Tag Archives: ” “self-discovery

اُمیدواران کو مبلغ 1000 روپے فی درخواست جمع کروانا ہوگا.عمر کی حد:21 سے 45 سالفیس: 1000کل تعداد: 12500 For online apply https://sti.pesrp.edu.pk/

*🔷 پنجاب انفورسمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PERA) میں دوبارہ شاندار موقع!* اب **انفورسمنٹ آفیسر (EO BPS-14)** کی **110 سے زائد آسامیوں** پر آن لائن درخواستیں قبول کی جا رہی ہیں۔ 🚨 **آخری تاریخ:** 16 نومبر 2025 ✅ **تعلیم:** BS یا 16 سالہ ماسٹر ڈگری✅ **ڈومیسائل:** پنجاب کے تمام اضلاع (مرد و خواتین دونوں اہل)✅ **عمر کی حد:** 22 سے 32 سال 🎗 یہ ایک نہایت معزز اور مضبوط ادارہ ہے — ایسا موقع بار بار نہیں آتا! اگر آپ ایک شاندار سرکاری نوکری کا خواب دیکھ رہے ہیں تو ابھی اپلائی کریں For online apply https://jobs.punjab.gov.pk/

مراثی نے نئی گرم چادر لیاور کندھے پہ رکھ کر گاؤں کی چوپال میں جا بیٹھانمبردار نے چادر دیکھی تو اپنے بیٹے کی بارات میں استعمال کے لئے مانگ لی بارات گاؤں سے نکلی تو چادر دلہے کے کندھے پر تھی🤠 بارات کو دیکھ کر ایک شخص نے پوچھابارات کس کی ہے؟ مراثی جھٹ سے بولا👻بارات نمبرداراں دی اے تے!چادر میری اے🤣 چودھری کے لوگوں نے مراثی کی دھلائی کر دی کہ یہ بتانے کی کیا ضرورت تھی؟ بارات تھوڑی اور آگے گئیتو سامنے آتے ایک شخص نے پوچھا👽بارات کس کی ہے؟ مراثی جلدی سے بولا😏بارات نمبرداراں دی اے تے!چادر وی اوہناں دی اپنی اے😂 ایک دفعہ پھر پھینٹی پڑیکہ تو نے تو اس طرح بول کر لوگوں کو چادر کے بارے جان بوجھ کر شک ڈال دیا ہے🤔 اب جو تیسری مرتبہ راستے میں پھر کسی نے پوچھا! کہ اتنی شاندار بارات کس کی ہے؟ تو مراثی نے پوری…

Read more

کیاسکھوں کے روحانی پیشوا ’’بابا گرونانک‘‘ مسلمان ’ولی اللہ‘ تھے؟ 14 نومبر 2016 کو ننکانہ صاحب میں گرو نانک کا 547واں یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے۔ یہ تقریبات اس شخصیت کی یاد میں منعقد کی جاتی ہیں جو بلا امتیازِ مذہب و رنگ و نسل ہر کسی کے لیے پیار کا پیغام لے کر آئی تھی اور ہر مذہب کے لوگ اس سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ وہ انسان جس کا فلسفہء خدا کسی بھی ایک مذہب کی مقرر کردہ حدوں میں سمانے سے انکار کرتا تھا۔ انہوں نےپنجاب کے لوگوں کو “ست شری اکال”کا نعرہ دے کر ہندوستان کے ان حصوں تک بھی توحید کا پیغامتک بھی توحید کا پیغام پہنچایا، جہاں ابھی دوسرے صوفیاء اور بھگتوں کی آواز ابھی تک نہیں پہنچی تھی۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال، نے بانگِ درا کی ایک نظم میں انہیں یوں خراجِ تحسین پیش کیا ہے؛یہ حقیقت ہے کہ گرو نانک…

