Tag Archives: #urduquotes

تیزی ہمیشہ دانشمندی نہیں ہوتیرفتار متاثر کن ضرور لگتی ہے، لیکن بقا اکثر اس کا مقدر بنتی ہے جو خطرے کو سب سے پہلے بھانپ لے۔تپتے ہوئے صحرا کے وسیع و عریض ٹیلوں کے درمیان، اونٹوں کا ایک قافلہ چلچلاتی دھوپ میں آگے بڑھ رہا تھا۔ قافلے کے سب سے آگے ایک نوجوان اونٹ تھا، جو طاقتور، توانا، لمبی ٹانگوں اور پر اعتماد قدموں والا تھا۔ جبکہ سب سے پیچھے ایک بوڑھا اونٹ تھا، جس کا ڈھانچہ دبلا پتلا اور رفتار سست تھی۔ وہ کبھی کبھار رک کر افق کی جانب نظریں جما لیتا یا اردگرد کی خشک ہوا کا جائزہ لیتا۔نوجوان اونٹ نے پیچھے مڑ کر اس کا مذاق اڑایا:“تم اب بوڑھے ہو چکے ہو۔ تمہاری ٹانگیں کمزور اور آنکھیں تھک گئی ہیں، اسی لیے تم اتنا آہستہ چلتے ہو۔ اگر تم یونہی رک کر ادھر ادھر دیکھتے رہے تو ہم نخلستان کب پہنچیں گے؟ مجھے دیکھو، رفتار ہی…

Read more

معصوم اور مہربان لوگ زندگی میں آسانی سے دھوکا کھا جاتے ہیں (یا انہیں تکلیف پہنچتی ہے) کیونکہ وہ غلط لوگوں پر بھروسہ کر لیتے ہیں… اس لیے احتیاط کریں کہ آپ اپنا وقت کن لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔تفصیلی وضاحتاس تصویر اور تحریر کے ذریعے زندگی کی ایک کڑوی حقیقت بیان کی گئی ہے:فطرت کا فرق: تصویر میں ایک ننھا چوزہ اور ایک سانپ آمنے سامنے ہیں۔ چوزہ معصومیت کی علامت ہے جو سانپ کو بھی اپنا دوست سمجھ کر اس کے قریب جا رہا ہے، جبکہ سانپ اپنی فطرت کے مطابق شکاری ہے اور کسی بھی وقت نقصان پہنچا سکتا ہے۔بھروسہ اور سادگی: نیک دل لوگ اکثر دوسروں کو بھی اپنے جیسا ہی مخلص سمجھتے ہیں۔ وہ سامنے والے کے ظاہری رویے سے دھوکا کھا جاتے ہیں اور یہ نہیں دیکھ پاتے کہ دوسرے کے دل میں کیا چھپا ہے۔غلط صحبت کا اثر: تحریر ہمیں خبردار کرتی ہے…

Read more

ہندوستان کا بادشاہ جنگل میں تنہا گھوڑا دوڑا رہا تھا۔ تیز رفتار گھوڑے پر سوار، ہرن کے تعاقب میں اپنے ساتھیوں سے بہت دور نکل گیا تھا۔ کئی میل تک گھوڑے نے برق رفتار ہرن کا تعاقب کیا، لیکن آخرکار وہ گھنی جھاڑیوں میں غائب ہو گیا۔ سخت گرمی کا زمانہ تھا، دوپہر کا وقت تھا۔ گرم ہوا سے جسم جھلس رہا تھا، پیاس کی شدت سے ہونٹ خشک تھے اور حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے۔ شاہجہاں نے گھوڑا روک کر جسم سے پسینہ پونچھا اور سوچنے لگا کہ اب پانی کی تلاش میں کدھر جائے۔ گھوڑا بھی گرمی کی شدت سے ہانپ رہا تھا۔ کئی میل چلنے کے بعد کسی بستی کے آثار نظر نہ آئے، البتہ بہت دور کچھ جانور چرتے نظر پڑے اور بانسری کی آواز بھی تیز جھونکوں کے ساتھ محسوس ہوئی۔ بادشاہ نے اسی سمت اپنے گھوڑے کی باگ موڑ دی۔ چند میل چلنے…

