Tag Archives: ” “Motivational messages for entrepreneurs” Target audience: Tailor keywords to the specific audience you want to reach (e.g.

ایک بادشاہ کی سات بیٹیاں تھی ایک دن بادشاہ بہت خوش ہوتا ہے اور اپنی ساتوں بیٹیوں کو بلا کر پوچھتا ہے کہ میں تم سب سے ایک سوال پوچھوں گا اور اگر جواب اچھا لگا تو تمہارا من چاہا انعام بھی دوں گا ۔ سب ایک قطار میں کھڑی ہو جاو اور ایک ایک کر کے بتاو کہ تم کس کا دیا کھاتی ہو ؟ کس کا دیا پہنتی ہو ؟ سات میں سے چھ بیٹیوں نے کہا ابا حضور آپ کا دیا کھاتے ہیں اور آپ کا دیا پہنتے ہیں آپ ہی کی وجہ سے ہماری یہ شان شوکت ہے یہ سن کر بادشاہ بہت خوش ہوا اور سب کو اس کی من پسند چیز دے دی۔ جب سب سے چھوٹی بیٹی کی باری آئی تو اس نے کہا کہ میں اللہ کا دیا کھاتی ہوں اور اپنی قسمت کا پہنتی ہوں اور یہ میرا نصیب ہے ۔…

Read more

حضرت صہیب رومی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’تم سے پہلے زمانے میں  ایک بادشاہ تھا اور اس کا ایک جادو گر تھا، جب وہ جادوگر بوڑھا ہو گیا تو اس نے بادشاہ سے کہا :اب میں  بوڑھا ہو گیا ہوں ،آپ میرے پاس ایک لڑکا بھیج دیں تاکہ میں  اسے جادو سکھادوں  ۔بادشاہ نے ا س کے پاس جادو سیکھنے کے لئے ایک لڑکابھیج دیا،وہ لڑکا جس راستے سے گزر کرجادو گر کے پاس جاتا اس راستے میں  ایک راہب رہتا تھا،وہ لڑکا (روزانہ) اس راہب کے پاس بیٹھ کر اس کی باتیں  سننے لگا اوراُس راہب کا کلام اِس لڑکے کے دل میں  اترتاجا رہا تھا ۔جب وہ لڑکا جادو گر کے پاس پہنچتا تو (دیر سے آنے پر) جادو گر اسے مارتا۔لڑکے نے راہب سے ا س کی شکایت کی تو راہب نے کہا:جب تمہیں …

Read more

ایک شہری بابو اپنی چمچماتی کار اور چھمچھم کرتی بیگم کے ساتھ ایک دیہاتی سڑک پر جارہا تھا۔ آس پاس کے مناظر سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ اچانک پکی سڑک ختم ہوگئی اور ایک ٹوٹا ہوا کچا راستہ شروع ہوگیا۔ اس کچے راستے پر بے پناہ کیچڑ تھا اور کار کیچڑ میں پھنس گئی۔ شہری بابو نے بہت زور لگایا مگر کار اندر ہی دھنستی چلی گئی۔ اتنے میں زلیخا اپنے ٹریکٹر کے ساتھ ادھر سے گزری۔ شہری بابو نے اس سے مدد مانگی۔ زلیخا نے کہا،“میں مدد تو کر دوں گی، لیکن اس کے لیے پانچ سو روپے لگیں گے۔” بابو نے کہا،“ٹھیک ہے، یہ لو پیسے۔” زلیخا نے رسہ ڈال کر ٹریکٹر کی مدد سے کار کو کیچڑ سے باہر نکال دیا۔ زلیخا نے کہا،“آج یہ دسویں کار ہے جسے ہم نے دھکا لگایا ہے۔” بابو بولا،“سارا دن تو تم یہ دھکا لگانے میں گزار دیتی…

