Author Archives: NZ's Collection

🚩 جب جولیس سیزر کو بحری قزاقوں نے اغوا کر لیا: ایک ناقابلِ یقین تاریخی واقعہ!آج سے تقریباً دو ہزار سال پہلے، پہلی صدی عیسوی میں بحیرہ روم (Mediterranean Sea) کوئی پرامن جگہ نہیں تھی۔ یہ دور سمندری ڈاکوؤں (Pirates) کا تھا، جنہوں نے پورے سمندر میں اودھم مچا رکھا تھا۔ خاص طور پر جنوبی اناطولیہ (موجودہ ترکی) کا سنگلاخ علاقہ، جسے سیلیسیا ٹراکیا کہا جاتا تھا، ان خطرناک لٹیروں کا گڑھ تھا۔لیکن 75 قبل مسیح (75 BC) میں ان قزاقوں نے ایک ایسی غلطی کر دی جس نے ان کی پوری نسل کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔ انہوں نے ایک 25 سالہ نوجوان کو اغوا کیا، جس کا نام تھا: جولیس سیزر۔🚢 سفر جو قید میں بدل گیااس وقت جولیس سیزر کوئی ڈکٹیٹر یا عظیم فاتح نہیں تھا، بلکہ ایک غیر معمولی ذہین طالب علم تھا۔ وہ فنِ خطابت (Public Speaking) سیکھنے کے لیے جزیرہ روڈس جا…

Read more

ابلیس، جسے شیطان بھی کہا جاتا ہے، اسلامی عقائد کے مطابق ایک جن تھا جس نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی اور حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ قرآن مجید میں اس کا ذکر کئی بار آیا ہے، اور اس کی سرکشی اور نافرمانی کو انسانیت کے لیے ایک سبق کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اللہ نے تمام فرشتوں اور جنوں کو حکم دیا تھا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں، کیونکہ آدم کو اللہ نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا اور ان میں اپنی روح پھونکی تھی۔ اس وقت ابلیس، جو جنات میں سے تھا اور اپنی عبادت کی وجہ سے فرشتوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا، نے غرور اور تکبر کی وجہ سے انکار کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ آگ سے بنا ہے جبکہ آدم مٹی سے بنے ہیں، اور آگ مٹی سے بہتر ہے۔ اس نافرمانی کی وجہ…

Read more

ساس کی کھانسی کی وجہ سے بہو کی نیند ڈسٹرب ہو رہی تھی شوہر کے سامنے خود تو ساس کو برا بھلا کہہ نہیں سکتی تھیلہذا بہو نے فوراً اپنے چند ماہ کے بیٹے کو چٹکی کاٹی تھی جو رونے لگا تھا اور پھر اپنے بیٹے کا نام استعمال کرتے ہوئے اپنے شوہر سے کہا تھا ماں کی وجہ سے چھوٹا بار بار اٹھ جاتا ہے اگر بچے کی نیند پوری نہ ہوئی تو اس شدید ٹھنڈ میں بچہ ویسے ہی بیمار پڑ جائے گا شوہر نے اٹھ کر بیوی کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ماں کو جھڑکا تھا مگر کھانسی جھڑکنے سے کہاں رکتی ہے اور پھر بوڑھی ماں تو ٹی بی کی مریضہ تھی لہذا اس کے بیٹے نے اٹھ کر اس کا بستر صحن میں لگا دیا تھا۔ بوڑھی ناتواں ماں اپنے جوان پتر کی مضبوط گرفت میں گھسٹتے ہوئے صحن میں پڑھی ٹوٹی پھوٹی چارپائی…

