Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

عام طور پر کہانیوں میں بھیڑیا کو چالاک اور ظالم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر یہ قصہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ایک بار جنگل کے بادشاہ شیر نے ایک بوڑھے بھیڑیے کو اپنی غار کی نگرانی کی ذمہ داری سونپ دی۔ شیر کا خیال تھا کہ بھیڑیا لالچ میں آسانی سے قابو میں آ جائے گا، اس لیے وہ اسے گوشت دے کر خوش رکھتا تھا۔ ایک رات شیر شکار پر چلا گیا۔ اسی دوران ایک لومڑی غار کے قریب آئی اور بھیڑیے سے آہستہ آواز میں کہا: “تم شیر کی خدمت کیوں کر رہے ہو؟ آؤ! غار میں موجود گوشت آپس میں بانٹ لیتے ہیں اور یہاں سے نکل چلتے ہیں۔” بھیڑیا مسکرا کر بولا: “مجھے گوشت کی بھوک نہیں، بلکہ اس اعتماد کی قدر ہے جو شیر نے مجھ پر کیا ہے۔ اگر آج میں نے بے وفائی کی تو کل پورا جنگل یہی…

Read more

سلطان محمود غزنوی کے دور کی بات ہے۔ ایک شخص کا مزاج بگڑ گیا اور وہ ایک حکیم کے پاس گیا۔ اس نے حکیم سے کہا، “میرے لیے کوئی دوا بنا دو۔” حکیم نے معائنہ کرنے کے بعد کہا، “دوا کے تمام اجزا تو موجود ہیں، لیکن ایک چیز کی کمی ہے۔ شہد کی ضرورت ہے، اور یہ شہد کا موسم نہیں ہے۔ اگر تم شہد لے آؤ تو میں دوا تیار کر دوں۔” وہ شخص ایک چھوٹی سی ڈبیا لے کر نکلا۔ اس نے لوگوں کے دروازے دروازے پھٹکے، لیکن اسے کہیں شہد نہ ملا۔ ہر طرف مایوسی ہی ہاتھ لگی۔ آخر کار اس نے دربارِ غزنوی میں حاضر ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ محل کے دروازے پر پہنچا تو ایاز وہاں کھڑا تھا۔ اس شخص نے اپنی داستان سنائی اور کہا کہ مجھے ایک چھوٹی سی ڈبیا میں شہد چاہیے۔ ایاز نے کہا، “تم ٹھہرو، میں بادشاہ سے…

Read more

کہتے ہیں ایک راجہ کا وزیر بڑا ہو شیار اور عقلمند تھا ۔ راجہ اُس کے کاموں سے اتنا خوش تھا کہ اُس نے اُس کو وزیر اعظم بنا دیا ۔ یہ بات رانی کو بہت ناگوار گزری ۔ کیونکہ وہ اپنے بھائی کو وزیر اعظم بنانا چاہتی تھی۔ پس وہ وزیر اعظم سے حسد کرنے لگی : ۔ ایک دن رانی نے راجہ سے کہا ۔ مہاراج ! آپ کا مزاج بھی دنیا سے نرالا ہے جس سے ذرا خوش ہوئے اُسی کو سر پر چڑھا لیا ۔ بھلا اس آدمی کے کون سے سرخاب کے پر لگے تھے کہ آپ نے اُسے وزیر اعظم بنا دیا اور میرے بھائی کے حقوق کا ذرا بھر خیال نہ کیا ۔ ایسا کونسا کام ہے جو یہ کر سکتا ہے۔ اور میرا بھائی نہیں کر سکتا ؟ راجہ نے کہا کہ یہ شخص بڑا عقلمند اور دور اندیش ہے ۔ اس…

Read more

ایک زمانے میں ایک نمک فروش تھا۔ وہ روزانہ دریائے سندھ کے کنارے بستے شہر سے نمک خرید کر اپنے گدھے پر لادتا اور دوسرے شہر لے جا کر بیچتا تھا۔ اس گدھے کے ساتھ نمک فروش کی بہت محبت تھی۔ وہ اسے ہر روز صاف کرتا، اچھی خوراک دیتا اور کبھی اس پر سختی نہ کرتا۔ لیکن گدھا بڑا چالاک تھا۔ اس نے دیکھا کہ جب وہ دریا عبور کرتا ہے تو کبھی کبھی اس کا پاؤں پھسل جاتا ہے اور وہ پانی میں گر جاتا ہے۔ جب وہ پانی میں گرتا تو اس کی پشت پر لدا نمک پانی میں گھل جاتا اور بوجھ ہلکا ہو جاتا تھا۔ گدھے نے سوچا کہ یہ تو بہت اچھا طریقہ ہے بوجھ ہلکا کرنے کا۔ چنانچہ اگلے دن جب نمک فروش نے گدھے پر نمک کی بوری لادی اور وہ دریا کے پاس پہنچے تو گدھے نے جان بوجھ کر اپنا…

