Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

ایک دن ہوا اور سورج آپس میں بحث کر رہے تھے۔ دونوں میں سے ہر ایک کہہ رہا تھا کہ میں زیادہ طاقتور ہوں۔ ہوا بولی: “میں اتنی طاقتور ہوں کہ درخت اکھاڑ سکتی ہوں، چھتیں اڑا سکتی ہوں، سمندر میں لہریں کھڑی کر سکتی ہوں۔” سورج بولا: “طاقت صرف تباہ کرنے میں نہیں ہوتی۔ دیکھتے ہیں کون زیادہ طاقتور ہے۔” اتنے میں انہوں نے نیچے ایک مسافر کو دیکھا۔ وہ گرمی سے بچنے کے لیے اپنی چادر اوڑھے چلا جا رہا تھا۔ سورج بولا: “دیکھ، وہ مسافر چادر اوڑھے ہوئے ہے۔ جو اس کی چادر اتار دے، وہ زیادہ طاقتور۔” ہوا بولی: “یہ تو بہت آسان ہے۔ پہلے میں کوشش کرتی ہوں۔” ہوا زور سے چلنے لگی۔ اس نے تیز جھونکے بھیجے۔ مسافر کی چادر اڑنے لگی۔ اس نے چادر کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ ہوا نے اور زور کیا۔ مسافر نے چادر کو اور مضبوطی سے تھام لیا۔…

Read more

ایک مرتبہ ایک شخص کے گھر چوری ہو گئی۔ چور اُسی محلے کے تھے۔ انہوں نے اسے پکڑ کر زبردستی یہ حلف لے لیا کہ اگر اُس نے کسی کو اُن کا نام بتایا تو اُس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی۔ مجبور انسان نے جان بچانے کے لیے یہ قسم کھا لی۔ چور سارا سامان لے گئے اور وہ بے چارہ سخت پریشانی میں مبتلا ہو گیا۔ اب عجیب کشمکش تھی:اگر چوروں کا نام بتاتا ہے تو مال واپس مل سکتا ہے مگر بیوی ہاتھ سے جا سکتی ہے،اور اگر خاموش رہتا ہے تو بیوی تو محفوظ رہے گی مگر گھر لُٹ جائے گا۔ اسی پریشانی میں وہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں حاضر ہوا۔ امام صاحب نے اس کے چہرے پر غم کے آثار دیکھے اور فرمایا: “آج تم بہت اداس ہو، کیا معاملہ ہے؟” وہ بولا: “حضرت! میں کھل کر کچھ کہہ بھی…

Read more

ایک بادشاہ تھا۔ وہ بہت لالچی تھا۔ اس کے پاس اتنا سونا تھا کہ اس کے محل کے تہہ خانے بھرے ہوئے تھے۔ اتنا چاندی تھا کہ اس کے گوداموں میں جگہ نہیں بچی تھی۔ اتنے ہیرے جواہرات تھے کہ اس کے خزانوں کے دروازے بند نہیں ہوتے تھے۔ لیکن وہ پھر بھی خوش نہیں تھا۔ وہ ہر روز سوچتا: “اور چاہیے۔ مجھے اور چاہیے۔” اس نے اپنے وزیر سے کہا: “دنیا کا سب سے امیر آدمی کون ہے؟” وزیر نے کہا: “بادشاہ سلامت! آپ ہی دنیا کے سب سے امیر آدمی ہیں۔” بادشاہ نے کہا: “پھر میں خوش کیوں نہیں ہوں؟” وزیر چپ رہا۔ اسے جواب نہیں معلوم تھا۔ ایک دن بادشاہ کے دربار میں ایک درویش آیا۔ اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔ نہ سونا، نہ چاندی، نہ کپڑے۔ اس کے پاس صرف ایک ٹوٹی ہوئی چادر تھی اور ایک مٹی کا کٹورا۔ بادشاہ نے کہا: “تم بہت…