Read more

آخر ی مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا ایک ہاتھی تھا ، نام تھا اُس کا ” مولا بخش “ – یہ ہاتھی اپنے مالک کا بے حد وفادار تھا ۔ ہاتھی خاصہ بوڑھا تھا مگر تھا بہت صحت مند ۔ فطرتاََ شریر اور شوخ تھا ۔ ہر وقت مست رہتا تھا ۔ اپنے مہاوت کے سوا کسی کو پاس نہ آنے دیتا تھا ۔ یہ ہاتھی کھیلنے کا بڑا شیدائی تھا ۔ دہلی کے لال قلعے کے قریب کے بچے اُس کے گرد اکٹھے ہو جاتے تھے اور مولا بخش اُن کے ساتھ ساتھ کھیلتا رہتا ۔ پہلے بچے اُسے کہتے کہ ” ایک ٹانگ اٹھاؤ “ وہ اُٹھا لیتا ۔ بچے کہتے ” ایک گھڑی ( یعنی ایک منٹ ) پوری ہونے سے پہلے نہ رکھنا “ وہ ایک گھڑی یعنی ایک منٹ تک ایسے ہی رہتا ۔ پھر بچے کہتے ” گھڑی پوری ہوئی “ تو وہ…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی شہر میں ایک مشہور چور رہتا تھا۔ایک دن اس چور نے اپنے بیٹے کو پاس بلایا اور کہا:”اگر تمہیں مجھ سے محبت ہے تو تم چور بننا ہی پسند کروں گے۔“اس کام میں تمہیں بہت فائدہ ہو گا۔ بیٹے نے جواب دیا۔”ابا جان!اگر میں آپ کی نصیحت پر عمل کروں گا تو کوئی میری عزت نہیں کرے گا اور میں لوگوں کی نظروں میں گر جاؤں گا۔میرا دل کہتا ہے کہ میں محنت کرکے اپنے لئے روزی روٹی کماؤں اور عزت کی زندگی بسر کروں۔ چور یہ سن کر بہت خفا ہوا اور بیٹے سے کہا:”کیا تم نے نہیں سنا ہے کہ اپنے باپ کا حکم ضرور ماننا چاہئے،تو میرے حکم سے انکار کیوں کرتا ہے؟ تمہیں چور بننا ہی پڑے گا ورنہ میں تمہیں گھر سے نکال دوں گا۔ لڑکا دوسرے دن ایک کسان کے گھر گیا اور اس سے ایک گائے…

Read more

مدینہ کی گلیوں میں اُس دن ایک خاص سی خاموشی تھی، جیسے ہوا بھی آنے والے فیصلے کا بوجھ محسوس کر رہی ہو۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ مسجدِ نبوی کے صحن میں بیٹھے تھے، نگاہیں جھکی ہوئی تھیں مگر دل میں ایک سمندر موجزن تھا۔ وہی سعدؓ جن کے ہاتھوں سے اسلام کے لیے پہلی بار تیر چلایا گیا، وہی سعدؓ جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ “میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں”۔ آج اُن کے کاندھوں پر صرف ایک لشکر کی نہیں بلکہ پوری اُمت کی امیدوں کا بوجھ تھا۔ فارس کی عظیم سلطنت، جس کے گھوڑوں کی ٹاپ سے زمین کانپتی تھی، جس کے سپاہی زرہوں میں لوہے کی دیوار نظر آتے تھے، اُس سلطنت کے مقابل ایک ایسا لشکر کھڑا تھا جس کے پاس ساز و سامان کم مگر ایمان پہاڑوں سے زیادہ مضبوط تھا۔حضرت سعدؓ نے روانگی سے پہلے…

Read more

کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک معمولی جانور، ایک اونٹنی کے تھن پر لگنے والا ایک تیر دو عظیم قبیلوں کو 40 سال تک خون میں نہلا سکتا ہے؟ یہ کوئی افسانہ نہیں، یہ تاریخ ہے! یہ داستان ہے عرب کے صحراؤں میں لڑی جانے والی اس جنگ کی جسے “جنگِ بسوس” کہا جاتا ہے۔ یہ کہانی ہے انا، غیرت، تکبر اور نہ ختم ہونے والے انتقام کی۔بات شروع ہوتی ہے زمانہ جاہلیت کے عرب سے، جہاں تلوار ہی قانون تھی اور قبیلے کی عزت ہی سب کچھ۔ بنو بکر اور بنو تغلب، دو چچا زاد قبیلے تھے جو بھائیوں کی طرح رہتے تھے۔ بنو تغلب کا سردار “کلیب بن ربیعہ” تھا، جسے عرب کا پہلا بادشاہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ کلیب بہادر تھا لیکن اس کا تکبر آسمان کو چھو رہا تھا۔ اس کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ وہ جس چراگاہ کو اپنے لیے…

