چھوٹے موٹے جانور کا ذکر ہی کیا۔کوے نے سوچا کاش مجھے بھی ایسی نیکی کرنے کا موقع ملے اور پرندوں کی دنیا میں مجھے بھی احترام حاصل ھو جائے۔وہ یہی سوچتا ھوا اڑتا…

Read more

جنگل کے بادشاہ ببر شیر نے چشمے کے کنارے والی چٹان کے نیچے گھنی جھاڑیوں سے جھانک کر دور تک پھیلے دھان کے لہلہاتے کھیت پر نظر ڈالی،بہت دور ایک درخت کے نیچے کوئی چیز ہلتی ہوئی نظر آرہی تھی،شیر نے پنجوں سے آنکھوں کو ملتے ہوئے دوبارہ اس طرف دیکھا،یقینا وہ کالا ہرن تھا،شیر رات سے بھوکا تھا۔ کالے ہرن کے لذیذ گوشت کے تصور ہی سے اس کے منہ میں پانی آگیا اور ایک ماہر شکاری کی مانند جھاڑیوں کی آڑ لیتے ہوئے اس نے ہرن کی طرف قدم بڑھائے․․․․․دوسری طرف بانسوں کے جھنڈ میں ایک چیتا بھی ہرن پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔بھوک سے اس کے پیٹ میں بھی چوہے دوڑ رہے تھے۔ چیتے نے بھی ہرن کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ہرن دونوں طرف سے بڑھتے ہوئے خطروں سے بے خبر نرم نرم گھاس کھانے میں مشغول تھا کبھی کبھی وہ اپنی بادام جیسی آنکھیں گھما کر…

Read more

خالص شہد کی پہچان کے نام پہ بہت سے فارمولے مارکیٹ میں رائج ہیں.. یہ زیادہ تر ہمارے بزرگوں کے مختلف اقوال ہیں جو آج تک نقل ہوتے آ رہے ہیں.. جس نے جس طرح کا کلیہ سوچا، سمجھا کہ یہی آخری اور حتمی ہے. مثال کے طور پہ ایک بابا جی نے اپنے گھر میں لگے چھوٹی مکھی کے چھتے سے شہد نچوڑا اور اسکے کیساتھ کھانا تناول فرمانے بیٹھ گئے. آئینِ پاکستان کے مطابق اصول یہ ہے کہ شہد صرف وہی اصلی ہوتا ہے جو خود اپنے ہاتھوں سے اتارا گیا ہو، باقی سب مایا ہے.جب سے لوگوں کو اس علمی کتابی شق کا معلوم ہوا ہے کہ دنیا میں اتنی مکھیاں نہیں ہیں جتنا شہد پیدا ہوتا ہے، تب سے وہ اپنے سارے کام دھندے چھوڑ کے شہد کی تلاش میں جنگلوں کو نکل کھڑے ہوئے ہیں. نہیں؟ 🤔 جیسا کہ، جس بندے کو خالص دودھ نہ…

Read more

اپاچی ریڈ انڈینز کا مشہور قبیلہ تھا۔ان کے سردار کا اچانک انتقال ہو گیا تو قبیلے کے ایک جدید یونیورسٹی سے پڑھے نوجوان نے دیگر نوجوانوں کو ساتھ ملا کر قبیلے کی سرداری کا اعلان کر دیا۔ چند ماہ بعد جب خزاں کا موسم آیا تو قبیلے والے اس کے پاس آئے اور پوچھنے لگے کہ سردار جی اگلی سردیاں عام سردیوں جیسی ہوں گی یا زیادہ برف پڑے گی؟ اب اس نوجوان کے پاس قدیم بزرگوں کی دانش تو تھی نہیں جو زمین آسمان دیکھ کر بتا سکتے تھے کہ کیسا موسم آنے والا ہے۔ وہ تو شہر کی یونیورسٹی سے پڑھ کر آیا تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر کہہ دیا کہ عام سی سردی ہوگی اور زیادہ برف پڑگئی تو قبیلہ مارا جائے گا۔ اس لئے اس نے ازراہ احتیاط کہہ دیا کہ کچھ سخت سردی ہوگی، لکڑیاں جمع کر لو۔ قبیلے کے جوان لکڑیاں اکٹھی کرنے…

Read more

جب سے موبائل نیٹورک کےسگنلز خاص طور پر 5G کی شدت بڑھی ہے، شہد کی مکھیاں اپنے چھتّوں کو چھوڑ کر غائب ہونے لگی ہیں۔شہد کی مکھیاں ہماری خوراک کےنظام کی بنیاد ہیں۔ دنیا کی ایک تہائی فصلوں کی پولی نیشن۔۔۔۔انہی کے ذریعے ہوتی ہے۔۔لیکن حالیہ مشاہدات کےمطابق، جہاں5G ٹاورز نصب ہیں،وہاں مکھیوں کےرویے میں عجیب تبدیلی دیکھی گئی ہے۔۔۔۔مزدور مکھیاں بھٹک جاتی ہیں، اپنے چھتے واپس نہیں پہنچ پاتیں، اور کئی جگہ تو پوری کالونیز ختم ہوجاتی ہیں۔۔ابتدائی سائنسی تحقیقات سے معلوم ہواہےکہ طاقتور برقی شعاعیں(Electromagnetic fields) مکھیوں کی سمت شناسی میں خلل ڈال سکتی ہیں۔۔۔۔مکھیاں زمین کے قدرتی مقناطیسی میدان کی لطیف لہروں کے ذریعے راستہ پہچانتی ہیں۔ جب یہ نظام بگڑتا ہے تو وہ اپنی سمت کھو دیتی ہیں، بے مقصد اڑتی رہتی ہیں اور آخرکار مر جاتی ہیں۔۔مکھیاں صرف شہد بنانے والی مخلوق نہیں،یہ زندگی کے توازن، زراعت اور بقا کی علامت ہیں۔۔

دنیا کے بہت سے علاقوں میں پراسرار مخلوقات کی کہانیاں عام پائی جاتی ہیں۔ دنیا میں کہیں بالوں سے بھرے ایک طویل قامت آدمی کو دیکھنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو کہیں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ برفانی علاقوں میں بڑی جسامت کے دیوہیکل انسان رہتے ہیں۔ ایسی کہانیاں دنیا کے مختلف خطوں میں پائی جاتی ہیں لیکن کیا واقعی ان کہانیوں میں کوئی سچائی بھی موجود ہے یا یہ صرف کہانیاں ہی ہیں۔ آج ہم دنیا کی ان پراسرار مخلوقات میں سے چند ایک کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں گے۔ دنیا میں پراسرار مخلوقات کی کہانیوں میں سے ایک مشہور کہانی بعض ممالک کے دور افتادہ پہاڑوں اور جنگلوں میں پایا جانے والا ایک ایسا جانور ہے جو جسامت میں بہت بڑا ہے اور دیکھنے میں ریچھ اور انسان کا امتزاج نظر آتا ہے۔ اسے اس کے بڑے بڑے پیروں کی وجہ سے مغربی ممالک…

Read more

60/68
NZ's Corner