Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

400 خیموں کی آندھی: وہ ایک فیصلہ جس نے 600 سالہ سلطنت کی بنیاد رکھی 13ویں صدی کا اناطولیہ… منگولوں کے خوف سے در بدر بھٹکتا ایک چھوٹا سا خانہ بدوش ‘قائی’ قبیلہ، جس کے پاس کل اثاثہ محض 400 خیمے تھے۔ ایک دن سفر کے دوران قبیلے کے نوجوان سردار نے دور میدان میں دو فوجوں کو لڑتے دیکھا۔ ایک فوج طاقتور تھی، جبکہ دوسری کمزور اور شکست کے قریب۔ وہ چاہتا تو اپنا راستہ بدل کر خاموشی سے گزر جاتا، لیکن اس کی غیرت نے ہارتے ہوئے مظلوم کا ساتھ دینے پر مجبور کیا۔ اس نے اپنے چند سو گھڑ سواروں کے ساتھ کمزور فوج کے حق میں ایسا خوفناک حملہ کیا کہ ہاری ہوئی بازی جیت میں بدل گئی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ جس کمزور فوج (سلجوقوں) کو اس نے بچایا ہے، وہ انعام میں اسے ایک ایسی سرحد (سوغوت) دیں گے جہاں سے دنیا کی…

Read more

ایک آدمی کا گزر ایک جنگل سے ہوا جہاں شدید آگ لگی ہوئی تھی۔ اس نے دیکھا کہ جھاڑیوں کے درمیان ایک سانپ آگ کے حصار میں پھنسا اپنی جان بچانے کی تگ و دو کر رہا ہے۔ آدمی کو ترس آگیا؛ اس نے فوراً ہاتھ بڑھا کر سانپ کو آگ سے نکالا اور اسے محفوظ مقام پر پہنچا دیا۔جیسے ہی سانپ کی جان میں جان آئی، وہ بولا: “اب میں تمہیں ڈسوں گا۔”آدمی حیرت سے بولا: “یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے تو تمہارے ساتھ نیکی کی اور تمہیں موت کے منہ سے نکالا، کیا نیکی کا یہی صلہ ہے؟”سانپ نے سرد مہری سے جواب دیا: “میرے پاس تو نیکی کا یہی صلہ ہے۔”آدمی نے تجویز دی: “اگر تم یہی سمجھتے ہو تو چلو کسی تیسرے سے فیصلہ کروا لیتے ہیں۔” سانپ مان گیا۔ وہ کچھ آگے بڑھے تو انہیں ایک بھینس چربی ہوئی ملی۔ آدمی نے…

Read more

معصوم اور مہربان لوگ زندگی میں آسانی سے دھوکا کھا جاتے ہیں (یا انہیں تکلیف پہنچتی ہے) کیونکہ وہ غلط لوگوں پر بھروسہ کر لیتے ہیں… اس لیے احتیاط کریں کہ آپ اپنا وقت کن لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔تفصیلی وضاحتاس تصویر اور تحریر کے ذریعے زندگی کی ایک کڑوی حقیقت بیان کی گئی ہے:فطرت کا فرق: تصویر میں ایک ننھا چوزہ اور ایک سانپ آمنے سامنے ہیں۔ چوزہ معصومیت کی علامت ہے جو سانپ کو بھی اپنا دوست سمجھ کر اس کے قریب جا رہا ہے، جبکہ سانپ اپنی فطرت کے مطابق شکاری ہے اور کسی بھی وقت نقصان پہنچا سکتا ہے۔بھروسہ اور سادگی: نیک دل لوگ اکثر دوسروں کو بھی اپنے جیسا ہی مخلص سمجھتے ہیں۔ وہ سامنے والے کے ظاہری رویے سے دھوکا کھا جاتے ہیں اور یہ نہیں دیکھ پاتے کہ دوسرے کے دل میں کیا چھپا ہے۔غلط صحبت کا اثر: تحریر ہمیں خبردار کرتی ہے…

