Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

پرانے زمانے کی بات ہے، جب سفر صرف فاصلے طے کرنے کا نام نہیں تھا بلکہ انسانوں کے باطن کو بھی آشکار کر دیتا تھا۔ چند دوست ایک طویل اور تھکا دینے والے سفر پر نکلے ہوئے تھے۔ دن بھر کی گرد، دھوپ کی تپش اور مسلسل چلتے رہنے کی تھکن ان کے چہروں سے صاف جھلک رہی تھی، مگر دلوں میں منزل تک پہنچنے کی امید ابھی زندہ تھی۔ شام کے سائے گہرے ہونے لگے تو وہ ایک چھوٹی سی بستی کے قریب پہنچے، جہاں مٹی کے گھروں کے درمیان ایک گھر ایسا تھا جس کے دروازے پر ٹھہرنے والے کو عجیب سا سکون محسوس ہوتا تھا۔ اسی گھر کا مالک ایک نیک دل، سادہ مزاج اور بے مثال مہمان نواز شخص تھا۔ اس نے مسافروں کو دیکھا تو بغیر کسی سوال کے مسکرا کر بولا، “آئیے، مسافر کبھی اجنبی نہیں ہوتے”، اور انہیں اپنے گھر لے آیا۔ اس…

Read more

ایک بادشاہ اپنے غلام کے ساتھ کشتی میں سوار تھا۔ غلام نے نہ کبھی دریا دیکھا تھا، نہ ہی کشتی کا سفر کیا تھا۔ جیسے ہی کشتی پانی میں ہچکولے لینے لگی، غلام کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔ اُس کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے، اور وہ خوف سے چیخنے اور رونے لگا۔کشتی میں بیٹھے لوگ پریشان ہو گئے، اور بادشاہ کو اس کی آواز ناگوار گزرنے لگی۔ ہر کوشش ناکام ہو گئی، غلام کسی صورت خاموش ہونے کو تیار نہ تھا۔اسی دوران کشتی میں موجود ایک دانا شخص آگے بڑھا اور ادب سے بولا: “حضور! اگر اجازت ہو تو میں اسے خاموش کر سکتا ہوں۔”بادشاہ نے فوراً اجازت دے دی۔دانا نے اشارہ کیا… اور سپاہیوں نے غلام کو اچانک دریا میں دھکا دے دیا!غلام پانی میں گرا… ایک، دو، تین غوطے کھائے… زندگی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگی… وہ ہاتھ پاؤں مارتا رہا…پھر سپاہیوں نے اس کے بال پکڑ…

Read more

مصر کے ایک پرانے شہر قاہرہ میں ایک غریب مگر ذہین نوجوان رہتا تھا جس کا نام جمیل تھا۔ جمیل کے پاس دنیا کی کوئی دولت نہیں تھی، نہ گھر تھا، نہ زمین تھی، نہ اونٹ تھے۔ اس کے پاس صرف ایک چیز تھی، اس کی ماں جو بہت بوڑھی ہو چکی تھی اور جس کی آنکھیں دھندلی ہو گئی تھیں۔ وہ اپنی ماں کے لیے روزانہ شہر کی گلیوں میں بھیک مانگتا تھا اور جو کچھ ملتا، اس سے وہ دونوں اپنا پیٹ پالتے تھے۔ ایک دن جمیل نے سنا کہ شہر کے ایک بہت بڑے عالم دین نے لوگوں کے لیے اپنا دروازہ کھول رکھا ہے۔ وہ ہر آنے والے کو ایک اچھا مشورہ دیتے ہیں۔ جمیل نے سوچا کہ کیوں نہ وہ بھی اس عالم کے پاس جائے اور کوئی ایسا مشورہ لے آئے جو اس کی زندگی بدل دے۔ وہ عالم کے گھر پہنچا تو وہاں…

