Author Archives: NZ's Collection

ایک یہودی کا گزر مسلمانوں کی ایک بستی سے ہوااس کے دل میں ایک ترکیب آئی کہ کیوں نہ میں انہیںان کے دین کے تعلق سے ان کے دلوں میں شکوک و شبہاتپیدا کروں؟ اور انہیں ان کے علماء سے بد ظن کر دوں بستی میں داخل ہو نے سے پہلے ہی ایک چرواہے سے ملاقات ہوئییہودی نے سوچا کہ کیوں نہ اسی جاہل سے اس کیابتدا کی جائے اور اس چرواہے کے دل و دماغ میںاسلام کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کیا جائے یہودینے اس چرواہے سے ملاقات کی اور کہا کہ میں ایک مسلمانمسافر ہوںباتوں ہی باتوں میں یہودی کہنا لگا کہ ہم مسلمان قرآن مجید کو یاد کرنے کےلیے کتنی مشقت اٹھاتے ہیں جب کہ یہقرآن تیس اجزاء پر مشتمل ہےلیکن قرآن میں بےشمار آیات متشابہ ہیں جو ایک جیسی ہی ہیں بار بار دہرانے کی کیا ضرورت ہےاگر متشابہات جو نکال دیا جائے تو قرآن…

Read more

ایک سبق آموز مزاحیہ کہانی – ضرور پڑھیے پرانے وقتوں میں، لوگوں کو بیوقوف بنا کر مال بٹورنے کے لیے ایک گروہ ہوا کرتا تھا۔ اس گروہ سے وابستہ لوگ ٹھگ کہلاتے تھے۔انہی ٹھگوں کا ایک واقعہ کچھ یوں ہے: ایک دیہاتی بکرا خرید کر اپنے گھر جا رہا تھا کہ چار ٹھگوں نے اسے دیکھ لیا اور چالاکی سے اسے لوٹنے کا منصوبہ بنایا۔چاروں ٹھگ اس کے راستے پر کچھ فاصلے سے کھڑے ہو گئے۔ دیہاتی تھوڑا آگے بڑھا تو پہلا ٹھگ آیا اور بولا:“بھائی، یہ کتا کہاں لے کر جا رہے ہو؟” دیہاتی نے گھور کر کہا:“بیوقوف، تمہیں نظر نہیں آ رہا یہ بکرا ہے، کتا نہیں!” دیہاتی کچھ اور آگے بڑھا تو دوسرا ٹھگ ٹکرایا اور بولا:“یار، یہ کتا تو بڑا شاندار ہے! کتنے کا خریدا؟” دیہاتی نے اسے بھی جھڑک دیا اور تیز قدموں سے گھر کی جانب بڑھنے لگا۔ مگر آگے تیسرا ٹھگ تاک میں…

Read more

حضرت عمرو بن معدی کرب زبیدیؓ: جاہلیت کے ڈاکو سے اسلام کے عظیم مجاہد تک ۔۔کِسریٰ اور شاہِ ایران کی شکستدوستو قصہ لمبا ہونے کے لیے معزرت  لیکن میں چاہتا تھا کے عظیم شاہ سوار کے کارنامے ہمارے لوگوں کو پتا چل سکیں آپ پڑھیں انشا اللّہ آپ کا وقت ضائع نہیں جائے گا۔ حضرت عمرو بن معدی کرب زبیدیؓ کا شمار اسلامی تاریخ کے نامور بہادروں اور شہسواروں (گھوڑے پر سواری کے ماہروں) میں ہوتا ہے۔ (عمرو میں “ع” پر زبر ہے، “م” اور “و” ساکن ہیں۔ واؤ نہیں پڑھی جاتی) وہ یمن میں آباد عرب قبیلے مذحج کی ایک شاخ بنی زبید سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے زبیدی کہلاتے تھے۔ وہ بڑے ڈیل ڈول اور قد کاٹھ کے آدمی تھے۔ تلوار چلانے میں مہارت رکھتے تھے اور نیزہ بازی میں بہت کم لوگ ان کا مقابلہ کر سکتے تھے۔ وہ اتنے طاقتور اور شہسوار تھے کہ لوگ…

