Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

ایک پرانے زمانے کی بات ہے۔ چین کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک گھوڑا تھا جو اس کی ساری دولت تھی۔ وہ اس گھوڑے سے کھیت جوتتا، فصل اُگاتا، اور اپنی گزر بسر کرتا۔ ایک دن گھوڑا بھاگ گیا۔ پڑوسی دوڑے دوڑے آئے۔ “کتنی بڑی بدقسمتی ہے! تمہارا گھوڑا چلا گیا۔ اب تم کھیت کیسے جوتو گے؟ تم کیا کھاؤ گے؟ یہ تو بہت برا ہوا۔” بوڑھے کسان نے کہا: “برا؟ اچھا؟ کون جانتا ہے؟” پڑوسی حیران رہ گئے۔ انہوں نے سوچا کہ بوڑھا پاگل ہو گیا ہے۔ کچھ دن بعد گھوڑا واپس آیا۔ اور وہ اکیلے نہیں آیا۔ اس کے ساتھ دو جنگلی گھوڑے بھی تھے۔ پڑوسی پھر دوڑے آئے۔ “کتنی بڑی خوش قسمتی ہے! تمہارا گھوڑا واپس آیا اور دو اور گھوڑے بھی ساتھ لایا۔ اب تم بہت امیر ہو گئے۔” بوڑھے کسان نے کہا: “اچھا؟ برا؟ کون جانتا…

Read more

افریقہ کے گھنے جنگل میں ایک بندر رہتا تھا۔ وہ بہت ہی ذہین تھا، کم از کم وہ خود کو ذہین سمجھتا تھا۔ وہ درختوں پر چڑھنے میں ماہر تھا، پھل توڑنے میں ماہر تھا، شاخ سے شاخ چھلانگ لگانے میں ماہر تھا۔ اسے لگتا تھا کہ دنیا کی ہر مشکل کا حل اسے معلوم ہے۔ وہ ہر کام میں دوسروں کی مدد کرتا تھا۔ جب کوئی جانور کسی مشکل میں پھنستا، بندر فوراً دوڑ کر آتا اور اپنی رائے دیتا۔ کبھی وہ چیونٹی کو بتاتا کہ دانہ کیسے اٹھانا ہے، کبھی پرندے کو بتاتا کہ گھونسلا کیسے بنانا ہے۔ سب اس کی مدد کی تعریف کرتے تھے۔ ایک دن بندر دریا کے کنارے گیا۔ وہ ایک درخت پر بیٹھا پھل کھا رہا تھا کہ اس کی نظر دریا میں گئی۔ اس نے دیکھا کہ ایک مچھلی پانی میں تیر رہی ہے۔ مچھلی خوش تھی، چھلانگیں لگا رہی تھی، پانی…

Read more

مدینہ کی گلیاں ابھی صبح کی پہلی کرنوں سے لپٹی ہوئی تھیں۔ سورج نے ابھی اپنا پورا چہرہ بھی نہیں دکھایا تھا کہ ایک شخص اپنے اونٹ پر سامان لاد کر شاہراہ پر نکل کھڑا ہوا۔ اس کے جسم پر ایک سادہ سی چادر تھی، سر پر عمامہ تھا اور ہاتھ میں ایک معمولی کوڑا۔ اس کے چہرے پر وہ نور تھا جو صرف سچے ایمان والوں کے چہروں پر ہوتا ہے۔ یہ کوئی عام مسافر نہیں تھا۔ یہ امیر المومنین، خلیفۂ دوم، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے۔ وہ تنہا شام جا رہے تھے۔ جی ہاں، پوری ریاست کا سربراہ بغیر کسی محافظ کے، بغیر کسی شاہی قافلے کے، صرف ایک اونٹ پر سوار۔ ان کے ساتھ صرف ان کا خادم اسلم تھا۔ اسلم نے ادب سے عرض کیا:“یا امیر المومنین، آپ اونٹ پر سوار ہوں، میں پیدل چل لوں گا۔” حضرت عمر نے محبت سے اس کی…

