Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﭼﺎﺭ ﺁﺩﻣﯽ ﻃﻠﺐ ﮐﺌﮯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﻢ ﺗﮭﺎ ، ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻋﺎﺷﻖ ﺗﮭﺎ ، ﺗﯿﺴﺮﺍ ﻧﺎﺑﯿﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺗﮭﺎ ﻏﺮﯾﺐ ﺗﮭﺎ ،،ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﻥ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺼﺮﻋﮧ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ اس کو ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﻭ ، ﻣﺼﺮﻋﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ:اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﻮﭺ ﺑﭽﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ ﺷﻌﺮ ﺑﻨﺎئے ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﮨﯿﮟ.. ﻋﺎﻟﻢ :ﺑﺖ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﺩﯾﻦ ﺍﺣﻤﺪ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ،،اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ — ﻋﺎﺷﻖ :ﺍﯾﮏ ﺳﮯ ﺟﺐ ﺩﻭ ﮨﻮﮰ ﭘﮭﺮ ﻟﻄﻒ ﯾﮑﺘﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ،،اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ — ﻧﺎﺑﯿﻨﺎ :ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻨﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﯾﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ،،اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ — ﻏﺮﯾﺐ :ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﭘﯿﺴﮯ ہیں ﻣﺼﻮﺭ ﺟﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ،،اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ —#منقولــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــاگر کوئی تحریر اچھی…

Read more

ایک بادشاہ نے اپنے محل میں ایک عجیب و غریب کمرہ بنایا۔ اس کمرے کی خاص بات یہ تھی کہ اس کی چاروں دیواریں، ستون اور چھت ہزاروں چھوٹے بڑے آئینوں سے سجے ہوئے تھے۔ جہاں بھی نظر پڑتی، انسان کو اپنا ہی عکس دکھائی دیتا۔ ایک دن ایک کتا اتفاقاً اس کمرے میں داخل ہوا۔ جیسے ہی اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی، اسے ہر طرف سینکڑوں کتے دکھائی دیے۔ کتا خوفزدہ اور غصے میں آ گیا۔ ہر آئینے میں اسے دوسرے کتوں کے غصے سے بھونکتے ہوئے چہرے نظر آئے۔ دل کی دھڑکن تیز ہوئی، خوف بڑھا، اور وہ سمجھ بیٹھا کہ ہر طرف دشمن ہی دشمن ہیں۔ آخرکار مسلسل بھونکتے اور ڈرتے ڈرتے وہ گر پڑا اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ کچھ دیر بعد ایک معصوم بچہ اسی کمرے میں داخل ہوا۔ وہ بھی ہر طرف سینکڑوں بچے دیکھ رہا تھا، مگر اس کے دل میں…

Read more

خاتون نے اپنا بیمار گدھا ؛ مکمل طور پر صحتمند بتا کر دس ہزار روپے میں بیچ دیا ۔ ۔ ایک دن بعد گدھا مر گیا۔ خریدار نے خاتون سے شکایت کی آپ نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا کہ گدھا مکمل صحتمند ہے بس ذرا موسم کی وجہ سے سست ہو رہا ہے خاتون نے کہا کہ ذندگی کی گارنٹی تو میں نے نہیں دی تھی۔ پھر بھی آپ مرا ہوا گدھا مجھے واپس پہنچادو؛ کسان نے پوچھا کہ مرے ہوئے گدھے کا آپ کیا کرو گی؟ خاتون نے کہا کہ میں ایک مہینے بعد اس مرے ہوئے گدھے کی آدھی قیمت آپکو واپس دے دوُں گی۔ کسان نے کہا منظور ہے ؛ میں مرا ہوا گدھا آپ تک پہنچا دیتا ہوں پھر ایک مہینے بعد آکر پانچ ہزار روپے لے لوں گا ۔ ۔ ۔ ایک مہینے بعد کسان واپس گیا تو دیکھا کہ خاتون کے پاس وہی…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا اور دعویٰ کیا کہ وہ گھپ اندھیرے کمرے میں، آنکھوں پر کالی پٹی باندھ کر کالی سوئی میں کالا دھاگہ مسلسل پانچ سو بار بھی پروئے تو اس کا نشانہ نہیں چوکے گا۔ بادشاہ کو یہ بات ناممکن لگی، لیکن اس شخص نے گزارش کی کہ اسے آزما کر دیکھ لیا جائے۔ چنانچہ اس شخص نے آنکھوں پر پٹی باندھ کر سیکڑوں بار کالی سوئی میں کالا دھاگہ پرو کر دکھا دیا۔ بادشاہ اس کی یہ مہارت دیکھ کر بہت خوش ہوا۔اگلے دن بادشاہ نے اسے دربار میں طلب کیا اور حکم دیا کہ اس شخص کو دس ہزار اشرفیاں انعام میں دی جائیں۔ وہ شخص انعام لے کر خوشی خوشی واپس جانے ہی لگا تھا کہ بادشاہ نے اسے روکا اور اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اسے زمین پر لٹا کر دس کوڑے مارے…