Read more

جنگل کے شیروں نے ایک گدھے کو یقین دلایا تم ہم میں سے ہو. جیسے ہم جنگل کے بادشاہ ہیں ایسے ہی تم بھی بادشاہ ہو. گدھا واپس اپنی برادری میں آیا اور اعلان کیا وہ گدھوں کا بادشاہ ہے. شیروں کے ڈر سے گدھوں نے اسے بادشاہ تسلیم کر لیا. لیکن اب ہر چند دن بعد شیر اس گدھے کے مہمان بنتے اور بادشاہ سلامت صحت مند گدھے ان کی ضیافت میں پیش کر دیتے. کچھ عرصے میں ہی گدھے پریشان ہو گئے. بادشاہ سلامت سے دور دور رہنے لگے. اگلی دفعہ جب شیر آئے تو بادشاہ سلامت تو موجود تھے گدھوں کا ریوڑ لیکن غائب تھا. شیروں نے پوچھا دوست یہ کیا ماجرا ہے.؟ شیر نے اپنی قوم کی جہالت اور بغاوت کا قصہ سنایا. شیروں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور کہا اب یہ بادشاہ ہمارے کسی کام کا نہیں. ہمیں دوسرا بادشاہ دیکھنا ہوگا جس پر…

Read more

ایک میراثی کی بھینس کو “مُنہ کُھر” کی بیماری ہو گئی، اس کے جبڑے کے نچلے حصے پر برا سا دانہ نکل آیا، اس نے گاؤں کے ایک سیانے بزرگ کو احوال سنایا تو بزرگ بولے،“کچھ عرصہ پہلے میری بھینس کو بھی ایسی بیماری ہو گئی تھی، میں نے تو اسکا منہ دو درختوں کے درمیان باندھا، ایک طرف قصائی کی گوشت کاٹنے والی لکڑی (مُڈھی) رکھی اور دوسری طرف سے کِلا ٹھوکنے والی لکڑ سے ایک بھرپور ضرب لگائی تھی، منہ کَھر ہمیشہ کے لیے چھوڑ گیا تھا…” میراثی کو علاج مل گیا تھا اور فوراً مزید کوئی بات کیے گھر کی طرف بھاگ نکلا۔ جیسے مزید ایک لفظ بھی سننے کو رکا تو بھینس جیسے مر ہی جائے گی۔ اور جاتے ہی بھینس کو اسی طریقے سے باندھا اور ایک بھرپور ضرب بھینس کے گلے پہ لگائی، بدقسمتی سے ضرب اس قدر شدید لگی کہ بھینس مر گئی،…

Read more

بڑھتی سردی میں ایک بار پھر پیشِ خدمت ہے…چکن سوپ عرف مُرغی کا جُوس😅😅😅دنیا میں جتنی بھی چیزوں سے جُوس نکالا جاتا ھے اُن میں سب سے زیادہ جوس پاکستان میں ”مُرغی“سے نکالا جاتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ایک مُرغی سے تقریباً 450 بیرل یا 2500 گیلن یعنی دس ہزار لیٹر تک جوس کشید کیا جا سکتا ہے۔امکان غالب ہے کہ مستقبل قریب میں اس کو برآمد کر کے اچھا خاصا زرِمبادلہ کمایا جا سکتا ھے. یہ دنیا کا واحد جُوس ہے جو گرم کر کے پیا جاتا ہے۔ مگر اب تو لوگ ماڈرن ہو گئے ہیں اور اب اسے یخنی یا سُوپ کے نام سے پکارتے ہیں۔البتہ پرانے زمانے میں ریڑھی والے بڑے فخر سے لکھواتے تھے”طاقت کا خزانہ ٠٠٠٠مرغی کا جوس“دراصل یہ وہ پانی ہوتا ہے جس سے مُرغی کی میت کو مسلسل تین دن تک غسل دیا جاتا ہے اور ہمارے ملک کے…

Read more

ایک شہری لڑکی جو پہلی بار گاؤں میں آئی تھی۔ اس نے ایک دیہاتی شخص سے پوچھا،“یہ جو تمہاری گائے ہے، اس کے سینگ کیوں نہیں ہیں۔ دیہاتی نے جواب دیا،“بعض کے لڑائی میں ٹوٹ جاتے ہیں، بعض کے ہم نکال دیتے ہیں، کچھ کے قدرتی طور پہ ہی نہیں ہوتے لیکن جس کی طرف تم اشارہ کر رہی ہو، وہ بہرحال گدھا ہے۔”😅😅😅 یہ سچ ہے کہ کئی شہری لوگ جب پہلی بار دیہاتی ماحول کو دیکھیں تو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے ہیں۔ میں ایک دیہاتی دیسی بندہ ہوں۔ لگ بھگ بارہ سال پہلے کی بات ہے کہ میں اسلام آباد ایئرپورٹ اہنے کسی عزیز کو چھوڑنے ساتھ چلا گیا۔ واش روم جانے کی حاجت محسوس ہوئی تو وہاں مجھے سمجھ ہی نہ آئے کہ دروازے کو کُنڈی کیسے لگانی ہے۔ایک بندہ مجھے دیکھ کر ہنس پڑا اور بڑبڑایا،ہاہاہاہا… دیسی فُولز میں نے کہا،“پائین! تسیں وی کدی اساں…