Read more

ایک شخص کی شادی ہوئی تو باوجود مال دار و صاحبِ ثروت ہونے کے بیگم کے نان نفقہ کے حوالے سے بڑی کنجوسی سے کام لیتا۔ کھانے پینے کے حوالے سے موصوف کو دال کے علاوہ کوئی اور کھانا سوجھتا ہی نہیں تھا، خود تو دال پر گزارا کرتا، ساتھ میں بیوی کو بھی اسی ایک سالن پر گزارا کرنے پر مجبور کر دیا۔ تنگ آکر جب کبھی بیوی دال کے علاوہ کچھ اور سبزی، گوشت لانے کا کہتی تو جوابا بری طرح ڈانٹ ڈپٹ کر خاموش کروا دیتا اور دال کے فوائد گنوانا شروع کر دیتا۔ ایک دن بیوی اپنے مائیکے گئی تو اس کے بھائیوں نے بہن کے اترے چہرے، پھیکی پڑتی رنگت اور نقاہت زدہ جسم کو دیکھ کر اندازہ لگایا کہ بہن خوش نہیں ہے۔ وجہ دریافت کرنے پر پہلے پہل تو بہن نے بات ٹالنا چاہی، مگر بھائیوں کے اصرار پر شوہر کی کنجوسی اور…

Read more

کیا آپ یقین کریں گے کہ دو طاقتور قبیلے، جو آپس میں بھائی بھائی تھے، صرف اس بات پر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے کہ “ریس میں میرا گھوڑا آگے تھا یا تمہارا؟” یہ کہانی ہے عرب کی دوسری سب سے بڑی اور مشہور جنگ “جنگِ داحس و غبراء” کی، جس نے ثابت کیا کہ جب انسان کی عقل پر انا کا پردہ پڑ جائے تو وہ جانوروں کی ریس پر انسانوں کی نسلیں قربان کر دیتا ہے۔یہ قصہ ہے دو بڑے عرب قبیلوں “بنو عبس” اور “بنو ذبیان” کا۔ یہ دونوں قبیلے ایک ہی دادا کی اولاد تھے، ان میں گہری رشتہ داریاں تھیں اور یہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔ لیکن عربوں کو اپنی تلواروں کے بعد سب سے زیادہ محبت اپنے گھوڑوں سے تھی۔ وہ اپنے گھوڑوں کا نسب نامہ بھی اپنے بچوں کی طرح یاد رکھتے تھے۔قبیلہ عبس کا سردار…

Read more

ایک بادشاہ کی سات بیٹیاں تھی ایک دن بادشاہ بہت خوش ہوتا ہے اور اپنی ساتوں بیٹیوں کو بلا کر پوچھتا ہے کہ میں تم سب سے ایک سوال پوچھوں گا اور اگر جواب اچھا لگا تو تمہارا من چاہا انعام بھی دوں گا ۔ سب ایک قطار میں کھڑی ہو جاو اور ایک ایک کر کے بتاو کہ تم کس کا دیا کھاتی ہو ؟ کس کا دیا پہنتی ہو ؟ سات میں سے چھ بیٹیوں نے کہا ابا حضور آپ کا دیا کھاتے ہیں اور آپ کا دیا پہنتے ہیں آپ ہی کی وجہ سے ہماری یہ شان شوکت ہے یہ سن کر بادشاہ بہت خوش ہوا اور سب کو اس کی من پسند چیز دے دی۔ جب سب سے چھوٹی بیٹی کی باری آئی تو اس نے کہا کہ میں اللہ کا دیا کھاتی ہوں اور اپنی قسمت کا پہنتی ہوں اور یہ میرا نصیب ہے ۔…