Read more

ڈایناسور  ایک نہایت دلچسپ اور حیرت انگیز مخلوق تھی جو تقریباً 23 کروڑ (230 ملین) سال پہلے زمین پر نمودار ہوئی اور 6 کروڑ 60 لاکھ (66 ملین) سال پہلے ختم ہو گئی۔یہ مخلوقات میسوزوئک دور (Mesozoic Era) میں زمین پر غالب تھیں — جسے “ڈایناسورز کا دور” بھی کہا جاتا ہے۔ ڈایناسورز کے بارے میں تفصیلی معلومات: دورِ حکومت دور: تقریباً 165 ملین سال زمانہ: میسوزوئک دور، جو تین حصوں میں تقسیم ہے: 1. ٹریاسک (Triassic) – 23 کروڑ سے 20 کروڑ سال پہلے 2. جراسک (Jurassic) – 20 کروڑ سے 14 کروڑ 50 لاکھ سال پہلے 3. کریٹیشیس (Cretaceous) – 14 کروڑ 50 لاکھ سے 6 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے اقسام ڈایناسورز کی ہزاروں اقسام تھیں، مگر عام طور پر انہیں دو بڑے گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: 1. گوشت خور (Carnivores) یہ دوسرے جانداروں کو کھاتے تھے۔مثالیں: Tyrannosaurus rex (ٹی ریکس) Velociraptor (ویلو سی ریپٹر)…

Read more

ایک چوہدری صاحب سے اس گاؤں کے میراثی خاندان نے آ کر شکوہ کیا کے انکے لڑکے عمدہ کھانا پکانے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر چوہدری صاحب آپ ہر شادی پر باہر سے باورچی منگواتے ہیں ، چوہدری صاحب انکی باتوں میں آ گئے اور کھانے کا آڈر انکو دے دیا مگر انہوں نے میراثی خاندان سے سوال کیا کے اگر کھانا درست معیار کا نہ بنا تو ؟ میراثیوں کے سب سے سینیر میراثی نے کہاچوہدری صاحب تسی مینوں فٹے منہ آکھنا جے کھانا چنگا نہ پکے تے غرض جب شادی ہوئ تو کھانا انہیں سے پکوایا گیا چاول سالن سبھی کچھ فضول اور بد مزہ پکا دیا گیا چوہدری صاحب کی حالت غیرہو گئمیراثی خاندان کو بلایا گیا اور پوچھا کے میری جو ناک کٹوائی ہے نقصان کروایا ہے اب اسکی کیا سزا ہے ؟ سینیر میراثی بولا چوہدری صاحب معاہدہ پورا کریں فٹے منہ آکھو  تے سانوں😄

اگرچہ یہاں امیر زادوں اور حکمرانوں کے بچوں کو عوام کو اپنی لینڈ کروزرز اور پراڈو تلے روندنے کا لائسنس حاصل ہے مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ محترمہ چیف منسٹر صاحبہ اپنے ایم این اے کے بچے کو بچاتی ہیں یا ایک غریب خاندان کے بچے کو انصاف دلاتی ہیں ۔ کل رات 9 بجے سرگودھا شہر میں  ن لیگ کی موجودہ ایم این اے ارم حمید اور سابق معاون خصوصی وزیراعظم حامد حمید  کے 17 سالہ بیٹے احمد حمید نے اندھا دھند ڈرائیونگ کرتے ہوئے اپنی ,, کیا سپورٹیج ،، تلے ایک پورے خاندان کو روند ڈالا ، چھ سالہ بچہ جاں بحق اور خاندان کے پانچ افراد جو دو موٹر سائیکلوں پر سوار تھے ، ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش  میں ہیں ۔ گاڑی ڈیڑھ کلو میٹر تک خاتون کو گھسیٹتی چلی گئی ۔  سیف سٹی پولیس جو ایک ایک شہری کو 10 ،10 چالان…