Read more

ایک شہری خاتون گاؤں میں عورتوں کو حساب سکھا رہی تھیں۔ اس نے ایک عورت سے پوچھا،“اگر تمہارے پاس پچاس روپے ہوں اس میں سے تم بیس روپے اپنے شوہر کو دے دو تو بتاؤ تمہارے پاس کتنے روپے بچیں گے؟” عورت نے جواب دیا،“کچھ بھی نہیں۔” خاتون نے دیہاتی عورت کو ڈانٹتے ہوئے کہا،“احمق عورت! تم حساب بالکل نہیں جانتی ہو۔” دیہاتی عورت نے جواب دیا،“آپ بھی میرے شوہر ’شیرو‘ کو نہیں جانتی ہو۔ وہ سارے روپے مجھ سے چھین لے گا۔” منقول بھلے ہی اس عورت نے جواب غلط بتایا۔ لیکن زمینی حقائق کے مطابق اس کا جواب درست تھا۔ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس کا شوہر کس قدر ناہنجار ہے۔ایسے ہی ہماری زندگی میں کچھ لوگ ہم سے سوال کرتے ہیں اور جواب بھی قپنی منشاء کے مطابق چاہتے ہیں۔ اپنی جگہ وہ بھی ٹھیک ہوتے ہیں لیکن ہمارے حالات ان سے مختلف ہوتے ہیں۔ وہ…

Read more

یہ ایک بادشاہ کے عہد کی بات ہے۔ایک دن وہ کسی بات پر بے حد خوش ہوا تو اس نے ایک عام سے شخص کو بلا کر کہا: “سورج غروب ہونے تک تم جتنی زمین کا دائرہ مکمل کر لو گے، وہ ساری زمین تمہاری ہو گی۔” مگر ساتھ ہی ایک شرط بھی رکھ دی:“اگر سورج ڈوبنے سے پہلے دائرہ مکمل نہ کر سکے تو تمہیں کچھ بھی نہیں ملے گا۔” یہ سن کر اس شخص کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ دل خوشی سے بھر گیا۔ وہ فوراً چل پڑا، بڑے ارمانوں کے ساتھ، بڑے خوابوں کے ساتھ۔چلتے چلتے ظہر کا وقت آ گیا۔ دل نے آہستہ سے کہا،“اب واپسی کا رخ کر لینا چاہیے، دائرہ کافی بن چکا ہے۔” مگر نفس نے سرگوشی کی:“ابھی نہیں… تھوڑا سا اور۔ جتنی زیادہ زمین ہو گی، اتنا فائدہ ہو گا۔” وہ آگے بڑھتا گیا۔ کچھ دیر بعد ایک دلکش پہاڑ سامنے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شدید سردی میں ملانصرالدین کی اپنے دوستوں کے ساتھ ایک انوکھی شرط لگ گئی۔ مُلا کے دوستوں نے کہا:“ملا! اگر تم ایک پوری رات پہاڑی پر بغیر آگ جلائے گزار لو، تو ہم تمہیں ایک سونے کا سکہ دیں گے، اور اگر نہ گزار سکے تو تم ہمیں ایک دن کا کھانا کھلاؤ گے۔” ملا نصرالدین نے یہ شرط قبول کر لی۔انہوں نے ایک کتاب اور موم بتی لی اور پہاڑی پر رات گزارنے چلے گئے۔ موم بتی جلا کر ساری رات کتاب پڑھتے رہے اور کتاب میں یوں کھو گئے کہ رات گزرنے کی خبر ہی نہ ہوئی۔ صبح جب واپس آئے تو دوستوں سے کہا:“میں جیت گیا ہوں، اب مجھے میرا سونے کا سکہ دو۔” دوست بولے:“ملا! کیا تم نے واقعی آگ استعمال نہیں کی؟” ملا نے جواب دیا:“نہیں، میں کتاب اور موم بتی لے گیا تھا۔ اس موم بتی کی روشنی…