Read more

#شیر اور شارک دونوں پیشہ ور شکاری ہیں لیکن شیر سمندر میں شکار نہیں کرسکتا اور شارک خشکی پر شکار نہیں کر سکتی۔ شیر کو سمندر میں شکار نہ کر پانے کیوجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا اور شارک کو جنگل میں شکار نہ کر پانے کیوجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا۔ دونوں کی اپنی اپنی حدود ہیں جہاں وہ بہترین ہیں۔ اگر گلاب کی خوشبو ٹماٹر سے اچھی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے کھانا تیار کرنے میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایک کا موازنہ دوسرے کے ساتھ نہ کریں۔ آپ کی اپنی ایک طاقت ہے اسے تلاش کریں اور اس کے مطابق خود کو تیار کریں۔ کبھی خود کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ ہمیشہ خود سے اچھی اُمیدیں وابستہ رکھیں۔ یاد رکھیں ٹوٹا ہوا رنگین قلم بھی رنگ بھرنے کے قابل ہوتا ہے۔ اپنے اختتام تک پہنچنے سے پہلے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ، کسی قبیلے کا سردار اپنے گھوڑے پر سوار تنہا صحرا میں جارہا تھا، سفر کے دوران اس نے دیکھا کہ ایک شخص ریت میں دھنسا پڑا ہوا ہے، سردار نے گھوڑا روکا، نیچے اترا، اس شخص کے جسم پر سے ریت ہٹائی، تو دیکھا کہ وہ جو کوئی بھی تھا بے ہوش چکا تھا ، سردار نے اسے ہلایا جلایا تو، وہ نیم وا آنکھوں کے ساتھ پانی پانی پکارتے ہوئے کہنے لگا، پیاس سے میرا حلق اور میری زبان کسی سوکھے ہوئے چمڑے کی طرح اکڑ چکی ہے، اگر پانی نہ پیا تو مر جاؤں گا، سردار نے سوچا کہ وضع قطع سے اجنبی دکھائی دینے والا شخص ، جو اردگرد کے کسی بھی قبیلے سے تعلق نہیں رکھتا ، پتا نہیں کب سے یہاں بے یارو مددگار پڑا ہوا ہے، اس نے جلدی سے گھوڑے کی زین کے ساتھ لٹکی ہوئی چھاگل…

Read more

(بادشاہ اور درویشوں کی ملاقات)قدیم زمانے کی بات ہے، شہرِ دہلی میں ایک عادل، دانا اور انصاف پسند بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ رعایا اس سے خوش تھی اور دشمن اس کے نام سے لرزتے تھے۔ مگر بادشاہ کے دل میں ایک خلش تھی۔ وہ اکثر سوچتا: “یہ دنیا آخر ہے کیا؟کیا دولت، اقتدار اور شان و شوکت ہمیشہ باقی رہتی ہے؟” ایک دن بادشاہ شکار کے ارادے سے چند خاص امیروں اور سپاہیوں کے ساتھ شہر سے باہر نکلا۔ شکار کھیلتے کھیلتے قافلہ بکھر گیا اور بادشاہ تنہا ایک سنسان راستے پر جا پہنچا۔ شام کا اندھیرا پھیلنے لگا، فضا میں عجیب سی خاموشی تھی۔ کچھ آگے چل کر اسے ایک پرانا باغ نظر آیا۔ باغ کے بیچوں بیچ ایک چبوترہ تھا، جس پر چار درویش خاموش بیٹھے تھے۔ ان کے لباس بوسیدہ تھے، مگر چہروں پر نور، آنکھوں میں صبر اور پیشانیوں پر وقت کے زخم نمایاں تھے۔ بادشاہ…

Read more

خلیفہ عبدالملک بن مروان بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا- اس کی نظر ایک نوجوان پر پڑی- جس کا چہرہ بہت پُر وقار تھا- مگر وہ لباس سے مسکین لگ رہا تھا- خلیفہ عبدالملک نے پوچھا، یہ نوجوان کون ہے۔ تو اسے بتایا گیا کہ اس نوجوان کا نام سالم ہے اور یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیٹا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا پوتا ہے۔خلیفہ عبدالملک کو دھچکا لگا۔ اور اُس نے اِس نوجوان کو بلا بھیجا-خلیفہ عبدالملک نے پوچھا کہ بیٹا میں تمہارے دادا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بڑا مداح ہوں۔ مجھے تمہاری یہ حالت دیکھ کر بڑا دکھ ہوا ہے۔ مجھے خوشی ہو گی اگر میں تمھارے کچھ کام آ سکوں۔ تم اپنی ضرورت بیان کرو۔ جو مانگو گے تمہیں دیا جائے گا- نوجوان نےجواب دیا، اے امیر المومنین! میں اس وقت اللہ کے گھر بیتُ…