Read more

قدیم عرب کے ایک قصے کے مطابق، ایک طاقتور بادشاہ کو شکار کا بہت شوق تھا۔ اس کے پاس ایک ایسا عقاب تھا جسے اس نے بچپن سے پالا تھا اور وہ اسے اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتا تھا۔ وہ عقاب ہمیشہ بادشاہ کے کندھے پر بیٹھتا اور شکار میں اس کا بہترین ساتھی ثابت ہوتا۔تلاشِ آبایک دن بادشاہ اپنے چند سپاہیوں کے ساتھ ایک تپتے ہوئے صحرا میں شکار کے لیے نکلا۔ تپش اتنی شدید تھی کہ مشکیزوں کا پانی ختم ہو گیا اور بادشاہ اپنے قافلے سے بچھڑ کر تنہا رہ گیا۔ پیاس کے مارے اس کا برا حال تھا اور وہ سائے اور پانی کی تلاش میں بھٹک رہا تھا۔کافی دیر بعد اسے ایک پہاڑی کے دامن میں چٹان سے قطرہ قطرہ ٹپکتا ہوا پانی نظر آیا۔ بادشاہ نے خوشی سے اپنا پیالہ نکالا اور بڑی محنت اور صبر سے ان قطروں کو پیالے میں جمع…

Read more

افریقہ کے ایک گھنے جنگل میں ایک کچھوا رہتا تھا۔ وہ بہت سست تھا، لیکن اس کی زبان بہت تیز تھی۔ وہ ہر وقت بکتا رہتا، دوسروں کی باتیں کرتا، ان پر تنقید کرتا، ان کا مذاق اڑاتا۔ جنگل کے دوسرے جانور اس سے تنگ آ چکے تھے۔ لیکن کچھوا کسی کی بات نہیں سنتا تھا۔ ایک دن کچھوا درخت کے نیچے بیٹھا بکتا ہوا تھا کہ اوپر سے ایک عقاب وہاں آیا۔ عقاب بہت بڑا تھا، بہت طاقتور تھا۔ اس کے پر پھیلے ہوئے تھے، اس کی آنکھیں تیز تھیں۔ کچھوا نے اوپر دیکھا اور بولا: “او عقاب! تو بہت بڑا ہے، لیکن کیا فائدہ؟ تیرے پر تو ہیں، لیکن تو کہاں اڑ سکتا ہے؟ تیری آنکھیں تو ہیں، لیکن تو کیا دیکھ سکتا ہے؟” عقاب نے کچھ نہ کہا۔ وہ خاموش کھڑا رہا۔ کچھوا بولا: “مجھے بتا، کیا تو سچ میں اتنا اونچا اڑ سکتا ہے جتنا لوگ…

Read more

جاپان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک مجسمہ ساز رہتا تھا۔ وہ بہت مشہور تھا۔ لوگ دور دور سے اس کے پاس مجسمے بنوانے آتے تھے۔ وہ دیوتاؤں کے مجسمے بناتا، بادشاہوں کے مجسمے بناتا، جنگجوؤں کے مجسمے بناتا۔ لیکن اس کی سب سے مشہور تخلیق ایک مجسمہ تھا  ہنستا ہوا بدھ۔ وہ مجسمہ اتنا خوبصورت تھا کہ لوگ اسے دیکھ کر خود بخود مسکرا دیتے تھے۔ اس کے چہرے پر ایسی مسکراہٹ تھی جیسے وہ کہہ رہا ہو: “سب ٹھیک ہے۔ فکر مت کرو۔” ایک دن شہر کا امیر ترین آدمی آیا۔ اس نے مجسمہ ساز سے کہا: “میرے لیے بھی ویسا ہی مجسمہ بنا دو۔ میں دگنا پیسے دوں گا۔” مجسمہ ساز نے کہا: “میں ویسا ہی نہیں بنا سکتا۔ ہر مجسمہ الگ ہوتا ہے۔” امیر آدمی نے کہا: “تو پھر اس سے بھی خوبصورت بنا دو۔ تگنا پیسے دوں گا۔” مجسمہ ساز نے کہا: “میں کوشش…

Read more

یہ کہانی ایک گہرے سبق پر مبنی ہے کہ دوسروں کی نقل کرنا ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتا، کیونکہ ہر جاندار کی ساخت اور ضرورت مختلف ہے۔دوسروں کی زندگی کی نقل کرنا چھوڑ دو، تمہاری زندگی کا نقشہ مختلف بنایا گیا ہےسوانا (افریقہ کے گھاس کے میدانوں) میں ایک لکڑبگھا رہتا تھا جو صبح سے شام تک جدوجہد کرتا رہتا۔ اس کی پسلیاں نکلی ہوئی تھیں اور آنکھوں میں ایسی تھکن چھائی تھی جسے نیند کبھی دور نہیں کر پاتی تھی۔ وہ جتنی بھی سخت دوڑ لگاتا، جتنا بھی دور نکل جاتا، اس کے پیٹ میں کچھ بھی اتنی دیر نہ ٹکتا کہ اسے سکون مل پائے۔ایک تپتی دوپہر، وہ رک گیا۔گھاس کے اس پار ایک بکری کھڑی تھی: پرسکون، شکم سیر، اور تپش، بھوک یا دنیا کی اس بے ہنگم بھاگ دوڑ سے بے نیاز۔ لکڑبگھے نے ایک طویل لمحے تک اسے دیکھا اور پھر اس کے قریب گیا۔“اے…

