Author Archives: NZ's Collection

جنگل کا ایک زمانہ تھا جب بوڑھا شیر اس کا بے تاج بادشاہ تھا۔ طاقت اب پہلے جیسی نہ رہی تھی، مگر رعب باقی تھا۔ شیر نے شکار چھوڑ دیا تھا اور اب دربار لگا کر فیصلے کیا کرتا۔ جنگل کے جانور روز آتے، سلام کرتے اور تعریفوں کے پل باندھتے۔ خاص طور پر لومڑیاں ہر وقت شیر کے گرد رہتیں۔“حضور جیسا انصاف کسی نے نہیں دیکھا!”“آپ کی دانائی کی مثال نہیں!” شیر یہ سب سن کر خوش ہوتا اور انہیں قریب رکھتا۔ ایک دن ہرن لنگڑاتا ہوا آیا۔ اس نے فریاد کی کہ لومڑیوں نے اس کے بچوں کا شکار کر لیا ہے۔ شیر نے لومڑیوں کی طرف دیکھا۔ لومڑیوں نے فوراً کہا:“یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ یہ تو حضور کی عظمت سے جلتا ہے۔” شیر نے تحقیق کی زحمت نہ کی۔ ہرن کو دربار سے نکال دیا گیا۔ وقت گزرتا گیا۔ لومڑیوں نے پورے جنگل میں لوٹ مار…

Read more

مُلا احمد جیون ہندوستان کے مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے استاد تھے۔ اورنگ زیب اپنے استاد کا بہت احترام کرتے تھے۔ اور استاد بھی اپنے شاگرد پر فخر کرتے تھے۔ جب اورنگ زیب ہندوستان کے بادشاہ بنے تو انہوں نے اپنے غلام کے ذریعے استاد کو پیغام بھیجا کہ وہ کسی دن دہلی تشریف لائیں اور خدمت کا موقع دیں۔ اتفاق سے وہ رمضان کا مہینہ تھا اور مدرسہ کے طالب علموں کو بھی چھٹیاں تھی۔ چنانچہ مُلا احمد جیون نے دہلی کا رُخ کیا۔ استاد اور شاگرد کی ملاقات عصر کی نماز کے بعد دہلی کی جامع مسجد میں ہوئی۔ استاد کو اپنے ساتھ لے کر اورنگ زیب شاہی قلعے کی طرف چل پڑے۔ رمضان کا سارا مہینہ اورنگ زیب اور استاد نے اکھٹے گزارا۔۔ عید کی نماز ادا کرنے کے بعد مُلا جیون نے واپسی کا ارادہ ظاہر کیا۔ بادشاہ نے جیب سے ایک چونّی نکال کر…

Read more

دامس، اسے ابولہول کی کنیت سے پکارا جاتا تھا۔ لمبا قد، انتہائی سیاہ رنگ، ایسی سیاہی کہ دنیا نے شاید ہی کوئی اتنا سیاہ انسان دیکھا ہوگا۔ جب سواری کے جانور پر بیٹھتا تو ٹانگیں گھسٹی ہوئی جاتی تھیں۔ ملوکِ کندہ میں سے بنی ظریف کے اس کی غلام کی ہیبت و شجاعت زبان زد عام تھی۔ لوگوں کی مجلسوں میں اس کی بہادری اور چالاکی کے قصے سنائے جاتے تھے۔ واقدی کہتے ہیں جن دنوں مسلمان حلب کے قلعے کو فتح کرنے کی کوشش میں مصروف تھے ان دنوں ابولہول بھی اپنے پانچ سو ساتھیوں کے ساتھ مسلمانوں سے آ ملا اور اس نے بڑی بہادری سے جنگی کارروائیوں میں نمایاں حصہ لیا۔۔۔۔۔۔۔“لوگو! امیر محترم کا حکم ہے کہ اپنے اپنے خیمے سمیٹو اور چلو!” لوگوں نے جب یہ اعلان سنا تو سب اپنے اپنے خیمے اکھیڑ کر چل پڑے۔ پورا اسلامی لشکر قلعے کا محاصرہ ختم کرکے چل…

