Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

دو مراثیوں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی۔آخری خواہش پوچھی گئی تو پہلے مراثی نے کہا کہ وہ سارنگی سیکھنا چاہتا ہے۔پوچھا گیا: کتنے سال لگیں گے؟وہ بولا: کسی استاد سے سیکھوں تو 20–25 سال۔پوچھا گیا: عمر کتنی ہے؟کہا: 40 سال۔کہا گیا: اچھا، پھر 65 سال کی عمر میں پھانسی ہوگی۔مراثی نے ہاتھ جوڑ کر کہا: “جو رب کو منظور”۔اب دوسرے مراثی کی باری آئی۔اس سے کہا گیا: تم بھی سارنگی سیکھنا چاہتے ہو؟وہ بولا: ہاں سرکار… مگر میں نے اسی سے سیکھنی ہے۔ 🤪😄

قبطی کا قتل اور موسیٰ علیہ السلام کی ہجرت. حضرت موسیٰ علیہ السلام بچپن ہی سے فرعون کے محل میں پلے بڑھے، مگر جب جوان ہو گئے تو فرعون اور اس کی قوم قبطیوں کے مظالم دیکھ کر بیزار ہو گئے اور فرعونیوں کے خلاف آواز بلند کرنے لگے۔ اس پر فرعون اور اس کی قوم جو قبطی کہلاتے تھے آپ کے دشمن بن گئے اور آپ فرعون کا محل بلکہ اس کا شہر چھوڑ کر اطراف میں چھپ کر رہنے لگے۔ ایک دن جب شہر والے دوپہر میں قیلولہ کر رہے تھے تو آپ چپکے سے شہر میں داخل ہو گئے۔ اس شہر کا نام “منف” تھا جو مصر کی حدود میں واقع ہے اور “منف” دراصل “مافہ” تھا جو عربی میں “منف” ہو گیا، اور بعض کا قول ہے کہ یہ شہر فسطاط تھا، اور بعض مفسرین نے کہا: یہ شہر حامین تھا جو مصر سے دو کوس…

Read more

‏چوہدری کو نئی نئی گاڑی چلانے کا شوق چڑھا۔ ایک دن وہ موٹروے پر 160 کی سپیڈ سے گاڑی بھگا رہے تھے کہ اچانک پیچھے سے پولیس کی گاڑی نے سائرن بجایا اور انہیں روک لیا۔ پولیس والا (غصے میں): “چوہدری صاحب! آپ کو اندازہ ہے کہ آپ کی سپیڈ کتنی تھی؟ آپ قانون توڑ رہے تھے!” چوہدری صاحب نے بڑی معصومیت سے گھڑی کی طرف دیکھا اور بولے: “افسر صاحب! اصل میں میری گاڑی کی بریکیں فیل ہو گئی ہیں، اس لیے میں تیز چلا رہا تھا تاکہ حادثہ ہونے سے پہلے پہلے گھر پہنچ جاؤں!” پولیس والا چکرا گیا: “یہ کیا منطق ہے؟ خیر، لائسنس دکھائیں اپنا۔” چوہدری صاحب نے ٹھنڈی آہ بھری: “لائسنس تو نہیں ہے جناب، وہ تو میں نے پچھلے مہینے ایک چوری کی گاڑی چلاتے ہوئے پولیس کو دے دیا تھا، انہوں نے ابھی تک واپس نہیں کیا۔” پولیس والے کی آنکھیں باہر آ…

Read more

لہجوں کی پہچان 💥 ایک درویش جنگل میں ایک درخت کے سائے تلے بیٹھا تھا۔ایک شکاری آیا اور غصے میں بولا،“کیا یہاں سے کوئی ہرن گزرا ہے؟” درویش نے کہا:“جو آنکھ دیکھتی ہے وہ نہیں بولتی، اور جو زبان بولتی ہے وہ نہیں دیکھتی۔” شکاری اس گہرے مطلب کو نہ سمجھ سکا اور چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک بادشاہ آیا اور نرمی سے وہی سوال دہرایا۔درویش نے کہا:“عالی جاہ، آپ کا ہرن اس طرف گیا ہے۔” بادشاہ کے جانے کے بعد شاگرد نے پوچھا:“استاد، آپ نے شکاری کو نہیں بتایا، بادشاہ کو کیوں بتایا؟” درویش مسکرا کر بولا:“لہجے بتاتے ہیں کہ کس کو راستہ دکھانا ہے اور کس کو نہیں۔” 💡 آج کے دور میں خاموشی اور شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔اس لیے، لہجے کا انتخاب سامنے والے کے رویے کو دیکھ کر کرنا ہی عقل مندی ہے۔ منقول اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو…