Read more

کہتے ہیں ایک جنگل میں ہزاروں مرغیاں آزاد زندگی گزارتی تھیں۔انہی میں ایک مرغی ایسی تھی جس کی گود خالی تھی۔ نہ انڈا، نہ بچہ۔یہ کمی اسے اندر ہی اندر توڑتی رہتی۔ ایک دن مایوسی میں وہ جھنڈ سے دور نکل گئیاور ایک بڑے درخت کے نیچے سو گئی۔اسی درخت پر ایک باز کا گھونسلہ تھا۔اتفاق سے وہاں سے ایک انڈا گرا اور مرغی کے قریب آ کر رک گیا۔ آنکھ کھلی تو انڈا دیکھ کر مرغی خوشی سے بھر گئی۔اسے لگا یہ اسی کا ہے۔وہ انڈا اٹھا کر اپنے جھنڈ میں واپس آ گئی۔ کچھ دن بعد انڈا ٹوٹا اور اس میں سے جو نکلا، وہ مرغی جیسا نہیں تھا۔ مگر محبت نے فرق ماننے سے انکار کر دیا۔ مرغی نے اسے وہی سکھایا، جو وہ جانتی تھی۔زمین پر چلنا، دانہ چگنا، اور سر جھکا کر جینا۔ وہ بچہ ہر شام پوچھتا،“ماں! آسمان میں اڑنے والے کون ہیں؟” مرغی…

Read more

ایک بھینس 🐃 جنگل میں گھبرائی ہوئ بھاگ رہی تھی ۔جب چوہے 🐀 نے دیکھا تو بولا،“تو کیوں بھاگ رہی ہے؟” بھینس 🐃 بولی:“پولیس 👮‍♂️ جنگل میں ہاتھی 🐘 کا پیچھا کر رہی ہے۔” چوہا 🐀 بولا،“لیکن تُو تو بھینس 🐃 ہے۔” بھینس بولی:“ہاں لیکن یہ پاکستان ہے، یہاں کورٹ میں یہ ثابت کرنے میں برسوں لگ جائیں گے کہ میں ہاتھی نہیں بھینس ہوں۔” یہ سن کر چوہا بھی جنگل کی طرف بھاگ نکلا۔#منقول 😅😅😅 سن 2018ء میں ایک زرعی رقبہ کا فیصلہ سنایا گیا اور زمین ورثاء میں تقسیم کی گئی تھی۔ اندازہ کریں کہ یہ کیس پچھلے 100 سال سے چل رہا تھا، تقسیمِ ہند سے بھی 29 سال پہلے سے۔ہمارے بھی عدالت میں زمین کے چار کیس چل رہے ہیں۔ امید ہے کہ ہمارے پوتے اپنے بچوں کو وہ زمین دینے میں کامیاب رہیں گے۔ 😅 پاکستان میں اوّل تو انصاف نہیں ملتا،اگر بنا رشوت کے…

Read more

مغل شہزادوں کی نیند، گورے کے دفاتر اور ہمارے بند بازار: زوال کی نفسیاتتاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایک عبرت ناک منظر ابھرتا ہے جو آج بھی ہمارے حال کا آئینہ ہے۔ مغل دور کے آخری ایام میں، جب زوال کی پرچھائیاں دہلی کی فصیلوں کو چھو رہی تھیں، شہزادے رات بھر کی محفلوں کی تھکن اتارنے کے لیے پو پھٹے “خمار” کی وادیوں میں پناہ لیتے تھے۔ عین اسی وقت، سات سمندر پار لندن کی دھند میں ایک برطانوی افسر سورج کی پہلی کرن کے ساتھ اپنے دفتر کا چراغ روشن کر چکا ہوتا تھا۔یہ محض دو انسانوں کا فرق نہیں تھا بلکہ یہ دو متصادم رویوں کا ٹکراؤ تھا۔ ایک طرف وہ ذہن تھا جو کائنات کے فطری توازن یعنی “روشنی” کے ساتھ قدم ملا کر چلنا جانتا تھا، اور دوسری طرف وہ طبقہ جو رات کی تاریکی میں کھو کر دن سے آنکھیں چرا رہا تھا۔ یہی…