Read more

‏ایک لومڑی نے دریا کے دوسری کنارے کھڑے اونٹ سے پوچھا، پانی کہاں تک پہنچتا ہے۔۔؟؟؟‏اونٹ نے جواب دیا، گھٹنے تک۔‏لومڑی نے پانی میں چھلانگ لگائی، ڈوبنے لگی، کبھی غوطے کھاتی کبھی سر باہر نکالتی، بڑی مشکل سے دریا میں ایک چٹان کے ساتھ چپک گئی آہستہ آہستہ چٹان کے اوپر آگئی۔ سانس بحال ہوتے ہی غصے سے اونٹ سے کہا، تم نے کیوں کہا کہ پانی گھٹنے تک آتا ہے؟.‏اونٹ نے جواب دیا: ہاں پانی میرے گھٹنے تک ہی آتا ہے۔‏جب آپ کسی سے مشورہ کرتے ہیں تو عموماً وہ آپ کو اپنے تجربات کی روشنی میں جواب دیتا ہے۔ ممکن ہے جو باتیں اس کے لیئے فائدہ مند ہوں، وہ آپ کے لیئے نقصان دہ ثابت ہوں۔ سبق:اندھی تقلید سے ہمیشہ بچنا چاہیے

ایک بادشاہ نے رات کو گیدڑوں کی آوازیں سنیں  تو صبح  وزیروں سے پو چھا کہ رات کو یہ گیدڑ بہت شور کررہے تھے ۔۔۔کیا وجہ ہے ؟؟۔اس وقت کے وزیر عقل مند ہوتے تھے ۔انھوں نے کہا جناب کھانے پینے کی چیزوں کی کمی ہوگی اس لیے فریاد  کررہےہیں ۔۔۔۔تو حاکم وقت نے آرڈر دیا کہ ان کا بندوبست کیا جائے 😍۔وزیر صاحب نے کچھ مال گھر بھجوادیا اور کچھ رشتہ داروں  اور دوستوں میں تقسیم کیا۔۔۔۔اگلی رات کو پھر  وہیں آوازیں آئیں ۔ تو صبح بادشاہ نے وزیر سے فرمایا کہ کل آپ نے سامان نہیں بھجوایا کیا۔تو وزیر نے فوری جواب دیا کہ جی بادشاہ سلامت بھجوایا تو تھا ۔۔۔۔۔اس پر بادشاہ نے فرمایا کہ پھر شور کیوں ؟؟؟ ۔تو وزیر نے کہا جناب سردی کی وجہ سے شور کررہےہیں ۔تو بادشاہ نے آرڈر جاری کیا کہ بستروں کا انتظام کیا جائے😜😜۔۔۔ وزیر نے حسب عادت کچھ…

Read more

دولتِ عباسیہ کا تاجدار مامون الرشید، جس نے شیرِ عدل اور حاتم کی سخاوت کو فراموش کر دیا تھا، سلطنتِ بغداد پر حکمرانی کر رہا تھا۔ اس کا بیٹا، شہزادہ عباس، طائفۃ النمل کے قریب شکار میں مصروف تھا۔غروبِ آفتاب کی روشنی میں دریا کے کنارے، ایک حسین عورت پانی کا گھڑا بھر رہی تھی۔ عباس نے اسے دیکھا اور پوچھا:“تم کون ہو؟ اور کس خاندان سے تعلق رکھتی ہو؟ کیا یہاں بھی حسن جنم لے سکتا ہے؟”عورت نے غصے سے جواب دیا اور آگے بڑھ گئی۔ عباس نے حکم دیا کہ اس کا حسب و نسب معلوم کیا جائے اور نکاح کا پیغام بھیجا جائے۔لیکن معلوم ہوا کہ یہ عورت خاندانِ برامکہ کی بیوہ مغیرہ بنت ازدار تھی، دو بچوں کی ماں اور اپنے خاندان کی بربادی کا غم لئے ہوئی۔ نکاح کا پیغام سن کر وہ بے قابو ہو گئی اور فرمایا:“ہارون ہماری جانیں تباہ کر چکا، اب…