Read more

ایک دور دراز گاؤں تھا جہاں ہر طرف سبز کھیت، پھلدار درخت اور خوشگوار ہوائیں چلتی تھیں۔ سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا، لیکن اس کی تپش میں بھی ایک عجیب سی نرمی تھی۔ پرندے چہچہا رہے تھے، کھیتوں میں کسان محنت کر رہے تھے اور فضا میں زندگی کی ایک خاص رونق تھی۔ اسی گاؤں کے ایک کنارے پر ایک بڑا سا درخت تھا، جس کے نیچے ایک ٹڈا رہتا تھا۔ یہ ٹڈا اپنی زندگی سے بے حد خوش تھا۔ اس کے پاس نہ کوئی فکر تھی، نہ کوئی ذمہ داری۔ وہ صبح اٹھتا، درخت پر چڑھتا، دھوپ میں بیٹھ کر گانا گاتا، اور پھر سارا دن چھلانگیں لگاتا اور مزے کرتا۔ ٹڈے کو سب سے زیادہ پسند یہ تھا کہ وہ دوسروں کو کام کرتے دیکھ کر بھی ہنسے اور خود کو “آزاد روح” سمجھے۔ وہ اکثر کہتا: “زندگی کا اصل مقصد مزہ…

Read more

ایک دفعہ شیطان سڑک کنارے اداس بیٹھا تھا، پاس سے ایک گدھا گزرا۔ گدھے نے پوچھا، “استاد! خیر تو ہے؟ آج اتنے پریشان کیوں ہو؟” شیطان نے ٹھنڈی آہ بھری اور سامنے والے گھر کی طرف اشارہ کر کے بولا، “یار، اس گھر میں میاں بیوی رہتے ہیں۔ پچھلے دس سال سے میں ان میں جھگڑا کرانے کی کوشش کر رہا ہوں، پر ناکام رہا۔ بیوی اتنی سیانی ہے کہ میرا ہر وار خالی جاتا ہے۔” گدھا ہنسا اور بولا، “بس اتنی سی بات؟ یہ کام تو میں بھی کر سکتا ہوں۔”شیطان نے چیلنج قبول کر لیا۔ گدھا گیا اور اس گھر کے باہر زور زور سے “ہیں ہاوں… ہیں ہاوں” کرنا شروع کر دیا۔شوہر باہر نکلا، گدھے کو دیکھا اور بیوی سے بولا: “بیگم! دیکھو تمہارا رشتہ دار ملنے آیا ہے۔” بیوی کچن سے نکلی، ایک نظر گدھے کو دیکھا اور مسکرا کر شوہر سے بولی: “جی بالکل! سسرالی…

Read more

بہت سالوں کی بات ہے، ایران کے ایک شہر میں دو بھائی رہتے تھے۔ ایک کا نام قاسم تھا اور دوسرے کا، علی بابا۔ قاسم کی شادی ایک بہت امیر عورت سے ہوئی تھی، جس کی مدد سے اس نے ایک بڑا کاروبار سنبھال لیا اور شہر کے امیر آدمیوں میں شامل ہو گیا۔ دوسری طرف علی بابا بالکل سادہ زندگی گزار رہا تھا۔ وہ اپنی بیوی اور گدھے کے ساتھ روزانہ صبح سویرے جنگل میں جاتا، درختوں سے لکڑیاں کاٹتا اور شہر میں جا کر بیچ آیا کرتا تھا۔ ایک دن علی بابا جنگل میں اپنے معمول کے مطابق لکڑیاں کٹ رہا تھا کہ اچانک اس نے دور سے گھوڑوں کی ٹاپیں سنیں۔ اس نے جلدی سے ایک اونچے درخت پر چڑھ کر اپنے آپ کو پتوں میں چھپا لیا۔ تھوڑی دیر بعد وہاں چالیس مسلح ڈاکو گھوڑوں پر سوار ہو کر پہنچے۔ ان سب کے کندھوں پر تلواریں…