Read more

حضرت صہیب رومی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’تم سے پہلے زمانے میں  ایک بادشاہ تھا اور اس کا ایک جادو گر تھا، جب وہ جادوگر بوڑھا ہو گیا تو اس نے بادشاہ سے کہا :اب میں  بوڑھا ہو گیا ہوں ،آپ میرے پاس ایک لڑکا بھیج دیں تاکہ میں  اسے جادو سکھادوں  ۔بادشاہ نے ا س کے پاس جادو سیکھنے کے لئے ایک لڑکابھیج دیا،وہ لڑکا جس راستے سے گزر کرجادو گر کے پاس جاتا اس راستے میں  ایک راہب رہتا تھا،وہ لڑکا (روزانہ) اس راہب کے پاس بیٹھ کر اس کی باتیں  سننے لگا اوراُس راہب کا کلام اِس لڑکے کے دل میں  اترتاجا رہا تھا ۔جب وہ لڑکا جادو گر کے پاس پہنچتا تو (دیر سے آنے پر) جادو گر اسے مارتا۔لڑکے نے راہب سے ا س کی شکایت کی تو راہب نے کہا:جب تمہیں …

Read more

یہ وہ دور تھا جب جرمنی مختلف ریاستوں میں بٹا ہوا تھا بالکل ایسے ہی جیسے شہاب الدین غوری کے ہندوستان پر حملے کے وقت ہندوستان مختلف راجواڑوں میں تقسیم تھا اسی طرح جرمنی میں جاگیرداری ٹائپ نظام تھا مختلف جرمن شہزادے مختلف علاقوں پر حکومت کرتے تھے جو اکثر آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے لیکن پھر ایک سرخ داڑھی والا جرمن اس ارادے کے ساتھ اٹھا کہ وہ جرمن کو متحد کرے گا وہ ایک ذہین اور بہادر انسان تھا اس نے ایک ایک کر کے تمام جرمن شہزادوں کو شکست دی اور جرمنی کو ایک جھنڈے تلے متحد کر دیا جرمن لڑنے کے معاملے میں مضبوط تو پہلے ہی تھے لیکن اب متحد ہونے کے بعد وہ یورپ کی ایک بڑی طاقت بن گئے اس کے بعد اس نے پولینڈ پر چڑھائی کر دی اورپولینڈ پر قبضہ کر لیا  اب اس سرخ داڑھی والے نے اپنی سلطنت کو…

Read more

کسی زمانے میں ایک قصاب تھا وہ رات کے وقت وہ جاکر جانور ذبح کیا کرتا تھا اور دن میں اپنی دکان پر گوشت لا کر بیچا کرتا تھا جب وہ جانور ذبح کرتا اس کے کپڑوں میں خون لگ جاتا مگر وہ گھر آ کر خون آلودہ کپڑنے بدل لیا کرتا تھا ایک رات جب وہ واپس آ رہا تھا جانور کو ذبح کر کے تو راستے میں ایک جگہ پہ ایک آدمی شور مچاتا ہوا آیا اور اس نے اس قصاب کو پکڑ لیا جب پکڑ لیا تو قصاب نے دیکھا کہ اس آدمی کے جسم سے خون بہہ رہا ھے اور قصاب حیران ہوا اتنے میں اس آدمی کی جان نکل گئی قصاب نے دیکھا کہ اس آدمی کے جسم میں ایک چھری تھی جو کسی نے اس کو کھونپ دی تھی اب جو قتل کرنے والا تھا وہ باگ گیا اور مقتول نے اندھیرے میں یہ…

Read more

سلطان سیف الدین قطزؒ کی شہادت کی یاد میں: تاریخ کا وہ ہیرو جس نے تاتاری طوفان کو روکا تاریخ انسانی کا دھارا اکثر چند عظیم شخصیات کے ہاتھوں موڑ کھاتا ہے۔ ایسی ہی ایک نادر و نایاب ہستی سلطان سیف الدین قطزؒ کی ہے، جنہوں نے محض چند ماہ کی حکمرانی میں وہ عظیم الشان کارنامہ انجام دیا جس نے نہ صرف عالم اسلام کو تباہی و بربادی سے بچایا بلکہ دنیا کی تاریخ کا رخ ہی بدل دیا۔ ان کی شہادت محض ایک حکمران کی موت نہیں، بلکہ ایک ایسے مجاہد کی آخری قربانی ہے جس نے اپنی جان دے کر امت کو زندگی بخشی۔ بندگی سے سلطنت تک: ایک عظیم سفر قطزؒ کا اصل نام مظفر الدین محمود تھا۔ وہ شاہی خون رکھتے تھے مگر تقدیر نے انہیں بچپن میں ہی منگولوں کے ہاتھوں غلام بنا دیا۔ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہونے کے باوجود، ان کی…