Read more

ایک بادشاہ تھا، اس کا ایک پیر و مرشد تھا جن کے بے شمار مرید اور عقیدت مند تھے۔ ایک دن بادشاہ نے خوش ہو کر اپنے مرشد سے کہا:آپ بہت خوش نصیب انسان ہیں، آپ کے ماننے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ گنی بھی نہیں جا سکتی۔ مرشد مسکرائے اور فرمانے لگے:ان میں سے صرف ڈیڑھ آدمی ایسا ہے جو واقعی میرا سچا ماننے والا ہے، جو مجھ پر جان نچھاور کر سکتا ہے، باقی صرف نام کے مرید ہیں۔ بادشاہ یہ سن کر حیران رہ گیا اور عرض کیا:پچاس ہزار میں سے صرف ڈیڑھ؟ مرشد نے فرمایا:اگر ان کے نفس کا امتحان لیا جائے تو حقیقت سامنے آ جائے گی۔ چنانچہ ایک ٹیلے پر فوراً ایک جھونپڑی بنوائی گئی۔ مرشد نے اس جھونپڑی میں خفیہ طور پر دو بکرے باندھ دیے، کسی کو اس بات کا علم نہ تھا۔ پھر مرشد باہر آئے اور بلند آواز…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ سلامت شدید ‘ڈپریشن’ کا شکار ہو گئے۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ شاہی خزانہ خالی تھا، بلکہ دکھ اس بات کا تھا کہ رعایا اتنی صابر و شاکر اور ڈھیٹ واقع ہوئی تھی کہ دربار میں کوئی شکایت لے کر آتا ہی نہیں تھا۔ بادشاہ کو اپنا اقتدار بورنگ لگنے لگا کہ بھئی، اگر عوام روئے پیٹے گی نہیں تو ہم تسلیاں دے کر اپنا سیاسی قد کیسے بڑھائیں گے؟ اس نے فوراً اپنے مشیروں کی ہنگامی میٹنگ بلائی اور حکم دیا، “کوئی ایسا جگاڑ لگاؤ کہ عوام کی چیخیں نکلیں اور وہ روتے پیٹتے دربار کا رخ کریں!”وزیروں نے اپنا روایتی ‘بیوروکریٹک’ دماغ لڑایا اور مشورہ دیا، “حضور! شہر کے اکلوتے پل پر، جہاں سے سب کا روزمرہ کا گزر ہوتا ہے، وہاں 100 روپے فی بندہ ‘گزرگاہ ٹیکس’ لگا دیں۔” بادشاہ نے خوشی خوشی منظوری دے دی۔ کئی دن گزر…

Read more

خاموشی ہمیشہ تاخیر نہیں ہوتیایک دھوپ سے بھرے باغ میں، ایک چھوٹی چیونٹی کو اپنی مصروفیت پر بڑا ناز تھا۔ وہ روزانہ اپنے جسم سے بڑے ٹکڑے اٹھائے ادھر ادھر دوڑتی رہتی۔ چیونٹی کے نزدیک حرکت ہی ترقی تھی اور بھاگ دوڑ ہی زندگی کا مقصد۔ اس کا ماننا تھا کہ اگر کوئی چیز حرکت میں نہیں ہے، تو وہ پیچھے رہ گئی ہے۔ایک دوپہر، ایک گلابی پتے کے نیچے، چیونٹی کی نظر ایک خاکستری رنگ کے ککون (خول) پر پڑی جو خاموشی سے ٹہنی کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔ وہ خشک، بے آواز اور بالکل عام سا دکھائی دے رہا تھا۔ نہ کوئی حرکت، نہ زندگی کا کوئی نشان۔ چیونٹی قریب آئی اور حقارت سے بولی:“اپنی حالت تو دیکھو! میں سفر کر رہی ہوں، کام کر رہی ہوں اور نتائج حاصل کر رہی ہوں، جبکہ تم یہاں بس بیکار لٹکے ہوئے ہو۔ کتنی ضائع شدہ زندگی ہے تمہاری۔”ککون خاموش…