Read more

ایک بادشاہ تھا، اس کا ایک پیر و مرشد تھا جن کے بے شمار مرید اور عقیدت مند تھے۔ ایک دن بادشاہ نے خوش ہو کر اپنے مرشد سے کہا:آپ بہت خوش نصیب انسان ہیں، آپ کے ماننے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ گنی بھی نہیں جا سکتی۔ مرشد مسکرائے اور فرمانے لگے:ان میں سے صرف ڈیڑھ آدمی ایسا ہے جو واقعی میرا سچا ماننے والا ہے، جو مجھ پر جان نچھاور کر سکتا ہے، باقی صرف نام کے مرید ہیں۔ بادشاہ یہ سن کر حیران رہ گیا اور عرض کیا:پچاس ہزار میں سے صرف ڈیڑھ؟ مرشد نے فرمایا:اگر ان کے نفس کا امتحان لیا جائے تو حقیقت سامنے آ جائے گی۔ چنانچہ ایک ٹیلے پر فوراً ایک جھونپڑی بنوائی گئی۔ مرشد نے اس جھونپڑی میں خفیہ طور پر دو بکرے باندھ دیے، کسی کو اس بات کا علم نہ تھا۔ پھر مرشد باہر آئے اور بلند آواز…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ سلامت شدید ‘ڈپریشن’ کا شکار ہو گئے۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ شاہی خزانہ خالی تھا، بلکہ دکھ اس بات کا تھا کہ رعایا اتنی صابر و شاکر اور ڈھیٹ واقع ہوئی تھی کہ دربار میں کوئی شکایت لے کر آتا ہی نہیں تھا۔ بادشاہ کو اپنا اقتدار بورنگ لگنے لگا کہ بھئی، اگر عوام روئے پیٹے گی نہیں تو ہم تسلیاں دے کر اپنا سیاسی قد کیسے بڑھائیں گے؟ اس نے فوراً اپنے مشیروں کی ہنگامی میٹنگ بلائی اور حکم دیا، “کوئی ایسا جگاڑ لگاؤ کہ عوام کی چیخیں نکلیں اور وہ روتے پیٹتے دربار کا رخ کریں!”وزیروں نے اپنا روایتی ‘بیوروکریٹک’ دماغ لڑایا اور مشورہ دیا، “حضور! شہر کے اکلوتے پل پر، جہاں سے سب کا روزمرہ کا گزر ہوتا ہے، وہاں 100 روپے فی بندہ ‘گزرگاہ ٹیکس’ لگا دیں۔” بادشاہ نے خوشی خوشی منظوری دے دی۔ کئی دن گزر…

Read more

قارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چچا یصہر کا بیٹا تھا۔وہ نہایت شکیل اور خوبصورت انسان تھا، اسی وجہ سے لوگ اُس کے حسن و جمال سے متاثر ہو کر اسے “منور” کہا کرتے تھے۔صرف یہی نہیں، بلکہ وہ بنی اسرائیل میں تورات کا بڑا عالم، نہایت ملنسار اور بااخلاق شخصیت کا مالک بھی تھا، اسی لیے لوگ اس کا بے حد ادب و احترام کرتے تھے۔ لیکن جب بے شمار دولت اس کے ہاتھ آئیتو اس کی زندگی یکسر بدل گئی۔وہ سامری کی طرح منافق ہو گیا،حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سخت دشمن بن گیااور تکبر و غرور میں ڈوب گیا۔ جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہواتو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے وعدہ کیاکہ وہ اپنے مال کا ہزارواں حصہ زکوٰۃ میں دے گا۔مگر جب اس نے اپنے مال کا حساب لگایاتو زکوٰۃ کی رقم بہت زیادہ نکلی۔ یہ دیکھ کر اس پر حرص اور بخل…