Read more

سب سے خطرناک سودا وہ نہیں ہوتا جو آپ پر حملہ کرے۔ بلکہ وہ ہوتا ہے جو سب کچھ چھینتے ہوئے آپ کو “محفوظ” ہونے کا احساس دلائے۔وادی کے پار رہنے والے چیتوں کے ڈر سے بھیڑوں کا ایک ریوڑ ہمیشہ خوف میں رہتا تھا۔ پھر ایک بھیڑیا آیا۔ 🐺اس نے انہیں نہ دھمکایا، نہ ان کا پیچھا کیا۔ وہ چشمہ لگائے، پرسکون آواز اور ایک پیشکش کے ساتھ آیا۔اس نے کہا: “مجھے اپنی حفاظت کرنے دو۔ کوئی چیتا اس وادی کے قریب نہیں آئے گا۔ بدلے میں، میں ہر مہینے صرف ایک بھیڑ مانگوں گا۔”ریوڑ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔“صرف ایک مہینے میں؟”“یہ روز روز کے خوف میں جینے سے بہتر ہے۔”“کم از کم اب ہمیں تحفظ تو حاصل ہے۔” چنانچہ وہ راضی ہو گئے۔ شروع میں یہ سودا عقلمندی لگا۔ بھیڑیے نے چیتوں کو بھگا دیا۔ وادی میں خاموشی چھا گئی۔ خوف ختم ہونے لگا۔مہینہ در مہینہ،…

Read more

زید بن اسلم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قحط سالی کے دوران لوگ نمرود کے پاس جاتے اور غلہ لے آتے تھے۔ حضرت خلیل اللہ علیہ السلام بھی گئے، مگر بدبخت نمرود نے آپ علیہ السلام کو غلہ نہ دیا اور آپ خالی ہاتھ واپس لوٹے۔ گھر کے قریب پہنچ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دونوں بوریوں میں ریت بھر دی تاکہ گھر والے سمجھیں کہ کچھ لے آئے ہیں۔ گھر آ کر بوریوں کو رکھ کر سو گئے۔ حضرت سارہ علیہا السلام اٹھیں، بوریوں کو کھولا تو دیکھیں کہ وہ عمدہ اناج سے بھری ہوئی ہیں۔ کھانا پکا کر تیار کیا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آنکھ کھلی اور کھانا دیکھا تو پوچھا، “یہ اناج کہاں سے آیا؟” حضرت سارہ علیہا السلام نے کہا، “وہی بوریوں میں سے نکالا جو آپ لے کر آئے تھے۔” آپ سمجھ گئے کہ یہ خدا کی برکت اور رحمت ہے۔…

Read more

اس کہانی کا مفہوم اور پیغام بہت گہرا ہے۔ تیاری کی حکمت: ایک سبق آموز کہانیکچھ لوگ مشکل وقت میں بھی پرسکون نظر آتے ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ ہے:وہ دباؤ آنے سے پہلے ہی اپنی تیاری مکمل کر چکے ہوتے ہیں۔ایک پُرسکون جنگل میں، ایک جنگلی سور ایک پرانے درخت کے تنے سے اپنے دانت رگڑ کر انہیں تیز کر رہا تھا۔ دن بدن، وہ یہی کام کرتا رہا۔ آہستہ آہستہ، صبر کے ساتھ اور بغیر کسی ناغے کے۔وہاں سے ایک لومڑی گزری، اس نے سور کو دیکھا اور ہنسنے لگی۔“یہاں تو کوئی شکاری نہیں ہے۔ کوئی خطرہ بھی نہیں ہے۔ پھر تم ابھی سے اپنے دانت تیز کر کے اپنی توانائی کیوں ضائع کر رہے ہو؟” جنگلی سور نے کوئی بحث نہیں کی۔ وہ ایک لمحے تک اپنے دانت تیز کرتا رہا، پھر جواب دیا:“جب خطرہ آئے گا، تو مجھے فوراً اپنے تیز دانتوں کی ضرورت ہوگی۔…