Read more

یورپی ادب سے ماخوذ  کہانیایک زمین دار تھا، بہت امیر۔ گاؤں کی ساری اچھّی اور زرخیز زمینیں اس کی ملکیت تھیں۔ ان زمینوں کے سرے پر ایک ٹکڑا ایسی بنجر زمین کا تھا جس میں کچھ پیدا نہ ہوتا تھا۔ زمیں دار نے سوچا، اس زمین سے کوئی فائدہ تو ہوتا نہیں، کیوں نہ اسے کسی غریب کسان کو دے کر اس پر احسان جتایا جائے۔ اگر اس کی محنت سے زمین اچھّی ہو گئی اور فصل دینے لگی تو پھر واپس لے لوں گا۔ زمین دار کے پاس بہت سے کسان کام کرتے تھے۔ ان میں سے اس نے ایک ایسا کسان چنا جس کے متعلق اسے یقین تھا کہ اگر کبھی زمین واپس لینی پڑے تو چپ چاپ واپس کر دے گا۔ زمیں دار نے کسان کو بلایا اور کہا ”میں اپنی زمین کا وہ ٹکڑا جو ٹیلے کے پاس ہے، تمہیں دیتا ہوں۔ میرا اس سے اب…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے جمعہ کا دن تھا خطیب صاحب ذرا لیٹ ہو گئے تو ایک دیوانہ ممبر پر خطبہ دینے پہنچ گیا۔لوگوں نے اسے نیچے اتارنے کی کوشش کی مگر ایک ذمہ دار شخص نے انہیں منع کر دیا۔مجنون ممبر پرچڑھا اور خطبہ دینے لگا:“تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے سب کو دو (ماں اور باپ) سے پیدا کیا اور دو (جنسوں مرد و عورت) میں تقسیم کیا۔ پھر ان میں سے کچھ کو مالدار بنایا تاکہ خدا کا شکر بجا لائیں اور کچھ کو فقیر چھوڑا تاکہ صبر کریں،مگر نہ تو امیر لوگ شکر کرتے نظر آتے ہیں اور نہ ہی فقیر صبر کرتے دکھائی دیتے ہیں،سب پر خدا کی لعنت ہو…نماز جمعہ کے لیے صفیں سیدھی کر لو منافقو…! منقول دیوانہ انجانے میں ایسی بات کر گیا کہ روح تک جھنجھوڑ کر رکھ گیا۔ ہم ہیں وہ مسلمان جو بات تو اللہ پر ایمان…

Read more

میری دادی ایک کہانی سنایا کرتی تھیں ۔کسی زمانے کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں دو عورتیں رہا کرتی تھی ان دونوں عورتوں کی گائے نے ایک ہی دن بچہ دیا۔ ایک عورت کی گائے نے بچھڑا دیا جب کہ دوسری کے ہاں بچھڑی کی پیدائش ہوئی۔ جس عورت کے ہاں بچھڑا پیدا ہوا اس نے اب راتوں رات اپنے بچھڑے کو دوسری عورت کی بچھڑی کے ساتھ تبدیل کر دیا۔ وقت گزرتا گیا اور دونوں بچھڑا بچھڑی بڑے ہوتے گئے۔ جب بچھڑی بڑی ہو کر گائے بنی تو وقت آنے پر اس نے بھی بچہ جنا۔  پہلے زمانے میں رواج ہوتا تھا کہ گاؤں میں گائے کے پہلے دودھ سے بنی “بولی” ایک دوسرے کے گھر تحفے کے طور پر بھیجی جاتی تھی۔ اس عورت نے دوسری عورت کے گھر جب وہ بولی بھیجی تو اسے کھاتے ہی دوسری عورت نے فورا کہا کہ یہ گائے تواس کی…