Read more

ایک بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ جاپان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بوڑھا استاد رہتا تھا۔ اس نے ساری زندگی لوگوں کو راستہ دکھایا تھا، لوگوں کو سچ سکھایا تھا، لوگوں کو خود کو پہچاننے کا فن سکھایا تھا۔ اس کے شاگرد دور دور سے آتے تھے، اس کے پاس بیٹھتے تھے، اس کی باتیں سنتے تھے، اور اپنی زندگی بدل لیتے تھے۔ لیکن استاد اب بہت بوڑھا ہو چکا تھا۔ اس کے بال سفید ہو گئے تھے، اس کی پیٹھ جھک گئی تھی، اس کی آنکھیں دھندلی ہو گئی تھیں۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی موت قریب ہے۔ ایک دن اس نے اپنے شاگردوں کو بلایا۔ بہت سے شاگرد تھے  کچھ بوڑھے تھے، کچھ جوان تھے، کچھ نئے آئے تھے، کچھ پرانے تھے۔ سب استاد کے سامنے بیٹھ گئے۔ استاد نے کہا: “میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ نہ سونا ہے، نہ…

Read more

بہت پرانے زمانے میں بحرین کے ساحل پر ایک غریب ماہی گیر رہتا تھا۔ اس کا نام عبداللہ تھا۔ وہ بہت بوڑھا تھا، اس کی بیوی بیمار تھی، اس کے تین بچے تھے، اور اس کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ وہ ہر روز صبح سویرے اٹھتا، اپنا جال لیتا، سمندر پر جاتا، اور مچھلیاں پکڑتا۔ لیکن اسے کبھی زیادہ مچھلیاں نہیں ملتی تھیں  بس اتنی کہ بچوں کو بھوکا نہ رہنا پڑے۔ ایک دن اس نے جال ڈالا۔ جب اسے کھینچا تو وہ بہت بھاری تھا۔ اس نے سوچا: “آج بہت سی مچھلیاں آئی ہوں گی۔” اس نے پوری طاقت سے جال کھینچا۔ جال باہر آیا تو اس میں مچھلیاں نہیں تھیں، ایک بند تانبے کا مٹکا تھا۔ مٹکا بہت پرانا تھا، اس پر مہر لگی ہوئی تھی، اور وہ سیسے سے بند تھا۔ عبداللہ نے مٹکا اٹھایا، اسے کھولا، اور اندر دیکھا۔ مٹکے میں سے سفید دھواں…

Read more

ایک شہر میں ایک قاضی صاحب رہتے تھے۔ بظاہر نہایت سنجیدہ، باوقار اور دیانتدار شخصیت کے مالک… مگر ایک معاملے میں انہوں نے ایسی راہ اختیار کر لی جو آگے چل کر ان کے لیے آزمائش بن گئی۔ انہوں نے خاموشی سے دوسری شادی کر لی…مگر پہلی بیگم کو اس کا علم نہ ہونے دیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ پہلی بیگم نہ صرف سمجھدار تھیں بلکہ ایک مضبوط خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ اگر بات کھل جاتی، تو صرف گھر نہیں بلکہ پورا خاندان میدان میں آ جاتا۔ وقت گزرتا گیا…مگر انسان چاہے جتنا بھی راز چھپائے، رویے بدل ہی جاتے ہیں۔ بیگم نے محسوس کیا کہ قاضی صاحب کے انداز، ان کی باتوں کا لہجہ، ان کی مصروفیات سب کچھ پہلے جیسا نہیں رہا۔شک نے جنم لیا… اور پھر وہی ہوا جو ہوتا ہے: باتوں سے بحث،بحث سے تکرار،اور تکرار سے جھگڑا۔ قاضی صاحب نے ہر ممکن کوشش کی…

Read more

کوریا کے ایک گاؤں میں یون اوک نامی ایک نوجان عورت رہتی تھی۔ اس کا شوہر جنگ سے واپس آیا تو وہ پہلے جیسا نہیں رہا تھا، وہ چپ رہتا، کسی سے بات نہ کرتا، اور اس کی آنکھوں میں اداسی تھی۔ یون اوک نے بہت کوشش کی، لیکن اس کا شوہر اس کی طرف دیکھتا بھی نہیں تھا۔ ایک دن وہ ایک بوڑھے بابا کے پاس گئی۔ بابا نے کہا: “جنگل میں ایک شیر رہتا ہے۔ اگر تم اس شیر کی مونچھ لا سکو تو تمہارا شوہر پھر سے پہلے جیسا ہو جائے گا۔” یون اوک شیر کی مونچھ لینے کے لیے نکلی۔ وہ ہر روز شیر کی غار کے پاس جاتی، اس کے لیے کھانا رکھتی، اور دور بیٹھ کر اسے دیکھتی۔ پہلے دن شیر بھونکا، دوسرے دن غرایا، تیسرے دن اس نے کھانا کھایا — پھر وہ آہستہ آہستہ اس کے قریب آنے لگا۔ چھ مہینوں کی…