Read more

There was a dense forest near a village. In this forest there was an old well near which lived a blind snake. The snake was poisonous, but because it was blind, it did not harm anyone. It would lie in the sun by the well and thank God. One day, a woodcutter came to the well while cutting wood in the forest. When he saw the blind snake, he backed away in fear. But the snake did not move or bite. The woodcutter gathered courage and asked:“Will you harm me?” The snake replied in a soft voice:“I am blind and do not hurt anyone. You should not worry.” The woodcutter felt sorry for it. Every day after work, he would keep milk for the snake. After some time, the snake said:“You have done me a favor. In return, I will give you a gold coin every day.” Thus, the woodcutter…

Read more

Había un denso bosque cerca de un pueblo. En este bosque había un viejo pozo cerca del cual vivía una serpiente ciega. La serpiente era venenosa, pero como era ciega, no hacía daño a nadie. Se tumbaba al sol junto al pozo y daba gracias a Dios. Un día, un leñador llegó al pozo mientras cortaba leña en el bosque. Al ver a la serpiente ciega, retrocedió asustado. Pero la serpiente no se movió ni mordió. El leñador se armó de valor y preguntó:“¿Me harás daño?”. La serpiente respondió en voz baja:“Soy ciega y no hago daño a nadie. No te preocupes”. El leñador se compadeció. Todos los días, después del trabajo, guardaba leche para la serpiente. Después de un tiempo, la serpiente dijo:“Me has hecho un favor. A cambio, te daré una moneda de oro cada día”. Así, el leñador venía todos los días, guardaba leche y se llevaba…

Read more

ایک گاؤں کے قریب گھنا جنگل تھا۔ اس جنگل میں ایک پرانا کنواں تھا جس کے پاس ایک اندھا سانپ رہتا تھا۔ سانپ زہریلا تو تھا مگر نابینا ہونے کی وجہ سے کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا تھا۔ وہ کنویں کے کنارے دھوپ میں پڑا رہتا اور اللہ کا شکر ادا کرتا۔ ایک دن ایک لکڑہارا جنگل میں لکڑیاں کاٹتے کاٹتے کنویں کے پاس آ پہنچا۔ جب اس نے اندھے سانپ کو دیکھا تو ڈر کے مارے پیچھے ہٹ گیا۔ مگر سانپ نے نہ کوئی حرکت کی، نہ پھنکارا۔لکڑہارے نے ہمت کر کے پوچھا:“کیا تم مجھے نقصان پہنچاؤ گے؟” سانپ نے نرم آواز میں جواب دیا:“میں اندھا ہوں اور کسی کو تکلیف نہیں دیتا۔ تم بے فکر ہو جاؤ۔” لکڑہارے کو ترس آ گیا۔ وہ روزانہ کام کے بعد سانپ کے لیے دودھ رکھ جایا کرتا۔ کچھ عرصے بعد سانپ نے کہا:“تم نے مجھ پر احسان کیا ہے۔ بدلے میں…