Read more

یہ واقعہ جب تاریخ کے اوراق میں بکھرا ہوا ملتا ہے تو سولہویں صدی کے اوائل میں یورپ اور عثمانی سلطنت کے درمیان تعلقات کسی ایک سرحد یا ایک مسئلے تک محدود نہ تھے۔ بحیرہ روم سے لے کر بلقان، اناطولیہ سے لے کر ہنگری کے میدانوں تک، طاقت کا ایک خاموش مگر شدید مقابلہ جاری تھا۔ عثمانی سلطنت اس وقت محض ایک فوجی طاقت نہیں تھی بلکہ ایک منظم ریاست، مضبوط معیشت، قانون، انتظامیہ اور مذہبی مرکزیت کی حامل تھی۔ سلطان سلیمان بن سلیم، جسے تاریخ نے القانونی کا لقب دیا، تخت نشین ہو چکا تھا۔ وہ ایک ایسا حکمران تھا جس کے قلم اور تلوار دونوں کو یکساں احترام حاصل تھا، جو جنگ سے پہلے قانون دیکھتا اور فتح کے بعد نظم قائم کرتا تھا۔دوسری جانب ہنگری کی سلطنت تھی جو جغرافیائی لحاظ سے یورپ اور عثمانی دنیا کے درمیان ایک دروازہ سمجھی جاتی تھی۔ ہنگری صرف ایک…

Read more

ایک چیونٹیوں کے بل میں ایک ننھی سی چیونٹی رہتی تھی۔ وہ نہ سب سے طاقتور تھی، نہ سب سے تیز، نہ سب سے زیادہ عقل مند۔ لیکن اس میں ایک ایسی خوبی تھی جو اسے سب سے منفرد بناتی تھی۔ وہ کبھی کسی کے دکھ کو نظر انداز کر کے آگے نہیں بڑھ سکتی تھی۔ اگر کوئی چیونٹی تھک جاتی اور دانہ نہ اٹھا پاتی تو وہ مدد کرتی۔ اگر کوئی لڑکھڑا جاتی تو اسے سہارا دیتی۔ جب بارش سرنگیں گرا دیتی تو سب سے پہلے وہی دوڑ کر انہیں دوبارہ بنانے لگتی۔ وقت کے ساتھ باقی چیونٹیاں اس کی عادی ہو گئیں۔ وہ ہمیشہ موجود ہوتی تھی۔ کوئی دانہ گر گیا؟ وہ اٹھا لیتی۔ کام پیچھے رہ گیا؟ وہ پورا کر دیتی۔ کوئی تھک گیا؟ وہ اپنا کندھا پیش کر دیتی۔ مگر کسی نے کبھی یہ نہیں پوچھا: “اور تم… کیا تم بھی تھک گئی ہو؟” ہر دن…

Read more

ریگستان کا وعدہ پرانے عرب کے ریگستان میں، جہاں دن آگ برساتا اور راتیں خاموشی اوڑھ لیتی تھیں، ایک قبیلہ آباد تھا جسے بنو سالم کہا جاتا تھا۔ اس قبیلے میں ایک نوجوان رہتا تھا، نام تھا نعمان۔ وہ بہادر تھا، تلوار چلانا جانتا تھا، مگر اس کی اصل پہچان اس کی امانت داری تھی۔ایک دن قبیلے کے سردار نے نعمان کو بلا کر کہا۔“اے نعمان، یہ سونے کے سکے ہیں۔ انہیں دوسرے قبیلے کے سردار تک پہنچانا ہے۔ راستہ طویل ہے، اور خطرات سے بھرا۔” نعمان نے سکوں کی تھیلی تھامی، آنکھیں جھکائیں اور کہا۔“اے سردار، جان چلی جائے تو جائے، مگر امانت میں خیانت نہیں ہوگی۔” نعمان اپنے اونٹ پر روانہ ہوا۔ دن ڈھلنے لگا تو ریت کے ٹیلوں کے پیچھے سے ایک زخمی مسافر ملا۔ وہ پیاس سے نڈھال تھا۔ اس نے کانپتی آواز میں کہا۔ “اے مسافر، اگر پانی نہ ملا تو جان چلی جائے گی۔”نعمان…