Read more

حضرت ذوالنون مصریؒ ایک دن دریا کے کنارے خاموشی سے بیٹھے مراقبے میں مشغول تھے کہ اچانک ان کی نظر ایک بچھو پر پڑی جو پانی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اتنے میں ایک کچھوا نمودار ہوا، بچھو اس کی پیٹھ پر سوار ہوا اور کچھوا اسے دریا کے دوسرے کنارے لے گیا۔ یہ عجیب منظر دیکھ کر حضرت ذوالنون مصریؒ حیران رہ گئے کہ آخر ایک زہریلے جانور کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ کیسا انتظام فرمایا ہے؟ آپ بھی دریا پار کر کے آگے بڑھے تو دیکھا کہ ایک نوجوان درخت کے سائے تلے گہری نیند میں سو رہا ہے، اور ایک کالا سانپ اس کے قریب پہنچ چکا ہے، جیسے ہی وہ اسے ڈسنے والا تھا— اسی لمحے وہی بچھو وہاں پہنچا اور اس نے سانپ کو ڈنک مار دیا۔ سانپ تڑپ کر مر گیا اور بچھو خاموشی سے واپس لوٹ گیا۔ جب نوجوان کی آنکھ کھلی…

Read more

قدیم یونان کے شہر ایتھنز میں ایک ایسا شخص گزرا ہے جس کے ہاتھوں میں جادو تھا۔ اس کا نام تھا ڈیڈیلس۔ وہ لکڑی، پتھر اور دھات کا ایسا ماہر تھا کہ لوگ کہتے تھے: “دیوتاؤں نے اسے خاص تحفہ دیا ہے۔” وہ پہلا شخص تھا جس نے چیزوں کو گوند سے جوڑنا سیکھا۔ اس نے مجسمے بنائے جو خود چلتے پھرتے تھے، اس نے ایسی مشینیں بنائیں جو پانی اٹھا لے جاتی تھیں، اس نے تعمیر کے ایسے راز دریافت کیے جو آج بھی معماروں کو حیران کر دیتے ہیں۔ ایتھنز کے لوگ اسے “عظیم کاری گر” کہتے تھے۔ بادشاہ اسے اپنے محل بلاتا، شہزادے اس سے فن سیکھتے، اور عام لوگ اس کے کام کو دیکھ کر حیران رہ جاتے۔ ڈیڈیلس کو اپنی مہارت پر بہت فخر تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس جیسا کوئی نہیں۔ ڈیڈیلس کی ایک بہن تھی جس کا نام تھا پولی کاسٹی۔ اس…

Read more

اطالیہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ اس کی ایک بیٹی تھی — خوبصورت بھی اور ذہین بھی۔ جب وہ بچی تھی تو ایک پری نے اسے عقل اور خوبصورتی کا تحفہ دیا تھا۔ ایک دن کسان کو جنگل میں سونے کا ایک طشت (مٹکا) ملا۔ وہ بہت خوش ہوا اور اس نے اپنی بیٹی سے کہا کہ وہ اسے بادشاہ کو تحفے میں دے گا۔ لیکن بیٹی نے کہا: “باپ! ایسا مت کرو۔ بادشاہ یہ سوچے گا کہ اس طشت کے ساتھ اس کا موصل (چمچہ) بھی ہونا چاہیے۔ جب وہ نہیں ملے گا تو وہ ناراض ہو جائے گا۔” کسان نے اپنی بیٹی کی بات نہیں مانی اور طشت بادشاہ کو دے دیا۔ جیسا کہ لڑکی نے کہا تھا، بادشاہ نے پوچھا: “اس کا موصل کہاں ہے؟” کسان نے کہا کہ نہیں ملا۔ بادشاہ ناراض ہو گیا، لیکن جب اس نے سنا کہ…