Read more

ایک مولوی صاحب تھے۔ بڑے نیک اور عبادت گزار انسان۔ ان کے گھر میں دو طوطے بھی تھے، اور کمال کی بات یہ تھی کہ دونوں طوطے بھی بڑے نیک مزاج تھے۔ ایک طوطا تو زیادہ تر وقت سجدے کی حالت میں رہتا تھا، جیسے عبادت کر رہا ہو۔اور دوسرا طوطا ہر وقت بیٹھا تسبیح پڑھتا رہتا تھا:“سبحان اللہ… سبحان اللہ…” محلے والے بھی اکثر حیران ہوتے تھے کہ مولوی صاحب کے طوطے بھی کتنے نیک ہیں۔ ایک دن مولوی صاحب کا ہمسایہ ان کے پاس آیا اور بولا: “مولوی صاحب! میرے پاس ایک طوطی ہے، مگر وہ مجھے بہت تنگ کرتی ہے۔ شور مچاتی رہتی ہے، سکون نہیں لینے دیتی۔ کوئی حل بتائیں۔” مولوی صاحب نے مسکرا کر کہا: “ایسا کریں، آپ اپنی طوطی میرے پاس چھوڑ جائیں۔ میرے پاس دو نیک طوطے ہیں۔ ان کے ساتھ رہے گی تو شاید سدھر جائے، اور اگر قسمت ہوئی تو بچے…

Read more

یہ ایک انتہائی جذباتی اور سبق آموز کہانی ہے، میٹھا بول اور مہربان ہاتھوہ تین دن تک اسٹور کے دروازے کے گرد گھومتی رہی—ایک چھوٹی سی سفید رنگ کی آوارہ کتیا جس کا ایک کان سرخی مائل تھا۔ اس کے جسم میں مائیکرو چپ (شناختی چپ) تو لگی تھی، مگر پھر بھی وہ کسی بے گھر جانور کی طرح زندگی گزار رہی تھی۔اسٹور میں داخل ہونے والے اکثر لوگ اسے اپنے پاؤں سے ایک طرف دھکیل دیتے۔ وہ کبھی احتجاج نہ کرتی، کیونکہ ہر کسی کو اپنے کام کی جلدی تھی۔ لیکن وہ ہر شخص کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتی—سر جھکائے ہوئے، خاموشی سے التجا کرتی ہوئی۔زیادہ تر لوگ اسے صرف ایک ہی نام سے پکارتے:“دفع ہو جاؤ!”لیکن آج وہ اپنے لیے نہیں مانگ رہی تھی۔ اسٹور کے پیچھے صحن میں اس کا دوست—ایک آوارہ بلا—بیمار تھا۔ اسے سانس لینے میں تکلیف ہو رہی تھی، آنکھوں سے پانی…

Read more

وہ رات جب ڈاکوؤں نے موڑ پر گاڑی روکی، ڈرائیور نے کہا “میاں جی کو اتار دو، میں نے ان کا کرایہ معاف کر دیا تھا” — پھر جو ڈاکوؤں کے سردار نے کہا، وہ کسی قرآن کی آیت سے کم نہ تھا۔ یہ 1985 کا زمانہ ہے۔ پاکستان کی شاہراہوں پہ راتیں لمبی ہوتی تھیں۔ ٹرانسپورٹ کے بس اسٹینڈز پہ چائے کے ڈھابے اور تیل کے لیمپ جلتے تھے۔ لوگ ابھی اتنے جلدی نہیں پہنچتے تھے جتنی جلدی منزلیں تھیں۔ میاں محمد بخش لاہور سے پشاور جا رہے تھے۔ان کی عمر ساٹھ برس تھی۔ سفید داڑھی اور ماتھے پہ نماز کا نشان۔ بدن پہ کرتا تھا اور کندھے پہ پرانا شال، جس میں کئی پیوند لگے تھے۔ ان کے پاس کوئی سامان نہیں تھا۔ نہ بریف کیس، نہ بنڈل۔ بس ایک چھوٹی سی تھیلی جس میں پانی کی لوٹی تھی اور کھجوروں کا ایک پیکٹ۔ وہ نیا کھوکھر سے…