Read more

ہر چمکتی چیز اٹھانا محفوظ نہیں ہوتاایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دو خچر ایک ہی تنگ راستے پر سفر کر رہے تھے۔پہلے خچر پر سونے کے سکوں کے بھاری تھیلے لدے ہوئے تھے۔ اسے اپنے اس بوجھ پر بڑا فخر تھا۔ وہ اپنا سر اونچا کر کے چل رہا تھا اور جان بوجھ کر سکوں کو آپس میں ٹکراتا تاکہ ان کی جھنکار سنائی دے۔ اس کا ہر قدم گویا یہ کہہ رہا تھا، “مجھے دیکھو، دیکھو میں کتنا اہم ہوں۔”دوسرے خچر کے پاس اناج کے عام سے تھیلے تھے۔ وہ خاموشی سے پیچھے پیچھے چل رہا تھا، پُرسکون اور ہر نظر سے اوجھل۔ نہ کوئی شور، نہ کوئی دکھاوا، اور نہ ہی کسی کو متاثر کرنے کی ضرورت۔اچانک جھاڑیوں سے ڈاکوؤں کا ایک گروہ نکل آیا۔انہیں اناج میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کی نظریں سیدھی سونے والے خچر پر گئیں۔ انہوں نے اسے گھیر لیا، اسے بے…

Read more

کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ کسی بادشاہ کا گزر اپنی سلطنت کے ایک ایسے علاقے سے ہوا جہاں کے لوگ براہِ راست نہر سے پانی پینے پر مجبور تھے۔بادشاہ نے حکم دیا کہ عوام کی سہولت کے لیے یہاں ایک بھرا ہوا گھڑا رکھ دیا جائے، تاکہ ہر خاص و عام باآسانی پانی پی سکے۔ یہ فرمان صادر کرنے کے بعد بادشاہ اپنے طویل سفر پر آگے بڑھ گیا۔جب شاہی حکم کی تعمیل میں نہر کے کنارے ایک گھڑا لا کر رکھا جانے لگا، تو ایک اہلکار نے مشورہ دیا، “چونکہ یہ گھڑا سرکاری خزانے سے خریدا گیا ہے اور شاہی فرمان پر نصب ہو رہا ہے، اس لیے اس کی حفاظت کے لیے ایک سنتری کی تعیناتی ازحد ضروری ہے۔”سنتری کی تعیناتی کے بعد یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ گھڑا بھرنے کے لیے ایک ماشکی کا ہونا بھی لازم ہے۔ پھر یہ دلیل دی گئی کہ ہفتے کے…

Read more

کبوتروں کا ایک جوڑا فضا میں اڑ رہا تھا- نر نے اپنی مادہ سے کہا: “مجھ میں اتنی طاقت ہے کہ اگر میں چاہوں تو اپنے پروں کے ایک ہی وار سے سمنےکھڑی عمارت کو گرا دوں-“ عمارت کی چھت پر ایک آدمی کھڑا تھا- اس نے کبوتر کو پاس بلایا اور کہا: “کیوں میاں! یہ شیخی کیوں بگھار رہے ہو؟” کبوتر نے فوراً کہا: “معاف کیجئے گا جناب! میں تو صرف کبوتری پر رعب جما رہا تھا- ورنہ میں کیا اور میری طاقت کیا؟” آدمی نے کہا: “خبردار! ایسا رعب آئندہ نہ جمانا- یہ اچھی بات نہیں ہے-“ کبوتر واپس آیا تو کبوتری نے پوچھا: “وہ آدمی کیا کہہ رہا تھا؟” کبوتر: “وہ آدمی میری منتیں کر رہا تھا کہ خدا کے واسطے میری عمارت نہ گرانا-“کیا انسانوں میں ایسے لوگ آپ نے دیکھے ہیں؟منقول

مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر اپنی کتاب تزک بابری میں لکھتے ہیں کہ دریائے سوات کے قریب ہم نے یوسفزئی اور محمد زئی قبائل پر حملہ کیا.اس جگہ تیس چالیس سال پہلے شہباز نامی ملحد نے یہاں کے بہت سے لوگوں کو الحاد کے دام میں پھنسا دیا تھا اس ملحد کی قبر اسی جگہ پہاڑ کی چوٹی پر تھی.میں نے حکم دیا کہ اس ملحد کی قبر کو ڈھا دیا جائے یہاں سے دریائے سندھ کے قریب بھیرہ نامی جگہ پر حملہ کیا گیا.دریائے نیلاب کے دوسری طرف آباد لوگوں نے حاضری دی اور گھوڑے اور تین سو شاہ رخیاں نزر کیں. یہاں سے کچھ کوٹ نامی جگہ پہنچے دریائے کچھ کوٹ کو عبور کیا اور سنکدا پہنچ گئے.یہ راستہ بہت کٹھن تھا اور ہم کوہ جودا نامی پہاڑ پر پہنچے یہاں دو قومیں بستی ہیں جودہ اور جنجوعہ.جنجوعہ قوم یہاں کی حکمران ہے.یہاں کا ہر خاندان ہر…

Read more

ایک مرتبہ ایک شخص کے گھر چوری ہو گئی۔ چور اُسی محلے کے تھے۔ انہوں نے اسے پکڑ کر زبردستی یہ حلف لے لیا کہ اگر اُس نے کسی کو اُن کا نام بتایا تو اُس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی۔ مجبور انسان نے جان بچانے کے لیے یہ قسم کھا لی۔ چور سارا سامان لے گئے اور وہ بے چارہ سخت پریشانی میں مبتلا ہو گیا۔ اب عجیب کشمکش تھی:اگر چوروں کا نام بتاتا ہے تو مال واپس مل سکتا ہے مگر بیوی ہاتھ سے جا سکتی ہے،اور اگر خاموش رہتا ہے تو بیوی تو محفوظ رہے گی مگر گھر لُٹ جائے گا۔ اسی پریشانی میں وہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں حاضر ہوا۔ امام صاحب نے اس کے چہرے پر غم کے آثار دیکھے اور فرمایا: “آج تم بہت اداس ہو، کیا معاملہ ہے؟” وہ بولا: “حضرت! میں کھل کر کچھ کہہ بھی…

Read more

ایک بھائی صاحب اپنے شہ زور ٹرک پر بیٹھ کر شہر کے چوک میں پہنچے اور لگے وہاں بیٹھے مزدوروں کو آوازیں دینے،“کون کون جانا چاہتا ہے میرے ساتھ مزدوری پر، دو دو سو روپے دیہاڑی دوں گا۔” پہلے پہل تو لوگ ان صاحب پر خوب ہنسے، پھر اسے سمجھانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے کہ جناب والا: آج کل مزدور کی دیہاڑی پانچ سو روپے سے کم نہیں ہے۔ کیوں آپ ظلم کرنے پر تُلے ہوئے ہیں، کوئی نہیں جائے گا آپ کے ساتھ۔ نہ بنوائیے اپنا مذاق۔ وہ صاحب اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور سُنی ان سُنی کر کے مزدوروں کو اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دیتے رہتے ۔ شور کم ہوا اور بہت سارے مزدور تھک کر واپس جا بیٹھے تو تین ناتواں قسم کے بوڑھے مزدور، جن کے چہروں سے ہی تنگدستی اور مجبوری عیاں تھی۔ ان صاحب کی گاڑی میں ا کر بیٹھ گئے…

Read more

کسی زمانے کی بات ہے، ایک غریب کسان اپنی محنتی بیوی کے ساتھ ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا۔عورت روزانہ دودھ سے مکھن بلوتی، پھر اسے خوبصورت گول پیڑوں کی شکل دیتی۔ ہر پیڑا پورا ایک کلوگرام بنا کر تیار کیا جاتا۔ کسان وہ مکھن شہر کے ایک دکاندار کو بیچ آتا اور بدلے میں گھر کا راشن لے لیتا۔ یوں سادہ سی زندگی چل رہی تھی۔ ایک دن دکاندار کے دل میں شک پیدا ہوا۔اس نے سوچا کیوں نہ آج خود مکھن تول کر دیکھوں۔ جب اُس نے پیڑے ترازو پر رکھے تو حیران رہ گیا — ہر “ایک کلو” کا پیڑا تقریباً نو سو گرام نکلا، یعنی وزن میں کمی تھی۔ غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔اگلے دن جب کسان حسبِ معمول مکھن لے کر آیا تو دکاندار نے اسے روک لیا اور سخت لہجے میں بولا: آج کے بعد میں تم سے سودا نہیں…