Read more

🌟💼 محکمہ لیبر اینڈ ہیومن ریسورسز پنجاب میں شاندار بھرتیاں! 💼🌟.🎯 اکاؤنٹ اسسٹنٹ (BS-15) کے لیے اپلائی کا سنہری موقع!.🏛️ حکومتِ پنجاب کی ریگولر نوکریاں — مستحکم مستقبل آپ کا منتظر!.📍 اہلیت: صرف پنجاب ڈومیسائل رکھنے والے مرد و خواتین🎓 تعلیم: B.Com ڈگری ہولڈر🧾 پوسٹ کا نام: اکاؤنٹ اسسٹنٹ (BS-15).👨‍💼 عمر کی حد (مرد): 18 تا 35 سال👩‍💼 عمر کی حد (خواتین): 18 تا 38 سال.🏦 درخواست دینے کا طریقہ:یہ بھرتیاں پنجاب پبلک سروس کمیشن (PPSC) کے ذریعے ہوں گی۔💰 نوٹ: بنک فیس اور سروس فیس لاگو ہوگی۔ For online apply www.ppsc.gop.pk Follow the Jobs in Pakistan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Va8mccc9RZAWObvvfI1z

کسی گاؤں میں ایک بیروزگار مسٹنڈا ️رہتا تھا۔ مسٹنڈے نے ساتھ والے گاؤں میں ہونے والے ایک کبڈی ٹورنامنٹ کو بھی جیتا ہوا تھا۔ ایک دن مسٹنڈے نے کچھ لفنگے ساتھ لیئے اور شور مچانا شروع ہوا کہ “گاؤں کے بازار  میں جو اکلوتا ہوٹل موجود ہے اس ہوٹل کا مالک چائے میں ملاوٹ والا دودھ ملاتا ہے۔ کھانے میں آئل بھی صحیح نہیں استعمال کرتا اور گوشت بھی صاف نہیں ہوتا۔ مجھے ہوٹل کھولنے دیں۔ میں بہترین تیل میں کھانا پکاؤں گا اور میرے پاس بہترین کک بھی ہیں اور بہت صاف ستھرے ویٹر بھی۔ میں ایسا ہوٹل بناوں گا کہ دور دور سے لوگ کھانا کھانے ادھر آئیں گے”۔لفنگوں نے ناچ ناچ کر گھنگرو توڑ دیئے اور لفنگوں کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ کیونکہ مسٹنڈا کبڈی جیتا ہوا ہے اس لیے اسے ایک موقع ضرور ملنا چاہیے ۔ گاؤں میں کافی شور مچ گیا اور بالآخر گاؤں…

Read more

ہمارے ایک ٹیچر مشتاق نامی لڑکے سے بہت بیزار تھے..مشتاق کا کمال یہ تھا کہ اسے جو بھی مضمون لکھنے کو کہتے وہ اس میں کہیں نہ کہیں سے ” میرا بہترین دوست” ضرور فٹ کردیتا تھا جو اسے فر فر یاد تھا۔مثال کے طور پے اسے کہا جاتا کے ریلوے اسٹیشن پر مضمون لکھ دو تو وہ یوں لکھتا کہ میں اور میرے ماں باپ چیچو کی ملیاں جانے کے لئے ریلوے سٹیشن گئے وہاں گاڑی کھڑی تھی اور گاڑی میں میرا بہترین دوست زاہد بیٹھا تھا- زاہد حسین میرا کلاس فیلو ہے اس کے تین بہن بھائی ہیں اس کا باپ محکمہ پولیس میں آفیسر ہے- زاہد حسین بہت اچھا لڑکا ہے –اگر اسے “میرا استاد” مضمون لکھنے کو کہتے تو وہ لکھتا ماسٹر افتخار میرے پسندیدہ استاد ہیں ایک روز میں ان سے ملنے ان کے گھر گیا تو وہاں ” میرا بہترین دوست زاہد بیٹھا تھا-…