Read more

جنگل میں آئے دن جھگڑے اور فسادات ہوتے رہتے تھے۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر خون بہہ جاتا، اور ہر طرف خوف، نفرت اور بدنظمی کا راج تھا۔ چند امن پسند، سمجھدار اور سچے دل کے جانور آخرکار شیر کے دربار میں حاضر ہوئے۔ وہ گڑگڑاتے ہوئے بولے: حضور! کچھ کیجیے۔ اس ریاست میں ہمارا جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی جان سے جاتا ہے۔ ظلم، ناانصافی اور نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔” شیر نے انہیں انصاف کا یقین دلایا، تسلی دی اور دربار برخاست کر دیا۔ اجلاس کے بعد شیر نے اپنی وزیرِاعظم لومڑی کو بلایا اور پوچھا:“یہ سب لڑائی جھگڑوں اور بدنظمی کی اصل وجہ کیا ہے؟” لومڑی نے بڑے اعتماد سے جواب دیا:جنابِ والا! رعایا میں شعور کی شدید کمی ہے۔ وہ نہ اپنے حقوق کو پہچانتی ہے اور نہ اپنے فرائض کو سمجھتی ہے۔ انہیں بات کی گہرائی میں جانے کی عادت بھی نہیں۔”…

Read more

ایک بادشاہ تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ تین سوالوں کے جواب جان لے تو کبھی کامیابی سے محروم نہ ہوگا۔ وہ تین سوال تھے: 1. ہر کام کرنے کا صحیح وقت کیا ہے؟2. سب سے ضروری لوگ کون ہیں؟3. سب سے اہم کام کیا ہے؟ اس نے پورے ملک میں اعلان کرا دیا کہ جو ان تین سوالوں کا جواب دے گا، اسے بہت بڑا انعام ملے گا۔ بہت سے عقلمند آئے۔ ان کے جوابات مختلف تھے۔ کسی نے کہا: “ہر کام کا وقت پہلے سے طے کر لو۔ ایک وقت نامہ بنا لو اور اس پر چلو۔”کسی نے کہا: “صحیح وقت کو پہچاننا ناممکن ہے۔ اس لیے ہر وقت تیار رہو۔”کسی نے کہا: “اپنے آس پاس کے لوگوں کو دیکھو۔ جو ہو رہا ہے، اس کے مطابق فیصلہ کرو۔” دوسرے سوال پر کسی نے کہا: “سب سے ضروری لوگ مشیر ہیں۔”کسی نے کہا: “پادری۔”کسی نے کہا: “ڈاکٹر۔”کسی…

Read more

حافظ ابنِ عساکر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تاریخ میں حماد بن محمد کی سند سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کچھ عجیب و غریب سوالات کے جوابات دریافت کیے، تو آپ رضی اللہ عنہما نے نہایت حکمت سے یوں رہنمائی فرمائی: سوال: وہ کیا چیز ہے جس میں نہ گوشت ہے نہ خون، مگر وہ بولتی ہے؟جواب: وہ جہنم ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا:هَلِ امْتَلَأْتِ“کیا تو بھر گئی؟”تو وہ کہے گی:هَلْ مِنْ مَزِيدٍ“کیا کچھ اور بھی ہے؟” سوال: وہ کیا چیز ہے جس میں نہ گوشت ہے نہ خون، مگر وہ دوڑتی ہے؟جواب: وہ عصائے موسیٰ ہے، جو سانپ بن کر دوڑنے لگتا تھا۔ سوال: وہ کیا چیز ہے جس میں نہ گوشت ہے نہ خون، مگر وہ سانس لیتی ہے؟جواب: وہ صبح ہے، کیونکہ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا ہے:وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ“قسم ہے…