Read more

کسی زمانے میں ایک بادشاہ تھا جس نے دس خونخوار جنگلی کتے پال رکھے تھے۔ جب بھی کوئی وزیر یا مشیر کوئی غلطی کرتا، بادشاہ اسے ان کتوں کے آگے پھینکوا دیتا۔ کتے اس شخص کو نوچ نوچ کر مار ڈالتے۔ ایک دن بادشاہ کے ایک خاص وزیر سے ایک مشورے میں چُوک ہو گئی، جو بادشاہ کو بالکل پسند نہ آئی۔ غصے میں آ کر بادشاہ نے فیصلہ کیا کہ اس وزیر کو بھی کتوں کے آگے ڈال دیا جائے۔ وزیر نے عاجزی سے عرض کی:“بادشاہ سلامت! میں نے دس سال تک وفاداری سے آپ کی خدمت کی ہے۔ دن رات ایک کیا ہے۔ کیا میری اتنی طویل خدمت کے بدلے میں مجھے صرف ایک موقع نہیں دیا جا سکتا؟حکم تو آپ کا ہی چلے گا، مگر میری گزارش ہے کہ مجھے صرف دس دن کی مہلت دی جائے، اس کے بعد چاہے مجھے کتوں کے آگے ڈال دیں۔”…

Read more

حضرت عبداللہ بن سلامؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ پہلے یہودی تھے، لیکن ایک واقعہ نے ان کے دل پر ایسا اثر ڈالا کہ وہ اسلام کی طرف مائل ہوگئے۔ ایک مرتبہ مدینہ منورہ سے ایک قافلہ گزر رہا تھا۔ اس قافلے کے پاس ایک اونٹ بھی تھا۔ حضور نبی کریم ﷺ اونٹوں کی تجارت فرمایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ کو وہ اونٹ پسند آگیا، تو آپ ﷺ نے قافلے والوں سے اس کا سودا کر لیا۔ اس وقت آپ ﷺ کے پاس قیمت موجود نہ تھی، چنانچہ آپ ﷺ اونٹ لے کر چل دیئے اور فرمایا کہ “میں تھوڑی دیر میں اس کی قیمت بھجوا دیتا ہوں۔” قافلے والوں نے نہ آپ ﷺ کا نام پوچھا اور نہ کوئی پتہ لیا۔ جب آپ ﷺ وہاں سے روانہ ہوگئے تو قافلے میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں۔ لوگ کہنے لگے:“ہم نے اونٹ دے دیا مگر اس شخص کا نام تک معلوم…

Read more

پرانے وقتوں کی بات ہے کہ شہرِ نُوران کے تخت پر ایک عظیم بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ عقل و تدبر میں بے مثال اور رعایا کا خیرخواہ تھا۔ اس کی سلطنت میں خوشحالی کا راج تھا، مگر اس کی خوشیوں کا اصل مرکز اس کی معصوم اور خوبصورت بیٹی شہزادی گلنار تھی۔ شہزادی کی پیدائش کے بعد، ماں کی ممتا کی چھاؤں زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ ملکہ کی اچانک وفات نے بادشاہ کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا، مگر وہ بیٹی کی پرورش میں کوئی کمی نہیں آنے دینا چاہتا تھا۔ چند برس بعد، اس نے دوسری شادی کرلی۔ نئی ملکہ بظاہر خوش اخلاق اور شائستہ تھی، مگر درحقیقت وہ ایک چالاک اور سنگدل عورت تھی، جو جادوگری میں مہارت رکھتی تھی۔ یہ ملکہ ایک طلسمی آئینہ رکھتی تھی، جو نہ صرف ہر سوال کا سچ بتاتا بلکہ اس کے حسن کی برتری کی تصدیق بھی…