Read more

شیبہ بن عثمان ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین پر تشریف لے گئے تو میرے سینے میں وہ زخم ہرا ہوگیا جو حضرت علی ؓ اور حمزہ ؓ نے میرے باپ اور چچا کو قتل کر کے لگایا تھا۔❣️میں نے کہا آج میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرکے خون کا بدلا لوں گا۔میں (جنگ کے دوران)آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے آیا اور آپ کے قریب ہوتے چلا گیا۔یہاں تک کہ صرف اتنا فاصلہ رہ گیا کہ میں تلوار اٹھا کر آپ کو مار ڈالوں۔مگر اچانک بجلی کی طرح چمکتا ہوا آگ کا ایک شعلہ میری طرف لپکا میں نے سمجھا کہ یہ مجھے بھسم کردے گا۔تو میں الٹے پاٶں بھاگ کھڑا ہوا۔❣️نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا:او شیبہ!اور ساتھ ہی اپنا ہاتھ میرے سینے پر رکھ گیا۔اللہ نے فورًا میرے سینے…

Read more

یہ کہانی ایک ایسے شہر کی ہے جس کا نام گرد پا تھا اور یہ ایک عجیب و غریب راز اپنے اندر چھپائے ہوئے تھا۔ اس شہر کے باشندے نسلوں سے اس بات کے عادی تھے کہ ان کی زمین کبھی ساکن نہیں رہتی تھی۔ ہر صبح جب وہ بیدار ہوتے تو ان کے گھروں کے باہر کا منظر بالکل بدل چکا ہوتا تھا۔ کبھی سامنے برفانی چوٹیاں ہوتیں تو کبھی تپتا ہوا ریگستان نظر آتا۔آریان اس شہر کا ایک ایسا نوجوان تھا جس کے دل میں سوالات کا طوفان رہتا تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ یہ شہر روزانہ اپنی جگہ کیسے بدل لیتا ہے۔ ایک رات جب پورا شہر گہری نیند سو رہا تھا، آریان خاموشی سے شہر کی آخری فصیل کی طرف نکل گیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے ایک ایسی چیز دیکھی جس نے اس کے ہوش اڑا دیے۔اس نے دیکھا کہ شہر کی بنیادیں مٹی…

Read more

ایک جنگل میں ایک شیر اور ایک بانس کا درخت ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ شیر بہت طاقتور اور اپنی طاقت پر بہت مغرور تھا، جبکہ بانس کا درخت لمبا اور لچکدار تھا۔شیر ہر روز بانس کے درخت کے پاس آتا اور اسے طعنہ دیتا: “تم کتنے کمزور ہو، معمولی سی ہوا چلتی ہے اور تم جھک جاتے ہو۔ ذرا مجھے دیکھو، میں کتنا مضبوط ہوں، کوئی آندھی یا طوفان مجھے ہلا نہیں سکتا! بانس کا درخت خاموشی سے اس کی باتیں سنتا اور مسکرا دیتا۔ایک دن جنگل میں ایک بہت بڑا طوفان آیا۔ آسمان گرجنے لگا، بجلی چمکنے لگی اور تیز ہواؤں نے ہر چیز کو اکھاڑنا شروع کر دیا۔ شیر اپنی طاقت پر بھروسہ کیے اکڑا کھڑا رہا، اس نے سوچا کہ کوئی طوفان اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔لیکن طوفان اتنا شدید تھا کہ شیر کی تمام طاقت بے کار ہو گئی۔ تیز ہواؤں نے اسے جڑوں سے…

Read more

کسی دور دراز گاؤں میں “رحمت” نامی ایک غریب کسان رہتا تھا۔ رحمت کے پاس زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا تھا، جو بہت بنجر اور پتھریلا تھا۔ گاؤں کے باقی کسان اسے مشورہ دیتے کہ وہ یہ زمین چھوڑ کر شہر چلا جائے، لیکن رحمت کہتا، “مٹی سونا اگلتی ہے، بس اسے پسینے کی ضرورت ہوتی ہے۔”ایک تپتی دوپہر، جب رحمت اپنے کھیت میں سخت پتھر ہٹانے کی کوشش کر رہا تھا، اس کا بیلچہ کسی دھاتی چیز سے ٹکرایا۔ اس نے تجسس میں گڑھا کھودا تو وہاں سے ایک پرانا، مٹی سے اٹا ہوا “تانبے کا گھڑا” نکلا۔رحمت نے سوچا کہ شاید اس میں ہیرے جواہرات ہوں گے، لیکن جب اس نے ڈھکن کھولا تو وہ خالی تھا۔ رحمت نے مسکرا کر کہا، “چلو، کچھ نہیں تو پانی پینے کے کام آئے گا۔” اس نے اپنا تولیہ گھڑے کے اوپر رکھا اور درخت کے سائے میں آرام کرنے…