Read more

چھوٹے کو کبھی حقیر نہ سمجھوایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک عقاب ایک خرگوش کا پیچھا کر رہا تھا۔ خرگوش نے خوفزدہ ہو کر اپنے پاس موجود واحد جاندار سے مدد مانگی جو ہمیشہ اس کا ساتھ دیتا تھا: یعنی ایک چھوٹا سا گوبر کا بھنورا، جو اس کا گہرا دوست تھا۔خرگوش نے مدد کی بھیک مانگی۔ بھنورا اگرچہ چھوٹا اور بے بس تھا، پھر بھی وہ آگے بڑھا اور عقاب سے کہا: “براہِ کرم، میرے دوست کو چھوڑ دو۔”عقاب ایک لمحے کے لیے بھی نہ رکا۔ اس کی نظر میں اتنے چھوٹے جاندار کی آواز کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ اس نے بھنورے کو ایک طرف جھٹک دیا اور خرگوش کو اٹھا کر لے گیا۔وہ فخر اور اس یقین کے ساتھ اڑ گیا کہ اتنی چھوٹی چیز کبھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ لیکن یہ اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔اس دن کے بعد سے، بھنورا…

Read more

بین اور جیری نامی یہ دو سروں والا سانپ دنیا کی نایاب ترین مخلوقات میں سے ایک ہے، اور یہ دونوں (سر) ایک دوسرے کو بالکل پسند نہیں کرتے۔بقا کی معجزاتی کہانییہ کیلیفورنیا کنگ سنیک (California Kingsnakes) ہیں جو ‘بائیسیفیلی’ (Bicephaly) نامی حالت کے ساتھ پیدا ہوئے، یعنی ایک جسم اور دو سر۔ یہ صورتحال 10,000 میں سے کسی ایک سانپ کے ساتھ پیش آتی ہے۔ لیکن کڑوا سچ یہ ہے کہ ایسے 99.9 فیصد سانپ اپنی پہلی سالگرہ بھی نہیں دیکھ پاتے۔ وہ عام طور پر اس لیے مر جاتے ہیں کیونکہ ان کے دونوں دماغ کھانے کے معاملے میں ہم آہنگ نہیں ہو پاتے، وہ گھٹ کر مر جاتے ہیں، یا ایک سر دوسرے پر حملہ کر دیتا ہے۔بین اور جیری اس وقت ساڑھے چار سال کے ہیں، جو کہ ایک طبی معجزہ ہے۔ایک پیٹ، دو مختلف شخصیاتان کا معدہ اور نظامِ ہاضمہ ایک ہی ہے، لیکن دو…

Read more

توبہ کی طاقت — ایک ایمان افروز واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک مرتبہ شدید قحط پڑ گیا۔ زمین خشک ہو گئی، لوگ پریشان اور بے حال ہو گئے۔ آخرکار سب لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: “اے اللہ کے نبی! دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر بارانِ رحمت نازل فرمائے۔” حضرت موسیٰ علیہ السلام ستر ہزار بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر جنگل کی طرف نکلے اور نہایت عاجزی سے دعا فرمائی: “اے میرے رب! معصوم بچوں، نیک بوڑھوں اور بے زبان جانوروں کے صدقے ہم پر رحم فرما اور بارش نازل فرما۔” ہر نبی کی دعا قبول ہوتی ہے، مگر اس بار کچھ عجیب ہوا… دعا کے بعد آسمان اور زیادہ صاف ہو گیا اور سورج کی تپش پہلے سے بڑھ گئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حیرت ہوئی۔ آپ نے دوبارہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے…

Read more

قدیم ہندوستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک برہمن رہتا تھا۔ وہ بہت سادہ دل تھا، بہت ایماندار تھا۔ اسے لوگوں پر بہت بھروسہ تھا — اتنا کہ کبھی کبھی وہ جھوٹ کو بھی سچ سمجھ بیٹھتا تھا۔ ایک دن اس نے ایک بڑی تقریب میں حصہ لیا۔ تقریب کے بعد لوگوں نے اسے ایک بکری تحفے میں دی۔ برہمن بہت خوش ہوا۔ اس نے بکری کو اپنے کندھے پر اٹھایا اور گھر کی طرف چل دیا۔ وہ جنگل کے راستے سے جا رہا تھا۔ اتنے میں تین بدمعاشوں نے اسے دیکھا۔ انہوں نے سوچا: “یہ بکری ہمیں کھانی ہے۔ لیکن یہ برہمن مضبوط ہے — چھین کر نہیں لے سکتے۔ کوئی چال چلنی پڑے گی۔” پہلا بدمعاش برہمن کے پاس آیا اور بولا: “بابا! آپ اپنے کندھے پر کتا کیوں اٹھائے پھر رہے ہیں؟ کتے کا گوشت کھانا تو آپ کے لیے مناسب نہیں۔” برہمن کو غصہ آ…