Read more

بہت پرانے وقتوں کی بات ہے، قازقستان کے لامتناہی میدانوں (سٹیپ) کے کنارے ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ وہاں ایک بوڑھا شکاری رہتا تھا جس کا نام ‘برکت’ تھا۔ وہ بہت غریب تھا، لیکن اس کا دل صاف تھا اور وہ اپنی چھوٹی سی جھونپڑی اور معمولی روزی پر خوش رہتا تھا۔ایک دن، برکت سٹیپ میں شکار کر رہا تھا کہ اس نے دیکھا کہ ایک بہت ہی نایاب، سنہری پرندہ ایک شکاری جال میں پھنسا ہوا ہے۔ پرندہ خوبصورت تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ بے بسی سے تڑپ رہا تھا۔برکت کو پرندے پر رحم آ گیا۔ اس نے اپنی چھری نکالی اور آہستہ سے جال کاٹ کر پرندے کو آزاد کر دیا۔پرندے کی جادوئی پیشکشجیسے ہی پرندہ آزاد ہوا، وہ ایک خوبصورت عورت کی شکل اختیار کر گیا – وہ ایک ‘پیر’ (قازق لوک کہانیوں میں ایک نیک جادوئی مخلوق) تھی۔اس نے کہا، “برکت!…

Read more

یاجوج و ماجوج حضرت نوح علیہ السلام کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد میں سے ہیں۔ یہ انسانی نسل کے دو بڑے وحشی قبیلے گزر چکے ہیں جو اپنے اِرد گرد رہنے والوں پر بہت ظلم اور زیادتیاں کرتے اور انسانی بستیاں تک تاراج کر دیتے تھے۔ قرآن مجید کی آیات، توریت کے مطالب اور تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ شمال مشرقی ایشیا میں زندگی بسر کرتے تھے اور اپنے وحشیانہ حملوں کے نتیجہ میں ایشیا کے جنوبی اور مغربی علاقوں میں مصیبت برپا کرتے تھے۔ بعض تاریخ دانوں نے ان کے رہائشی علاقے کو ماسکو اور توبل سیک کے آس پاس بتلایا ہے اور بعض کا خیال ہے کہ یاجوج و ماجوج کے شہر تبت اور چین سے بحرمنجمد شمالی تک اور مغرب میں ترکستان تک پھیلے ہوئے تھے۔ حضرت ذوالقرنین کے زمانے میں یاجوج و ماجوج کے حملے وبال جان بن گئے تھے، ان…

Read more

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﺍﻧﺖ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﮔﺮ ﭘﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﯾﮏ ﻣﻔﺴﺮ ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍ ﮐﺮ ﺍُﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺳُﻨﺎﯾﺎ –ﻣﻔﺴﺮ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ , ﺍﺳﮑﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﯾﮧ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭘﮑﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﻏﺼﮧ ﺁﯾﺎ – ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﻔﺴﺮ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ،ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻣﻔﺴﺮ ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍﯾﺎ ﮔﯿﺎ, ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﻨﺎﯾﺎ،ﻣﻔﺴﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ﺁﭘﮑﻮ ﻣُﺒﺎﺭ ﮎ ﮨﻮ۔ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﯾﮧ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻣﺎﺷﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﻔﺴﺮ ﮐﻮ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻭ ﺍﮐﺮﺍﻡ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﯿﺎ —ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﯾﮩﯽ ﻣﻄﻠﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍُﺳﮑﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ؟ﺟﯽ ﻣﻄﻠﺐ ﺗﻮ…

Read more

کعب بن اشرف یہودیوں میں یہ وہ شخص تھا جسے اسلام اور اہل اسلام سے نہایت سخت عداوت اور جلن تھی۔یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیتیں پہنچایا کرتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کی کھلم کھلا دعوت دیتا پھرتا تھا۔اس کا تعلق قبیلہ کی شاخ بنو نبھان سے تھا اور اس کی ماں قبیلہ بنی نضیر سے تھی یہ بڑا مالدار اور سرمایہ دار تھا عرب میں اس کے حسن و جمال کا شہرہ تھا اور یہ ایک معروف شاعر بھی تھا اس کا قلعہ مدینے کے جنوب میں بنونضیر کی آبادی کے پیچے واقع تھا۔اسے جنگ بدر میں مسلمانوں کی فتح اور سرداران قریش کے قتل کی پہلی خبر ملی تو بے ساختہ بول اٹھا: “کیا واقعتہ”ایسا ہوا ہے؟ یہ عرب کے اشراف اور لوگوں کے بادشاہ تھے اگر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مار لیا ہے تو زمین…