Read more

ایک بادشاہ نے اپنے بہنوئی کی سفارش پر ایک شخص کو محکمہ موسمیات کا وزیر لگا دیا۔ ایک روز بادشاہ شکار پر جانے لگا تو روانگی سے قبل اپنے وزیرِ موسمیات سے موسم کا حال پوچھا۔ وزیر نے کہا :– موسم بہت اچھا ہے اور اگلے کئی روز تک اسی طرح رہے گا۔ بارش وغیرہ کا قطعاً کوئی امکان نہیں۔ بادشاہ مطمئن ہوکر اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ شکار پر روانہ ہو گیا۔ راستے میں بادشاہ کو ایک کمہار ملا۔اس نے کہا حضور ~ آپ کا اقبال بلند ہو‘ آپ اس موسم میں کہاں جا رہے ہیں؟بادشاہ نے کہا:– شکار پر۔کمہار کہنے لگا‘:– حضور! موسم کچھ ہی دیر بعد خراب ہوجانے اور بارش کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ بادشاہ نے کہا‘ :– ابے او برتن بنا کر گدھے پر لادنے والے ‘ تو کیا جانے موسم کا حال ؟ میرے وزیر نے بتایا ہے کہ موسم نہایت خوشگوار ہے اور…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بوڑھا جوڑا رہتا تھا۔ دونوں ہی پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھے۔ میاں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ایک سرجن کے طور پر گزارا تھا، جبکہ اس کی بیوی فیملی فزیشن (معالج) کے طور پر کام کرتی رہی تھی۔بوڑھے سرجن کو کبھی کبھار پینے پلانے کا شوق تھا۔ ویسے بھی… جو لوگ سرجنوں کو جانتے ہیں وہ آپ کو بتائیں گے کہ ان میں سے بہت سے لوگوں کے لیے یہ عادت تقریباً ان کے پیشے کا حصہ بن جاتی ہے۔تاہم، اس کی بیوی کی ایک ایسی عادت تھی جس نے اسے دیوانہ بنا رکھا تھا—جب بھی وہ تھوڑی زیادہ پی لیتا، وہ فوراً پولیس کو فون کر دیتی۔ جیسے ہی وہ اپنے لیے چند گلاس انڈیلتا، وہ فون اٹھاتی اور اس کی رپورٹ کر دیتی۔ ذرا تصور کریں: یہ وہی شخص تھا جس نے اسی پولیس ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں اور ان…

Read more

ایک نیک دل بادشاہ نے ایک یتیم غریب اور بے آسرا لڑکے کو اپنے محل میں پناہ دے رکھی تھی بادشاہ کی عادت تھی کہ جب بھی اُس کے سامنے کوئی کھانے پینے کی لذیذ چیز پیش کی جاتی وہ پہلے اُس لڑکے کو کھانے کے لیے دیتا پھر خود کھاتا یہ سلسلہ کافی عرصے تک یونہی چلتا رہا ایک دِن بادشاہ کے سامنے کچھ پھل لائے گئے تو بادشاہ نے حسب معمول اور حسب عادت ایک پھل کاٹ کر پہلے اُس لڑکے کو دیا جسے وہ بڑے آرام سے کھانے لگا بادشاہ نے پوچھا بیٹا پھل کا ذائقہ کیسا ہے؟لڑکے نے کہا حضور! بہت مزیدار ہے جب لڑکا پھل کھا چکا تو بادشاہ نے ایک پھل اپنے لیے کاٹ کر کھانے کا ارادہ کیا جیسے ہی اُس نے وہ پھل اپنے منہ میں رکھا فوراً باہر تھوک دیا “توبہ توبہ اتنا کڑوا” بادشاہ کے منہ سے بے ساختہ نکلا…