Read more

*ایک پروفیسر ٹرین میں سفر کر رہا تھا کہ ایک کسان ساتھ آ کر بیٹھ گیا…* پروفیسر کو لگا کہ سفر لمبا ھے، کیوں نہ کچھ ذہنی ورزش کر لی جائے…؟؟ اس نے کسان کی طرف دیکھا، جو بڑے مزے سے مونگ پھلی کھا رہا تھا، اور بولا : پروفیسر (عینک ٹھیک کرتے ہوئے) : “چلو ایک گیم کھیلتے ھیں…! میں تم سے ایک سوال پوچھوں گا، اگر تم جواب نہ دے سکے تو مجھے 100 روپے دینا ھوں گے، پھر تم مجھ سے سوال پوچھو گے، اگر میں نہ بتا سکا تو میں تمہیں 1000 روپے دوں گا۔” 😎💁‍♂️ کسان (سوچتے ہوئے) : “یعنی یا تو 100 کا نقصان یا 1000 کا فائدہ…؟ یہ تو وھی بات ہوئی کہ بکری پالوں، دودھ ملے تو ٹھیک، نہ ملے تو گوشت کا فائدہ…! ٹھیک ھے، چلو کھیلتے ھیں…!” پروفیسر (اکڑ کر) : “زمین اور چاند کے درمیان فاصلہ کتنا ھے…؟” کسان…

Read more

دور دور کے زمانے کی بات ہے کہ ایک بادشاہ تھا جسے جھوٹ سے سخت نفرت تھی۔ اس نے اپنی مملکت میں حکم دے رکھا تھا کہ جو بھی جھوٹ بولے گا، اسے سخت جرمانہ دینا پڑے گا اور اس کی زبان کاٹ لی جائے گی۔ اس حکم سے پورے شہر میں خوف طاری ہو گیا، لیکن اس کے باوجود کچھ لوگ جھوٹ بولنے سے باز نہ آتے تھے۔ ایک دن بادشاہ نے سوچا کہ وہ خود بھیس بدل کر شہر میں نکلیں گے اور لوگوں کے اخلاق کا خود مشاہدہ کریں گے۔ چنانچہ بادشاہ نے سادہ کپڑے پہنے اور اپنے وزیر کے ساتھ شہر کی گلیوں میں نکل پڑا۔ شام کا وقت تھا اور سورج ڈھلنے لگا تھا۔ بادشاہ اور وزیر شہر کے ایک گوشے میں پہنچے تو ان کی نظر ایک چھوٹی سی دکان پر پڑی۔ وہاں ایک تاجر بیٹھا اپنا سامان سجا رہا تھا۔ بادشاہ نے تاجر…

Read more

ایک جنگل میں ایک چھوٹا سا خرگوش رہتا تھا۔ وہ بہت پیارا تھا، لیکن اس میں ایک بڑی خامی تھی۔ وہ بہت ضدی تھا۔ اگر وہ ایک بار کسی بات پر اڑ جاتا تو اسے کوئی بھی نہ مان سکتا تھا۔ اس کے ماں باپ نے اسے کتنا سمجھایا کہ ضد کرنا اچھی بات نہیں ہے، لیکن خرگوش کسی کی نہ سنتا تھا۔ ایک دن خرگوش بھوک سے بے حال ہو گیا۔ وہ کھانے کی تلاش میں جنگل سے باہر نکلا اور بہت دور جا نکلا۔ وہاں اسے ایک باغ نظر آیا۔ باغ میں خوبصورت گاجریں اگی ہوئی تھیں۔ خرگوش بہت خوش ہوا اور خوب گاجریں کھائیں۔ اس کے بعد اس نے سوچا کہ کچھ گاجریں اپنے گھر بھی لے جائے۔ اس نے اتنی ساری گاجریں اکٹھی کیں کہ ایک بہت بڑا گچھا بن گیا۔ خرگوش نے وہ گچھا اپنے منہ میں لیا اور گھر کی طرف چل پڑا۔ راستے…