Read more

ایک بھنگی شخص کسی پیر کا مرید بن گیا۔ وہ پہلے روزے نہیں رکھتا تھا اور روزہ رکھنے کا تصور بھی اسے مشکل لگتا تھا۔ پیر نے ایک دن اس سے کہا،“تم روزہ رکھو، میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمھاری ایک دعا ضرور قبول ہوگی۔” بھنگی نے پیر کی بات پر بھروسہ کیا اور اگلے دن روزہ رکھنا شروع کر دیا۔ دن بھر وہ بھوک اور پیاس سے تڑپتا رہا، ہر لمحہ مشکل محسوس ہو رہی تھی۔ آخر شام کو، روزہ افطار کیا اور سیدھا پیر کے پاس پہنچ گیا۔ پیر نے مسکرا کر پوچھا،“تو، مانگو، کیا مانگتے ہو؟” بھنگی نے ہاتھ باندھے اور بڑی عاجزی سے بولا،“پیر صاحب، خدا دا واسطہ، سویرے عید کروا دیو!” #منقول

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص دنیا، زندگی اور غربت سے تنگ آ کر خودکشی کرنے کے ارادے سے جنگل کی طرف نکل پڑا۔ راستے میں اچانک اس کی ملاقات ایک جِن سے ہو گئی۔ جِن نے اس شخص سے کہا:“اگر تم خودکشی کا ارادہ ترک کر دو تو میں تمہیں امیر بنا دوں گا۔” پھر جِن نے اسے ایک ترکیب بتائی اور کہا:“تم واپس جاؤ اور حکیم بن جاؤ۔ جب کسی مریض کے پیروں کی طرف مجھے کھڑا دیکھو تو اُسے دوا مت دینا اور اس کے لواحقین کو بتا دینا کہ یہ مریض نہیں بچے گا۔ اور جس مریض کے سرہانے مجھے کھڑا دیکھو، اُسے دوا دے دینا اور کہہ دینا کہ اسے کچھ نہیں ہوگا۔” اس شخص نے جِن کی ہدایت پر عمل شروع کر دیا۔ جسے وہ دوا دیتا، وہ بچ جاتا، اور جسے دوا نہ دیتا، وہ مر جاتا۔ رفتہ رفتہ وہ شخص…

Read more

ایک شخص نے ایک کتے کو قبرستان میں دفن کردیا لوگوں نے قاضی کے پاس جا کر اس شخص کی شکایت کی اس شخص کو قاضی کے پاس طلب کیا گیا قاضی نے غضبناک ہو کر اس سے پوچھا کہ اےبدبخت کیا تو نے ہی قبرستان میں کتے کو دفن کیا تھا ؟اس شخص نے کہا ہاں کتے کی وصیت تھی سو میں نے پوری کردی قاضی نے کہا تیرا ستیاناس ہو کتے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر کے اوپر سے میرا مذاق اڑارہے ہو ؟اس شخص نے کہا قاضی صاحب جلدی نہ کریں میری پوری بات سن لیں مرحوم کتے نے قاضی کے لئے بھی ایک ہزار دینار ھدیہ کرنے کی وصیت کی ہےقاضی نے کہا اللہ اس فقید المثال کتے پر رحم فرمائے قاضی کی بات سن کر لوگ حیران رہ گئے قاضی نے کہا تم حیران کیوں ہو رہے ہو میں نے اس کتے پر…

Read more

بے وقوفوں کی یہ بستی آج سے سیکڑوں برس پہلے کوہِ قاف کے پاس تھی۔ لیکن اب وہاں اس کا نام و نشان تک موجود نہیں ۔ بستی کے رہنے والے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی وجہ سے ساری دنیا میں مشہور تھے ۔ اچنبھے کی بات یہ تھی کہ انھوں نے اپنی زندگی میں بلی کبھی نہیں دیکھی تھی اور وہ بلی کے نام ، اُس کی شکل سے بھی بالکل نا واقف تھے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بستی چوہوں سے کھچا کھچ بھر گئی۔ جدھر دیکھو چوہے ہی چوہے ۔ ادھر چو ہے، ادھر چو ہے۔ کوئی گھر ایسا نہ تھا جو ان سے آباد نہ ہو۔ لوگ اس قدر پریشان تھے کہ وہ ہر قیمت پر ان سے جان چھڑانا چاہتے تھے ۔ اُنھوں نے کئی مرتبہ اکٹھے ہو کر اس بارے میں مشورے بھی کئے، لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔…