Read more

گاؤں کا ایک سادہ سا بندہ بڑے مزے سے مکئی کے گرم گرم، خوشبودار بھٹے کھا رہا تھا۔ہر دانہ ایسے چبا رہا تھا جیسے کوئی خزانہ مل گیا ہواچانک کیا ہوا… ایک سنہری سا دانہ اس کے ہاتھ سے پھسل کر زمین پر گر گیا۔پاس ہی ایک مرغا کھڑا تھا، جو پہلے ہی اس بندے کو حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا 🐔جیسے ہی دانہ گرا… مرغا بجلی کی طرح اس پر جھپٹا!لیکن… 😏مرغے سے پہلے ہی اس بندے نے “اسپیڈ” دکھائی، جھٹ سے دانہ اٹھایا اور منہ میں ڈال لیا۔ابھی وہ فاتحانہ مسکراہٹ ہی دے رہا تھا کہ…⚡ اچانک دانہ اس کی سانس کی نالی میں جا پھنسا!اب حالت یہ… 😨سانس بند… آنکھیں باہر… چہرہ لال!گاؤں والے سمجھے شاید کوئی روحانی کیفیت ہو گئی ہےوہ بیچارہ شہر کے ایک نہیں، دو نہیں بلکہ کئی ہسپتالوں کے چکر لگاتا رہا…ہر جگہ ایک ہی جواب:“بھائی! یہ تو بڑا خطرناک کیس…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ شام کے علاقے میں واقع ایک شہر، جو اپنی سرسبز وادیوں اور بلند و بالا پہاڑوں کے لیے مشہور تھا، پر ایک  بادشاہ “قسیصر” حکومت کرتا تھا۔ اس بادشاہ کا ایک بیٹا تھا جس کا نام “براق بن روحان” تھا۔ شہزادہ براق اپنی غیر معمولی خوب صورتی، بہادری اور سخاوت کے لیے پورے علاقے میں مشہور تھا۔ اس کے سنہری بال اس کے کندھوں تک لٹک رہے تھے، اس کی آنکھیں شہد جیسی مٹھاس رکھتی تھیں، اور اس کی شکل و صورت دیکھ کر ہر کوئی اپنی نظریں جھکا لیتا تھا۔ لیکن اس کی سب سے بڑی خوبی اس کی وفاداری اور اپنی قوم سے محبت تھی۔ اسی شہر میں ایک نجومی رہتا تھا جس کا نام “سابا” تھا، جو براق کا روحانی پیشوا اور معتمد خاص تھا۔ ایک دن نجومی سابا نے براق کو یہ پیشین گوئی سنائی کہ اسے اپنے شہر کے…

Read more

ایران کے ایک بادشاہ نے اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک نہایت نیک اور درویش صفت استاد کا انتخاب کیا۔ بادشاہ نے اسے بلا کر کہا “میں چاہتا ہوں کہ میرا بیٹا دین، اخلاق اور حکمت سیکھے، کیونکہ کل کو یہی شہزادہ میری سلطنت کا وارث ہوگا۔” استاد نے اس ذمہ داری کو پوری دیانت اور اخلاص کے ساتھ قبول کیا۔ اس نے شہزادے کو قرآنِ مجید کی تعلیم دی، احادیثِ مبارکہ پڑھائیں، اور اسے عدل، انصاف اور حکمت کے اصولوں سے روشناس کروایا۔ وقت گزرتا گیا اور شہزادہ علم و ادب میں پختہ ہوتا چلا گیا۔ جب اس کی تعلیم مکمل ہوئی تو دستار بندی کی تقریب ہوئی اور وہ رسمی طور پر تعلیم سے فارغ ہوگیا۔ چند دن بعد استاد نے شہزادے سے کہا “بیٹے! کل میرے پاس ضرور آنا، مجھے تم سے ایک اہم بات کرنی ہے۔ شہزادہ وقت مقررہ پر آیا۔ استاد نے…

Read more

رات صرف گہری نہیں تھی بھاری تھی۔ آسمان پر بادل اس طرح گرج رہے تھے جیسے کسی نے صدیوں کا دکھ ایک ہی رات میں زمین پر اتارنے کا فیصلہ کر لیا ہو۔ بارش کی ہر بوند چھت پر نہیں، جیسے دل پر گر رہی تھی، مسلسل، بے رحم، اور بے آواز چیخوں کے ساتھ۔ ایک کچی سی جھونپڑی کے اندر، ایک مدھم سا چراغ جل رہا تھا۔اور اس چراغ کی لو بھی جیسے تھک چکی تھی۔ وہاں ایک بیوہ عورت بیٹھی تھی، حلیمہ۔ اس کے چہرے پر وقت کے نشان تھے، آنکھوں میں وہ خالی پن، جو صرف مسلسل صبر سے پیدا ہوتا ہے، اور دل میں ایک ایسی خاموش جنگ، جس کا کوئی گواہ نہیں ہوتا۔ اس کے شوہر، اکرم، کو گزرے تین سال ہو چکے تھے، مگر اس کے جانے کے بعد جو خلا پیدا ہوا تھا، وہ وقت بھی پُر نہ کر سکا۔ کونے میں اس…