Read more

ایک گاؤں میں ایک کنواں تھا جس کا پانی برسوں سے سب استعمال کر رہے تھے۔ وقت کے ساتھ کنواں پرانا ہو گیا، پانی کم ہوتا گیا، مگر لوگ عادت کے ہاتھوں وہی پانی پیتے رہے۔ایک دن ایک نوجوان نے کہا:“کنواں صاف کرنا چاہیے، دیواریں مضبوط کرنی چاہئیں، ورنہ ایک دن یہ خشک ہو جائے گا۔” بوڑھوں نے ہنس کر جواب دیا:“ہم نے تو ساری عمر یہی پانی پیا ہے، ہمیں کچھ نہیں ہوا۔”نوجوان خاموش ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد کنواں واقعی بیٹھ گیا۔ پانی کی جگہ کیچڑ رہ گیا۔ اب گاؤں والے دور دراز سے پانی لانے پر مجبور ہو گئے۔اسی نوجوان نے کہا:“مسئلہ کنویں کا نہیں تھا، مسئلہ یہ تھا کہ ہم نے وقت پر سچ سننے سے انکار کیا۔” گاؤں والے خاموش تھے، کیونکہ اب سچ دیر سے آیا تھا۔ سبقجو بات وقت پر نہ مانی جائے، وہ بعد میں سزا بن کر سامنے آتی ہے۔عادت کی…

Read more

وزیر کی جان پہ بنی ہوئی تھی، فقیر بات ہی نہیں سُن رہا تھا ، اۤخر طویل مِنت سماجت کے بعد فقیر نے سر اٹھایا ، ہاں بول کیا کہنا ہے وزیر نے ہاتھ جوڑے اور بتانا شروع کیاایک مہینہ پہلے ہمارے بادشاہ سلامت نے اچانک دربار میں ایک سوال اچھالا کہ کامیاب کردار کے لئے تربیت زیادہ کارآمد ہے یا ماحول ؟ میرے ایک ہم منصب وزیر نے جھٹ کہا کہ عالی جاہ ! تربیت  جبکہ میں نے عجلت میں کہا جناب ! ماحول ، ماحول تربیت پر فوقیت رکھتا ہے بادشاہ سلامت نے ہماری طرف رعونت سے دیکھا اور فرمایا تم دونوں کو اپنا اپنا جواب عملی طور پر ثابت کرنا ہوگا جو ثابت نہ کر سکا اس کا سر قلم کر دیا جائے گا اور اس کے لئے ہمیں ایک ماہ کی مہلت دے دی ، ہم دونوں اپنے جواب کی عملی تعبیر تلاشنے میں لگ گئے…

Read more

ایک عورت نے ایک بزرگ ریڑی والے سے پوچھا:” انڈے کتنے روپے درجن ہیں؟”بوڑھے نے ادب سے جواب دیا:“بی بی، تیس روپے فی انڈہ۔”عورت بولی:“میں چھ انڈے 150 روپے میں لوں گی، ورنہ چلی جاؤں گی۔”بوڑھا آدمی نرمی سے مسکرایا:“بی بی، جیسے آپ چاہیں ویسے لے لیں۔ میرے لیے تو یہ اچھی شروعات ہے۔ آج ابھی تک ایک بھی انڈہ نہیں بِکا، اور مجھے اسی سے گزارا کرنا ہے۔”عورت اپنے خیال میں بہترین سودے پر خوش ہو کر وہاں سے چلی گئی۔کچھ دیر بعد وہ اپنی لگژری کار میں بیٹھ کر ایک مہنگے ریسٹورنٹ پہنچی، جہاں اپنی دوست کے ساتھ کھانا کھایا۔ دونوں نے بے جھجھک آرڈر کیا، کھانے کو مشکل سے ہاتھ بھی لگایا، اور جب 4500 روپے کا بل آیا تو 5000 ادا کر کے مالک سے کہا کہ باقی رکھ لو، یہ ٹِپ ہے۔ ریسٹورنٹ کے لیے یہ سخاوت عام بات ہوگی،لیکن انڈے بیچنے والے کے لیے…