Read more

ہر آنسو ہمدردی کا حقدار نہیں ہوتا ، کچھ جال ہوتے ہیںجنگل میں وہ چاندی کا واحد پیالہ بندر کی ملکیت تھا۔وہ ہر شام بلا ناغہ ندی پر جاتا اور اپنے بوڑھے والدین کے لیے پانی لاتا، جن کے ہاتھ اب اتنے کمزور ہو چکے تھے کہ وہ ایک لوٹا تک نہیں اٹھا سکتے تھے۔ وہ پیالہ کوئی دکھاوا یا غرور کی چیز نہیں تھی، بلکہ وہ ایک خاموش روزمرہ کی خدمت تھی جس نے دو ضعیف زندگیوں کو سہارا دے رکھا تھا۔وہ پیالہ دراصل زندگی کی بقا تھا۔ایک دوپہر لنگور (ببون) بھاگتا ہوا آیا۔ اس کے بال گرد آلود تھے، آنکھیں سرخ تھیں اور آواز اس قدر کانپ رہی تھی کہ الفاظ بمشکل ادا ہو رہے تھے۔“میرا اکلوتا بیٹا پیاس سے مر رہا ہے،” وہ چلایا۔ “مجھے اپنا پیالہ ادھار دے دو۔ میں اپنے باپ کی قبر کی قسم کھاتا ہوں، سورج ڈھلنے سے پہلے واپس کر دوں گا۔”بندر…

Read more

ایک بادشاہ تھا۔ اس کی چار بیویاں تھیں۔ وہ ان سے مختلف انداز میں محبت کرتا تھا۔ پہلی بیوی سب سے زیادہ قریب تھی۔ اس کے ساتھ وہ ہر وقت رہتا، ہر بات کرتا، ہر خوشی بانٹتا۔ وہ اس کے لیے سب کچھ تھی۔ دوسری بیوی سے بھی وہ محبت کرتا تھا، لیکن اتنی نہیں جتنی پہلی سے۔ وہ اس کے ساتھ بھی وقت گزارتا، لیکن کبھی کبھار۔ تیسری بیوی کو وہ کبھی کبھی یاد کرتا۔ اس سے اس کی ملاقات کم ہوتی تھی، لیکن وہ اس کی خوبصورتی پر فخر کرتا تھا۔ چوتھی بیوی سب سے زیادہ دور تھی۔ وہ اس پر توجہ نہیں دیتا تھا۔ وہ اس کے بارے میں سوچتا بھی کم تھا۔ لیکن وہ بیوی بہت وفادار تھی۔ وہ ہر کام کرتی، ہر تکلیف سہتی، اور کبھی شکایت نہیں کرتی۔ ایک دن بادشاہ بیمار ہو گیا۔ وہ مرنے لگا۔ اس نے اپنی سب سے پیاری بیوی …

Read more

سچائی اور محدود بصیرت: الو کی کہانی کچھ لوگ سچائی کو اس لیے رد نہیں کرتے کہ وہ غلط ہے، بلکہ وہ اسے اس لیے ٹھکراتے ہیں کیونکہ وہ ان کے محدود مشاہدے میں نہیں آتی۔ایک قدیم جنگل میں، الو کو سب سے دانا مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ اس کی عنبر جیسی آنکھیں گہرے اندھیرے کو چیر سکتی تھیں۔ رات کے سائے میں کوئی چوہا اس سے چھپ نہیں سکتا تھا۔ الو کے لیے اندھیرا خوفناک نہیں بلکہ جانا پہچانا اور یقینی تھا؛ یہی وہ دنیا تھی جسے وہ سمجھتا تھا۔لیکن جیسے ہی صبح ہوتی، سب کچھ بدل جاتا۔ 🌿جیسے ہی روشنی کی پہلی کرن پتوں سے چھن کر آتی، الو درخت کے کھوکھلے تنے میں چھپ جاتا اور درد کی وجہ سے آنکھیں بند کر لیتا۔ الو کے لیے دن کی روشنی خوبصورتی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا اندھیر کرنے والا خلا تھا جو ان تمام چیزوں کو مٹا…