Read more

ایک زمانہ تھا کہ مچھر گراؤنڈ فلور تک محدود رہتے تھے، لیکن جوں جوں انسان ترقی کرکے بلندیوں پر جاتا گیا،مچھروں نے بھی اپنی دور تک مار کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرلیا۔۔آج کا مچھر ، مچھر دانیوں ، کوائل اور لیکوئیڈ جیسے مچھر شکن ہتھیاروں سے ماورا ہوچکا ہے ،یہ آپ کو کپڑوں میں بھی کاٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے گویا ڈیفنس شیلڈ کو بھی مات دے دیتا ہے۔۔اور یہ اب تعاقب کرکے بھی کاٹ سکتا ہے۔یعنی گائڈڈ ہتھیار کی طرح ہدف کا تعاقب کرکے نشانہ بناتا ہے ۔۔کچھ عرصہ پہلے کسی نے بتایا کہ آپریشن تھیٹر فرسٹ فلور پر رکھے جانے کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ کیڑے مکوڑوں خاص طور پر مچھروں کی پرواز محدود رہے۔۔لیکن پچھلے دنوں نویں فلور پر رہنے والے ایک بندے کو مچھروں سے بچاؤ کے خصوصی انتظامات کرتے دیکھ کر اندازہ ہوا کہ اب پروازِ ‘انسیکٹاں’ کہیں آگے جاچکی ہے…

Read more

یہ ایک ہزار گرام لوہے کا ایک بسکٹ ہے اس کی خام قیمت تقریباً 250 روپے ہے۔ اگر آپ اس سے گھوڑے کے نعل بنائیں گے تو یہ بڑھ کر تقریباً 3000 سے 3500 تک ہو جائے گی۔ اگر آپ اس سے سلائی کی سوئیاں بنائیں گے تو اس کی قیمت تقریباً چالیس ہزار روپے ہو جائے گی۔ اگر آپ اس سے گھڑی کے سپرنگ اور گیئر بنائیں گے تو اس کی قیمت تقریباً چالیس لاکھ روپے تک ہو جائے گی اور اگر آپ اس سے لیتھوگرافی میں استعمال ہونے والے پریسیژن لیزر پارٹس بنائیں گے تو اس کی قیمت تقریباً ایک کروڑ تک جا پہنچے گی۔آپ کی اصل ویلیو وہ نہیں جو آپ کو وراثت میں ملی ہے بلکہ اصل ویلیو وہ ہوتی ہے جو آپ خود اپنے آپ کو بہترین انداز میں ڈھال کر بناتے ہیں۔ naturelover890 #bestoftheday #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge

کہتے ہیں کہ مسیحیوں کے زوال کے زمانے میں دو پادری کسی خانقاہ میں بیٹھے شدت سے بحث کر رہے تھے۔ موضوع تھا — گھوڑے کے منہ میں دانتوں کی تعداد! ایک پادری کہتا، “بائبل کے مطابق گھوڑے کے دانت اتنے ہوتے ہیں۔”دوسرا بضد تھا، “نہیں نہیں، بائبل کی روشنی میں گنتی کچھ اور ہے!” دونوں کی بحث زوروں پر تھی کہ قریب سے ایک عام شخص گزرا۔ وہ کچھ دیر ان کی گفتگو سنتا رہا، پھر نرمی سے بولا، “حضور! اس معاملے میں بائبل کو درمیان میں لانے کی کیا ضرورت ہے؟ گھوڑے کا منہ کھول کر گنتی کرلیتے ہیں نا!”یہ بات ہنسی میں لپٹی مگر گہری چبھن رکھتی ہے۔ یہ لطیفہ دراصل ان دانشوروں کے نام ہے جو آج بھی اس بات پر بحث کرتے رہتے ہیں کہ قائداعظم کیسا پاکستان چاہتےتھے — اسلامی یا سیکولر؟ حالانکہ سوال بائبل یا کتابوں سے نہیں، پاکستان کے بائیس کروڑ عوام…