Read more

سستی نے اس کی جان لے لی: ایک ایسا آدمی جو امیر بن سکتا تھا، مگر محنت نہیں کرنا چاہتا تھابہت پرانی بات ہے، ایک آدمی اتنا سست تھا کہ صبح سے شام تک کچھ نہیں کرتا تھا۔ اس کی بیوی اسے سارا دن فارغ دیکھ کر تنگ آ چکی تھی اور اسے کوستی رہتی:“تم کب تک ایسے رہو گے؟ میں دن رات کام کرتی ہوں اور تم اپنی جگہ سے ہلتے تک نہیں۔ تم ہمیں تباہ کر دو گے!”لیکن وہ آدمی سکون سے جواب دیتا:“گھبراؤ مت، ایک دن ہم امیر ہو جائیں گے اور تمہیں کام کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔”بیوی نے پوچھا: “اگر تم صوفے سے اٹھتے بھی نہیں، تو ہم امیر کیسے ہوں گے؟”اس نے کہا: “میں نے سنا ہے کہ پہاڑ کے اس پار ایک دانا بزرگ رہتے ہیں، جن کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا ہے۔ میں ان کے پاس جا کر پوچھوں…

Read more

صدیوں پرانا قصہ ہے کہ بدقسمتی سے کسی گاٶں کے نیم حکیم ایک شادی شدہ عورت کی زلفِ گرہ گیر کے اسیر ہو گئے، جس کے حسن کے چرچے تھے۔ اس کی چشمِ قاتل کے تیکھے ورمے نے حضرت کے لوہے ورگے دل میں سوراخ کر دیا اور آپ اس پر لٹو ہو گئے۔ شادی بیاہ اور میلو ں ٹھیلوں میں ڈھول بجانا عورت کے خاندان کا پیشہ تھا۔ وہ کبھی دوا دارو کے لیے نیم حکیم صاحب کے پاس جاتی تو وہ بڑی دلچسپی اور تفصیل سے اس کی نبض چیک کرتے اور ملفوف الفاظ میں اپنا حالِ دل بھی ضرور سناتے۔ اس کا بچہ بھی جب کبھی حضرت کے سامنے آتا تو وہ اسے چپکے سے کہتے،”تمہاری ماں کا کیا حال ہے؟ اسے میرا سلام کہنا“ خوش شکل خاتون نے بڑا عرصہ سلام برداشت کیے مگر جب اس کی خیریت کے متعلق نیم حکیم ضرورت سے زیادہ فکرمند…

Read more

ایک دن بچے سکول گئے… اور اگلے ہی دن سکول بند!کہا گیا: “فیول کم استعمال کریں۔”عجیب بات ہے نا…جب بات بچوں کی تعلیم کی آتی ہے تو سب سے پہلے سکول ہی بند کر دیے جاتے ہیں۔کیا کبھی کسی نے سنا؟کہ شاپنگ مال بند کر دو فیول بچانے کے لیے؟یا شادی ہال بند کر دو؟نہیں۔ہمیشہ آسان حل یہی ہوتا ہے:بچوں کی تعلیم روک دو۔ایک دن سکول کھلتے ہیں،بچے خوشی سے بستے اٹھاتے ہیں،ماں باپ امید باندھتے ہیں…اور اگلے ہی دن اعلان آ جاتا ہے: “سکول بند!”سوال یہ نہیں کہ فیول کیوں بچانا ہے۔سوال یہ ہے کہ ہر بحران میں قربانی صرف تعلیم ہی کیوں دیتی ہے؟یاد رکھیں…جس قوم کے سکول بار بار بند ہوتے ہیں،وہاں جیلیں اور مسائل کھلتے رہتے ہیں۔فیصلے کرنے والوں کو سوچنا ہوگا:اگر آج ہم نے بچوں کی تعلیم کو ہی سب سے آسان قربانی بنا دیا،تو کل ہمیں اس کی قیمت پوری قوم کو ادا کرنی…

Read more

سنہ 1595 میں سلطنت عثمانیہ اپنے عروج پر تھی ۔سلطان مراد سوم کے انتقال پر ان کے بیٹے محمت ثالث کو ملا۔لیکن اس دن کو تاریخ میں سیاہ دن کے نام سے یاد رکھا جاتا ہے۔اس دن استنبول کے شاہی محل سے 19 شہزادوں کے جنازوں نکلے۔ یہ جنازے نئے سلطان محمت سوم کے بھائیوں کے تھے جنھیں سلطنت میں اس وقت رائج بھائیوں کے قتل کی شاہی روایت کے تحت نئے سلطان کے تخت پر بیٹھتے ہی باری باری گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا گیا تھا-یہ قانون سلطان محمت ثانی کی جانب سے بنایا گیا تھا جس میں لکھ تھا کہ اگر سلطنت میں بغاوت کا اندیشہ ہو تو فرمانروا کو اختیار ہے کہ وہ سلطنت کی بھلائی کے لیے اپنے بھائیوں کا خون بہا سکتا ہے۔بعد میں آنے والے کئی معصوم شہزادے اس قانون کا نشانہ بنے۔ ان میں سلطان مراد سوم کے انتقال کے بعد اسکے…