Read more

تصور کریں… سال 1218ء کا وسط ہے۔ دنیا کے سب سے خونخوار فاتح، چنگیز خان نے چین کو فتح کرنے کے بعد ایک طاقتور اور وسیع مسلم سلطنت کے حکمران کو دوستی اور تجارت کا پیغام بھیجا ہے۔ چنگیز خان کے بھیجے ہوئے 450 تاجروں کا ایک پرامن تجارتی قافلہ سونا، چاندی، ریشم اور قیمتی تحائف لے کر اس مسلم سلطنت کے سرحدی شہر ‘اترار’ (Otrar) پہنچتا ہے۔ لیکن اس شہر کا حاکم ایک انتہائی مغرور اور لالچی انسان تھا۔ اس نے ان تاجروں کو جاسوس قرار دے کر قتل کروا دیا اور سارا مال لوٹ لیا۔ چنگیز خان کو جب یہ خبر ملی تو اس نے غصے پر قابو رکھا اور اس مسلم شہنشاہ کو ایک آخری موقع دیتے ہوئے اپنے 3 خاص سفیر بھیجے تاکہ وہ اس سرحدی حاکم کو سزا دے۔ اس مسلم شہنشاہ نے تاریخ کی سب سے بڑی اور ہولناک حماقت کی۔ اپنے غرور کے…

Read more

ایک پریشان حال شوہر ڈاکٹر کے پاس گیا اور کہا، “ڈاکٹر صاحب! مجھے لگتا ہے کہ میری بیوی بالکل بہری ہو چکی ہے۔ مجھے کئی بار اپنی بات دہرانا پڑتی ہے،. . تب کہیں جا کر وہ جواب دیتی ہے۔ بتائیں کیا کروں؟” ڈاکٹر نے مشورہ دیا، “پہلے اس بات کا یقین کرلو کہ واقعی وہ اونچا سنتی ہے۔ پھر اسے چیک اپ کے لیے یہاں لے آنا۔ تم ایسا کرو، آج گھر جا کر 15 فٹ کے فاصلے سے اپنی بیوی سے کوئی بات کہو اور اس کا ردعمل دیکھو۔ اگر وہ جواب نہ دے تو 10 فٹ کے فاصلے سے وہی بات دہراؤ۔ پھر بھی نہ سنے تو 5 فٹ کی دوری سے کوشش کرو، اور اگر تب بھی جواب نہ ملے تو بالکل پاس جا کر پوچھو۔ اس سے ہمیں اندازہ ہو جائے گا کہ بہرہ پن کی شدت کتنی ہے، اور علاج میں آسانی رہے گی۔”…

Read more

ایک بادشاہ ایک گاؤں سے گزر رہا تھا۔ اچانک اُس کے راستے میں ایک بوڑھی عورت آکر کھڑی ہوگی، اور بولی ” اے بادشاہ تو میرے ساتھ انصاف یہاں کریں گا، یا قیامت کے دن پل صراط پر”یہ سن کر بادشاہ کانپ گیا، وہ فوراً بولا اماں “مجھ میں اتنی طاقت نہیں کہ میں پل صراط پر فیصلہ کروں، میں یہیں انصاف کروں گا” بتا تجھے کس نے پریشان کیا؟بوڑھی عورت نے کہا ” کل تیری فوج کے سپاہی یہاں سے گزارے انہوں نے میری گائے ذبح کر کے کھا لی۔ میری روزی کا صرف وہ ہی ذریعہ تھی۔ میرے تین چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، اب میں اُن کی پرورش کیسے کروں گئ؟”یہ سن کر بادشاہ کو بڑا دکھ ہوا اور اُس نے اپنے وزیر کو کہہ کر بوڑھی عورت کو ستر گائے دلوا دی۔یہ تھے  “سلطان الپ ارسلان” سلجوقی سلطنت کے عظیم سلطان جو بہادری شجاعت میں بھی بےمثال…