Read more

ایک بادشاہ نے اپنے بیٹے کی تین بار شادی کی کوشش کی وہ  ہر رشتہ سے پہلی گفتگو کے بعد انکار کر دیتا تھا۔  آخر کار، والد نے بیٹے کو تنگ آ کر محل سے نکال دیا۔ بیٹا شہر سے باہر کام کی تلاش میں نکل گیا اور ایک مالدار شخص کے ہاں بکریاں چرانے کا کام ملا۔ وہ شخص نوجوان سے بہت متاثر ہوا۔ اس مالدار شخص کی ایک ہی بیٹی تھی اور اس نے سوچا کہ اسے نوجوان سے شادی کروا دے تاکہ وہ ان کے ساتھ رہے۔ اس نے اپنی بیٹی کو یہ بات بتائی، تو بیٹی نے کہا کہ وہ اس نوجوان سے شادی نہیں کرے گی جب تک کہ وہ اس کے ساتھ سفر نہ کرے اور اس کی حقیقت کو جان نہ لے۔ مالک نے نوجوان سے کہا کہ کل تم بکریاں چرنے نہ لے جاؤ، ہم کچھ دنوں کے لیے سفر کریں گے…

Read more

بادشاہ سکندر لودھی کے زمانے میں گوالیار کے دو غریب بھائی فوج میں بھرتی ہوئے۔ ایک دن قسمت نے یاوری کی اور کہیں سے انہیں دو قیمتی لعل ہاتھ لگ گئے۔ دونوں بھائیوں نے ایک ایک لعل آپس میں بانٹ لیا۔ لعل ملنے پر چھوٹے بھائی نے خوشی سے کہا:“اب میں نوکری نہیں کروں گا۔ اس لعل کو بیچ کر تجارت شروع کروں گا اور بچوں کے ساتھ رہوں گا۔” یہ سن کر بڑے بھائی نے کہا:“بھیا! میرے حصے کا لعل بھی لیتے جاؤ۔ اپنی بھاوج کو دے دینا۔ میں ابھی نوکری نہیں چھوڑ سکتا۔” چھوٹا بھائی دونوں لعل لے کر گھر کی طرف روانہ ہو گیا، مگر راستے میں اس کی نیت خراب ہو گئی۔ اس نے بھائی والا لعل بھاوج کو دینے کے بجائے اپنے پاس ہی رکھ لیا اور اپنا کام دھندا شروع کر دیا۔ کچھ دنوں بعد بڑا بھائی چھٹی لے کر گھر آیا۔ اس نے…

Read more

ابلیس کی نسل کی ابتدا جس جن سے ہوئی اس کا نام “طارانوس” کہا جاتا ہے۔ طارانوس ابلیس سے ایک لاکھ چوالیس ہزار سال قبل دنیا پہ موجود تھا۔ طارانوس کی نسل تیزی سے بڑھی کیونکہ ان پہ موت طاری نہیں ہوتی تھی اور نہ بیماری لگتی تھی البتہ یہ چونکہ آتشی مخلوق تھی تو سرکشی بدرجہ اتم موجود تھی۔ اس جنوں کی نسل کو پہلی موت فرشتوں کے ہاتھوں پیدائش کے 36000 سال بعد آئی جس کی وجہ سرکشی تھی یہاں پہلی بار موت کی ابتدا ہوئی اس سے پہلے موت نہیں ہوتی تھی۔ بعد میں “چلپانیس” نامی ایک نیک جن کو جنات کی ہدایت کا ذمہ سونپا گیا اور وہ ہی شاہ جنات قرار پائے اس کے بعد “ہاموس” کو یہ ذمہ داری دی گئی۔ ہاموس کے دور میں ہی “چلیپا” اور “تبلیث” کی پیدائش ہوئی۔ یہ دونوں اپنے وقت کے بے حد بہادر جنات تھے اور ان…

Read more

کہتے ہیں کہ کسی دور افتادہ علاقے میں ایک بستی آباد تھی۔ بظاہر وہ بستی عام سی تھی، مگر اس کے باسیوں کے چہروں پر ہمیشہ ایک انجانا خوف سایہ فگن رہتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ ہر سال ایک مخصوص دن، ایک خوفناک دیو وہاں آتا، پورے گاؤں کو للکارتا اور للکار کر یہی سوال دہراتا:“کیا تم میں کوئی مرد ہے جو مجھ سے مقابلہ کر سکے؟ کیا کوئی ہے جو مجھے ہرا سکے؟”اور پھر حسبِ روایت، وہ ہر سال گاؤں کے کسی ایک انسان کو مار ڈالتا۔ یوں خوف اس بستی کی رگ رگ میں اتر چکا تھا۔خوف کا دنآج بھی وہی منحوس دن آن پہنچا تھا۔ گاؤں میں خاموشی تھی، مگر یہ خاموشی سکون کی نہیں بلکہ موت کے انتظار کی تھی۔ لوگ سہمے ہوئے تھے، عورتوں کی آنکھوں میں آنسو تھے اور نوجوانوں کے دل خوف سے لرز رہے تھے۔ سب جانتے تھے کہ آج پھر…