Read more

ایک دن جحا بازار سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا ایک بھوکا مسافر کباب فروش کی دکان کے سامنے کھڑا ہے۔ اس مسافر کے پاس کھانے کے پیسے نہیں تھے، اس لیے اس نے روٹی کا ایک خشک ٹکڑا نکالا اور اسے کبابوں سے اٹھنے والے دھوئیں کے اوپر رکھ کر سینکنے لگا تاکہ روٹی میں کبابوں کی خوشبو بس جائے اور وہ اسے کھا سکے۔ دکاندار بہت کنجوس اور جھگڑالو تھا۔ اس نے مسافر کا ہاتھ پکڑ لیا اور شور مچانے لگا:“تم نے میرے کبابوں کے دھوئیں سے فائدہ اٹھایا ہے، اب اس کی قیمت ادا کرو!” بیچارہ مسافر پریشان ہو گیا کہ دھوئیں کے پیسے کیسے دے؟ اتنے میں جحا وہاں پہنچ گئے اور سارا معاملہ سننے کے بعد بولے:“فکر نہ کرو، اس مسافر کے بدلے میں قیمت میں ادا کروں گا۔” جحا نے اپنی جیب سے چند سکے نکالے، انہیں مٹھی میں بند کیا اور…

Read more

دو کوے صبح سویرے نکلے،بالکل روزمرہ کی طرح،کھانے کی تلاش میں۔ سارا دن اُڑتے رہے،گلیاں چھان ماریں،کوڑے دانوں کے چکر لگائے،لیکن قسمت ایسی سوئی ہوئی تھیکہ ایک دانہ بھی ہاتھ نہ آیا۔ شام کو دونوں تھکے ہارے واپس لوٹ رہے تھےکہ اچانک اچ شریف کی جامع مسجد کے صحن میںایک منظر نے ان کی آنکھوں میں چمک بھر دی۔ وہاں مولوی جام صاحب بڑے سکون سے بیٹھےروٹی تناول فرما رہے تھے،ایسے اطمینان سے جیسےدنیا میں قحط صرف کوؤں کے لیے آیا ہو۔ دونوں کوے فوراً نیچے اترےاور ذرا فاصلے پر بیٹھ گئے،کچھ دیر وہ روٹی کو گھورتے رہے،بالکل ویسے جیسے ڈاکٹروں کی ٹیمکسی ایکسرے رپورٹ پر مشاورت کر رہی ہو۔ نوجوان کوا آہستہ سے بولا:“جناب ایک بات کہوں؟ہم اس روٹی پر جپٹتے کیوں نہیں؟ویسے بھی یہ تو ہمارا خاندانی پیشہ ہے!”بوڑھے کوے نے فوراً گردن گھما کر اسے دیکھااور آہستہ سے بولا:“ارے نادان!یہ کوئی عام آدمی نہیں،یہ مولوی جام صاحب…

Read more

کہتے ہیں کہ کسی دور دراز علاقے میں ایک بستی آباد تھی۔ بظاہر وہ بستی عام سی تھی، مگر اس کے باسیوں کے چہروں پر ہمیشہ ایک انجانا خوف سایہ کیے رہتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ ہر سال ایک مخصوص دن ایک خوفناک دیو وہاں آتا، پورے گاؤں کو للکارتا اور یہی سوال دہراتا:“کیا تم میں کوئی مرد ہے جو مجھ سے مقابلہ کر سکے؟ کیا کوئی ہے جو مجھے ہرا سکے؟”اور پھر روایت کے مطابق وہ ہر سال گاؤں کے کسی ایک انسان کو مار ڈالتا۔ یوں خوف اس بستی کی رگ رگ میں بس چکا تھا۔ خوف کا دنآج بھی وہی منحوس دن آن پہنچا تھا۔ گاؤں میں خاموشی تھی، مگر یہ خاموشی سکون کی نہیں بلکہ موت کے انتظار کی تھی۔ لوگ سہمے ہوئے تھے، عورتوں کی آنکھوں میں آنسو تھے اور نوجوانوں کے دل خوف سے کانپ رہے تھے۔ سب جانتے تھے کہ آج پھر…