Read more

Once upon a time, a lion hunted a baby donkey in a forest. “When the baby donkey was badly injured, an elderly lion said:” “It is more beneficial to keep it with you and raise it instead of killing or eating it.” “” In obedience to the old lion, the lions adopted the donkey and took good care of it, and by rearing it, he became a faithful donkey to the lions. One day, the same old lion said, it’s time to release this donkey back to its community donkeys.. The lions did so and took the donkey under their protection and handed it over to the donkey community and said, ‘This donkey is a superior donkey than the rest of you. Because it is our supported donkey… The donkeys immediately accepted this donkey as their leader and, being supported by the lions, obeyed his every command and were afraid…

Read more

A woman came to the service of Hazrat Dawood (peace be upon him) and said: O Prophet of God! Is God cruel? Hazrat Dawood (peace be upon him) said: “God Almighty is completely just and fair, He does not oppress anyone even in the slightest degree.” She said, “Allah did wronged with me.” Hazrat Dawood (peace be upon him) asked what wrong has been done. There is wisdom in everything God does. She said, “I don’t see wisdom, I feel cruelty.” Then this woman began to tell her story: O Prophet of God! I am a widow, I have three orphans. There are children whom I raise by spinning yarn with my hands. I stay awake all day and sometimes nights to spin yarn. Last day, I wanted to tie my spun yarn in a red cloth and go to the market to sell it. To arrange food and drink…

Read more

Vivía un joven halcón en un árbol alto.Rápido, poderoso y orgulloso de sí mismo. Una vieja serpiente vivía en las raíces del árbol.El veneno era débil, el cuerpo estaba cansado, pero los ojos estaban vivos. El halcón miraba hacia abajo todos los días y reía:“Estás atado a la tierra, yo soy el amo del cielo”. La serpiente no decía nada. Un día, unos cazadores llegaron al bosque.Colocaron trampas, tanto en el cielo como en la tierra. El halcón, orgulloso de su velocidad, no pudo ver la trampa.Siguió aleteando… gritando. La serpiente salió silenciosamente de debajo de la trampa. Lección:La fuerza se desvanece con el tiempo,pero la comprensión crece con el tiempo.

ایک اونچے درخت پر ایک نوجوان باز رہتا تھا۔تیز، طاقتور، اور خود پر نازاں۔ درخت کی جڑوں میں ایک بوڑھا سانپ رہتا تھا۔زہر کمزور، جسم تھکا ہوا، مگر آنکھیں زندہ۔ باز روز نیچے دیکھ کر ہنستا:“تم زمین سے بندھے ہو، میں آسمان کا مالک ہوں۔” سانپ کچھ نہ کہتا۔ ایک دن شکاری جنگل میں آئے۔انہوں نے جال بچھائے—آسمان میں بھی، زمین پر بھی۔ باز اپنی رفتار کے غرور میں جال نہ دیکھ سکا۔پھڑپھڑاتا رہا… چیختا رہا۔ سانپ جال کے نیچے سے خاموشی سے نکل گیا۔ سبق:طاقت وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے،مگر سمجھ وقت کے ساتھ بڑھتی ہے۔

2480/3785
NZ's Corner