Read more

خاموشی ہمیشہ تاخیر نہیں ہوتیایک دھوپ سے بھرے باغ میں، ایک چھوٹی چیونٹی کو اپنی مصروفیت پر بڑا ناز تھا۔ وہ روزانہ اپنے جسم سے بڑے ٹکڑے اٹھائے ادھر ادھر دوڑتی رہتی۔ چیونٹی کے نزدیک حرکت ہی ترقی تھی اور بھاگ دوڑ ہی زندگی کا مقصد۔ اس کا ماننا تھا کہ اگر کوئی چیز حرکت میں نہیں ہے، تو وہ پیچھے رہ گئی ہے۔ایک دوپہر، ایک گلابی پتے کے نیچے، چیونٹی کی نظر ایک خاکستری رنگ کے ککون (خول) پر پڑی جو خاموشی سے ٹہنی کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔ وہ خشک، بے آواز اور بالکل عام سا دکھائی دے رہا تھا۔ نہ کوئی حرکت، نہ زندگی کا کوئی نشان۔ چیونٹی قریب آئی اور حقارت سے بولی:“اپنی حالت تو دیکھو! میں سفر کر رہی ہوں، کام کر رہی ہوں اور نتائج حاصل کر رہی ہوں، جبکہ تم یہاں بس بیکار لٹکے ہوئے ہو۔ کتنی ضائع شدہ زندگی ہے تمہاری۔”ککون خاموش…

Read more

ایک بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ جاپان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بوڑھا استاد رہتا تھا۔ اس نے ساری زندگی لوگوں کو راستہ دکھایا تھا، لوگوں کو سچ سکھایا تھا، لوگوں کو خود کو پہچاننے کا فن سکھایا تھا۔ اس کے شاگرد دور دور سے آتے تھے، اس کے پاس بیٹھتے تھے، اس کی باتیں سنتے تھے، اور اپنی زندگی بدل لیتے تھے۔ لیکن استاد اب بہت بوڑھا ہو چکا تھا۔ اس کے بال سفید ہو گئے تھے، اس کی پیٹھ جھک گئی تھی، اس کی آنکھیں دھندلی ہو گئی تھیں۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی موت قریب ہے۔ ایک دن اس نے اپنے شاگردوں کو بلایا۔ بہت سے شاگرد تھے  کچھ بوڑھے تھے، کچھ جوان تھے، کچھ نئے آئے تھے، کچھ پرانے تھے۔ سب استاد کے سامنے بیٹھ گئے۔ استاد نے کہا: “میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ نہ سونا ہے، نہ…

Read more

بہت پرانے زمانے میں بحرین کے ساحل پر ایک غریب ماہی گیر رہتا تھا۔ اس کا نام عبداللہ تھا۔ وہ بہت بوڑھا تھا، اس کی بیوی بیمار تھی، اس کے تین بچے تھے، اور اس کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ وہ ہر روز صبح سویرے اٹھتا، اپنا جال لیتا، سمندر پر جاتا، اور مچھلیاں پکڑتا۔ لیکن اسے کبھی زیادہ مچھلیاں نہیں ملتی تھیں  بس اتنی کہ بچوں کو بھوکا نہ رہنا پڑے۔ ایک دن اس نے جال ڈالا۔ جب اسے کھینچا تو وہ بہت بھاری تھا۔ اس نے سوچا: “آج بہت سی مچھلیاں آئی ہوں گی۔” اس نے پوری طاقت سے جال کھینچا۔ جال باہر آیا تو اس میں مچھلیاں نہیں تھیں، ایک بند تانبے کا مٹکا تھا۔ مٹکا بہت پرانا تھا، اس پر مہر لگی ہوئی تھی، اور وہ سیسے سے بند تھا۔ عبداللہ نے مٹکا اٹھایا، اسے کھولا، اور اندر دیکھا۔ مٹکے میں سے سفید دھواں…

Read more

ایک شہر میں ایک قاضی صاحب رہتے تھے۔ بظاہر نہایت سنجیدہ، باوقار اور دیانتدار شخصیت کے مالک… مگر ایک معاملے میں انہوں نے ایسی راہ اختیار کر لی جو آگے چل کر ان کے لیے آزمائش بن گئی۔ انہوں نے خاموشی سے دوسری شادی کر لی…مگر پہلی بیگم کو اس کا علم نہ ہونے دیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ پہلی بیگم نہ صرف سمجھدار تھیں بلکہ ایک مضبوط خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ اگر بات کھل جاتی، تو صرف گھر نہیں بلکہ پورا خاندان میدان میں آ جاتا۔ وقت گزرتا گیا…مگر انسان چاہے جتنا بھی راز چھپائے، رویے بدل ہی جاتے ہیں۔ بیگم نے محسوس کیا کہ قاضی صاحب کے انداز، ان کی باتوں کا لہجہ، ان کی مصروفیات سب کچھ پہلے جیسا نہیں رہا۔شک نے جنم لیا… اور پھر وہی ہوا جو ہوتا ہے: باتوں سے بحث،بحث سے تکرار،اور تکرار سے جھگڑا۔ قاضی صاحب نے ہر ممکن کوشش کی…