Read more

یہ ایک بہت ہی سبق آموز کہانی ہے جو انسانی فطرت کی عکاسی کرتی ہے۔ کیا آپ کو ان لوگوں کو دینا چاہیے جو اس کے حقدار نہیں؟ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ نکیمی فونا نامی ایک شخص رہتا تھا۔ وہ اس قدر کنجوس تھا کہ کوئی کتا بھی اس کے پیچھے نہ جاتا تھا اور نہ ہی کبھی کسی مرد یا عورت نے اسے “شکریہ” کہا تھا۔اور ہر کنجوس کی طرح، اسے اپنے لالچ پر کوئی قابو نہ تھا۔ اسے تقریبات میں شرکت کرنا بہت پسند تھا لیکن اس نے کبھی کسی میزبان کی ایک کوڑی سے بھی مدد نہ کی تھی۔ جب بھی وہ گاؤں کے چوک سے گزرتا، لوگ اس کے بارے میں کہتے:“یہ وہ شخص ہے جو کبھی دیتا نہیں، لیکن ہمیشہ لینے کی توقع رکھتا ہے۔”ایک بدقسمت دن، نکیمی فونا ایک شادی کی تقریب میں جا رہا تھا کہ وہ ایک گہرے گڑھے میں گر…

Read more

پڑھیے گا ضرور…ہماری تاریخ میں بہت بڑا خوبصورت نام عبداللہ بن زید رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔ آپ نے ساری زندگی نکاح نہیں کیا، جوانی گزر گئی بڑھاپا آیا ایک دن بیٹھے حدیث مبارکہ پڑھ رہے تھے تو اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان پڑھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ:**”جنت میں کوئی اکیلا نہیں ہو گا جو نکاح کی عمر میں نہیں پہنچا یا پہنچا بھی تو کسی وجہ سے نہیں ہوا اور وہ مسلمان ہی مرا تو اللہ مسلمان مردوں اور عورتوں کا جنت میں آپس میں نکاح کر دے گا”۔**جب یہ حدیث پاک پڑھی تو دل میں خیال آیا کہ یہاں تو نکاح نہیں کیا تو جنت میں ہونا ہی ہونا ہے تو جنت میں میری بیوی کون ہو گی دعا کی کہ یا اللہ مجھے دکِھا تو سہی جنت میں میری بیوی کون ہو گی؟* *پہلی رات دعا قبول نہیں ہوئی…

Read more

بہت پہلے کی بات ہے، جنگل کے بیچوں بیچ ایک بندر رہتا تھا جو چالاک تو تھا مگر بہت لالچی بھی تھا۔ وہ اتنا پھرتیلا تھا کہ کوئی جال اسے پکڑ نہیں سکتا تھا۔ تمام جانور اسے اچھی طرح جانتے تھے۔ جب بھی کھانا بانٹا جاتا، وہ اپنے حصے سے زیادہ لیتا۔ جب بھی پھل پکتے، وہ اتنے توڑ لیتا کہ خود کھا بھی نہ پاتا۔ایک موسم میں آم کے درخت پھلوں سے لد گئے تھے۔ بندر نے اتنے آم جمع کر لیے کہ اس کے درخت کے نیچے ڈھیر لگ گیا۔ آدھے آم دھوپ میں گل سڑ گئے جبکہ طوطے اور گلہریاں بھوک سے انہیں دیکھتی رہتیں، مگر وہ پھر بھی انہیں بھگا دیتا اور چلاتا، “یہ میرے ہیں! سب میرے ہیں!”جنگل کے دوسرے جانور اس سے ناراض تھے۔انہوں نے کہا، “بندر میاں! لالچ تمہیں لے ڈوبے گا۔ یہ لالچ ہی تمہیں کسی دن پھنسائے گا۔”بوڑھے کچھوے نے، جس…