Read more

کسی ایسے سانچے میں ڈھلنے کی کوشش چھوڑ دیں جو آپ کے لیے بنا ہی نہیںایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کوا مور کے چمکدار رنگوں سے بہت حسد کرتا تھا۔ اپنی کالی رنگت سے بیزار ہو کر، اس نے مور کو منا لیا کہ وہ اسے اپنے وہ بھاری اور چمکدار پر “پہننے” دے تاکہ وہ بھی اعلیٰ نسل کا نظر آ سکے۔تبدیلی فوری تھی۔ کوا پورے صحن میں اکڑ کر چلنے لگا اور دوسرے جانوروں کی حیران کن نظروں کا لطف اٹھانے لگا۔ اسے شہزادوں جیسا محسوس ہو رہا تھا، جیسے آخر کار اسے اپنی “عام سی” زندگی سے چھٹکارا مل گیا ہو۔ لیکن اس “چمک دمک” کی ایک چھپی ہوئی قیمت تھی۔اچانک، اندھیرے سے ایک تیز نظر رکھنے والی بلی نے حملہ کر دیا۔ دوسرے کوے فطری طور پر اپنے پر پھڑپھڑاتے ہوئے پلک جھپکتے ہی آسمان میں غائب ہو گئے۔ “مور نما کوے” نے بھی…

Read more

جون کی تپتی ہوئی رات تھی، حبس اتنا کہ پنکھا بھی گرم ہوا کے تھپڑے مار رہا تھا۔ اچانک ٹھاہ کی آواز آئی اور پورے محلے کی بجلی ایسے غائب ہوئی جیسے امتحان کے بعد طالب علم کے دماغ سے کتابی باتیں غائب ہو جاتی ہیں۔گھروں کے اندر دم گھٹنے لگا تو باری باری پورا محلہ اپنی اپنی چھتوں پر منتقل ہو گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں چھتیں آباد ہو گئیں اور اندھیرے میں صرف سگریٹ کی روشنیاں اور موبائلوں کی ٹارچیں نظر آنے لگیں۔سب سے پہلے آواز چوہدری صاحب کی چھت سے آئی: اوئے شیدے! تیرے گھر کی بھی گئی ہے کیا؟دوسری طرف سے آواز آئی: نہیں چوہدری صاحب! میں نے تو گھر میں سورج پال رکھا ہے، بس ویسے ہی اندھیرے میں تارے گن رہا ہوں!محلے کے لڑکوں نے موقع غنیمت جانا اور چھتوں پر ہی کرکٹ شروع کر دی۔ تایا جی جو نیچے گرمی سے بے حال…

Read more

ہندوستان کا عیاش، شرابی اور زانی بادشاہ محمد شاہ رنگیلا!یہ وہ مغل بادشاہ تھا جس کی رنگینیوں اور بداعمالیوں نے نہ صرف اس کی شخصیت بلکہ پوری سلطنت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ یہ بادشاہ، جو شاہ جہاں ثانی کے بیٹے اور روشن اختر ناصر الدین شاہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 1719 سے 1748 تک تقریباً 29 سال حکومت کرتا رہا۔ مگر اس کی حکمرانی نظم و ضبط، انصاف اور سنجیدگی کے بجائے عیش و عشرت، شراب نوشی اور بے حیائی سے بھرپور تھی۔ محمد شاہ رنگیلا مغلوں کے ان 19 بادشاہوں میں سے ایک تھا جس کی بری عادات اور کمزور حکمرانی نے سلطنت کو اندر سے کھوکھلا کر دیا۔ اس کی رنگینیوں، ناچ گانے، عریانیت اور شراب نوشی نے ریاستی نظام کو تباہ کر دیا، جس کے نتیجے میں سیاسی اور معاشی بحران پیدا ہوئے اور سلطنت زوال کی طرف بڑھتی چلی گئی۔…

Read more

200/455
NZ's Corner