Read more

قدیم یونان کے شہر ایتھنز میں ایک ایسا شخص گزرا ہے جس کے ہاتھوں میں جادو تھا۔ اس کا نام تھا ڈیڈیلس۔ وہ لکڑی، پتھر اور دھات کا ایسا ماہر تھا کہ لوگ کہتے تھے: “دیوتاؤں نے اسے خاص تحفہ دیا ہے۔” وہ پہلا شخص تھا جس نے چیزوں کو گوند سے جوڑنا سیکھا۔ اس نے مجسمے بنائے جو خود چلتے پھرتے تھے، اس نے ایسی مشینیں بنائیں جو پانی اٹھا لے جاتی تھیں، اس نے تعمیر کے ایسے راز دریافت کیے جو آج بھی معماروں کو حیران کر دیتے ہیں۔ ایتھنز کے لوگ اسے “عظیم کاری گر” کہتے تھے۔ بادشاہ اسے اپنے محل بلاتا، شہزادے اس سے فن سیکھتے، اور عام لوگ اس کے کام کو دیکھ کر حیران رہ جاتے۔ ڈیڈیلس کو اپنی مہارت پر بہت فخر تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس جیسا کوئی نہیں۔ ڈیڈیلس کی ایک بہن تھی جس کا نام تھا پولی کاسٹی۔ اس…

Read more

اس سے پہلے کہ آپ کسی فیاض یا سخی انسان کی تعریفوں کے پل باندھیں… یہ کہانی ضرور پڑھ لیں۔چوہوں کی بستی میں ‘اوکے’ نامی ایک نوجوان چوہا رہتا تھا۔ وہ بظاہر بڑا رحم دل اور سخی تھا، اسی لیے سب اسے بہت پسند کرتے تھے۔اوکے کی عادت تھی کہ وہ دوسروں کی مدد کرتا تھا۔ وہ بیواؤں کا خیال رکھتا، یتیموں کی سرپرستی کرتا اور اس نے بستی کے بڑے پادری (کاہن) کے لیے گھر بھی بنوایا۔ اس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ بستی کی عبادت گاہ میں کبھی کسی چیز کی کمی نہ ہو۔جلد ہی اوکے کی شہرت پوری بستی میں پھیل گئی۔ چوہوں کے بادشاہ نے جب اس کی سخاوت کے چرچے سنے تو اسے ایک خطاب سے نوازا:’ایجی اماتو‘ یعنی ’مثالی شخصیت‘۔اوکے اب بادشاہ کا خاص دوست بن چکا تھا۔مگر ایک ایسا راز تھا جسے سب نظر انداز کر رہے تھے۔اوکے کی دولت چوری…

Read more

قدیم ہندوستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک برہمن رہتا تھا۔ وہ بہت سادہ دل تھا، بہت ایماندار تھا۔ اسے لوگوں پر بہت بھروسہ تھا — اتنا کہ کبھی کبھی وہ جھوٹ کو بھی سچ سمجھ بیٹھتا تھا۔ ایک دن اس نے ایک بڑی تقریب میں حصہ لیا۔ تقریب کے بعد لوگوں نے اسے ایک بکری تحفے میں دی۔ برہمن بہت خوش ہوا۔ اس نے بکری کو اپنے کندھے پر اٹھایا اور گھر کی طرف چل دیا۔ وہ جنگل کے راستے سے جا رہا تھا۔ اتنے میں تین بدمعاشوں نے اسے دیکھا۔ انہوں نے سوچا: “یہ بکری ہمیں کھانی ہے۔ لیکن یہ برہمن مضبوط ہے — چھین کر نہیں لے سکتے۔ کوئی چال چلنی پڑے گی۔” پہلا بدمعاش برہمن کے پاس آیا اور بولا: “بابا! آپ اپنے کندھے پر کتا کیوں اٹھائے پھر رہے ہیں؟ کتے کا گوشت کھانا تو آپ کے لیے مناسب نہیں۔” برہمن کو غصہ آ…