Read more

ایک بادشاہ تھا،جس کے پاس دولت، طاقت، شان و شوکت سب کچھ تھامگر ایک کمی اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی…اس کے ہاں بیٹا نہیں تھا۔ اس کی سات بیٹیاں تھیں،مگر وہ معاشرے کی سوچ کے زیرِ اثربیٹے کی خواہش میں ہمیشہ پریشان رہتا تھا۔ ایک دن وہ اپنے لشکر کے ساتھ ایک گاؤں سے گزر رہا تھاکہ اس کی نظر ایک بوڑھے شخص پر پڑیجو ایک درخت کے نیچے بیٹھا زار و قطار رو رہا تھا۔ بادشاہ فوراً گھوڑے سے اترا،اور اس کے قریب جا کر نرمی سے پوچھا:“بابا! تم کیوں رو رہے ہو؟” بوڑھا شخص کانپتی آواز میں بولا:“بادشاہ سلامت… میں بہت غریب ہوں۔میرے سات بیٹے ہیں،مگر انہیں کوئی کام دینے کو تیار نہیں۔گھر میں بیوی بیمار ہے،کھانے کو ایک دانہ نہیں…علاج کرواؤں تو کہاں سے؟” بادشاہ نے حیرانی سے پوچھا:“ایسا کیوں؟ تمہارے بیٹے کیا کام نہیں کر سکتے؟” بوڑھا بولا:“جناب! میرے بیٹے تو ہر کام…

Read more

حضرت عیسیٰ ؑ تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے ایک پہاڑ کی طرف جا رہے تھے، ایک آدمی نے بلند آواز سے پکار کر کہا، اے خدا کے رسول ؑ ! اس وقت آپ ؑکہاں تشریف لے جا رہے ہیں،تیز چلنے کی وجہ کیا ہے؟ آپ ؑکے پیچھے کوئی دشمن بھی نہیں ہے۔حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا: میں ایک احمق آدمی سے بھاگ رہا ہوں،تو میرے بھاگنے میں خلل مت ڈال۔اس آدمی نے کہا: اے حضرت آپ مسیحا ؑ نہیں ہیں؟جن کی برکت سے مریض شفایاب ہو جاتے ہیں،اندھے اور بہرے کو صحت مل جاتی ہے۔آپؑ نے فرمایا: ہاں میں وہی نبیؑ ہوں۔اس آدمی نے کہا: کیا آپؑ وہی بادشاہ نہیں ہیں جو مردے پر اللہ کا کلام پڑھتا ہے تو وہ زندہ ہو جاتا ہے؟آپ ؑ نے فرمایا : ہاں میں وہی پیغمبرؑ ہوں۔اس آدمی نے کہا: کیا آپؑ وہ نہیں ہیں جو مٹی کو پرندے بنا کر ان پر…

Read more

کوہِ طور پر تجلیِ الہٰیہ کی زیارت کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چہرہ مبارک پر ایسی قوی چمک رہتی تھی کہ چہرے پر نقاب کے باوجود جو بھی آپ کی طرف آنکھ بھر کر دیکھتا تو اُس کی آنکھوں کی بینائی ختم ہو جاتی۔ آپ علیہ السلام نے حق تعالیٰ سے عرض کیا کہ “مجھے ایسا نقاب عطا فرمائیے جو اِس قوی نُور کا ستر بن جائے اور مخلوق کی آنکھوں کو نقصان نہ پہنچے۔” حکم ہوا کہ “اپنے اُس کمبل کا نقاب بنا لیجئےجو کوہِ طُور پر آپ (علیہ السلام) کے جسم پر تھا۔ جس نے طُور کی تجلی کا تحمل کیا ہُوا ہے۔ اے موسیٰ.! اُس کمبل کے علاوہ اگر کوہ قاف بھی آپ کے چہرے کی تجلی بند کرنے کو آ جائے تو وہ بھی مثلِ کوہِ طُور پھٹ جائے گا۔” الغرض موسیٰ علیہ السلام نے بغیر نقاب کے خلائق کو اپنا چہرہ دیکھنے سے…