Read more

ہندوستان کے ایک گاؤں میں چار بوڑھے رہتے تھے۔ وہ بچپن کے دوست تھے۔ ساری زندگی انہوں نے ایک ساتھ کام کیا، ایک ساتھ کھایا، ایک ساتھ باتیں کیں۔ اب وہ بوڑھے ہو چکے تھے، بال سفید ہو گئے تھے، ہاتھ کانپنے لگے تھے۔ ایک دن وہ درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ ان کی باتیں چل رہی تھیں۔ پہلا بوڑھا بولا: “ہم نے ساری زندگی کام کیا، لیکن کبھی آرام نہیں کیا۔ اب مرنے سے پہلے کچھ ایسا کریں جو یاد رہے۔” دوسرے نے کہا: “کیا کریں؟ ہم بوڑھے ہیں، ہاتھ نہیں چلتے، ٹانگیں نہیں چلتیں۔” تیسرے نے کہا: “ہماری عقل تو چلتی ہے۔ عقل سے کچھ کریں۔” چوتھے نے کہا: “چلو، اس درخت کو دیکھو۔ یہ بہت پرانا ہے، بہت بڑا ہے۔ لوگ اسے کاٹنا چاہتے ہیں۔ ہم اسے بچائیں۔” انہوں نے سوچا: “لوگوں کو کیسے بتائیں کہ یہ درخت خاص ہے؟” پہلے بوڑھے نے کہا: “میں جاؤں گا…

Read more

ایک وسیع و عریض سلطنت میں، لوگ ہر چند سال بعد ایک قدیم درخت کے نیچے جمع ہوتے تھے جسے “صداؤں کا درخت” کہا جاتا تھا۔ وہاں وہ اپنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے تھے جو “قیادت کا تاج” پہنے۔ لیکن وہ تاج کوئی عام زیور نہ تھا—وہ لوگوں کی امیدوں، پسینے اور قربانیوں سے چمکتا تھا۔ ہر شخص ایک حقیقت جانتا تھا: یہ تاج کبھی کسی کی ملکیت نہیں ہوتا، بلکہ صرف ادھار دیا جاتا ہے۔جب کسی رہنما کا انتخاب ہوتا، تو بزرگ کہتے: “اسے ہلکا محسوس کرتے ہوئے پہننا، کیونکہ یہ بہت سے لوگوں کی مرضی پر ٹکا ہوا ہے۔”شروع میں، ہر نیا حکمران عاجزی سے چلتا۔ وہ کسانوں، تاجروں، اساتذہ اور بچوں کی بات سنتے۔ وہ احتیاط سے حکومت کرتے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر وہ ناکام ہوئے تو تاج واپس لیا جا سکتا ہے۔لیکن وقت دلوں کو بدلنے کا ہنر جانتا تھا۔ایک حکمران،…

Read more

ایک غریب کسان تھا۔ اس کے پاس ایک چھوٹا سا کھیت تھا، ایک بوڑھی گائے تھی، اور ایک جھونپڑی تھی۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔ دونوں بہت غریب تھے، لیکن ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے تھے۔ ایک دن کسان کھیت میں کام کر رہا تھا۔ شام ہو رہی تھی، وہ تھک کر واپس جا رہا تھا کہ اس نے راستے میں ایک عجیب سا درخت دیکھا۔ درخت چمک رہا تھا، اس کی شاخوں پر روشنی تھی۔ وہ قریب گیا تو درخت سے ایک آواز آئی: “کسان! میں جادوئی درخت ہوں۔ آج تم نے مجھے دیکھ لیا ہے، اس لیے تمہیں تین خواہشیں پوری کرنے کا حق ملے گا۔” کسان حیران رہ گیا۔ اس نے سوچا: “تین خواہشیں! کتنی بڑی بات ہے!” وہ دوڑتا ہوا گھر گیا اور بیوی کو ساری بات بتائی۔ بیوی بھی بہت خوش ہوئی۔ کسان نے کہا: “سوچو، ہم کیا مانگیں؟ دولت؟ محل؟ زمینیں؟”…

Read more

ایک پتھر کا تراشہ تھا۔ وہ پہاڑ سے پتھر کاٹتا تھا، بڑے بڑے بلاک بناتا تھا، اور ان سے لوگوں کے گھر بناتا تھا۔ وہ اپنے کام سے مطمئن تھا۔ صبح اٹھتا، پہاڑ پر جاتا، پتھر کاٹتا، شام کو گھر آتا۔ اسے اپنے ہاتھوں کی طاقت پر بھروسہ تھا، اپنی محنت پر فخر تھا۔ ایک دن وہ کسی امیر آدمی کے گھر پتھر لگا رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ امیر آدمی بڑے آرام سے بیٹھا ہے، اس کے پاس نوکر ہیں، کھانا ہے، پینا ہے، اسے کسی محنت کی ضرورت نہیں ہے۔ پتھر کے تراشے نے سوچا: “کتنا اچھا ہوتا اگر میں بھی امیر ہوتا۔ مجھے بھی کوئی کام نہ کرنا پڑتا۔” اسی وقت ایک فرشتہ آسمان سے اترا۔ اس نے کہا: “تمہاری خواہش سن لی گئی۔ اب تم امیر ہو۔” اور پتھر کا تراشہ امیر بن گیا۔ اس کے پاس دولت تھی، محل تھا، نوکر تھے، باغ تھے۔…