Read more

بچپن میں اک لطیفہ سنا تھا۔اک شخص کسی جرم میں جنگلی قبیلے میں پھنس گیا۔قبیلے کے سردار نے اس شخص کو دو انتخاب دیئے۔1۔ شانگالولو2۔ سزائے موتشانگالولو کیا ہے؟ اس شخص نے پوچھا۔ شانگالولویہ ہے کہ آپ کو ننگا کیا جائے گا اور قبیلے کا ہر شخص آپ کو 100 چھتر مارے گا !اس کو یہ بےعزتی لگی اور اس نے کہا مجھے سزائے موت دے دو !سرداد نے حکم دیا ۔ اس کو موت بذریعہ شانگالولو دی جائے۔ 😅😅😅ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــاگر کوئی تحریر اچھی لگے تو اسے لائیک اور شیئر ضرور کریں۔اگر آپ کہانیاں پڑھنے کے شوقین ہیں تو میری پروفائل فالو کرلیں۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

موسی علیہ السلام کے زمانے میں ایک بہت مالدار شحض کو بڑی سخت بیماری نے پکڑ لیا  بہت علاج کیا حکیموں کے پاس گیا لیکن کوئی آفاقہ نہیں ہوا سب نے کہہ دیا کہ آپکا مرض لا علاج ہے آپکا کوئی علاج نہیں اپنے اوپر دم کرتے رہنا ہمارے پاس اپکا کوئی علاج نہیں وہ بڑا پریشان ہوا چھوٹے چھوٹے بچے تھے سارا دن بیٹھ کر بچوں کو دیکھتا رہتا کہ میرے بعد ان بچوں کا کیا ہوگا انکی کفالت کون کرے گا ایک دن بیوی نے کہا کہ یہاں ایک پیغمبر ہے جنکی ہر بات سچی ہوتی ہے انکے پاس جاو وہ جو بولے گا اس میں پھر کوئی گنجائش نہیں جاو شاید وہ کوئی راستہ نکالے وہ گھر سے نکلا اور موسی علیہ السلام کے پاس گیا کہنے لگا اے اللہ کے نبی میں لاعلاج مرض میں مبتلا ہو نا امید ہو گیا ہو آپ اللہ سے دعا…

Read more

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﭼﺎﺭ ﺁﺩﻣﯽ ﻃﻠﺐ ﮐﺌﮯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﻢ ﺗﮭﺎ ، ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻋﺎﺷﻖ ﺗﮭﺎ ، ﺗﯿﺴﺮﺍ ﻧﺎﺑﯿﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺗﮭﺎ ﻏﺮﯾﺐ ﺗﮭﺎ ،،ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﻥ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺼﺮﻋﮧ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ اس کو ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﻭ ، ﻣﺼﺮﻋﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ:اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﻮﭺ ﺑﭽﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ ﺷﻌﺮ ﺑﻨﺎئے ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﮨﯿﮟ.. ﻋﺎﻟﻢ :ﺑﺖ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﺩﯾﻦ ﺍﺣﻤﺪ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ،،اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ — ﻋﺎﺷﻖ :ﺍﯾﮏ ﺳﮯ ﺟﺐ ﺩﻭ ﮨﻮﮰ ﭘﮭﺮ ﻟﻄﻒ ﯾﮑﺘﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ،،اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ — ﻧﺎﺑﯿﻨﺎ :ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻨﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﯾﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ،،اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ — ﻏﺮﯾﺐ :ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﭘﯿﺴﮯ ہیں ﻣﺼﻮﺭ ﺟﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ،،اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ —#منقولــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــاگر کوئی تحریر اچھی…

Read more

خاتون نے اپنا بیمار گدھا ؛ مکمل طور پر صحتمند بتا کر دس ہزار روپے میں بیچ دیا ۔ ۔ ایک دن بعد گدھا مر گیا۔ خریدار نے خاتون سے شکایت کی آپ نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا کہ گدھا مکمل صحتمند ہے بس ذرا موسم کی وجہ سے سست ہو رہا ہے خاتون نے کہا کہ ذندگی کی گارنٹی تو میں نے نہیں دی تھی۔ پھر بھی آپ مرا ہوا گدھا مجھے واپس پہنچادو؛ کسان نے پوچھا کہ مرے ہوئے گدھے کا آپ کیا کرو گی؟ خاتون نے کہا کہ میں ایک مہینے بعد اس مرے ہوئے گدھے کی آدھی قیمت آپکو واپس دے دوُں گی۔ کسان نے کہا منظور ہے ؛ میں مرا ہوا گدھا آپ تک پہنچا دیتا ہوں پھر ایک مہینے بعد آکر پانچ ہزار روپے لے لوں گا ۔ ۔ ۔ ایک مہینے بعد کسان واپس گیا تو دیکھا کہ خاتون کے پاس وہی…