Read more

ایک فقیر ایک درویش کی ملاقات کو آیا جس سے اُسے بڑی عقیدت تھی کیا دیکھتا ہے کہ درویش ایک مخملیں غالیچے پر بیٹھا ہوا ہے اور اس کے سر پر ریشمی کپڑے کی جھونپڑی تنی ہے جس کو سونے کی میخوں سے زمیں میں گاڑا گیا ہے فقیر نے جب یہ سب دیکھا تو فریاد کرنے لگا پیر و مرشد یہ سب کیا ہے ؟ میں تو آپ کے زہد و خدا پر توکّل کی وجہ سے آپ کا مرید بنا تھا اب یہ شان و شوکت دیکھ کر میں دنگ رہ گیا ہوں درویش نے ہنس کر کہا میں تیّار ہوں کہ یہ سب کچھ ترک کر کے تمہارے ہمراہ چلوں یہ کہہ کر درویش اٹھا اور فقیر کے ساتھ چل پڑا اُس نے اتنی زحمت بھی نہیں کی کہ اپنے چپّل ھی پہن لے کچھ دور چلنے کے بعد فقیر کہنے لگا میں اپنا کشکول تو آپ…

Read more

جاپان کے ایک گاؤں میں ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا۔ اس کا نام ایچیرو تھا۔ وہ ہر روز جنگل جاتا، درخت کاٹتا، لکڑی بیچتا، اور اپنی بیوی اور دو بچوں کا پیٹ پالتا۔ ایک دن جنگل میں اس نے دیکھا کہ ایک سارس شکنجے میں پھنسی ہوئی ہے۔ وہ بے حال تڑپ رہی تھی۔ ایچیرو نے اس پر رحم کھایا۔ اس نے شکنجہ کھول دیا۔ سارس اڑ گئی۔ اس رات جب ایچیرو گھر واپس آیا تو اس کے گھر میں ایک عورت بیٹھی تھی۔ وہ بہت خوبصورت تھی۔ عورت نے کہا: “میں وہی سارس ہوں جسے تم نے آج بچایا۔ شکریہ۔ میں تمہیں تین خواہشیں پوری کروں گی۔” ایچیرو نے بیوی سے مشورہ کیا۔ بیوی بولی: “نیا گھر چاہیے۔ یہ پرانا گھر گرنے کو ہے۔” ایچیرو نے کہا: “پہلی خواہش  نیا گھر۔” اتنا کہنا تھا کہ پرانا گھر غائب ہو گیا۔ اس کی جگہ ایک نیا خوبصورت گھر تھا۔ اگلے…

Read more

ڈنمارک کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک بوڑھا موم بتی ساز رہتا تھا۔ اس کا نام لارس تھا۔ وہ ساری زندگی موم بتیاں بناتا رہا تھا  لمبی، چھوٹی، موٹی، پتلی۔ اس کے ہاتھ موم سے سیاہ ہو گئے تھے، اس کی پیٹھ جھک گئی تھی، لیکن اس کا دل اب بھی نرم تھا۔ ایک دن اس نے دو موم بتیاں بنائیں۔ دونوں بالکل ایک جیسی تھیں — لمبی، سفید، صاف۔ پہلی موم بتی اس نے شہر کے امیر آدمی کو دے دی۔ دوسری موم بتی اس نے گاؤں کی ایک غریب عورت کو دے دی جو تنہا رہتی تھی۔ امیر آدمی نے موم بتی کو سونے کے شمع دان میں رکھا۔ اس نے کہا: “یہ موم بتی میرے کھانے کے کمرے میں جلے گی۔ مہمان آئیں گے، روشنی ہو گی، سب دیکھیں گے کہ میرے پاس کتنی خوبصورت چیز ہے۔” موم بتی جلنے لگی۔ اس کی لو سیدھی اوپر…

Read more

گاؤں میں خدا بخش کا ایک چھوٹا سا پیارا سا گھر تھا۔ وہ کسان تھا۔ اس کا ایک باغ تھا۔ باغ کے آخری کونے میں ایک بہت گہرا کنواں تھا۔ بے چارہ کسان پانی اوپر کھینچتا اور پھر اس کو باغ کے پودوں میں ڈالتا تھا۔ ایک سال بالکل بارش نہیں ہوئی۔ سورج بہت گرم تھا۔ کسان نے اپنے باغ کی طرف دیکھا اور کہا: ”اگر پانی نہ ملا تو میرے پودے مر جائیں گے۔ مجھے ان کو پانی ضرور دینا چاہیے، لیکن پانی تو اب بہت گہرائی میں اتر گیا ہے۔ میں بہت بوڑھا ہو گیا ہوں اور موٹا بھی۔ بہت محنت کا کام ہے، مجھے کیا کرنا چاہیے؟“ یہ سوچتا ہوا وہ سڑک کے کنارے بنی ہوئی چار دیواری تک آ گیا۔ وہ تھک کر ایک درخت کے نیچے بیٹھا ہی تھا کہ اس کے کان میں کھسر پھسر کی آواز آئی۔ کوئی اس کا نام لے رہا…