Read more

حضرت موسیٰ علیہ السلام جب سرزمینِ شام کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے تو بلقاء کے علاقے میں ایک شخص رہتا تھا جس کا نام بلعام بن باعوراء تھا۔ وہ اپنی قوم میں اس وجہ سے مشہور تھا کہ اس کی دعائیں قبول ہوتی تھیں اور اسے خاص روحانی علم عطا کیا گیا تھا، یہاں تک کہ بعض روایات کے مطابق وہ اسمِ اعظم سے واقف تھا۔ اس کی قوم نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی آمد کی خبر سنی تو وہ خوف زدہ ہو گئے۔ وہ بلعام کے پاس آئے اور کہنے لگے۔ “موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ آ رہے ہیں، وہ ہمیں ہمارے گھروں سے نکال دیں گے، ہماری زمینوں پر قبضہ کر لیں گے۔ تم ہمارے لیے دعا کرو کہ وہ یہاں نہ آ سکیں۔ بلعام نے حقیقت جانتے ہوئے جواب دیا: “افسوس ہے تم پر! وہ اللہ کے نبی…

Read more

ایک گاؤں کا سکھ، چین اور آرام سے بھرا ماحول، جہاں ایک چوہدری صاحب رہتے تھے۔ چوہدری صاحب خود کو بہت سیانا سمجھتے تھے، لیکن درحقیقت وہ کافی بھولے تھے۔ ان کے گھر کے پاس ایک حجام کی دکان تھی، جس کا مالک جیدا نامی ایک مکار شخص تھا۔چوہدری: (جیدے کی دکان پر حجامت کراتے ہوئے، فخر سے) “جیدے! میرے جیسا کوئی سیانا آدمی اس گاؤں میں ہے؟”جیدا: (مکار مسکراہٹ کے ساتھ) “بالکل نہیں چوہدری صاحب! آپ تو عقل کے سمندر ہیں۔ لیکن… آپ کو معلوم ہے، شہر کے لوگ ایک ایسی ترکیب جانتے ہیں جس سے عقل اور بھی بڑھ جاتی ہے۔”چوہدری: (شوق سے) “کیا؟ وہ کون سی ترکیب ہے؟”جیدا: “شہر کے لوگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ہفتے میں ایک بار اپنے بال ‘الٹے’ کٹوائے، تو اس کی عقل دگنی ہو جاتی ہے۔ میں تو یہ کام صرف خاص لوگوں کے لیے کرتا ہوں۔”چوہدری: (خوشی سے) “جیدے!…

Read more

کہتے ہیں ایک زمانے میں ایک چرواہا لڑکا تھا۔ وہ ہر روز اپنی بکریاں لے کر گاؤں سے دور جنگل میں چرایا کرتا تھا۔ لوگ اسے سمجھاتے کہ کہیں بھیڑیا نہ آ جائے، لیکن وہ کسی کی سنتا نہ تھا۔ اس نے ایک دن سوچا، کیوں نہ گاؤں والوں کے ساتھ تھوڑا مذاق کیا جائے۔ چنانچہ اس نے اونچی آواز میں چلانا شروع کر دیا، “بھائیو! بھیڑیا آ گیا، بھیڑیا آ گیا، میری مدد کرو!” یہ سن کر سارے گاؤں والے ہتھیار لے کر جنگل کی طرف دوڑ پڑے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ نہ تو کوئی بھیڑیا ہے اور نہ ہی کوئی خطرہ۔ چرواہا ان کو دیکھ کر خوب ہنسا۔ لوگ بہت غصے ہوئے اور اسے سمجھا کر واپس چلے گئے۔ چند روز بعد اس نے پھر وہی شرارت کی۔ لوگ پھر دوڑے آئے، اور پھر وہاں کچھ نہ تھا۔ اس بار لوگوں نے پکّا فیصلہ کر…