Read more

ایک حکیم نے اپنے جوان بیٹے کو فجر کی نماز کے لیے جگایا۔ جب وہ دونوں مسجد کی طرف نکلے تو پورے شہر میں ایک عجیب سا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ دونوں نے مسجد پہنچ کر باجماعت نماز ادا کی۔جماعت میں نمازیوں کی تعداد تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔ نماز کے بعد وہ دونوں اشراق تک عبادت اور ذکرِ الٰہی میں وقت گزارتے رہے۔جب اشراق کی نماز کے بعد باپ اور بیٹا مسجد سے باہر نکلے تو دیکھتے ہیں کہ دنیا جاگ رہی ہے اور ہر طرف لوگ اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔یہ منظر دیکھ کر جوان شخص کو بہت دکھ ہوا اور بولا،“ابو جان، دیکھیں کتنے بدنصیب لوگ ہیں! یہ سب دنیا کی فکر میں مشغول ہیں، لیکن آخرت کی کوئی فکر نہیں۔ نماز کے وقت نیند نہیں چھوڑ سکتے، مگر ایک گھنٹے بعد دنیا کے حصول کے لیے اپنے گھروں سے نکل آئے ہیں۔” یہ سن کر…

Read more

کیا آپ جانتے ہیں کہ تاریخ کا سب سے بہادر جاسوس کون تھا؟ وہ جس نے 40 ہزار سپاہیوں پر مشتمل فوج میں گھس کر سپہ سالار کے خیمے تک رسائی حاصل کی… یہ ہے ان کی کہانی:حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے سات افراد کو فارسیوں (ایران) کی خبریں لانے کے لیے روانہ کیا اور حکم دیا کہ اگر ہو سکے تو ان کا ایک آدمی قید کر کے لائیں۔ابھی یہ سات افراد نکلے ہی تھے کہ اچانک انہوں نے فارسی لشکر کو اپنے بالکل سامنے پایا (حالانکہ ان کا خیال تھا کہ دشمن ابھی دور ہے)۔ ساتھیوں نے کہا کہ ہمیں واپس چلنا چاہیے، لیکن ان میں سے ایک مردِ مجاہد نے واپسی سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اپنا مشن پورا کیے بغیر نہیں جائیں گے۔چنانچہ چھ ساتھی واپس لشکرِ اسلام کی طرف لوٹ گئے، جبکہ ہمارے ہیرو تنِ تنہا ایرانی فوج…

Read more

“مجھے خبر ملی ہے کہ اُن ننگے بھوکے عربوں نے تجھے شکست دیدی اور تیرے بیٹے کو بھی مار ڈالا ہے؟” دروان شہنشاہِ روم ہرقل کا خط پڑھ رہا تھا جو اسے حضرت خالد بن ولید ؓ سے شکست کھانے کے بعد موصول ہوا تھا۔ “اگر میں تیری ہمت اور طاقت کا عینی گواہ نہ ہوتا تو اسی وقت تیری گردن مارنے کا حکم دے دیتا۔” یہ الفاظ پڑھ کر دروان کے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی۔ وہ شہنشاہِ روم کے غضب سے ڈر رہا تھا۔ “چلو خیر جو ہوا سو ہوا، اب آگے کا منصوبہ یہ ہے کہ میں ایک بہت بڑا لشکر اجنادین روانہ کر رہا ہوں، اس لشکر میں نوّے ہزار رومی جوان شامل ہیں، میں تجھے ان سب کا کمانڈر مقرر کرتا ہوں، تم ان کو لے کر دمشق کے باشندوں کی مدد کو پہنچو۔ اور ایسا کرنا کہ ان میں سے کچھ سپاہی فلس…

Read more

2620/3784
NZ's Corner