Read more

اگر آپ کو اس محل میں 30 مسلسل دن تک اکیلے رہنا پڑےجس میں ایک آرام دہ بیڈ رومسینکڑوں کتابوں پر مشتمل لائبریری30 دن کے لیے کھانے پینے کے مکمل ذرائع ہیںلیکن کسی سے بھی رابطے کے لیے کسی قسم کا کوئی ذریعہ موجود نہیں۔اور آپ کو اپنے ساتھ “صرف ایک چیز” لے جانے کی اجازت ہے، تو وہ کیا چیز ہو گی؟ If you had to live alone in this palace for 30 consecutive days, with a comfortable bedroom, a library with hundreds of books, full food and drink for 30 days, but no means of communication with anyone, and you were allowed to take “only one thing” with you, what would it be?

Qualification:Intermediate (F.Sc, F.A, I.Com, D.Com, D.A.E)Age Limit:Males: 18 to 35 yearsFemales: 18 to 38 yearsSyllabus Includes:Pak Studies | General Knowledge | Current Affairs | Islamiyat | Geography |Basic Math | English | Urdu | Science | Computer Science*Last Date to Apply:* 10 November 2025 For online apply www.ppsc.gop.pk Follow the Jobs in Pakistan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Va8mccc9RZAWObvvfI1z

کسی زمانے میں ایک بادشاہ تھا جس نے دس جنگلی کتے پالے ہوئے تھے, اس کے وزیروں میں سے جب بھی کوئی وزیر غلطی کرتا بادشاہ اسے ان کتوں کے آگے پھنکوا دیتا کتے اس کی بوٹیاں نوچ نوچ کر مار دیتے-ایک بار بادشاہ کے ایک خاص وزیر نے بادشاہ کو غلط مشورہ دے دیا جو بادشاہ کو بلکل پسند نہیں آیا اس نے فیصلہ سنایا کہ وزیر کو کتوں کے آگے پھینک دیا جائے-وزیر نے بادشاہ سے التجا کی کہ حضور میں نے دس سال آپ کی خدمت میں دن رات ایک کئے ہیں اور آپ ایک غلطی پر مجھے اتنی بڑی سزا دے رہے ہیں, آپ کا حکم سر آنکھوں پر لیکن میری بےلوث خدمت کے عوض مجھے آپ صرف دس دنوں کی مہلت دیں پھر بلاشبہ مجھے کتوں میں پھنکوا دیں-بادشاہ یہ سن کر دس دن کی مہلت دینے پر راضی ہو گیا-وزیر وہاں سے سیدھا رکھوالے…

Read more

کسی جنگل میں ایک بکری بہت بے فکری سے ادھر ادھر گھوم رہی تھی ۔ایک کوے کو بہت حیرت ھوئی اور وہ بکری سے پوچھنے لگا کہ تمہیں کسی سے خوف کیوں نہیں ھے؟ بکری نے کہا ۔ بھائی میری بے فکری کا سبب یہ ھے کہ کچھ عرصہ پہلے ایک شیرنی اپنے دو چھوٹے بچے چھوڑ کر مر گئی تھی ۔ میں نے ان پہ ترس کھا کر اپنے دودھ پہ پال کر انہیں پروان چڑھایا۔اب وہ جوان ھیں اور انہوں نے جنگل میں اعلان کر رکھا ھے کہ ھماری بکری ماں کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہ دیکھے۔سو اب کسی بڑے خوںخوار جانور میں بھی یہ ہمت نہیں کہ مجھ پہ ہاتھ ڈالے کسی چھوٹے موٹے جانور کا ذکر ہی کیا۔کوے نے سوچا کاش مجھے بھی ایسی نیکی کرنے کا موقع ملے اور پرندوں کی دنیا میں مجھے بھی احترام حاصل ھو جائے۔وہ یہی سوچتا ھوا اڑتا…