Read more

ایک دن ایک حکمران اپنے محل کے بلند و بالا کمرے میں آرام فرما رہا تھا کہ باہر سے ایک دیہاتی کی صدا سنائی دی:“سیب لیجیے! تازہ سیب!” حاکم نے کھڑکی سے جھانکا تو دیکھا کہ ایک یمنی کسان — چہرے پر دھوپ سے جھلسی جھریاں، سادہ عمامہ اور گرد آلود چغہ پہنے — اپنے نحیف گدھے پر دونوں طرف دو ٹوکریاں لادے بازار کی طرف جا رہا ہے، جن میں سرخ و رسیلے سیب بھرے ہوئے ہیں۔ بادشاہ کے دل میں سیب کھانے کی خواہش جاگی۔ اُس نے وزیر کو بلایا اور حکم دیا:“خزانے سے پانچ سونے کے سکے لے لو اور میرے لیے ایک بہترین سیب لاؤ!” وزیر نے خزانے سے پانچ سکے نکالے اور اپنے معاون سے کہا:“یہ چار سونے کے سکے لے لو، اور بادشاہ سلامت کے لیے ایک سیب خرید لاؤ۔” معاون نے تین سکے رکھے، باقی محل کے منتظم کو دیے اور کہا:“یہ تین…

Read more

اصحابِ سبت کا واقعہ صرف ایک تاریخی قصہ نہیں، بلکہ انسانی فطرت، لالچ، اور ذمہ داری کا ایک گہرا سبق ہے جو آج بھی اتنا ہی زندہ ہے جتنا اُس وقت تھا۔ یہ واقعہ بنی اسرائیل کے ایک ساحلی قبیلے کا ہے، جو حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں پیش آیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں واضح حکم دیا تھا کہ ہفتے کا دن (سبت) صرف عبادت کے لیے مخصوص ہے۔ اس دن دنیاوی کام، خاص طور پر مچھلیوں کا شکار، سختی سے منع تھا۔ لیکن آزمائش بھی وہیں آتی ہے جہاں انسان کمزور ہو، یہ لوگ سمندر کے کنارے رہتے تھے، اور ان کی معیشت مچھلیوں پر تھی۔ حیران کن بات یہ تھی کہ ہفتے کے دن مچھلیاں جھنڈ کے جھنڈ ساحل کے قریب آ جاتیں، اور باقی دنوں میں کم ہو جاتیں۔ گویا یہ ایک واضح امتحان تھا:اطاعت یا خواہش؟ ⚖️ تین گروہ، تین رویے وقت کے ساتھ…

Read more

سمندر کی لہروں میں گھوڑا اور وہ جنگجو جس کے لیے زمین کم پڑ گئی… تصور کریں… 7ویں صدی عیسوی کا اختتام ہے۔ ایک عرب کمانڈر افریقہ کے آخری کنارے پر کھڑا ہے۔ اس کے گھوڑے کے قدم بحرِ اوقیانوس (Atlantic Ocean) کی تاریک اور بپھری ہوئی لہروں میں دھنسے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی تلوار آسمان کی طرف بلند کرتا ہے، حدِ نگاہ تک پھیلے ہوئے پانی کو دیکھتا ہے، اور تاریخ کا وہ لافانی جملہ کہتا ہے: “اے اللہ! اگر یہ کالا سمندر میرا راستہ نہ روکتا، تو میں تیری راہ میں لڑتا ہوا زمین کے آخری کنارے تک چلا جاتا!” یہ کوئی دیومالائی یا افسانوی کردار نہیں تھا، بلکہ یہ تاریخِ اسلام کے سب سے عظیم اور نڈر جرنیلوں میں سے ایک، عقبہ بن نافع (Uqba ibn Nafi) تھے۔ یہ اس فاتح کی سچی داستان ہے جس نے پورے شمالی افریقہ (موجودہ لیبیا، تیونس، الجزائر اور مراکش) کا…