Read more

ملک یمن میں آباد قبیلہ طے کے سردار حاتم طائی کے پاس عربی نسل کا ایک بہت عمدہ گھوڑا تھا۔ خوبصورتی اور تیز رفتاری میں یہ گھوڑا اپنا جواب نہیں رکھتا تھا۔ ایک دن روم کے بادشاہ کے دربار میں حاتم طائی کی سخاوت اور اس کے سبک رفتار گھوڑے کے بارے میں گفتگو ہو رہی تھی۔ اپنی اپنی معلومات کے مطابق ہر شخص حاتم طائی کی تعریف کر رہا تھا۔درباریوں کی یہ باتیں سن کر بادشاہ نے کہا، جب تک آزمانہ لیا جائے کسی کے بارے میں رائے قائم کرنا عقلمندی کے خلاف ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کچھ لوگ حاتم طائی کے پاس جائیں اور اس سے اس کا وہی گھوڑا مانگیں۔ اگر وہ دے دے تو بے شک تعریف کا مستحق ہے۔ عذر کیا تو ثابت ہو جائے گا کہ ریا کار ہے۔ سب نے بادشاہ کی اس بات سے اتفاق کیا اور وزیر کچھ لوگوں کو…

Read more

کسی گاؤں میں ایک نہایت عبادت گزار شخص رہتا تھا۔ وہ لوگوں کو دین و دنیا کے مسائل سمجھاتا، نیکی کی تلقین کرتا اور برائی سے بچنے کی ہدایت دیا کرتا تھا۔ گاؤں والوں کے لیے وہ اللہ کا ایسا بندہ تھا جو کسی نعمت سے کم نہ تھا، اور ہر مسئلے میں لوگ اسی سے رہنمائی لیا کرتے تھے۔ پھر ایک دن…اس گاؤں کو ایک ایسے طوفان نے آ گھیرا جس کی شدت گاؤں والوں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ موسلا دھار بارش اور سیلابی ریلوں نے پورے گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ گاؤں اس قدر ڈوب چکا تھا کہ وہاں سے نکلنے کی صرف ایک ہی سبیل باقی رہ گئی تھی: کشتیاں۔ لوگ کشتیوں پر سوار ہو کر محفوظ علاقوں کی طرف نکلنے لگے۔ کچھ لوگ اپنی کشتیوں پر سوار ہو کر اس عبادت گزار بزرگ کے گھر کے قریب سے گزرے تو اسے آواز…

Read more

تقریباً2500 سال پرانی بات ہے، ملکِ یَمَن پر اَسْعَد تُبّان حِمْیَری نامی بادشاہ کی حکومت تھی، چونکہ یَمَن کی زَبان میں بادشاہ کو تُبَّع کہا جاتا تھا اِس لئے تاریخ میں یہ بادشاہ تُبَّعُ الْاَوَّل (یعنی پہلا بادشاہ) اور تُبَّع حِمْیَری کے نام سے مشہور ہوا۔ ایک مرتبہ تُبَّع اپنے وزیر کے ساتھ سیر پر نکلا، تقریباً ایک لاکھ 13 ہزار پیدل چلنے والے اور ایک لاکھ 30 ہزار گُھڑسوار بھی اس کے ہمراہ تھے۔جس جس شہر میں یہ قافِلہ پہنچتا لوگ ہیبت اور تعجّب کے مارے بہت عزّت و اِحتِرام سے پیش آتے تھے۔اِس سفر کے دوران تُبَّع ہر شہر سے 10عُلَما منتخب کر کے اپنے قافلے میں شامل کررہا تھا، یوں کئی شہروں کی سیر کے بعدتقریباً 4 ہزار عُلَما تُبَّع کے قافِلے میں جمع ہوگئے۔ جب یہ قافلہ شہرِ مکّہ پہنچا تو وہاں کے لوگوں نے اِن کی ذرا بھی آؤ بھگت نہ کی، یہ دیکھ کر…

Read more

60/113
NZ's Corner