Read more

جنگل کے بادشاہ ببر شیر نے چشمے کے کنارے والی چٹان کے نیچے گھنی جھاڑیوں سے جھانک کر دور تک پھیلے دھان کے لہلہاتے کھیت پر نظر ڈالی،بہت دور ایک درخت کے نیچے کوئی چیز ہلتی ہوئی نظر آرہی تھی،شیر نے پنجوں سے آنکھوں کو ملتے ہوئے دوبارہ اس طرف دیکھا،یقینا وہ کالا ہرن تھا،شیر رات سے بھوکا تھا۔ کالے ہرن کے لذیذ گوشت کے تصور ہی سے اس کے منہ میں پانی آگیا اور ایک ماہر شکاری کی مانند جھاڑیوں کی آڑ لیتے ہوئے اس نے ہرن کی طرف قدم بڑھائے․․․․․دوسری طرف بانسوں کے جھنڈ میں ایک چیتا بھی ہرن پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔بھوک سے اس کے پیٹ میں بھی چوہے دوڑ رہے تھے۔ چیتے نے بھی ہرن کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ہرن دونوں طرف سے بڑھتے ہوئے خطروں سے بے خبر نرم نرم گھاس کھانے میں مشغول تھا کبھی کبھی وہ اپنی بادام جیسی آنکھیں گھما کر…

Read more

یہ کہانی ہے ایک برف پوش پہاڑوں کے بیچوں بیچ دنیا سے الگ تھلگ ایک کٹے ہوئے دور افتادہ گاؤں کی جس میں نامعلوم قسم کی بیماری پھیل گئی تھی ، اور اس بیماری نے گاؤں کے تمام مکینوں کو اندھے پن کی بیماری میں مبتلا کردیا تھا – اس بیماری کے بعد سے اس گاؤں کا دنیا سے رابطہ بالکل منقطع ہوگیا تھا. کوئی آنکھ سلامت نہ رہی تھی، کوئی شخص گاؤں چھوڑ کر باہر نہ جاسکتا تھا . سو یہ تمام لوگ مکمل طور پر اندھوں میں تبدیل چکے تھے اور ان کی اولادیں بھی نسل در نسل نابینا پیدا ہونے لگی تھیں – گاؤں کے سب مکین اندھے ہو چکے تھے . اور ان میں ایک بھی آنکھ سلامت نہ تھی، کوئی بھی دیکھنے والا شخص اب باقی نہ بچا تھا – ایک دن ایک کوہ پیما نیونز غلطی سے وہاں آنکلا، جب وہ پہاڑ سر کرنے…

Read more

بھلے دنوں کی بات ہے کہ جب گاؤں میں بجلی نہیں آئی تھی دیسی گھی 60 روپے کلو بیچاجاتا مگر لینے والا کوئی نہیں ہوتا تھا ہر گھر میں دودھ اور دیسی گھی اپنا ہی واافر ہوتا تھا کسی کے گھر اتفاقا کوئی مہمان پدھارتا تو آس پڑوس کے گھر والے دودھ کے مٹکے بھر بھر بھیجتے تھے ہر گھر سے ایک بچہ اپنی استطاعت بھر لسی ، دودھ ، مکھن اور دیسی گھی سے بنی خوراک اٹھائے دوڑتا مہمان خانے کے جانب جا رہا ہوتا ، 5 روپے کی ریگولر کولڈرنک ملا کرتی تھی ، عشاء کے بعد گھر کا کوئی بوڑھا جہاں بیٹھ جاتا تو گھر کے سب بڑے چھوٹے اسکے گرد حلقہ لگا لیتے تھے قصے کہانیوں اور لطیفوں کا دور چلتا تو آس پڑوس کے بوڑھے بچے جوان بھی جمع ہوجاتے ، ساری عورتیں کچّے گارے سے بنے چولھے کے پاس جمع ہو کے دن بھر…

Read more

40/43
NZ's Corner