Read more

دو دوست ایک بینک میں ملازم تھے۔ انہیں عیدِ قربان کے لیے بکرا خریدنا تھا۔ وہ بینک سے سیدھے پینٹ کوٹ پہنے اور ٹائی لگائے مویشیوں کی منڈی پہنچ گئے۔ گاڑی پارک کرنے کے بعد انہوں نے منڈی کا جائزہ لیا کہ آخر شروعات کہاں سے کی جائے۔ سڑک کے دونوں اطراف تقریباً ایک کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر جانور ہی جانور نظر آ رہے تھے۔ جہاں گاڑی کھڑی کی تھی، وہیں سے بھاؤ تاؤ شروع کر دیا۔ جو بکرا آنکھوں کو ذرا بھاتا، اس کی قیمت پچاس ہزار کی حد باآسانی عبور کر رہی ہوتی تھی۔ چونکہ دن کی چائے پر دونوں نے اپنا بجٹ پچاس ہزار روپے مقرر کیا تھا، اس لیے انہوں نے ایسے بکروں پر نظر ڈالنی شروع کی جو قدرے کم خوبصورت اور جسامت میں دبلے پتلے ہوں۔ مگر انتہائی کوشش اور تلاش کے باوجود کوئی بھی بکرا ستر ہزار سے کم کا نہ ملا۔…

Read more

کسی ملک میں ایک امیر سوداگر رہتا تھا۔ اس کی تین خوبصورت اور نیک بیٹیاں تھیں جو اس کی آنکھوں کا تارا تھیں۔ ایک دفعہ سوداگر کو کسی دوسرے ملک میں مال خریدنے کے لیے جانا پڑا۔ اس نے اپنی لڑکیوں کو بلایا اور پیار سے پوچھا، “میرے بچّو! بتاؤ، میں تمہارے لیے کیا تحفہ لا سکتا ہوں؟” بڑی لڑکی نے اپنی مرضی کے ایک نئے کوٹ کے لیے فرمائش کی۔ منجھلی لڑکی نے بھی کوٹ ہی کو پسند کیا۔ لیکن جب اس کی چھوٹی اور سب سے لاڈلی بیٹی کی باری آئی تو اس نے کاغذ کا ایک ٹکڑا اٹھایا، اس پر ایک پھول بنا دیا اور کہنے لگی، “ابا جان! میرے لیے بالکل اس طرح کا ایک پھول لانا۔” سوداگر نے اپنی بیٹیوں سے وعدہ کیا اور اپنے سفر پر روانہ ہو گیا۔ وہ بہت عرصے تک مختلف ممالک میں گھومتا رہا اور بڑی بیٹیوں کے لیے کوٹ…

Read more

کہتے ہیں کہ ایک زمانہ تھا جب زمین پر عدل کا سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا، اور اس عدل کے سائے میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکمرانی قائم تھی وہ بادشاہ جن کے سامنے نہ صرف انسان بلکہ پرندے، جانور اور جنات بھی سرِ تسلیم خم کرتے تھے۔ اسی دور میں ایک سادہ سا چرواہا تھا، جو آپ علیہ السلام کی بھیڑوں کی نگہبانی کیا کرتا تھا۔وہ نہ کوئی عالم تھا، نہ کوئی سردار، مگر اپنے فرض میں سچا اور دل سے مخلص تھا۔ ایک دن، جب وہ میدان میں اپنی بھیڑوں کے ساتھ مصروف تھا، اچانک ایک بھیڑیا نمودار ہوا۔مگر یہ کوئی عام بھیڑیا نہ تھا وہ بولا: “اے چرواہے! مجھے ان بھیڑوں میں سے ایک بھیڑ دے دو۔ چرواہا چونک گیا، اس نے حیرت سے کہا: “یہ بھیڑیں میرے اختیار میں نہیں، یہ تو حضرت سلیمان علیہ السلام کی ہیں، میں تو صرف…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بھیڑیا ندی کے کنارے کھڑا تھا۔ اس نے دیکھا کہ نیچے کی طرف ایک بھیڑ کا بچہ پانی پی رہا ہے۔ بھیڑیا نے سوچا کہ اس بچے کو کھانے کا کوئی بہانہ بنایا جائے۔ وہ اونچی آواز میں بولا، “تو نے میرا پانی کیوں گندا کیا؟” بھیڑ کے بچے نے ڈرتے ہوئے کہا، “بھائی صاحب! آپ تو اوپر کی طرف ہیں اور میں نیچے کی طرف۔ پانی اوپر سے نیچے بہتا ہے، تو میں آپ کا پانی کیسے گندا کر سکتا ہوں؟” بھیڑیا پھر بولا، “تو پھر تم نے پچھلے سال مجھے گالیاں کیوں دی تھیں؟” بچہ بولا، “بھائی صاحب، میں تو پچھلے سال پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔” بھیڑیا غصے میں بولا، “پھر یہ غلطی تمہارے باپ نے کی ہوگی، لیکن سزا تمہیں ملے گی۔” یہ کہہ کر بھیڑیا بچے پر جھپٹا اور اسے کھا گیا۔ سبق: ظالم کو بہانے کی ضرورت…