Read more

بچپن میں اک لطیفہ سنا تھا۔اک شخص کسی جرم میں جنگلی قبیلے میں پھنس گیا۔قبیلے کے سردار نے اس شخص کو دو انتخاب دیئے۔1۔ شانگالولو2۔ سزائے موتشانگالولو کیا ہے؟ اس شخص نے پوچھا۔ شانگالولویہ ہے کہ آپ کو ننگا کیا جائے گا اور قبیلے کا ہر شخص آپ کو 100 چھتر مارے گا !اس کو یہ بےعزتی لگی اور اس نے کہا مجھے سزائے موت دے دو !سرداد نے حکم دیا ۔ اس کو موت بذریعہ شانگالولو دی جائے۔ 😅😅😅ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــاگر کوئی تحریر اچھی لگے تو اسے لائیک اور شیئر ضرور کریں۔اگر آپ کہانیاں پڑھنے کے شوقین ہیں تو میری پروفائل فالو کرلیں۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

موسی علیہ السلام کے زمانے میں ایک بہت مالدار شحض کو بڑی سخت بیماری نے پکڑ لیا  بہت علاج کیا حکیموں کے پاس گیا لیکن کوئی آفاقہ نہیں ہوا سب نے کہہ دیا کہ آپکا مرض لا علاج ہے آپکا کوئی علاج نہیں اپنے اوپر دم کرتے رہنا ہمارے پاس اپکا کوئی علاج نہیں وہ بڑا پریشان ہوا چھوٹے چھوٹے بچے تھے سارا دن بیٹھ کر بچوں کو دیکھتا رہتا کہ میرے بعد ان بچوں کا کیا ہوگا انکی کفالت کون کرے گا ایک دن بیوی نے کہا کہ یہاں ایک پیغمبر ہے جنکی ہر بات سچی ہوتی ہے انکے پاس جاو وہ جو بولے گا اس میں پھر کوئی گنجائش نہیں جاو شاید وہ کوئی راستہ نکالے وہ گھر سے نکلا اور موسی علیہ السلام کے پاس گیا کہنے لگا اے اللہ کے نبی میں لاعلاج مرض میں مبتلا ہو نا امید ہو گیا ہو آپ اللہ سے دعا…

Read more

یہ ایک خوبصورت اور سبق آموز کہانی ہے عہد اور اتحاد: عقاب اور شیر کا قصہ🔥 ہر اتحاد ہمیشہ قائم رہنے کے لیے نہیں بنتا۔سیرینگیٹی (Serengeti) کی بلند ترین چوٹی پر، جہاں ہوائیں چٹانوں سے ٹکراتی تھیں اور حدِ نگاہ تک ایک وسیع سلطنت پھیلی ہوئی تھی، ایک نایاب ملاقات ہوئی۔ایک طرف سنہرا عقاب کھڑا تھا— آسمانوں کا حکمران، تیز نگاہ، فخر سے بھرا اور دور اندیش۔دوسری طرف ببر شیر تھا— میدانوں کا بادشاہ، زمین سے جڑا ہوا، طاقتور اور غیر متزلزل۔ 🦅بلندی سے ایک پیشکشعقاب شیر سے چند قدم دور ایک چٹان پر اترا، شام کی روشنی میں اس کے پر چمک رہے تھے۔ اس نے پورے اعتماد سے کہا:“اے شیر! میں ایک ایسی پیشکش لایا ہوں جو اس پوری سرزمین کو بدل سکتی ہے۔ میں افق سے بھی آگے دیکھ سکتا ہوں، جبکہ تمہارے پاس بے مثال طاقت ہے۔ اگر ہم اتحاد کر لیں، تو تم قوت بنو…

Read more

260/581
NZ's Corner