Read more

دنیا کے فاتح کی فوج کا خوف اور دیوہیکل درندوں کی چنگھاڑ: جنگِ جہلم (Battle of Hydaspes) کی سچی داستان تصور کریں… مئی 326 قبل مسیح۔ آدھی دنیا کو روندنے والی یونانی فوج، جس نے کبھی شکست کا ذائقہ نہیں چکھا تھا اور جس کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے سلطنتیں کانپتی تھیں، آج دریائے جہلم کے کنارے خوف سے تھر تھر کانپ رہی تھی۔ ان کے سامنے مون سون کی بارشوں سے بپھرا ہوا طوفانی دریا تھا، اور دریا کے اس پار ایک ایسا خوفناک منظر تھا جسے دیکھ کر سکندرِ اعظم کے مایہ ناز جرنیلوں کے بھی پسینے چھوٹ گئے۔ دریا کے اس پار کالے بادلوں کے سائے میں سینکڑوں دیوہیکل ‘جنگی ہاتھی’ کھڑے تھے، جن کی چنگھاڑ سے زمین ہل رہی تھی۔ یونانیوں نے اپنی زندگی میں کبھی ہاتھی نہیں دیکھے تھے، اور انہیں لگ رہا تھا جیسے ان کا مقابلہ انسانوں سے نہیں، بلکہ پہاڑ جیسے درندوں…

Read more

یہ آٹھویں صدی عیسوی کا زمانہ تھاجب عباسی خلافت اپنے عروج پر تھی، علم، تہذیب اور طاقت اپنے شباب پر تھے۔مگر اسی روشن دور میں ایک ایسا شخص بھی ابھرا جس نے اپنی ذہانت کو روشنی نہیں، بلکہ فریب کے لیے استعمال کیا۔ اس کا نام ہاشم تھا،مگر تاریخ اسے مقنع خراسانی کے نام سے جانتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ خراسان کے ایک معمولی گاؤں میں ایک دھوبی کے گھر پیدا ہوا۔لیکن اس کی ذہانت غیر معمولی تھی خاص طور پر کیمیا اور دھاتوں کے علوم میں۔ یہی وہ مقام تھا جہاں سے اس کی کہانی خطرناک رخ اختیار کرتی ہے۔ ابتدا میں اس نے لوگوں کو حیران کرنا شروع کیا۔کبھی کیمیا کے تجربات، کبھی عجیب و غریب کرتب،اور پھر اس نے ایک ایسا دعویٰ کیا جس نے لوگوں کے دل و دماغ کو ہلا دیا: “میں عام انسان نہیں، میں ایک برگزیدہ ہستی ہوں!” رفتہ رفتہ اس…

Read more

1528ء کا ایک شاہی دسترخوان… ہندوستان کا بانی اور مغل شہنشاہ ظہیر الدین بابر اپنے امراء کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا۔ اچانک اس کی نظر دسترخوان پر بیٹھے ایک معمولی افغان فوجی پر پڑی۔ اس فوجی کے سامنے جب ایک ثابت اور سخت گوشت کا ٹکڑا رکھا گیا، تو اس نے پریشان ہونے کے بجائے انتہائی بے نیازی سے اپنا خنجر نکالا، گوشت کے ٹکڑے کیے اور سکون سے کھانے لگا۔ بابر، جو چہروں کو پڑھنے کا ماہر تھا، فوراً چونک اٹھا۔ اس نے اپنے وزیر خلیفہ سید نظام الدین کو قریب بلا کر سرگوشی کی: “اس افغان پر کڑی نظر رکھنا، مجھے اس کی پیشانی پر بادشاہت کے آثار اور آنکھوں میں ایک طوفان نظر آ رہا ہے۔” بابر کی یہ پیشین گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی۔ یہ وہ شخص تھا جس نے بابر کے بیٹے ہمایوں کو نہ صرف شکست دی، بلکہ اسے ہندوستان سے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک زہریلا سانپ ایک بھاری چٹان کے نیچے پھنس گیا۔ وہ تڑپ رہا تھا، پھنکار رہا تھا اور مدد کے لیے پکار رہا تھا۔ وہاں سے گزرتی ہوئی ایک عورت نے اس کی یہ حالت دیکھی اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے چٹان کو ایک طرف دھکیل دیا۔جیسے ہی سانپ آزاد ہوا، وہ اس کی طرف مڑا اور بڑی بے رخی سے بولا:’’میں نے قسم کھا رکھی ہے کہ جو بھی میری مدد کے لیے ہاتھ بڑھائے گا، میں اسے ڈس لوں گا۔‘‘عورت حیرت سے سن رہ گئی۔’’لیکن میں نے تو ابھی تمہاری جان بچائی ہے۔ تم میری نیکی کا بدلہ برائی سے کیسے دے سکتے ہو؟‘‘سانپ نے سکون سے جواب دیا: ’’میں تمہیں پھر بھی ڈسوں گا، کیونکہ یہ میری فطرت ہے، اور فطرت کبھی نہیں بدلتی، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔‘‘عورت نے اپنا حوصلہ برقرار رکھتے ہوئے کہا:’’چلو تھوڑا آگے چلتے ہیں اور…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے کہ ایک گھنے جنگل میں ایک بوڑھا شیر رہتا تھا، جسے سب جانور دل ہی دل میں اپنا بادشاہ تسلیم کرتے تھے۔ اگرچہ اس کی جسمانی طاقت پہلے جیسی نہ رہی تھی، مگر اس کی ہیبت اور وقار بدستور قائم تھا۔ اب وہ شکار کے بجائے دربار لگاتا اور جانوروں کے درمیان انصاف کے فیصلے کیا کرتا تھا۔ روزانہ جنگل کے مختلف جانور اس کے دربار میں حاضر ہوتے، ادب سے سلام پیش کرتے اور اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے۔ خصوصاً لومڑیاں ہر وقت اس کے گرد منڈلاتیں اور نہایت خوشامدانہ انداز میں کہتیں: “حضور، آپ جیسا عادل حکمران زمانے نے نہیں دیکھا۔” “آپ کی دانائی تو مثال سے بالاتر ہے۔” شیر ان باتوں سے خوش ہوتا اور ان چاپلوسوں کو اپنے قریب رکھتا۔ ایک دن ایک کمزور سا ہرن، لنگڑاتا ہوا دربار میں حاضر ہوا۔ اس کی آنکھوں میں…