Read more

بنگال کے ایک بادشاہ کا ڈھول بجانے والا بہت مشہور تھا۔ اس کا نام بھولو تھا۔ وہ اتنا اچھا ڈھول بجاتا تھا کہ لوگ دور دور سے سننے آتے تھے۔ جب وہ ڈھول بجاتا تو لوگ ناچنے لگتے، بادشاہ خوش ہو جاتا، ساری دربار خوشی سے جھوم اٹھتی۔ بادشاہ نے اسے بہت سا انعام دیا — سونے کے سکے، ریشمی کپڑے، ایک خوبصورت گھر۔ بھولو امیر ہو گیا۔ لیکن امیر ہوتے ہی بھولو بدل گیا۔ اسے غرور آ گیا۔ وہ سوچنے لگا: “میں بہت بڑا فنکار ہوں۔ میرے جیسا کوئی نہیں۔” وہ اپنے پرانے دوستوں سے نہیں ملتا تھا۔ وہ غریبوں کو حقارت سے دیکھتا تھا۔ وہ کہتا: “یہ لوگ میرے برابر نہیں ہیں۔” ایک دن بادشاہ نے اسے بلایا۔ بھولو دربار میں گیا، ڈھول بجایا۔ اس دن اس نے اتنا اچھا بجایا کہ سب دنگ رہ گئے۔ بادشاہ نے کہا: “بھولو، تم بہت بڑے فنکار ہو۔ مانگو، جو چاہو…

Read more

میکسیکو کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیڈرو نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔ وہ بہت غریب تھا۔ اس کے پاس جوتے نہیں تھے، اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، اس کے پاس کھانے کو اکثر صرف ایک روٹی ہوتی تھی۔ لیکن پیڈرو کے پاس ایک دولت تھی اس کی ماں کی محبت۔ پیڈرو کی ماں بہت بوڑھی تھی۔ اس کی آنکھیں کمزور تھیں، اس کے ہاتھ کانپتے تھے، لیکن وہ ہر روز پیڈرو کے لیے روٹی پکاتی، اس کے سر پر ہاتھ رکھتی، اور کہتی: “بیٹا، کبھی ہار مت ماننا۔” ایک دن پیڈرو نے ماں سے کہا: “ماں، میں شہر جا رہا ہوں۔ وہاں کام ملے گا، پیسے ملیں گے۔ میں تمہارے لیے دوائی لاؤں گا، تمہیں اچھے کپڑے دلوں گا۔” ماں نے کہا: “جا بیٹا، لیکن یاد رکھنا جو کچھ بھی ہو، ایماندار رہنا۔” پیڈرو شہر پہنچا۔ اس نے بہت کام کیا صبح سے رات تک محنت کی۔…

Read more

جب بہت زیادہ مدد کرنے والا آخر کار چھوڑ کر چلا جاتا ہےاس خشک سرزمین میں اونٹ صرف ایک ہی بات کے لیے مشہور تھا: اسے معلوم تھا کہ پانی کہاں ملے گا۔جب دریا خشک ہو جاتے اور زمین پھٹ جاتی، تو دوسرے جانور کھودنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ وہ بس اسے دیکھتے رہتے۔ہر صبح، سورج کے تیز ہونے سے پہلے، اونٹ ریت میں کھدائی کرتا۔ اس کا سانس پھول جاتا۔ اس کے سینے میں درد ہوتا۔ پانی بہت آہستہ، تھوڑا تھوڑا کر کے نکلتا، جیسے کہیں چھپا ہوا ہو۔زیبرا پانی پیتا۔ ہرن پانی پیتا۔ پرندے غول کی شکل میں آتے اور پانی پیتے تاکہ اپنی پیاس بجھا سکیں۔انہوں نے کبھی غور نہیں کیا کہ وہ کتنا تھک چکا ہے۔ انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ کھدائی کے لیے صحیح جگہ تلاش کرنے کے لیے اسے کتنا پیدل چلنا پڑتا ہے۔ وہ صرف اس وقت آتے جب وہ…

Read more

280/581
NZ's Corner