Read more

‎ایک آدمی اپنے پیر صاحب کے پاس گیا اور عرض کی کہ مجھے طاقت دیں، اسمِ اعظم عطا کریں۔ اُنہوں نے فرمایا “ آج کا دن سیر و تفریح کر لو، کل دیکھیں گے۔”‎‎وہ شخص پھرتا پھراتا جنگل میں چلا گیا۔وہاں اس نے کیا دیکھا کہ ایک لکڑ ہارا لکڑیوں کا گٹھا اُٹھاۓ چلا آ رہا ہے۔ تھکا تھکا آیا۔ وہاں سے شہر کا کوتوال گزرا۔ اس نے کہا” بابا ! یہ لکڑیاں مجھے دے دو، مجھے ضرورت ہے۔” بوڑھے نے اُس سے معاوضہ مانگا۔ کوتوال نے کہا” تو مجھے نہیں جانتا، میں شہر کا کوتوال ہوں۔”‎بوڑھے نے کہا” کوتوال ضرور ہو گا مگر پیسے تو دو۔”قصہ کوتاہ، کوتوال نے بوڑھے کو مارا، پیسے بھی نہ دیےاور لکڑی بھی لے گیا۔‎‎بے چارہ مرید دوسرے دن پیر کے پاس گیا۔ انہوں نے پوچھا”تُم نے کیا دیکھا؟” مرید نے سارا واقعہ کہہ سُنایا ۔ اُنہوں نے دوبارہ فرمایا” اگر تمہارے پاس اَِسمِ…

Read more

جنگل میں آئے دن جھگڑے اور فسادات ہو رہے تھے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر خون بہتا، اور ہر طرف خوف، نفرت اور بدنظمی کا راج تھا۔کچھ امن پسند، سلجھے ہوئے اور سچے دل کے جانور شیر کے دربار میں حاضر ہوئے۔ وہ گڑگڑاتے، دہائیاں دیتے ہوئے شیر سے بولے:“حضور! کچھ کیجیے، ہمارا تو اس ریاست میں جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ روز کوئی نہ کوئی جان سے جاتا ہے۔ ظلم، ناانصافی، اور نفاق بڑھتا جا رہا ہے۔”شیر نے انہیں مستقبل میں انصاف کی فراہمی کی نوید سنائی اور تسلی دی، اور پھر دربار برخاست کر دیا۔اجلاس کے بعد شیر نے اپنی وزیرِ اعظم لومڑی کو طلب کیا اور پوچھا:“یہ سب فساد، لڑائی جھگڑوں اور بدنظمی کی جڑ کیا ہے؟”لومڑی نے بڑی تمکنت سے جواب دیا:“جنابِ والا! رعایا میں شعور کی شدید کمی ہے۔ وہ نہ اپنے حق کو پہچانتی ہے، نہ اپنے فرض کو، اور نہ ہی کسی بات کی…

Read more

پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک مسافر اپنی گھوڑی پر سوار کسی کام کی غرض سے سفر پر نکلا۔ واپسی پر رات ہوگئی تو اس نے بستی کے ایک گھر میں قیام کی درخواست کی۔ وہ گھر “مراثیوں” کا تھا، جنہوں نے مسافر کو اپنا مہمان بنا لیا۔ مسافر نے جاتے وقت تاکید کی کہ اس کی گھوڑی “امید” سے ہے، لہٰذا اس کا خاص خیال رکھا جائے۔اتفاق سے رات کے وقت گھوڑی نے بچے کو جنم دیا۔ صبح ناشتے کے بعد جب مسافر رخصت ہونے لگا اور گھوڑی کے بچے کو ساتھ لے جانے کا ارادہ کیا، تو گھر والے اکٹھے ہوگئے اور کہنے لگے: “میاں! یہ بچہ آپ کا نہیں بلکہ ہماری گائے کا ہے، آپ اسے نہیں لے جا سکتے۔”بات بڑھی تو آدھا گاؤں اکٹھا ہوگیا۔ سب دیہاتی اپنے ہی لوگوں کی طرفداری کرنے لگے۔ بے بس مسافر انصاف کی طلب لیے گاؤں کے “بڑے چوہدری”…

Read more

300/455
NZ's Corner