Read more

‏یہ واقعہ آج سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے پیش آیا تھا، فرعون کے ڈوب کر مرنے کے بعد سمندر نے اس کی لاش کو اللہ کے حکم سے باہر پھینک دیا جبکہ باقی لشکر کا کوئی نام و نشان نہ ملا۔ مصریوں میں سے کسی شخص نے ساحل پر پڑی اس کی لاش پہچان کر اہل دربار کو بتایا۔ فرعون کی لاش کو ‏محل پہنچایا گیا، درباریوں نے مسالے لگا کر اسے پوری شان اور احترام سے تابوت میں رکھ کر محفوظ کر دیا۔ حنوط کرنے کے عمل کے دوران ان سے ایک غلطی ہو گئی تھی، فرعون کیوں کہ سمندر میں ڈوب کر مرا تھا اور مرنے کے بعد کچھ عرصہ تک پانی میں رہنے کی وجہ سے اس کے ‏جسم پر سمندری نمکیات کی ایک تہہ جمی رہ گئی تھی، مصریوں نے اس کی لاش پر نمکیات کی وہ تہہ اسی طرح رہنے دی اور اسے اسی…

Read more

صحیح وقت سے پہلے بڑا بننے کی قیمتکچھ چیزیں اس لیے نہیں بکھرتیں کہ وہ کمزور ہوتی ہیں، بلکہ وہ اس لیے ٹوٹ جاتی ہیں کیونکہ وہ اپنی برداشت سے زیادہ تیزی سے بڑھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ایک پرسکون دلدل میں، ایک چھوٹے سے مینڈک نے کنارے پر چرتی ہوئی ایک گائے کو دیکھا۔  گائے اتنی بڑی، مضبوط اور پر اثر نظر آ رہی تھی کہ مینڈک کے دل میں بھی اس جیسا بڑا بننے کی خواہش جاگ اٹھی۔چنانچہ مینڈک نے پانی کا ایک لمبا گھونٹ بھرا، اپنا پیٹ پھلایا اور دوسرے مینڈکوں سے پوچھا:“کیا میں ابھی تک اس گائے جتنا بڑا ہوا ہوں؟”دوسروں نے دیکھا اور جواب دیا: “قریب قریب بھی نہیں!”لیکن مینڈک نے رکنے سے انکار کر دیا۔ اس نے مزید پانی پیا، خود کو مزید کھینچا اور بار بار اپنے جسم کو پھلاتا گیا، کیونکہ وہ جلد از جلد بڑا بننے کی ٹھان چکا تھا۔ ہر بار…

Read more

ایک بادشاہ تھا۔ اس کے پاس ساری دولت تھی، سارا لشکر تھا، ساری زمین تھی۔ لوگ اس کے سامنے جھکتے تھے، اس کے حکم پر چلتے تھے، اس کی تعریف کرتے تھے۔ لیکن وہ خوش نہیں تھا۔ وہ راتوں کو جاگتا، دن کو بے چین رہتا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں اس کی دولت نہ چلی جائے، کہیں اس کا تخت نہ ٹوٹ جائے، کہیں اس کا لشکر نہ بھاگ جائے۔ ایک دن اس نے سنا کہ شہر کے باہر ایک درویش رہتا ہے۔ وہ درویش بہت غریب ہے، لیکن بہت خوش ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس کی آنکھوں میں سکون ہے، اس کے چہرے پر نور ہے، اس کے دل میں اطمینان ہے۔ بادشاہ نے سوچا: “یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں بادشاہ ہوں، میرے پاس سب کچھ ہے، پھر میں خوش نہیں ہوں۔ یہ درویش کچھ نہیں رکھتا، پھر خوش کیسے ہے؟” اس نے اپنے وزیر سے…

Read more

180/455
NZ's Corner