Read more

ناروے کے ایک برفیلے جنگل میں ایک لومڑی رہتی تھی۔ سردیوں کی ایک رات جب برف گِر رہی تھی اور ہوا نے اپنی سیٹیاں بجا کر ان برفیلے پہاڑوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، تو اس لومڑی نے محسوس کیا کہ اس کی جان نکل رہی ہے۔ اس نے سوچا کہ وہ جم کر مر جائے گی۔ اتنی سردی میں بچنے کے لیے اسے کسی گرم چیز کی ضرورت تھی۔ اس نے اپنے پیروں کی طرف دیکھا، برف کے گولے ان سے لپٹے ہوئے تھے۔ اس نے اپنے آپ سے کہا: “صبح ہوتے ہی میں درختوں کی چھال سے ایک کمبل بنا لوں گی۔ اس کمبل سے میں اپنے آپ کو ڈھانپ لوں گی اور بچ جاؤں گی۔” اس نے خود کو یقین دلایا اور سو گئی۔ جب صبح ہوئی تو سورج نکلا اور اس کی کرنیں برف پر چمکنے لگیں۔ لومڑی نے دیکھا کہ اب سردی اتنی نہیں…

Read more

آئرلینڈ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں تھامس نامی ایک نوجوان رہتا تھا۔ وہ اپنی بیوی، اور اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتا تھا۔ ایک سال آلو کی فصل تباہ ہو گئی۔ لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہ رہا۔ تھامس نے مجبوراً اپنے مالک کی زمینوں میں شکار کرنے کا فیصلہ کیا  حالانکہ اس کی سزا موت تھی۔ تھامس سارا دن جنگل میں بھٹکتا رہا، لیکن اسے کوئی جانور نہ ملا۔ شام کو جب وہ واپس ہونے لگا تو اسے ایک خوبصورت ہرن نظر آیا۔ جب اس نے ہرن کو مارنے کے لیے تیر چڑھایا تو ہرن بول پڑا، “مجھے مت مارو! میں تمہاری ایک خواہش پوری کروں گا۔ کل صبح اس جگہ آ جانا اور اپنا جواب بتا دینا۔” تھامس حیران تھا، لیکن اس نے ہرن کو جانے دیا۔ گھر واپس آ کر اس نے اپنے باپ سے مشورہ کیا۔ باپ نے…

Read more

ہر مسئلہ کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہوتا ہےمگر اصل کامیاب وہی ہوتا ہےجو مشکل وقت میں گھبراہٹ نہیں بلکہ عقل سے کام لیتا ہے۔ زندگی میں بھی اکثر ہمایسے حالات میں پھنس جاتے ہیںجہاں آگے خطرہ…پیچھے خطرہ…اور نیچے بھی خطرہ ہوتا ہے۔ آپ کے خیال میں اس مسئلے کا بہترین حل کیا ہے؟اگر آپ اس لڑکے کی جگہ ہوتےتو کیا کرتے؟ اپنی رائے ضرور دیںاور دیکھیں کون سب سے بہترین حل بتاتا ہے!

180/583
NZ's Corner