Read more

جب چی گویرا کو اُس کے ٹھکانے سے گرفتار کیا گیا،اور بتایا گیا کہ یہ راز ایک چرواہے نے فاش کیا ہے۔کسی نے چرواہے سے حیرت سے پوچھا:“تم نے اُس شخص کو کیسے بیچ دیا جو ساری زندگی تمہارے اور تمہارے حقوق کے لیے لڑتا رہا؟” چرواہا بس اتنا بولا: اس کی دشمنوں سے جنگ نے میری بکریوں کو ڈرا دیا تھا۔ برسوں پہلے، مصر میں عظیم قائد محمد کریم نے نپولین کی قیادت میں آنے والے فرانسیسی لشکر کی مزاحمت کی۔گرفتار ہونے پر انہیں سزائے موت سنائی گئی۔نپولین نے انہیں بلا کر کہا: مجھے افسوس ہے کہ ایک ایسے شخص کو قتل کرنا پڑ رہا ہےجس نے اپنے وطن کا اتنی بہادری سے دفاع کیا۔میں نہیں چاہتا کہ تاریخ مجھے ایسے شخص کےطور پر یاد رکھے،جس نے اپنی سرزمین کے لیے لڑنے والے ہیروز کو مار ڈالا۔اس لیے میں تمہیں معاف کرتا ہوں — اگر تم دس ہزار سونےکے…

Read more

ایک شہری بابو اپنی چمچماتی کار اور چھمچھم کرتی بیگم کے ساتھ ایک دیہاتی سڑک پر جارہا تھا۔ آس پاس کے مناظر سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ اچانک پکی سڑک ختم ہوگئی اور ایک ٹوٹا ہوا کچا راستہ شروع ہوگیا۔ اس کچے راستے پر بے پناہ کیچڑ تھا اور کار کیچڑ میں پھنس گئی۔ شہری بابو نے بہت زور لگایا مگر کار اندر ہی دھنستی چلی گئی۔ اتنے میں زلیخا اپنے ٹریکٹر کے ساتھ ادھر سے گزری۔ شہری بابو نے اس سے مدد مانگی۔ زلیخا نے کہا،“میں مدد تو کر دوں گی، لیکن اس کے لیے پانچ سو روپے لگیں گے۔” بابو نے کہا،“ٹھیک ہے، یہ لو پیسے۔” زلیخا نے رسہ ڈال کر ٹریکٹر کی مدد سے کار کو کیچڑ سے باہر نکال دیا۔ زلیخا نے کہا،“آج یہ دسویں کار ہے جسے ہم نے دھکا لگایا ہے۔” بابو بولا،“سارا دن تو تم یہ دھکا لگانے میں گزار دیتی…

Read more

حضرت نوح علیہ السلام کا اسمِ گرامی یشکریا عبدالغفار ہے اور آپ حضرت ادریس علیہ السلام کے پڑپوتے تھے، آپ کا لقب”نوح” اس لئے ہوا کہ آپ کثرت سے گریہ وزاری کیا کرتے تھے۔چالیس یا پچاس سال کی عمر میں آپ نبوت سے سرفراز فرمائے گئے اور 950سال آپ اپنی قوم کو دعوت فرماتے رہے اور طوفان کے بعد ساٹھ برس دنیا میں رہے تو آپ کی عمر ایک ہزار پچاس سال کی ہوئی۔مذہبی اختلاف کی ابتداء کب ہوئی؟ مذھبی اختلاف کی ابتداء سے متعلق مفسرین نے کئیں اقوال ذکر کئے ہیں، ان میں سے ایک قول یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے تک لوگ ایک دین پرر ہے، پھر ان میں اختلاف واقع ہوا تو حضرت نوح علیہ السلام ان کی طرف مبعوث فرمائے گئے، دوسرا قول یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے کشتی سے اُترنے کے وقت سب لوگ ایک دین پر تھے۔…