Read more

‏یورپ کی بہترین فوج کا بادشاہ صلاح الدین ایوبی کے خلاف صلیبی جنگ لڑنے نکلا لیکن دریا میں ڈوب کر مر گیا ،یہ 12ویں صدی عیسوی کا طاقتور جرمن بادشاہ فریڈرک باربروسہ تھا بابروسہ کا مطلب ہوتا ہے سرخ داڑھی والا اس نے آپس میں لڑتی جھگڑتی جرمن ریاستوں کو طاقت کے زور پر متحد کیا پھر پولینڈ کو فتح کیا اس کے بعد اٹلی پر حملہ کر کے روم جا پہنچا وہاں سے کیتھولک پوپ سے زبردستی اپنے فتح کردہ علاقوں کو Holy Roman Empire قرار دے کر اپنے آپ کو شہنشاہ تسلیم کروایا،جب سلطان صلاح الدین ایوبی کے بیت المقدس فتح کرنے کی خبر یورپ پہنچی تو تیسری صلیبی جنگ کی تیاری کی گئی ان میں سب سے مضبوط فوج باربروسہ کی تھی فرانس اور انگلینڈ کی فوجیں فلپ اور رچرڈ کی قیادت میں سمندری راستے سے فلسطین پہنچیں ،لیکن بابروسہ نے زمینی راستہ منتخب کیا لیکن ایشیائے…

Read more

ایک جنگل میں ایک بڑا زبردست اور طاقتور ہاتھی رہا کرتا تھا ۔ اور اُسی جنگل میں بہت سے گیدڑ بھی رہا کرتے تھے۔ ایک دن ایک گیدڑ نے کہا۔ خدا نے اس ہاتھی کو کتنا بڑا جسم دیا ہے ۔ اگر ہم بھی اتنے بڑے ہوتے ۔ تو جنگل پر ہمارا ہی راج ہوتا ۔ یہ سن کر ایک بڑھے گیدڑ نے جواب دیا ۔ میاں یہ کیا کہہ رہے ہو۔ خدا نے جسم موٹا تازہ ہاتھی کو دیا ہے مگر عقل کی دولت تو ہماری ہی قوم کو ملی ہے ۔ چاہیں تو اس ہاتھی کو ایک دن میں مار دیں ۔ نوجوان گیدڑ نے حیران ہوکر پوچھا ۔ بڑے میاں کیا یہ سچ مچ ہو سکتا ہے ۔ میرا تو خیال ہے ۔ کہ ہم جنگل کے سارے گیدڑ مل جائیں ۔ تب بھی ہاتھی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ ذرا سوچھ تو سہی ہماری اوقات…

Read more

260/612
NZ's Corner