Read more

سب سے خطرناک سودا وہ نہیں ہوتا جو آپ پر حملہ کرے۔ بلکہ وہ ہوتا ہے جو سب کچھ چھینتے ہوئے آپ کو “محفوظ” ہونے کا احساس دلائے۔وادی کے پار رہنے والے چیتوں کے ڈر سے بھیڑوں کا ایک ریوڑ ہمیشہ خوف میں رہتا تھا۔ پھر ایک بھیڑیا آیا۔ 🐺اس نے انہیں نہ دھمکایا، نہ ان کا پیچھا کیا۔ وہ چشمہ لگائے، پرسکون آواز اور ایک پیشکش کے ساتھ آیا۔اس نے کہا: “مجھے اپنی حفاظت کرنے دو۔ کوئی چیتا اس وادی کے قریب نہیں آئے گا۔ بدلے میں، میں ہر مہینے صرف ایک بھیڑ مانگوں گا۔”ریوڑ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔“صرف ایک مہینے میں؟”“یہ روز روز کے خوف میں جینے سے بہتر ہے۔”“کم از کم اب ہمیں تحفظ تو حاصل ہے۔” چنانچہ وہ راضی ہو گئے۔ شروع میں یہ سودا عقلمندی لگا۔ بھیڑیے نے چیتوں کو بھگا دیا۔ وادی میں خاموشی چھا گئی۔ خوف ختم ہونے لگا۔مہینہ در مہینہ،…

Read more

زید بن اسلم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قحط سالی کے دوران لوگ نمرود کے پاس جاتے اور غلہ لے آتے تھے۔ حضرت خلیل اللہ علیہ السلام بھی گئے، مگر بدبخت نمرود نے آپ علیہ السلام کو غلہ نہ دیا اور آپ خالی ہاتھ واپس لوٹے۔ گھر کے قریب پہنچ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دونوں بوریوں میں ریت بھر دی تاکہ گھر والے سمجھیں کہ کچھ لے آئے ہیں۔ گھر آ کر بوریوں کو رکھ کر سو گئے۔ حضرت سارہ علیہا السلام اٹھیں، بوریوں کو کھولا تو دیکھیں کہ وہ عمدہ اناج سے بھری ہوئی ہیں۔ کھانا پکا کر تیار کیا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آنکھ کھلی اور کھانا دیکھا تو پوچھا، “یہ اناج کہاں سے آیا؟” حضرت سارہ علیہا السلام نے کہا، “وہی بوریوں میں سے نکالا جو آپ لے کر آئے تھے۔” آپ سمجھ گئے کہ یہ خدا کی برکت اور رحمت ہے۔…

Read more

اس کہانی کا مفہوم اور پیغام بہت گہرا ہے۔ تیاری کی حکمت: ایک سبق آموز کہانیکچھ لوگ مشکل وقت میں بھی پرسکون نظر آتے ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ ہے:وہ دباؤ آنے سے پہلے ہی اپنی تیاری مکمل کر چکے ہوتے ہیں۔ایک پُرسکون جنگل میں، ایک جنگلی سور ایک پرانے درخت کے تنے سے اپنے دانت رگڑ کر انہیں تیز کر رہا تھا۔ دن بدن، وہ یہی کام کرتا رہا۔ آہستہ آہستہ، صبر کے ساتھ اور بغیر کسی ناغے کے۔وہاں سے ایک لومڑی گزری، اس نے سور کو دیکھا اور ہنسنے لگی۔“یہاں تو کوئی شکاری نہیں ہے۔ کوئی خطرہ بھی نہیں ہے۔ پھر تم ابھی سے اپنے دانت تیز کر کے اپنی توانائی کیوں ضائع کر رہے ہو؟” جنگلی سور نے کوئی بحث نہیں کی۔ وہ ایک لمحے تک اپنے دانت تیز کرتا رہا، پھر جواب دیا:“جب خطرہ آئے گا، تو مجھے فوراً اپنے تیز دانتوں کی ضرورت ہوگی۔…

Read more

40/104
NZ's Corner