Read more

”چیونٹی“ ہر روز صبح سویرے اپنے کام پر جاتی تھی، فوراً ہی اپنا کام شروع کر دیتی تھی۔ ”چیونٹی“ بہت محنت سے کام کرتی تھی، اسکی پروڈکشن بھی بہت زیادہ تھی اور وہ اپنے کام سے خوش بھی تھی۔ جنگل کا بادشاہ ”شیر“، ”چیونٹی“ کے کام سے بہت حیران تھا، کیونکہ وہ بغیر کسی آفیسر کے کام کرتی تھی۔ ”شیر“ نے سوچا، اگر ”چیونٹی“ بغیر کسی آفیسر کے، اتنی زیادہ پیداوار حاصل کررہی ہے تواگر وہ کسی آفیسر، کی ماتحتی میں کام کرے تو اس کی پروڈکشن اس سے کئی گنا زیادہ ہوجائے گی۔ اس لیئے ”شیر“ نے ایک ”لال بیگ“، کو جو کہ آفس کا تجربہ رکھتا تھا اور رپورٹ لکھنے میں بہت مشہور تھا، ”چیونٹی“ پر آفیسر کے عنوان سے تعینات کر دیا۔ ”لال بیگ“ نے ”چیونٹی“ پر کنٹرول رکھنے کی خاطر، کام کی جگہ پر اسکے آنے اور جانے کے وقت کو نوٹ کرنے والا ایک بورڈ…

Read more

جنگل کے شیروں نے ایک گدھے کو یقین دلایا تم ہم میں سے ہو. جیسے ہم جنگل کے بادشاہ ہیں ایسے ہی تم بھی بادشاہ ہو. گدھا واپس اپنی برادری میں آیا اور اعلان کیا وہ گدھوں کا بادشاہ ہے. شیروں کے ڈر سے گدھوں نے اسے بادشاہ تسلیم کر لیا. لیکن اب ہر چند دن بعد شیر اس گدھے کے مہمان بنتے اور بادشاہ سلامت صحت مند گدھے ان کی ضیافت میں پیش کر دیتے. کچھ عرصے میں ہی گدھے پریشان ہو گئے. بادشاہ سلامت سے دور دور رہنے لگے. اگلی دفعہ جب شیر آئے تو بادشاہ سلامت تو موجود تھے گدھوں کا ریوڑ لیکن غائب تھا. شیروں نے پوچھا دوست یہ کیا ماجرا ہے.؟ شیر نے اپنی قوم کی جہالت اور بغاوت کا قصہ سنایا. شیروں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور کہا اب یہ بادشاہ ہمارے کسی کام کا نہیں. ہمیں دوسرا بادشاہ دیکھنا ہوگا جس پر…

Read more

ایک میراثی کی بھینس کو “مُنہ کُھر” کی بیماری ہو گئی، اس کے جبڑے کے نچلے حصے پر برا سا دانہ نکل آیا، اس نے گاؤں کے ایک سیانے بزرگ کو احوال سنایا تو بزرگ بولے،“کچھ عرصہ پہلے میری بھینس کو بھی ایسی بیماری ہو گئی تھی، میں نے تو اسکا منہ دو درختوں کے درمیان باندھا، ایک طرف قصائی کی گوشت کاٹنے والی لکڑی (مُڈھی) رکھی اور دوسری طرف سے کِلا ٹھوکنے والی لکڑ سے ایک بھرپور ضرب لگائی تھی، منہ کَھر ہمیشہ کے لیے چھوڑ گیا تھا…” میراثی کو علاج مل گیا تھا اور فوراً مزید کوئی بات کیے گھر کی طرف بھاگ نکلا۔ جیسے مزید ایک لفظ بھی سننے کو رکا تو بھینس جیسے مر ہی جائے گی۔ اور جاتے ہی بھینس کو اسی طریقے سے باندھا اور ایک بھرپور ضرب بھینس کے گلے پہ لگائی، بدقسمتی سے ضرب اس قدر شدید لگی کہ بھینس مر گئی،…

Read more

2600/3784
NZ's Corner